تازہ تر ین

عمران خان عمل پسندی کے قائل

رانا زاہد اقبال …. نقطہ نظر
عمدہ حکمرانی، اختےار کو مفادِ عامہ مےں استعمال کرنے کا نام ہے اوروزےرِ اعظم عمران خان کی گزشتہ بائےس سالوں کی سےاسی و سماجی جد و جہد پر نظر دوڑائےں تو اس مےں ےہی بات نماےاں نظر آتی ہے کہ وہ عام آدمی کی زندگی مےں سدھار لانے کے لئے کوشاں ہےں۔ دوسرا وہ کرپشن اور بے اےمانی کے خلاف سےنہ سپر نظر آتے ہےں۔ کچھ بھی دھاندلی کا واوےلہ کےا جاتا رہے لےکن اس حقےقت کو اپوزےشن سمےت ہر کوئی جانتا ہے قوم نے انہےں ووٹ اسی امےد پر دئے ہےں کہ وہ ملک کو کرپشن کے عذاب کے نجات دلائےں گے اور عام آدمی کی زندگی مےں سدھار لائےں گے۔ لےکن ان سے اےک بڑی غلطی ےہ ہوئی کہ انہوں نے وہ سب لوگ اپنے ساتھ ملا لئے جن کو اےسی باتےں سننے اور ماننے کی عادت نہےں ہے۔ اےسی باتےں ان کے کانوں کو نامانوس لگتی ہےں، وہ اےسے چونچلوں کے عادی نہےں ہےں اور اےسی باتےں ان کے مزاجوں پر گراں گزرتی ہےں۔
وزےرِا عظم نے اقتدار سنبھالنے کے بعد کرپشن کی بات کی تو اس اشرافےہ کی کلاس نے بڑا مائنڈ کےا اورا س کا تاثر ےہ ہے کہ عمران خان کبھی کارکردگی کا حساب لےنے کی بات کرتے ہےںتو کبھی کرپشن کے خاتمے کی۔ ان کی رائے مےں ےہ سب مڈل کلاسےے کے طور طرےقے ہےں اور ےہ اشرافےہ پر لاگو نہےں ہو سکتے۔ متوسط اور نچلے طبقے کی سوچ اس نقطے کے گرد گھومتی ہے کہ اپنی صلاحےتوں کے علاوہ اس کے پاس اور کچھ نہےں اور ےہ کہ ےہ ان کی ملکےت ہے۔ جب کہ اشرافےہ کے پاس اللہ کا دےاسب کچھ ہوتا ہے زمےن، جائےداد، دھن دولت اور وہ تو اقتدار مےں آتے ہی اس کو بڑھانے کے لئے ہےں۔ ان کو بھلا عمران خان کے ویژن سے کےا لےنا دےنا۔ ان کے لئے تو اختےار اور کرپشن کا پرانا ساتھ ہے۔ اختےار ہو تو غلط استعمال کرنے کو بھی جی چاہتا ہے اور ےہےں سے کرپشن جنم لےتی ہے اس لئے کہا جاتا ہے کہ بہت زےادہ اختےارات کا مطلب کےا ہے بہت زےادہ کرپشن۔ طاقت و اختےار کو سنبھالنا اور انہےں سنبھل کر استعمال کرنا ہی در اصل پل صراط عبور کرنا ہوتا ہے کہ ےہ بال سے بھی زےادہ بارےک اور تلوار کی دھار سے زےادہ تےز ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انصاف طاقتور کے مفاد کا نام ہے اور ہے بھی اےسا ہی کےونکہ جو سب سے طاقتور ہوتا ہے اس کا حق بھی سب سے اوپر ہوتا ہے۔ لےکن عمدہ حکمرانی نام ہی اس کا ہے جو ےہ اصول قائم کرے کہ انصاف طاقتور کے مفاد کا نام نہےں بلکہ اس کا الگ سے وجود ہوتا ہے اور اس کا مقصد ےہ باور کرانا ہے کہ قانون کے سامنے طاقتور اور کمزور برابر ہےں اور ےہ سب پر ےکساں لاگو ہوتا ہے۔ اسی لئے روسو نے تو ےہاں تک کہہ دےا ہے کہ مےں ہر اس رےاست کو جمہورےہ کہتا ہوں جس پر قانون کے ذرےعے حکومت ہوتی ہے۔ خواہ اس کا طرزِ حکومت کچھ بھی ہو مگر اس کے قانون کی تعرےف کو سامنے رکھےں تو ےہ شرط بہت کڑی دکھائی دے ۔ لےکن ہمارے ہاں اختےار کو مفادِ عامہ مےں استعمال نہےں کےا جاتا بلکہ اسے فلاحِ اشرافےہ مےںاستعمال کےا جاتا ہے۔ عمران خان اسی کے خلاف جد و جہد کر رہے ہےں۔ ہمارے ہاں قوانےن اےسے بنائے جاتے رہے ہےں جن کا بنےادی مقصد چند افراد ےا گروہوں کو فائدہ پہنچاےا جا سکے۔ اور سچ بھی ےہی ہے کہ ےہ سب جو قومی رہنما ہےں سب اپنے اپنے اےجنڈے کے لئے گھومتے پھرتے ہےں اورا سی پر کام کرتے ہےں۔ ہماری سےاست طالع آزماو¿ں کا کھےل بن کر رہ گئی ہے جو قومی اےجنڈے کی بات کرتے ہےں وہ بھی کب اس کی پرواکرتے ہےں اور پروا کرےں بھی کےسے ذاتی اےجنڈا پورا ہو تو پھر قوم کے بارے مےں بھی سوچا جائے ےہاں ذاتی ا ےجنڈے سے فرصت نصےب نہےں ہوتی۔ عمران خان اقتدار سنبھالتے ہی جو قومی اےجنڈا لے کر قوم سے مخاطب ہوئے تھے اس مےں انہوں نے ملک کو حقےقی جمہورےت سے روشناس کرانے کا عہد کےا تھا۔ان کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ ان کے ساتھ جو لوگ ہےں وہ کس قسم سے تعلق رکھتے ہےں مگر ان کو ےقےن ہے کہ جوابدہی اور باز پرس کا عمل جاری رہا تو حالات سدھر جائےں گے۔
ابھی ان کو اقتدار مےں آئے ہوئے صرف چھ ماہ ہوئے ہےں اس لئے ان سے ےہ امےد نہےں کی جا سکتی کہ وہ کبھی اپنے آپ سے ےہ سوال کر سکےں کہ وہ جو مشن لے کر چلے تھے وہ کہاں تک پورا ہوا؟ انہوں نے جو سےاسی ٹےم اپنے گرد جمع کی کےا اس کی کارکردگی سے مطمئن ہےں؟ ان کا سب سے بڑا نعرہ بد عنوانی کے خلاف ہے۔ وہ اس کا خاتمہ کرنے کے لئے سرگرمِ عمل ہونے کا عزم لے کر اقتدار مےں آئے ہےں۔ وہ اپنے بےانات مےں اب تک کی کارکردگی سے مطمئن نظر آتے ہےں ان کے خےال مےں چھ ماہ کے عرصہ مےں جتنا کام ہونا چاہئے تھا وہ ہوا ہے۔ لےکن ےہ ضرور ہے کہ اگر اےسا نہےں ہو سکا تو ان کو کوئی غےر ضروری عذر نہےں تراشنا چاہئے، عام حالات مےں خود کو مطمئن کرنا زےادہ مشکل نہےں ہے۔ لےکن انہےں اےسا نہےں کرنا چاہئے کےونکہ ابھی ان کے پاس بہت وقت ہے وہ بہت کچھ کر سکتے ہےں۔ قوم نے ان سے بہت سی امےدےں وابستہ کر رکھی ہےں لہٰذا انہےں چاہئے کہ وہ ان کو پورا کرنے مےں کوئی کسر نہ چھوڑےں۔ آپ وےسے بھی عمل پسندی اور ہر صورت نتائج حاصل کرنے کے قائل ہیں۔
(کالم نگارسماجی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved