تازہ تر ین

”سیاسی وعدے“

عابد کمالوی…. حلقہ¿ زنجیر
سیاست و جمہوریت کے اکھاڑوں میں اپنی طاقت دولت‘خاندانی وجاہت‘ذات پات ‘جھوٹے وعدوں‘ نعروں‘لا رو ں‘صوبائی و لسانی تحریکوں‘لفظوں کی بساط پر داغے جانے والے گھوڑوں اور مزائلوں کے بل پر زمام اقتدارتک پہنچنے والے اہل سیاست اپنی جیت کے لئے بعض اوقات اخلاقیات‘سماجی اقدار‘سیاست و جمہوریت کے اصولوں سے اس قدر بے بہرہ ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے بیانات وتقاریر میں اپنے سیاسی مخالفین کی ماں بہنوں اور دوسرے مقدس رشتوں کو بھی تضحیک آمیز رویوں کے ساتھ کھینچ لاتے ہیں۔ مقصد مخالف کی تذلیل کر کے اسے نیچا دکھانا اور عوام میں اس کی ساکھ کو خراب کر کے آگے نکلنا ہی ہوتا ہے۔بہتان بازیوں اور الزام تراشی کی ان آندھیوں کے بعد ایسی نئی نئی اصطلاحات‘ تندوتیز جملے اور رقیق حملوں کے نتیجے میں جنم لینے والے فقرات سامنے آتے ہیں جنہیں ایوان کی زبان میں غیر پارلیمانی کہا جاتا ہے۔اگرچہ جلسو ں‘دھرنوں اور احتجاجوں کے موقع پر استعمال کی جانے والی زبان کبھی کبھی ایوانوں میں بھی سنائی دیتی ہے‘حالانکہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر ان ایوانوں میں پہنچنے والوں نے انھیںمقدس ایوانوں کا نام دیا ہے‘ لیکن آنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں استحقاقیہ کا شرف بخشنے والے ایوان عوامی مسائل کے حل کے لئے ہیں اور جمہوریت کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ملک کو عوام کی خواہشات کے مطابق مستحکم معاشی‘ صنعتی‘ زرعی داخلی وخارجی اور دوسرے شعبوں میں خودکفیل بنا دیا جائے لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ اس میں بھی ایک دوسرے پر اور مخالف پارٹیوں پر رقیق حملے کیے جاتے ہیں۔
اس ملک کی سیاسی اور جمہوری تاریخ رقم کرنے والے مورخین اس وقت حیرانی میں ڈوب جاتے ہیں کہ جب ایوانوں میں بیٹھنے والے لوگ انتخابی عمل کے دوران عوام سے یہ وعدہ کر رہے ہوتے ہیں کہ اگر وہ یا ان کی جماعت برسراقتدار آ گئے تو وہ ان کے لئے روٹی کپڑے اور مکان کا بندوبست کریں گے ‘ان کے لیے زندگی کی بنیادی آسائشیں ان کی د ہلیز پر پہنچا ئیں گے‘ انصاف سستا کر کے ان کی چوکھٹ پر فراہم کیا جائے گا‘ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کر دی جائے گی۔وطن‘عزیز سے دہشت گردی‘ کرپش ‘منی لانڈرنگ‘ ذخیرہ اندوزی‘ مہنگائی‘ بیروزگاری اور دوسرے مسائل ختم کرکے لوگوں کو پُر امن اور مثالی نظام حکومت فراہم کیا جائے گا ۔کسی نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ نہ ہو سکا اگر یہ نہ کر سکے تو میرا نام بدل دینا‘ لیکن سارے وعدے وہ سارے خواب جو سادہ لوح عوام کو دکھائے جاتے ہیں ان کا کیا حشر ہوتا ہے‘ غالب یاد آگئے۔
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
قارئین عزیز !سیاسی بیان بازیوں کی گولا باری‘ احتجاج اور دھرنوں کی سیاست میں ایسی ایسی سیاسی اصطلاحات بھی جنم لیتی ہیں جو سیاسی اور جمہوری تاریخ میں ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرجاتی ہیں۔مثال کے طور پر لاڑکانے چلو‘ورنہ تھانے چلو‘ ھوجمالو‘ناتجربہ کار حکومت‘کٹھ پتلی حکومت‘سلیکٹڈ وزیراعظم‘ خدمت کی سیاست‘سیاسی وراثت‘ جمہوریت ڈی ریل‘ علی بابا چالیس چور‘ ٹھگز آف پاکستان‘جعلی اکاﺅنٹس‘ کرپشن‘ منی لانڈرنگ‘ جھاڑو پھرے گا‘مینڈیٹ چوری‘ گوشوارے‘ اثاثے منجمد‘جے آئی ٹی فرنٹ فٹ ‘بیک ڈور‘ کٹھ پتلی‘ ایجنڈے کی کاپیاں‘ مچھلی منڈی ‘پارلیمانی قائمہ کمیٹیاں‘بھاری مینڈیٹ‘مسٹر ٹین پرسنٹ‘دھاندلی دھونس‘ لاٹھی گولی کی سرکار‘ غیر ملکی اثاثے‘ معاشی دہشت گردی وغیرہ وغیرہ۔ شاعر مشرق کا یہ شعر بھی یاد آیا۔
امید کیا ہے سیاست کے پیشواﺅں سے
یہ خاک باز ہیں رکھتے ہیں خاک سے پیوند
ہمیشہ مورو مگس پر نگاہ ہے ان کی
جہاں میں ہے صفت عنکبوت ان کی کمند
خوشا وہ قافلہ جس کے امیر کی ہے متاع
تخیل‘ ملکوتی و جذبہ ہائے بلند
وعدوں کے وفا ہونے کے تذکرے تو شاعروں کے ہاں بے شمار ملتے ہیں اور ایک مصرع کچھ ایسے ہے وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا…. اس لئے وہ وعدہ کیا ہی نہ جائے جو پورا نہ ہو سکے ‘وہ خواب دکھائے ہی نہ جائیں جن کی تعبیریں نہ دی جاسکتی ہوں‘وہ بڑھکیں لگائی ہی نہ جائیں جو فلمی بڑھکیں ثابت ہوں‘صاحبان ایمان و ایقان کے لئے تو واضح فرمان خدا وندی ہے اللہ کریم اس بات سے سخت بیزار ہے کہ ایسی بات کہو ‘جو کرو نہیں۔ (پ28‘ع 9)قرآن مقدس کے تیسویں پارے میں ارشاد باری تعالی ہے ”اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو خدائے رب العالمین چاہے۔“(پ30‘ع 6)
(کالم نگار قومی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved