تازہ تر ین

پانامہ کی رسوائی اور غریب عوام

مریم ارشد……..میری آواز
سینئر صوبائی وزیرِ پنجاب اور پی ٹی آئی کے دائیں بازو عبدالعلیم خان کو نیب لاہور نے پانامہ سکینڈل میں پیش رفت کرتے ہوئے بالآخر گرفتار کرلیا ہے ۔ گرفتاری کے فوراً بعدانہوں نے اپنا استعفیٰ بھی بھجوا دیا یوں جیسے سب تیاریاں مکمل تھیں۔ 1997میں بین الاقوامی تحقیقاتی صحافتی تنظیم کی بنیاد واشنگٹن ڈی سی میں رکھی گئی ۔ پانامہ کا سکینڈل یعنی رسوائی 2015میں منظرِ عام پر آئی۔ 2016میں ICIJنے مختلف جماعتوں اور انفرادی طور پر ان شخصیات کے ناموں کی فہرستیں جاری کیں جنھوں نے آف شور کمپنیاں بنائیں۔ ایک سو صحافتی تنظیموں ، 80 ممالک کے چا ر سو کے قریب صحافیوں نے اس تحقیقاتی ٹیم میں حصہ لیا اور آخر کار دو لاکھ چودہ ہزار افراد کی جائیدادوں اور آف شور کمپنیوں کے بارے میں بڑے پیمانے پر انکشافات ہوئے ۔ اس رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد دنیا بھر میں تہلکہ مچ گیا ۔ مئی 2016میں جب ICIJنے پانامہ کاغذات کی دوسری قسط جاری کی تو دنیا بھر سے اس میں مزید دو لاکھ آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہوا۔
دلچسپ بات ےہ ہے کہ اس فہرست میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تقریباً دو سو سیاست دان ،تاجر حضرات اور دیگر حضرات شامل تھے۔ انہی دنوں سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کے خلاف موجودہ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے عدالت میں رٹ جمع کروائی۔ مقدمہ چلتا رہا اور بالآخر عدالتی فیصلے کے مطابق سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف تاحیات نااہل قرار پائے ۔ عوام میں بیک وقت خوشی اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ۔ جو لوگ پی ٹی آئی کے حق میں تھے ان کی خوشی دیدنی تھی بالکل ویسے جیسے فیچر فلم کے اختتام پر ولن کی ناکامی اور ہیرو کی کامیابی کی خوشی فلم بینوں کے چہروں پر عیاں ہوتی ہے ۔لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ زندگی دو ڈھائی گھنٹے کی فلم نہیں بلکہ ایک طویل میلو ڈرامہ ہے ۔ انہی آف شور کمپنیوں کی بنیاد پر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین بھی سیاست سے صاف ہوگئے تھے۔ اسی طرح بابر اعوان بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوچکے تھے۔ حکومتی پارٹی کے سینئر صوبائی وزیر کا مستعفی ہونا اور وزیر اعظم کا اپنی پارٹی کے عہدے داران کو کسی قسم کی بیان بازی سے باز رہنے کا حکم دینا حقیقتاًداد کے قابل ہے ۔ اس وقت ماضی کی بڑی سیاسی پارٹی پی پی پی کی قیادت کے خلاف بھی نیب میں متعدد کیس چل رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی نیب میں مطلوب ہیں۔ موجودہ صورتِ حال میں بلاشبہ نیب کا وقار بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ نیب اگر اسی طرح بلاتفریق احتساب جاری رکھے گا تو نہ صرف عوام میں اپنا اعتماد بحال کرے گا بلکہ ملک سے بد عنوانی اور کرپشن کا بڑی حد تک خاتمہ ہوتا ہوا بھی نظر آئے گا۔
ماضی میں جب نیب کے ادارے کو تشکیل دیا گیا تو اسے اپنے اپنے مخالفین کے خلاف بروقت سیاسی مقاصد کے طور پر استعمال کیا گیاتھا جو اس کی ساکھ کی خرابی کا باعث بنا ۔ اگر ےہ کہا جائے کہ آمدنی سے زائد اثاثوں کا کسی شخص پر ظاہر ہونا مضحکہ خیز ہے اور اس الزام کے تحت کسی کو بھی سزا سنائی جاسکتی ہے تو یقینا ےہ درست نہیں ہوگا۔ جس کسی کے بھی جائیداد یا اثاثے اس کی متوقع آمدن سے زیادہ ہیں تو وہ ناجائز ذرائع سے کمائے گئے ہوں گے ۔ ےہ بات وہ اثاثے بنانے والا اور اس کے مخالف بولنے والا دونوں جانتے ہیں۔ اس کی مثال یوں لی جاسکتی ہے کہ اگر کسی محکمے میں کسی ملازم کی تنخواہ تو پچا س ساٹھ ہزار ہو اور وہ مرسیڈیز کا ر پر آتا ہو تو کہیں کوئی گڑ بڑ تو ہوگی۔ ہمارے ہاں ایک المیہ رہا ہے ہم چھوٹے چوروں کو تو فوراً پکڑوا لیتے ہیں مگر دولت مندوں کی دولت خواہ جائز ہو یا ناجائز اس سے مرعوب ہو کران کے لیے کورنش بجاتے رہتے ہیں ۔ ماضی میں نیب میں من پسند احتساب کا کھیل رچایا گیا اور کوئی نہیں جانتا کہ سیاسی وفاداریوں کی بنا پر نااہلوں کو بڑے بڑے عہدے تھما دیے گئے ۔بدلے میں نقصان تو غریب عوام کا ہوا ، سنگھاسن پر بیٹھنے والوں نے اپنی طاقت کاغلط استعمال کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی بائیس سالہ سیاسی جدو جہد میں جو بدعنوانی سے پاک سیاست کا نعرہ لگایا تھا اگر آج احتساب میں سمجھوتا کریں گے تو اپنی ساکھ مٹی میں ملا دیںگے۔ کبھی اپوزیشن علیم خان کی گرفتاری پر کہہ رہی ہے کہ ےہ منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے ہے ، کبھی ےہ کہ، کچھ عرصے بعد انہیں کلین چِٹ مل جائے گی وغیرہ وغیرہ ۔ دراصل اپوزیشن کے تمام بدعنوان عناصر وں کو ےہ پتہ چل چکا ہے کہ اب ان کی باری بھی زیادہ دور نہیں۔ ملک کے ہر صوبے کے ترقیاتی کاموں کے بجٹ کے اربو ں کھربوں یہ لوگ ہڑپ کر چکے ہیں لیکن اب احتساب دھیرے دھیرے طوفان کی طرح اُن کی طرف رُخ کر رہا ہے ۔ لگ بھگ گذشتہ تین دہائیوں سے عوام کو غربت ، بے روزگاری ، ناخواندگی ، مہنگائی اور حق تلفی کی دلدل میں بے رحمی سے دھکیل دیا گیا ہے۔ افسوس صد افسوس! عوام آہ و فغاں کر رہی ہے ، اپنے بنیادی جائز حقوق مانگ رہی ہے مگر کوئی راستہ سُجھائی نہیں دیتا۔ اب عوام چاہتی ہے کہ موجودہ حکومت بلا تفریق احتساب کرے کہ اب ان کی ساری امیدیں اسی بات سے وابستہ ہیں ۔ وطن عزیز سے ہر طرح کی بدعنوانی کو ہر ممکنہ حد تک ختم کرنے کی ازحد کوشش کی جائے۔ پانامہ سکینڈل یعنی رسوائی میں ملوث ہر اپنے پرائے سے ملک و قوم کا لُوٹا ہوا پیسہ واپس لایا جائے۔ بدعنوان مافیا جو ہمارے لیے دنیا بھر میں رسوائی اور کلنک کا باعث بن گیا ہے اسے کسی صورت بھی معاف نہ کیا جائے ۔ جب ملک میں مہنگائی بڑھتی ہے تو لوگوں میں بے قرار ی بڑھتی ہے ، بے چینی کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔ اس طرح کے جذبات سے معاشرے میں بڑے پیمانے پہ بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے ۔ لوگ اپنی بنیادی ضروریاتِ زندگی کو کسی طرح بھی پور ا کرنے کے لیے ہر طرح کے جائز و ناجائز طریقے اپنانے سے گریز نہیں کریں گے۔
اس پاک وطن میں جس کے نام کے شروع میں ہی پاک کا لفظ آتا ہووہاں اتنی کرپشن ، اتنی حق تلفی ، اتنی ناانصافی ، اتنی بے یقینی ، اتنی ذلت و رسوائی ، بارِ غم جھوٹ نہیں ہیں بلکہ سچائی ےہ ہی ہے، رسوائی ےہ ہی ہے ، اسی رسوائی نے اسی سچ نے انسان کا خون بہایا ہے ۔ اے سیاستدانو ، اے حکمرانو ، اے اونچے ایوانوں کے مکینو سوچو ےہ احتساب ےہیں ہوجائے تو اچھا ہے ورنہ یومِ حساب کا احتساب تو بڑا کڑا ہوگا۔بے شک سیاست اور حکومت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ سیاست کی پُرپیچ گلیوں میں آنے والا ہر خاص و عام آخر میں حکومت ہی میں آنا چاہتا ہے کیونکہ حکومت نا م ہے اختیار کا، طاقت کا اور ےہ دونوں چیزیں ایک نشہ ہیں۔ اب دیکھنا ےہ ہے کہ ہمارے سیاست دان اس طاقت کو درست انداز میں استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔ بدقسمتی سے آج تک تو اس اختیار کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے ۔ کبھی حقیقتاً جس کے لیے غریب عوام آپ کو ووٹ دیتی ہے ان خطوط پر کام کرکے دیکھیے غریبوں کی جو دعائیں آپ کو لگیں گی اس کا ایک اپنا الگ سُریلا نشہ ہے۔ آخر میں ساحر لُدھیانوی یاد آرہا ہے۔
تنگ آچکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم
ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم
(کالم نگارقومی وسماجی ایشوزپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved