تازہ تر ین

علمائے اُمت کہاں ہیں؟

محمد صغیر قمر……..چنار کہانی
علمائے امت کہاں ہیں؟۔ انبیاءکے وارث خاموش کیوں ہیں ۔ حق کے معاملے میں جرا¿ت اور بے باکی اور رہنمائی کا منصب انہیں عطا ہوا تھا پھر وہ امت کی خرابی اور اغیار کی یلغار پر خاموش کیوں ہیں؟ قوم کے حکیم طبیب اور غیرت ایمانی کے محافظ یہی لوگ ہیں ۔ا یسے زمانے میں جب دین کی بات کرنا مشکل ہو جاتی ہے دل درد سے بھر جاتے ہیں ۔سید ؒ یاد آئے اور بے اختیار یاد آئے۔ صاحب بصیرت نے بہت پہلے اس کا ادراک کیا تھا۔ کاش! زندگی کے چلتے پہیے میں علمائے کرام کاکردار در آئے۔اپنا فرض پہچان لیں اور وہ بھی بروئے کار آ جائیں۔
جب علماءاپنے اصلی فرض یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو چھوڑ دیتے ہیں اور شر و فساد کے ساتھ رواداری برتنے لگتے ہیں تو گمراہی اور بد اخلاقی قوم کے افراد میں پھیلنی شرع ہو جاتی ہے ۔قوم کی غیرت ایمانی ضعیف ہوتی چلی جاتی ہے۔یہاں تک کہ سارا اجتماعی ماحول فاسد ہو جاتا ہے۔ قومی زندگی کی فضا اصلاح اور بھائی چارے کے لیے ناساز گار اور شرو فساد کے لیے سازگار بن جاتی ہے۔ لوگ نیکی سے بھاگتے ہیں اور بدی سے نفرت کرنے کے بجائے اس کی طرف کھینچنے لگتے ہیں ‘ اخلاقی قدریں الٹ جاتی ہیں ‘ عیب ہنر بن جاتے ہیں اور ہنر عیب ۔ اس وقت گمراہیاں اور بد اخلاقیاں خوب پھلتی پھولتی ہیں اور بھلائی کا کوئی بیج برگ و بار لانے کے قابل نہیں رہتا ‘ زمین ہوا اور پانی سب اس کی پرورش کرنے سے انکار کر دیتے ہیں ۔ان کی ساری قوتیں اشجار خبیثہ کو نشوونما دینے کی طرف مائل ہو جاتی ہیں۔ جب کسی قوم کا یہ حال ہو جاتا ہے تو پھر وہ عذاب الٰہی کی مستحق ہو جاتی ہے اور اس پر ایسی عام تباہی نازل ہوتی ہے جس سے کوئی نہیں بچتا ‘ خواہ وہ خانقاہوں میں بیٹھا عبادت گزار ہی کیوں نہ ہو۔
قوم کی اخلاقی اور دینی صحت کو بر قرار رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ اس کے ہر فرد میں غیرت ایمانی اور اخلاقی اقدار موجود ہوں جس کو نبی نے ایک جامع لفظ ” حیاء“ سے تعبیر فرمایا ہے۔یہ حیاءدراصل ایمان کا ایک جزو ہے جیسا کہ حضور نے فرمایا …. ان الحیاءمن الایمان۔ ایک موقعے پر جب حضور سے عرض کیا گیا کہ حیاءدین کا ایک جزو ہے تو آپ نے فرمایا ” وہ پورا دین ہے۔ حیاءسے مراد یہ ہے کہ بدی اور معصیت سے نفس میں طبعی طور پر نفرت پیدا ہو اور دل اس سے نفرت کرے۔ جس شخص میں یہ صفت موجود ہو گی وہ نہ صرف قبائح سے اجتناب کرے گا بلکہ دوسروں میں بھی اس کو برداشت نہ کر سکے گا ۔ وہ برائیوں کے دیکھنے کا روادار ہوگا نہ ظلم اور معصیت سے مصالحت کرنا اس کے لیے ممکن ہوگا ۔ جب اس کے سامنے برائی کا ارتکاب کیا جائے گا تو اس کی غیرت ایمانی جوش میں آ جائے گی اور وہ اس کو ہاتھ سے یا زبان سے مٹانے کی کوشش کرے گا یا کم از کم اس کا دل اس خواہش سے بے چین ہو جائے گا کہ اس برائی کو مٹا دے۔ اﷲ کے رسول نے خود حکم دیا ہے ” تم میں سے جو کوئی بدی کو دیکھے وہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دے اور اگر ایسا نہ کر سکتا ہو تو زبان سے اور اگر یہ بھی نہ کر سکتا ہو تو دل سے بُرا جانیںاور یہ ضعیف ترین ایمان ہے۔“ (الحدیث) جس قوم کے افراد میں عام طور پر یہ صفت موجود ہوگی اس کا دین محفوظ رہے گا اور اس کا اخلاقی معیار کبھی نہ گر سکے گا ۔کیونکہ اس کا ہر فرد دوسرے کے لیے محتسب اور نگران ہوگا اور عقیدہ و عمل کے فساد کو اس میں داخل ہونے کے لیے کوئی راہ نہ مل سکے گی۔
مسلمانوں کا یہ حال ہو تو ان کی مثال اس بستی کی سی ہو گی جس کے ہر باشندے میں صفائی اور حفظان صحت کا احساس ہو ۔ وہ نہ صرف اپنے جسم اور اپنے گھر کو پاک صاف رکھے ‘ بلکہ بستی میں جہاں کہیں غلاظت اور نجاست دیکھے اس کو دور کر دے اور کسی جگہ گندگی و کثافت کے رہنے کا روادار نہ ہو۔ ایسی بستی کی آب و ہوا پاک صاف رہے گی ۔ اس میں امراض کے جراثیم پرورش نہ پا سکیں گے اور شاذو نادر کوئی شخض اور مریض ہوگا بھی تو اس کا ہر وقت علاج ہو جائے گا یا کم از کم اس کی بیماری محض شخصی بیماری ہو گی ‘ دوسروں تک متعدی ہو کر وبائے عام کی صورت نہ اختیار کر سکے گی ۔اگر مسلمان قوم اس بلند درجے پر نہ رہ سکے تو دینی و اخلاقی صحت کو بر قرار رکھنے کے لیے کم ازکم ایسا گروہ تو ان میں ضرور موجود رہنا چاہیے جو ہر وقت اپنی خدمت پر مستعد رہے اور اعتقاد کی گندگیوں اور اخلاق و اعمال کی نجاستوں کو دور کرتا ہے ۔”’ تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلانے والی ہو ‘ نیکی کا حکم دے اور بدی سے روکے۔“(آل عمران۔۱۰۴)
کیایہ جماعت علماءاور اولی الامر کی جماعت ہے ؟اس کا امر بالمعروف و نہی المنکر میں مصروف رہنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا شہرکے محکمہ صفائی و حفظان صحت کا اپنے فرائض میں مستعد رہنا ضروری ہے۔ اگر یہ لوگ اپنے فرائض سے غافل ہو جائیں اور قوم میں ایک جماعت بھی ایسی باقی نہ رہے جو خیر و صلاح کی طرف دعوت دینے والی اور منکرات سے روکنے والی ہو تو دین و اخلاق کے اعتبار سے قوم کی تباہی اسی طرح یقینی ہے جس طرح جسم وجان کے اعتبار سے اس بستی کی ہلاکت یقینی ہے جس میں صفائی و حفظان صحت کا کوئی انتظام نہ ہو ۔ اگلی قوموں پر جوتباہیاں نازل ہوئی ہیں وہ اسی لیے ہوئی ہیں کہ ان میں کوئی گروہ بھی ایسا باقی نہیں رہا تھا جو ان کو برائیوں سے روکتا اور خیر اور بھلائی قائم رکھنے کی کوشش کرتا ۔
قوم کے علماءو مشائخ اس زمانے میں امت کے مسائل کے لیے جواب دہ ہیں۔وہ صرف اپنے ہی اعمال کے لیے جواب دہ نہیں ہیں بلکہ پوری قوم کے اعمال کی جواب دہی بھی ان پر عائد ہوتی ہے ۔ ظالم جفاکار اور عیش پسند امراءاور ایسے امراءکی خوشامدیں کرنے والے علماءو مشائخ کا تو خیر کہنا ہی کیا ہے ‘ ان کاجو کچھ حشر خدا کے ہاں ہوگا اس کے ذکر کی حاجت نہیں ۔جو امراور علماءو مشائخ کا اپنے محلوں اور اپنے گھروں اور اپنی خانقاہوں میں بیٹھے ہوئے زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت کی داد دے رہے ہیں ۔ وہ بھی خدا کے ہاں جواب دہی سے نہیں بچ سکتے۔ کیونکہ جب امت رسول ہر طرف سے گمراہی بد اخلاقی اور مصائب کے گرداب میں ہے ۔ ان کا کام یہ نہیں ہے کہ گوشوں میں سر جھکائے بیٹھے رہیں‘ بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ مرد میدان بن کر نکلیں اور جو کچھ زور اور اثر اﷲ نے ان کو عطا کیا ہے ان کو کام میں لا کر اس طوفان کا مقابلہ کریں ۔ طوفان کو دور کر دینے کی ذمہ داری بلا شبہ ان پر نہیں ‘ مگر ان کے مقابلے میں اپنی پوری امکانی قوت صرف کر دینے کی ذمہ داری تو یقیناً ان پر ہے۔ اگر وہ اس میں دریغ نہیں کریں گے تو ان کی عبادت و ریاضت اور شخصی پرہیز گاری ان کو یوم الفضل کو جواب دہی سے بری نہ کر سکے گی۔
امت رسول ہاشمی گرداب میں ہے‘ علمائے امت اٹھیں اور اس گرداب سے امت کو نکالیں۔ اس سے پہلے کہ یہ سیلاب ان کی خانقاہوں ‘درگاہوں ‘دارالعلوموں اور گدیوںکی طرف بڑھے ،اس کو روک دیا جائے۔ امت رسول ہاشمی انبیاءؑ کے ورثاءسے وراثت کے تحفظ کا تقاضا کرتی ہے کہ اپنے جبے دستارہی کی خاطر خانقاہوں سے نکلیں اور رسم شبیری ادا کریں۔
( متعدد کتابوں کے مصنف ‘شعبہ تعلیم
سے وابستہ اورسماجی کارکن ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved