تازہ تر ین

سنگا پورماڈل

اسرار ایوب….قوسِ قزح
ہمارے یہاں ادارہ سازی کا رواج ہی نہیں کیونکہ ہم اداروں پر نہیں بلکہ افراد پر یقین رکھتے ہیں یعنی محکمہ جات کمزورلیکن ان میں کام کرنے والے لوگ مضبوط ہیں۔اس پر ستم یہ کہ افراد کے انتخاب میں بھی اچھائی و اہلیت کے بجائے ذاتی پسند ناپسند یا رشوت اور سفارش کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے ، نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ سرکاری محکمے بالعموم عوام کا اعتماد مکمل طور پر کھو چکے ہیں ۔ شہنشاہِ ظرافت اور میرے استاد سید ضمیر جعفری (مرحوم) نے کیاخوب فرمایا کہ
ہم کو افراد مقدم تھے اداروں کی جگہ
اب چھوہارے نظر آتے ہیں ستاروں کی جگہ
سرکاری محکموں پر اعتماد کی بحالی اولین ترجیح ہوگی تو ہی بات بنے گی، اور یہ کام شروع بھی نیب سے کرنا پڑے گا کیونکہ کرپشن موجودہ پاکستان کاسب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے ۔ نیب اس لئے بنایا گیا کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکے اور کرپشن اختیارات کے ناجائز استعمال کو کہتے ہیںجوبالعموم ذاتی مفاد کے تحت کیا جاتا ہے۔یہ اختیارات پبلک آفس ہولڈرز کو حاصل ہوتے ہیں جو موجودہ یا سابقہ حکومتی عہدیداران یا سرکاری ملازمین ہوتے ہیں۔ حکومتی عہدیداران کا تعلق سیاسی جماعتوں جبکہ سرکاری ملازمین کا اسٹبلشمنٹ سے ہوتا ہے۔تو آپ خود ہی فرمائیے کہ کیا احتساب کے ایسے ادارے سے احتساب کی توقع رکھی جا سکتی ہے جس کی تعیناتی حکومت اور اپوزیشن کی باہمی رضامندی سے کی جائے؟ انہی طبقات کا تو احتساب ہونا ہے تو کیا یہ اپنے گلے میں خود پھندا ڈالیں گے جبکہ انہوں نے اپنی کرپشن کے تحفظ کے لیے ”این آر او“جیسا قانون بنانے میںبھی شرم محسوس نہیں کی ؟
چیئرمین نیب کا تعلق بالعموم بیوروکریسی کے ساتھ ہوتا ہے، اورکون نہیں جانتا کہ ہمارے یہاں جس سطح کی کرپشن پائی جاتی ہے اس میں جائزحق لینے کے لئے بھی کسی نہ کسی کا مرہونِ منت ہونا پڑتا ہے ،تو جن لوگوں کی مہربانیاں تمام سروس کے دوران شاملِ حال رہی ہوں ان کے خلاف کیس کیسے بنائے جا سکتے ہیں؟بالفرضِ محال پرانے احسان بھلا بھی دیے جائیں تو بھی کیا ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ اس خاص مہربانی کو فراموش کر سکتا ہے جو اسے چیئرمین نیب لگا کر اس پر کی گئی؟یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ کسی کو( عمر کی بنا پر) ریٹائر اس وقت کیا جاتا ہے جب اس کے کندھے اتنے ناتواں ہو جائیں کہ وہ فرائض منصبی کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو جائے(وہ ساٹھ سال کا ہو جائے تو پھرکسی کو ریٹائرمنٹ کے بعد پہلے سے بھی بھرپور ذمہ داریاں سونپ دینا کہاں کی دانشمندی ہوئی؟
اس حقیقت سے بھی منہ موڑا نہیں جا سکتا کہ نیب ایک تحقیقاتی ادارہ ہے جسے اپنی تحقیقات( فیصلے کے لیے) عدالت کے روبرو پیش کرنا ہوتی ہیں یعنی احتساب کے عمل کو عدلیہ سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔میرے خیال میں اس حوالے سے دو باتیں بڑی ضروری ہیں ،ایک یہ کہ ہمارے ہاں بعض لوگوں میں یہ تصور پایا جاتاہے کہ ہماری یہاں عدالتیںبالعموم آزادی سے کام نہیں کر تیں اور دوسری یہ کہ ترقی یافتہ ممالک کے برعکس ہمارے یہاں ایک عام آدمی کسی جج کی کرپشن کے خلاف” سپریم جوڈیشل کونسل“ میںنہیں جا سکتا کہ وہاں وہی ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے جس پر صدر مملکت کے دستخط ہوں۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ احتساب کے عمل کو فعال بنانے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ احتساب بیورو کے ساتھ ساتھ عدلیہ میں کی جانے والی تقرریاں بھی صرف اور صرف ”اچھائی و اہلیت“ کی بنیاد پر ہوں۔
یہاں یہ بھی جان لیجئے کہ کرپشن کے خلاف اقوامِ متحدہ نے جو قراردارپاس کی اس پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کا اتفاق مجھے بھی حاصل ہوا،یہی نہیں بلکہ اس حوالے سے ہونے والی سارک ممالک کی کانفرنس میں بھی میں شامل ہوا،ہر دو کا لبِّ لباب یہی ہے کہ احتساب کا عمل اس وقت تک راہِ راست پر نہیں آ سکتا جب تک ”Political Will”یعنی سیاسی عزم شاملِ حال نہ ہو،دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ احتساب کے معاملے میں جب تک کسی ملک کی سیاسی قیادت خلوصِ نیت کا مظاہرہ نہ کرے یہ عمل اس طرح نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا جیسے ہو نا چاہیے اور خلوصِ نیت کا آسان مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے خودکو احتساب کے لئے پیش کیا جائے ۔ ”پبلک افیئرز“کو پبلک سے پوشیدہ نہ رکھا جائے اور یہ تسلیم کیا جائے کہ اطلاعات تک رسائی ایک شہری کا بنیادی حق ہے،صرف یہی حق عام کر دینے سے بھی کرپشن سکڑ کر آدھی رہ جائے گی۔
اس میں کچھ شبہہ نہیں کہ نیب کا قانون بڑا ہی طاقتور ہے اور اس قانون کے تحت تمام تر اختیارات چیئرمین کو تفویض ہیں، باقی جتنے بھی اہلکاران ہیں وہ چیئرمین کے تفویض کردہ اختیارات استعمال کرتے ہیں،یعنی چیئرمین صحیح ہوگا تو سب کچھ صحیح ہو گا بصورتِ دیگر سب کچھ غلط ہو گا۔ایک زمانے میں سنگا پور کے لوگوں کو بھی کرپشن کا مسئلہ درپیش تھا جب وہاں بھی کم و بیش ہمارے ہی جیسی کرپشن ہوا کرتی تھی، تو احتساب بیورو(جسے وہاں”سی پی آئی بی یعنی کرپٹ پریکٹیسز انوسٹیگیشن بیورو“کہا جاتا ہے)کا چیئرمین یورپ سے امپورٹ کیا گیا جو ایک ریٹائرڈ جج تھا۔ اس گورے جج نے سب سے پہلے اسی حکومت کے دو وزراءکو گرفتار کر لیا جو اسے لائی تھی لیکن حکومت نے برا نہ مانا کیونکہ سنگا پور کے احتسابی عمل میں سیاسی رضامندی یعنی ”پولیٹیکل وِل“شامل ہو چکی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تھوڑے ہی عرصے میںوہاں کرپشن نہ ہونے کے برابر رہ گئی اور اب حال یہ ہے کہ گزشتہ10 برس سے سنگا پور کم از کم کرپٹ ممالک کی فہرست میںایک مرتبہ بھی پانچویں نمبر سے نیچے نہیں گیااور2010ءمیں تو اسے پہلا نمبر بھی ملا۔
ہمیں بھی سنگا پور کے نقشِ قدم پرچلتے ہوئے ایک صاف شفاف طریقے کے ساتھ یعنی میرٹ اور سراسر میرٹ پر نیب کا چیئرمین امپورٹ کر لینا چاہیے اور ایسا کرنے میںکوئی رکاوٹ درپیش ہو تو کم از کم اتنا ضرور سوچ لینا چاہیے کہ اگر کرکٹ ٹیم کا کوچ امپورٹ کیا جا سکتا ہے تو چیئرمین نیب کیوں نہیں کیا جا سکتا؟
(کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved