تازہ تر ین

سانحہ مشرقی پاکستان کی ذمہ دار سیاسی جماعتیں ، بھٹو نے معیشت کو برباد کیا ، بینظیر دور میں کویت نے پاکستان میں آئل ریفائزی لگانے کا فیصلہ کیا، مگر منصوبہ ناکام بنادیا گیا: سابق سفیرمشتاق اے مہرکی چینل ۵کے پروگرام ” ڈپلو میٹک انکلیو “ میں گفتگو

اسلام آباد (انٹر ویو :ملک منظور احمد ،تصاویر :نکلس جان) سابق سفیر مشتاق اے مہر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ کشمیر کا ہے، اگر پا کستان اور ہندوستان باہمی تجارت شروع کر دیں تو تعلقات میں بہتری آسکتی ہے ، جب تک ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہیں کیا جاتا ملک ترقی نہیں کر سکتا، سی پیک پا کستان کے لیے اہم موقع ہے ،اس منصوبے کے تحت برآمدات کو بڑھانے والی صنعتوں کو فروغ دینا ہو گا ۔سانحہ مشرقی پا کستان کو ہماری اشرافیہ درست طور پر ہینڈل نہ کرسکی انھوں نے سول نا فرمانی کو خانہ جنگی میں بدل دیا ۔ ذوالفقار بھٹو کی غلط پا لیسیوں کے باعث صنعت تباہ ہوگئی، ذوالفقار بھٹو ملک میں چین کی طرز پر ون پا رٹی سسٹم اور کیمونیزم لانا چاہتے تھے ،بنگلہ دیش میں جب بھی عوامی لیگ کی حکومت آتی ہے پا کستان مخالف پالیسی لے کر چلتی ہے ،اگر ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانی ہے تو نیب کو ختم کرنا ہو گا ۔پاکستان غریب ملک نہیں ہے وسائل کی منصفانہ تقسیم کی ضرورت ہے ،ان خیالات کا اظہار انھوں نے چینل فا ئیو کے پروگرام ڈپلومیٹک انکلیو میں خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کیا ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مشتاق مہر کا کہنا تھا کہ ہماری فارن پالیسی کے دو فیز رہے ہیں ،ایک 1947ءسے لے کر1970ءتک اور دوسرا اس کے بعد کا ،ہماری فارن پالیسی کا بنیادی مقصد یہ ہی رہا ہے کہ پا کستان کی حفاظت کی جاسکے اور اس میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے ،ایک بڑا واقعہ مشرقی پا کستان کا پیش آیا ،ہماری اس وقت کی رولنگ کلاس اس واقع کو صیح ہینڈل نہیں کر سکی ،میرے خیال میں اس واقعہ میں قصور فوج کا نہیں ہماری سیاسی جماعتوں کا تھا ،انھوں نے ایک سول نافرمانی کی تحریک کو خانہ جنگی میں بدل دیا ،ایک آدمی ایک ووٹ کا اصول اپنایا گیا ،لیکن جن لوگوں نے الیکشن جیتے ان کو اکثریت نہیں دی گئی ،نتیجہ صاف ظاہر ہے ،الگ ہونا مقدر تھا ،دونوں حصوں کے درمیان تین ہزار کلومیٹر کا فیصلہ تھا جسے پی آئی ائے کی فلا ئیٹ اکھٹا نہیں رکھ سکتی تھی ۔بھٹو صاحب نے مشرقی پا کستان کے الگ ہوجانے کے بعد ایک شکست خوردہ ملک کو بہت اچھے انداز سے اکٹھا کیا کیونکہ اس وقت یہ بہت چیلنجنگ کام تھا ،بھٹو صاحب نے ہماری معاشی پا لیسی ،خارجہ پالیسی سمیت بنیادی تبدیلیاں کیں ،وہ چاہتے تھے کہ چین کی پا کستان میں نظام لایا جائے جہاں پر ون پارٹی سسٹم ہو ،کمیونزم لایا جائے انھوں نے ساری انڈسٹری جوکہ ایوب دور میں ترقی کر رہی تھی اسے بھی برباد کر دیا ،ون پارٹی سسٹم لانے کی کوشش کی ۔اس سے پا کستان پیچھے چلا گیا ،لیکن انھوں نے پا کستان کی شناخت کو مستحکم کیا ۔اسی طرح پانچ سال گزر گئے پھر ضیا الحق صاحب آگئے ،زندگی کچھ نارمل ہوئی ،لیکن پھر ایران میں انقلاب آگیا اور افغان جنگ بھی شروع ہوگئی ۔ان دونوں ممالک کے حالات کے پا کستان پر گہرے اثرات پڑتے ہیں ،ایران کا اہل تشیع ہونے کی وجہ سے اور افغانستان کا پشتون فیکٹر کی وجہ سے لیکن اس کے باوجود ہماری اس وقت کی رولنگ کلاس نے کوشش کر کے ایک بیلنسڈ خارجہ پالیسی تشکیل دی ،اسلامی ممالک سے تعلقات قائم کیے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم آج بھی ایک آزاد ملک کی حیثیت سے موجود ہیں ۔بنگلہ دیش کے حوالے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس وقت بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کی حکومت ہے اسی نے بنگلہ دیش کو آزاد کراویا تھا ،انھیں کا فوج کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا ،کئی قتل بھی ہوئے وہ زخم آج بھی نہیں بھر سکے ،جب بھی عوامی لیگ حکومت میں آتی ہے پا کستان کو دشمن سمجھتی ہے اور ہندوستان کو دوست جانتی ہے ،دوسری چیز یہ ہے کہ جب بھی پا کستان میں اینٹی عوامی لیگ حکومت آئی چاہے وہ ضیا الرحمان کی ہو یا ارشاد کی میری نظر میں ان کو ہم ضرورت سے زیادہ سپورٹ کیا اور مدد کی ہم نے بیلنس رکھنے کی کوشش نہیں کی ،ہم نے یہ نہیں سوچا کہ ہر ملک میں سیاسی فورسز ہوتیں ہیں اور وہ کسی بھی وقت اقتدار میں آسکتی ہیں ۔تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں بہت بڑی تبدیلی آگئی ،کانگرس جس نے پا کستان کو توڑا تھا لیکن بعد میں شملا معا ہدہ بھی کیا تھا وہ اقتدار سے نکل گئی اور ایک نئی قوت ،بی جے پی کی شکل میں ہندوستان میں آئی جوکہ ہندو انتہا پسند قوت تھی ،انھوں نے ہندو ازم کو الیکشن کے لیے استعمال کیا ،ان کا خیال تھا کہ بھارت میں ہندو کو مظبوط کر کے ایک ورلڈ پا ور بنائیں گے ان لوگوں نے بھی تعلقات کو بہت نقصان پہنچایا ۔پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ،میں دونوں یورپ میں رہا ہوں کیپیٹل اسٹ اور کمیونسٹ دونوں میں میرا یہ یقین ہے کہ آپ اکھٹے ہوسکتے ہیں ،اس میں سب سے اہم چیز تجارت ہے ،اگر تجارت شروع ہو جائے تو تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں ،پچھلے دور میں بھی زرادری صاحب نے بھی بھارت کے ساتھ تجارت بڑھانے کی بہت کوشش کی ،تجارت ایسی چیز ہے جسے ہندو بنیا بھی مان لے گا ،لیکن بنیادی مسئلہ کشمیر کا ہے ،ہمارے دل و جان کشمیری عوام کے ساتھ ہیں اور ہم نے انھیں 47ءسے اپنایا ہوا ہے ،لیکن اب کشمیر کے مسئلہ میں بھی بہت تبدیلی آچکی ہے ،یہ مسئلہ اب نہ پا کستان کے بس میں ہے اور نہ ہی بھارت کے اب کشمیر کی تحریک وہاں کے نوجوان کے ہاتھ میں چلی گئی ہے ،نیا نوجوان جو کہ انٹرنیٹ کی پیدا وار ہے ،اب ایسا کوئی میکنزم بنانا ہوگا جس میں پا کستان بھارت اور کشمیری نوجوان مل کر بیٹھ جائیں تو کوئی حل نکل سکتا ہے ۔کویت اور پا کستان کے تعلقات کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے مشتاق مہر کا کہنا تھا کہ کویت اور پا کستان کے تعلقات بہت ہی اچھے رہے گے ۔،خو شحالی آئیگی ،کویت پا کستان کو بہت امداد دینے کو تیار ہے ،بے نظیر بھٹو کے دور میں کویت نے پا کستان میں تیل کی ریفائنری لگانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن پاکستان میں کاروباری برادری نے اس منصوبے کو چلنے نہیں دیا ،ہماری قیادت سیاسی غلطیاں کر جاتی ہے ہم عرب امارات کو ناراض کر دیا اور وہ ہندوستان کے پاس چلے گئے ،اب ہم پھر سعودی عرب اور عرب امارات کے پاس جارہے ہیں ،تو ایسے کام نہیں کرنے چاہیں ۔جہاں تک یمن کی جنگ کا تعلق ہے تو ہمیں اس میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے عرب ممالک عرب لیگ کے ذریعے عرب سلوشن ڈھونڈتے ہیں اورباہر کے کسی ملک کو دخل اندازی کی اجازت نہیں دیتے ۔اگر وہ خود ہمارے پاس مدد کے لیے آئیں تو ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے ،ورنہ ا س مسئلہ سے دور ہی رہنا چا ہیے ۔افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ،افغانستان کا مسئلہ پیچیدہ ہے ،افغانستان کی چالیس فیصد آبادی پشتون ہے ،لیکن پشتونوں کی اکثریت پا کستان میں رہتی ہے جن کے یہاں پر رشتے بھی ہیں ،ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم ان کے معاملات کو دیکھیں ،افغانستان ایک بہت تقریبا 300سال پرانا ملک ہے ،افغان ہمیشہ اکھٹے رہے ہیں ،لیکن اب ان میں ایک شناخت کا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا ہے ،شمال کے لوگ حکومت چاہتے ہیں ،لیکن پختونوں کی اکثریت ہے وہ انھیں حکومت دینا نہیں چا ہتے ۔پا کستان کو چاہیے اس مسئلہ میں بھی جس حد تک ہو سکے دور رہے ،امریکہ کے افغانستان میں آنے کے بعد مشرف صاحب افغان جنگ میں کود گئے اس کا نتا ئج سب کے سامنے ہیں ،ہمیں دوبارہ ایسی غلطیاں نہیں کرنی چاہیے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس خطے میں پا کستان نسبتا ایک چھوٹا ملک ہے ،اب دنیا میں جو بڑی تبدیلی آرہی ہے وہ یہ ہے کہ بارڈر ختم ہورہے ہیں ،1945ءمیں جنگ عظیم دوئم کے خاتمے کے بعد جو نینشن اسٹیٹس قائم کی گئی تھیں ،ان کا تصور بھی کمزور پڑتا جا رہا ہے ،یورپ میں ختم ہوچکے ہیں ،اشیا میں کچھ ابھی بھی ہیں ،جنگ کی نوعیت بھی بدل رہی ،اب معاشی جنگیں ہو رہیں ،امریکہ کی اور امریکی ڈالر کی وہ حیثیت نہیں رہی جو کچھ سال قبل تک تھی چین ابھر رہا ہے ،بھارت بھی آگے آرہا ہے ،روس بھی آگے آنا چا ہتا ہے ،یورپ متحد ہو رہا ہے ،ایک اور چیز جو ہو رہی ہے وہ یہ کہ ،ریجنل ازم فروغ پا رہا ہے ،مستقبل کی پلانگ خطے کو دیکھ کر کرنی ہو گی ،بڑے ملک جیسے کہ چین ہے یا بھارت ہے امریکہ ہے یہ تو بچ جائے گے چھوٹے ملکوں کو اپنے بچاﺅ کے لیے حکمت عملی ترتیب دینی ہو گی ۔جمہوریت میں بھی تبدیلیاں آرہی ہیں ،ہمیں اپنے آپ کو انٹر نیشنل معیار کے مطابق ڈھالنا ہو گا ،پاکستان غریب ملک نہیں ہے ،پا کستان میں امیر اور غریب کا فرق بہت زیادہ ہے ،اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے اور یہ فرق صرف چندے سے نہیں ،حکومتی ایکشن سے ختم کیا جا سکتا ہے ۔سی پیک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پا کستان سی پیک سے فا ئدہ اٹھا سکتا ہے ،ضرورت اس آمر کی ہے کہ ایسی صعنتیں لاگئیں جائیں جو پا کستان کی پیدا وار بڑھا سکیں ،سی پیک چین کے لیے بہت ہی فا ئدہ مند منصوبہ ہے ،چین نہیں چاہتا کہ امریکہ اس کی تجارت کے راستے بند کردے ۔چین افریقہ اور مشرق وسطیٰ تک رسائی چا ہتا ہے ہمیں اپنا فا ئدہ دیکھنا چاہیے ۔پاکستان کو ایک ایکسپورٹ اکانومی بنانا ہو گا ،پا کستان کو چاہیے کہ سی پیک کو اپنی برآمدات بڑھانے کے لیے استعمال کرے ۔پاکستان کو کاروباری افراد کو سہولتیں دینا ہوں گیں ،اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول بنانا ہو گا ۔اگر سنگا پور جیسا چھوٹا سا ملک کاروبار کو اتنا آسان بنا سکتا ہے تو پا کستان کیوں نہیں ،پا کستان کے پاس تو پہاڑ بھی ہیں سمندر بھی کسی چیز کی کمی نہیں ہے ۔لیکن ایک بات میں آپ کو بتا دوں جب تک پا کستان میں نیب موجود ہے فارن پرائیویٹ سرمایہ کاری پا کستان میں کھبی بھی نہیں آئے گی ۔یہ بات مجھے ایک ریا ست کے سربراہ نے کہیں تھی ،سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا ۔بطور ملک پا کستان کی ترجیح معیشت کی بہتری ہونی چاہیے ۔اس کے لیے ایمان داری اور ایک اچھی حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔پاکستان کو ایک اچھی کاروباری حکومت کی ضرورت ہے ۔اگر ہمارا اوجی ڈی سی ایل اور اس جیسے اور ادارے اپنا کام ٹھیک انداز میں کریں تو ہمیں باہر سے بھی کوئی چیز منگوانے کی ضرورت نہیں رہے گی ،پاکستان کو سب سے پہلے اپنے وسائل پر انحصار کرنے کی ضرورت ہے ۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved