تازہ تر ین

مغربی جمہوریت کب تک ؟

اعجاز شیخ……..معیشت نامہ
قیام پا کستان کے لےے تقریباً دس لا کھ مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا ۔ پا کستان کا مطلب کیا ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ یہ دل افروز نعرہ اس وقت زبان زد عام جا ری تھا ۔ جہاں اللہ کی حاکمیت ہو گی اور اس کے رسول کے احکامات کی پابندی ہو گی ۔ اس خواب کی تعبیر کے لےے دیگر مشاہیر کے علا وہ قائد اعظم ؒ نے انتھک محنت کر کے ، یہ مملکت خداداد دلوائی ، مگر قائد اعظم کی رحلت کے بعد ہما ری نا عاقبت اندیش قیادت نے اس بے نظیر خطے پر اپنا تسلط جمالیا اور ایک ایسے نظام کو رائج کرنا بہتر سمجھا جو قیام پاکستان کی روح کے منا فی ہے ۔ آج جس صور ت حال سے ہما ری مقدس سر زمین دوچار ہے وہ شاید اسی کا شاخسانہ ہے جس کے نتیجے میں ہر شعبہ میں ہم روبہ زوال ہیں ۔پاکستان میں ہم نے ہر ایک نظام کو اپنا کر دیکھ لیا ہے کوئی بھی ہمارے لےے اکسیر ثابت نہیں ہو سکا۔ عوامی طبقہ کے سوا ہر طبقہ ریاست پر مقتدر رہ چکا ہے ۔ ان میں ہر قسم کے کاری گر سیاست دان ، بیوروکریٹس ، جاگیردار اور سرکاری ملازمین نے بھی وقتاً فوقتاً اقتدار کے مزے لوٹے ہیں ۔ وطن عزیز جس وعدے پر حاصل کیا تھا جب تک وہ پورا نہیں کیا جا ئیگا۔ ہم راندہ درگا رہی رہیں گے۔
موجودہ حالات کے پیش نظر اللہ کی زمین پر اللہ کی حاکمیت اور عوام کی شراکت ہی ہما ری ڈوبتی ہوئی ناﺅ کو پا رلگا سکتی ہے ۔ ایسا ہونا مشکل تو ضرور ہے۔ مگر ناممکن نہیں۔ فی الواقعہ مو جودہ حکمرانوں کی بقابھی اسی سے وابستہ ہے ۔ ان کو ہر قسم کی سیاسی سپورٹ ، بھر پور تائید ہونے کے باوجود بھی مہنگائی کنٹرول نہیں ہورہوی ہے۔ حکومتی بیانات پر کوئی عمل درآمد ہو تا نظر نہیں آتا۔قتل وغارت کے واقعات بھی رونما ہورہے ہیں۔ ایک دوسرے پر الزام لگا کر یو ں سرخرو ہو جا تے ہیں کہ قتل جیسا بڑا گناہ جیسے کوئی بات نہیں ، دراصل یہ جمہوری نظام کی سب سے بڑی خامی ہے ۔ وہ اس لےے ، نہ قاتلوں کو سزا دینے کے لےے پارلیمنٹ کی متفقہ رائے ہو ، پھر قانون بنے ، تب جا کر جرم کرنے والوں کو سزا ملے ۔ ‘ ‘ ایسے حالات اور نظام حکومت میں اللہ سبحان تعالیٰ کی نصرت کہاں پہنچ سکتی ہے ۔ ارشاد ربانی ہے ۔ ترجمہ : ” اور جب ارادہ کرتے ہیں کہ ہلا ک کر دیں کسی بستی کو تو وہاں کے رﺅسا و اشرافیہ کو فواحش پر ما مور کر دیتے ہیں ۔ وہ نا فرمانیاں کرتے پھرتے ہیں ۔ اس ( بستی ) میں بس واجب ہو جا تاہے ان پر عذاب کا حکم پھر ہم اس بستی کو جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔ “ سورئہ بنی اسرائیل ۔
ہمارے سیاسی شعبدہ باز آج تک ہمیں یقین دہانی کرواتے چلے آئے ہیں کہ مغربی جمہوریت میں ہی ہما ری بقاہے ۔ ستر سالوں سے جا ری و ساری اور مسلط شدہ مو جودہ نظام نہ تو ہمیں کچھ تحفظ دے سکا اور نہ ہی اس کے بل بوتے پر ہم پا کستان کو فلاحی ریاست بنا سکے ۔ ہا ں کچھ پیش رفت ہوئی ہے تو اشرافیہ کی ہوئی ہے ۔ جنہوں نے ہر طرح کی کر پشن سے تجوریاں بھرنے کے بعد سرکاری گاڑیاں ، شوفر الاﺅنسز ، عملہ خدمت گار، خانسامے ، غیر ملکوں میں علا ج ، کسٹم فری گاڑیں ان کے لےے ہمہ وقت پیش خدمت ہیں ۔ اب ارض پا کستان سے اور کچھ کیا وصول کرنا باقی رہ گیا ہے ۔ ڈوبتی ہوئی معیشت سے مزید کیا نچوڑا جا سکتا ہے ۔ اس کے بدلے میں عوام کی تڑپتی لاشیں ، اغواءبرائے تاوان ، بم بلاسٹ ، زنا بالجبر ، آبروریزی ، قہر کی زد میں روتے چلا تے عوام وقت کے حاکم کو پکار رہے ہیں ۔ مگر ان کی پکار سننے والا کوئی نہیں۔ میرے خیال میںموجودہ جمہوری نظام کسی طرح بھی اسلام کا نعم البدل نہیں ۔ ہمیں سچ سے کام لیتے ہوئے پو را پو را اسلامی نظام لا نا ہو گا۔ سیاسی اکابرین جس مارشل لا ءسے عوام کو ڈراتے ہیں ۔اس کا آئندہ لگنا مشکل ہے کیونکہ امریکہ اور دیگر اس کے اتحادی اپنے مفاد کے لےے جس مارشل لاءکی حمایت کر تے تھے آج وہ کام دنیا میںجمہوریت کی چھتری تلے پنپ رہا ہے ۔ رات دن جمہوریت کے گیتوں سے اب عوام بھی اتنی سحر زدہ ہے کہ اس کے خلاف بات کر نا مشکل دکھا ئی دیتا ہے۔
جمہوریت کے پیرو کا روں نے جمہوریت کے گر د ایک ایسا حصار بنا رکھا ہے کہ اس کے دوام کے لےے ہمہ وقت کوششیں جا ری وساری ہیں۔کبھی کبھی ایسی جمہوریت بھی آن ٹپکتی ہے جو ایک آدھ شریعت بل کو ہی پو را پورا اسلام نافذ کرنے کے مترادف سمجھتی ہے۔ حالانکہ شریعت بل کی بجائے مکمل اسلامی بل کو نا فذ ہو نا چاہےے ۔ موجودہ جمہوری نما تما شہ میں عوام محض تماشائی کی حد تک تو شامل ہےں مگر جمہوریت کا ثمر ان کی پہنچ سے بہت دور ہے ۔ موجودہ نظام جسے جمہوریت کے نام پر چلا یا جارہا ہے صریحاً ایسا نظام ہے جس کی بنیاد جنگل کے قانون پر استوار ہے ۔ وہ فرد جو کئی افراد کا قاتل ہو مگر ہو طاقتو ر وہ محفوظ ہے ۔ طاقتور فرد کی منہ زوری اور طالع آزمائی سان گمان کی ساری حدیں پارکر چکی ہے ۔ اس طاقتور فرد نے قانون ، انصاف ، سماج حکومت اور حکمرانوں تک کو نیچے لگا رکھا ہے ۔ یہ طاقتور فرد اتنا مضبوط اور دلیر ہو چکا ہے کہ اس کی بربریت اور پشت پناہی حکمرانوںکی مجبوری بن چکی ہے ۔ جہاں قاتلوں کو سزا دینے کا رواج نہ ہو ۔ وہاں یو ٹرن کرنے ، بسوں کے شیشے توڑنے اور بلا ٹکٹ سفر کرنے والوں کو کیا کہا جا سکتا ہے ۔ ہمیں ایسے طاقتور فرد سے نجات حاصل کرنا ہو گی ۔ ” ( کوڑھ کی کاشت ، ڈاکٹر حقی حق ) “ مگر یہ تب ہی ممکن ہے جہا ں اکثریت کی نبیاد پر فیصلہ کرنے کی بجائے اہلیت کو مقدم سمجھا جائے سیاسی اکابرین آج تک یہی سبق دہرائے جا رہے ہیں کہ بد ترین جمہوریت بھی مارشل لاءسے کہیں بہتر ہے اور جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے ۔ دیکھا جائے تو ایک حد تک سچ بھی ہے ۔ اس نظام حکومت نے ستر سال سے زائد مدت گزرنے کے باوجود بھی ملک کو کس قدر سبو تاژ کیا ہے ۔ عام آدمی تو دو وقت کی روٹی اور رات بسر کرنے کے لےے سائبان کو ترس رہا ہے واقعتا عوام سے یہی بہترین انتقام ہے ۔ اس کے برعکس اشرافیہ ہر طرح سے مالا مال ، خوشحال ہو گئی لہٰذا ایسے نظام کو کیونکر لانے کی غلطی کر ے گی جس سے ان کے اعمال کی بابت پو چھا جا سکتا ہے ۔ جب بھی کسی نے اسلامی نظام کے نفاذ کے لےے تھوڑی سی کوشش کی ہما رے حکمرانوں نے اس کے خلاف ایسے ایسے فروعی مسئلو ں کو لا کھڑا کر دیا جس سے اسلام کے بارے میں ایسا تاثر ملے کہ فی زمانہ یہ تو قابلِ عمل نہیں۔
گو عوام مو جودہ جمہوری نظام کو ہی بہ امر مجبوری قبول کےے ہوئے ہیں ۔ مگر وہ دل سے ایسے نظام کے لےے ضرور متلا شی ہیں جن میں قانون کا اطلا ق سب پر لا گو ہو اور وسائل پر بحیثیت کا ر کر دگی ان کا حصہ ہو۔ اس بات پر ہمیں یقین کر لینا چاہےے کہ اس غیر منصفانہ نظام کو بدلنے میں ہی ہما ری بقاءہے ۔ ناسور کے اوپر مرہم لگا تے لگاتے اب اس کا زہر وطن کے ذرے ذرے میں سرایت کر گیا ہے ۔ جب تک اس کو نشتر کے ذریعے صاف نہیں کیا جا تا ہے ہمارا زندہ رہنا محال دیکھا ئی دیتا ہے ۔ یہ فرض کسی نے تو بہر حال ادا کرنا ہے ؟
(ماہرمعاشیات اورمعاشی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved