تازہ تر ین

جمہوریت اور بلدیاتی ادارے

چوہدری ریاض مسعود….بحث ونظر
پاکستان میں بلدیاتی ادارے ہمیشہ سے ہی منتخب جمہوری حکومتوں سے ڈرے ڈرے اور سہمے سہمے رہتے ہیں حالانکہ جمہوریت کی ترقی اور فروغ میں نچلی سطح تک پھیلے ہوئے یہ ادارے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ برسراقتدار جماعت ہمیشہ اس خوف میں مبتلا رہتی ہے کہ کہیں یونین کونسل‘ تحصیل کونسل‘ ضلع کونسل‘ میونسپلٹی اور کارپوریشن کے انتخابات میں ان کی مخالف سیاسی جماعتوں کے ارکان جیت کر ان کے سامنے نہ آکھڑے ہوں اس سے بچنے کیلئے وہ بلدیاتی انتخابات کروانے کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے۔ دوسری صورت انتخابات کی مدت پوری ہونے کے باوجود نئے الیکشن نہ کروانے کیلئے تاخیری حربے استعمال کرنا یا پھر نیا بلدیاتی نظام دینے کی آڑ میں اپنے من پسند قوانین اور قواعد و ضوابط مرتب کرنے کا آزمودہ نسخہ اپنایا جاتا ہے۔ نیا پاکستان کا نعرہ لگانے والوں نے اقتدار سنبھالتے ہی ”پاپولیرٹی بیسڈ نیو لوکل باڈیز سسٹم“ لانے کا عندیہ دیا تھا جس سے پاکستان بھر کے بلدیاتی ادارے اسے اپنے خلاف حکومت کی ایک نئی چال قرار دیتے آ رہے ہیں مجوزہ نیا بلدیاتی نظام تو نہ جانے کب منظرعام پر آتا ہے لیکن یہ ضرور ہوا ہے کہ مختلف اضلاع کے چیئرمین ضلع کونسل اور بلدیاتی سربراہ اور اراکین وفود کی شکل میں پی ٹی آئی میں دھڑا دھڑ شامل ہو رہے ہیں تاکہ وہ اپنی چودھراہٹ یا کرسی کو محفوظ بنا سکیں۔
یہ حقیقت ہے کہ بلدیاتی الیکشن ہمیشہ سے ہی ملک کے عام انتخابات پر اثرانداز ہوتے ہیں اس لئے ہر برسراقتدار جماعت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ بلدیاتی اداروں‘ ان کے فنڈز اور ان کے ترقیاتی منصوبوں کو اپنے سیاسی مفادات کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کیا جائے اس سوچ اور عمل نے ہمارے جمہوری نظام کی اس بنیادی اکائی کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ ایم پی اے‘ ایم این اے کی بلدیاتی اداروں کے سربراہوں اور اراکین کے ساتھ گروپ بازی‘ سیاسی کشمکش‘ ایک دوسرے پر الزام تراشی اور ایک دوسرے کے حلقوں اور کاموں میں مداخلت کرنا یا رکاوٹ ڈالنا جیسے امور نے جمہوریت کے اس بنیادی ادارے کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت جمہوریت جمہوریت کے دعوے تو کرتی ہے لیکن عملاً جمہوریت کی ترقی اور فروغ کیلئے زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ اسلام اور جمہوریت کے نام پر وجود میں آنے والے اس وطن میں ہم نے ہمیشہ سے اپنے بنیادی مقاصد سے انحراف کیا اور وہ کیا جسے ہم صرف اور صرف اپنے لئے اچھا سمجھتے ہیں۔ بانی پاکستان حضرت قائداعظم کی رحلت اور قائد ملت لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد جمہوریت کی کشتی مسلسل خطرناک طوفانوں کی زد میں رہی ہے۔ جمہوریت کی آڑ میں کس قدر غیرجمہوری کھیل کھیلے گئے۔ ہمارے انہی غیرجمہوری کھیلوں‘ ڈراموں‘ سازشوں اور حرکتوں نے آمریت کو پر پرزے نکالنے کا موقعہ دیا ہے پھر دنیا نے دیکھا کہ پاکستان میں جمہوریت ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تھی۔ ایوب خان کے دور حکومت میں 1959ءمیں ملک میں نان پارٹی لوکل گورنمنٹ سسٹم آیا جو ”بی ڈی“ سسٹم کے نام سے تاریخ اور سیاست کی کتابوں میں موجود ہے۔ جمہوریت کے نام پر ”سیاہ دھبہ“ کہ اسی بی ڈی نظام کے تحت پاکستان میں 2جنوری 1965ءکو صدارتی انتخابات ہوئے۔ 80ہزار بی ڈی ممبروں نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اور ایوب خان میں سے ایک کو صدر پاکستان منتخب کرنا تھا یہی وہ وقت تھا جب ملک میں پٹواریوں‘ تھانیداروں‘ پیروں‘ جاگیرداروں اور مفادپرستوں نے جمہوریت کو داغدار کر دیا۔ تحریک پاکستان کی لازوال جدوجہد میں ہر مرحلے پر اپنے بھائی کا ساتھ دینے والی محترمہ فاطمہ جناح کو جس شرمناک طریقے سے ہروایا گیا وہ یقیناہماری قومی تاریخ کا ایک سیاہ باب تھا اور ہے۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ بی ڈی سسٹم کی یہ کشتی تقریباً 34سال سے زیادہ عرصہ تک آمریت کے سمندر میں ڈوبی رہی۔ اس طویل عرصے میں دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی لیکن ہم جمہوریت کے ان بنیادی اداروں کی اہمیت و افادیت سے محروم رہ گئے۔ لوگوں کے ساتھ رابطہ تو دور کی بات ہمیں ان کے مسائل کو جاننے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔
جنرل ضیاءالحق نے اپنے دور حکومت میں مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے محدود پیمانے پر کوششیں کیں لیکن ان کے بعد آنے والی سول حکومتوں نے اپنی تمام تر توجہ اپنا اقتدار مضبوط کرنے‘ دوسری پارٹیوں کو نیچا دکھانے‘ سیاسی سازشوں کا جال بُننے اور ہارس ٹریڈنگ کی طرف مبذول رکھی۔ نچلی سطح تک کام کرنے والے یہ بلدیاتی ادارے کبھی بھی ان کی ترجیح نہیں رہی۔ ہماری مختصر سی جمہوری تاریخ کا ہمیشہ سے ہی یہ المیہ رہا ہے کہ ایم پی اے ہو یا ایم این اے انہیں اپنی ہمسری کرنے والا کوئی بھی ادارہ کبھی بھی پسند نہیں آیا ہاں اگر یونین کونسل لیول سے اوپر تک کے بندے اس کے اپنے ہی ہوں یا زیراثر ہوں تو پھر جمہوریت کی گاڑی اسے اپنے مفادات کی پٹڑی پر جاتے ہوئے یقیناً نظر آتی ہے بصورت دیگر یہ بلدیاتی ادارے کس کام کے۔ ہماری اسی روش نے بلدیاتی اداروں کی نچلی سطح پر کبھی بھی پنپنے نہیں دیا۔جمہوریت کو نچلی سطح پر فعال بنانے‘ انہیں بااختیار کرنے اور مضبوط بنانے کیلئے جنرل پرویز مشرف نے بے پناہ کوششیں کیں اور 18نومبر 1999ءکو نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو (NRB) کے تحت عملی طور پر کام شروع کیا اور اپنے دوراقتدار میں دو بار بلدیاتی اداروں کے انتخابات کروا کر ان اداروں کو بے حد مضبوط کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ ملک بھر میں ضلعی حکومتوں کے قیام‘ انہیں اختیارات اور فنڈز کی منتقلی کے بعد بلدیاتی اداروں کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوا پھر چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ کئی شہرت یافتہ سیاسی لیڈر ایم این اے اور ایم پی اے شپ کی بجائے چیئرمین بلدیہ‘ میئر کارپوریشن یا چیئرمین ضلع کونسل منتخب ہونے کو ترجیح دینے لگے۔ ہماری سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنما ماضی میں بھی اور اب بھی بلدیاتی اداروں کو اپنی سیاسی ساکھ اور قد کاٹھ کیلئے خطرہ ہی سمجھتے ہیں۔ انہیں اس بات کا ذرا بھر احساس نہیں کہ بلدیاتی ادارے عوام کے مسائل کو ان کے گھر کی دہلیز پر حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ حکومت اور عوام کے درمیان سب سے موثر رابطے‘ مقامی وسائل کو مقامی سطح پر خرچ کرنے اور جمہوری سیاسی نظام کو مضبوط بنانے میں بے حد اہم کردار ادا کرتے ہیں اس کی قدر اہمیت کے باوجود برسراقتدار نہ جانے کیوں انہیں اپنا حریف سمجھتی ہیں۔
اس وقت اگرچہ ملک میں ہر سطح پر بلدیاتی ادارے کام کر رہے ہیں لیکن ان کے ترقیاتی فنڈز اور منصوبوں میں جس طرح رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں حکومت کے مختلف سرکاری محکمے جس طرح ان کے ساتھ عدم تعاون کر رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر بلدیاتی نمائندوں کو جس انداز سے حکمران جماعت میں شامل ہونے پر مجبور کیاجا رہا ہے اسے کسی صورت میں بھی جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار نہیں دیا جا سکتا آپ کراچی کے میئر کی فریاد سنیں یا لاہور کے لارڈ میئر کی۔ آخر یہ عوام کے دئیے گئے ووٹوں کی طاقت سے ہی اقتدار میں ہیں۔ ان سمیت سارے منتخب بلدیاتی اداروں کے نمائندوں کا یہ حق ہے کہ وہ عوامی مسائل کو حل کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے کام کریں ان کی مدد اور رہنمائی اور فنڈز کی فراہمی حکومتوں کا اولین فرض اور ذمہ داری ہے یہ بات ذہن نشین رہے کہ بلدیاتی ادارے ہمیشہ سے ہی جمہوریت کو مضبوط کرتے ہیں اور آمریت کے سیاہ بادلوں کو ملک پر مسلط نہیں ہونے دیتے لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ بلدیاتی اداروں کو سب سے زیادہ خطرہ سیاسی جماعتوں اور خاص کر برسراقتدار جماعت سے ہی ہوتا ہے گزشتہ دنوں پاکستان کے عوام نے مختلف شہروں کے 16سے زائدضلع ناظموں اور درجنوں بلدیاتی نمائندوں کو ”غیرمشروط طور پر“ حکمران جماعت میں شامل ہونے کے مناظر اپنی ٹی وی سکرینوں پر دیکھے اور تصاویر بھی اخبارات میں دیکھیں۔ ان تصاویر میں صوبائی بلدیات (اب سابقہ بوجہ حراست نیب) بھی فخریہ انداز میں کھڑے ہوئے دیکھے جا سکتے تھے۔ یہ چند سطریں لکھنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ حکمرانوں کو بتایا جائے کہ خدارا بلدیاتی نمائندوں کو اپنے مینڈیٹ کے مطابق آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقعہ دیا جائے۔ ان کی ویسے بھی چار سالہ مدت عنقریب ختم ہونے والی ہے اور ماشاءاللہ آپ نے ستمبر 2018ءمیں نیا بلدیاتی نظام دینے کا وعدہ کیا تھا آپ اپنا وعدہ نبھانے کی طرف پیش رفت کیجئے۔ یقین کریں آپ بلدیاتی نظام کو مضبوط بنائیں‘ نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی اور انصاف کی فراہمی کے اپنے وعدہ کو نبھائیں۔ آپ خود دیکھیں گے کہ اس ملک کے عوام‘ جمہوریت کو مضبوط بنانے میں کس قدر آگے بڑھ کر آپ کا ساتھ دینگے۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved