تازہ تر ین

22 فروری سے پنجاب بھر میں صحت سہولت کارڈ جاری کرنیکا اعلان

لاہور (جنرل رپورٹر) صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ پنجاب بھر میں صحت سہولت کارڈ کا 22 فروری سے اجراءکر دیا جائے گا۔ اس سہولت کے تحت 7لاکھ 20ہزار روپے کے صحت سہولت کارڈکے ذریعے 72 لاکھ خاندانوں کے ساڑھے تین کروڑ افراد مستفید ہوں گے۔ پہلے مرحلہ میں صوبہ پنجاب کی 50 فیصد آبادی میں صحت سہولت کارڈ تقسیم کر دیا جائے گا۔ سابقہ حکومتوں کی طرح زبانی جمع خرچ نہیں بلکہ صحت سہولت کارڈ پروگرام کا باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج ڈی جی پی آر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر سپیشل سیکرٹری شکیل احمد، ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز پنجاب امجد حسین بھٹی و دیگر موجود تھے۔صوبائی وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس موقع پر مزید کہا کہ صحت سہولت کارڈ کے اجراءکا بنیادی مقصد اس غریب کو شعبہ صحت میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے جو اپنے سمیت اہل خانہ کا کسی بھی مہلک بیماری کا شکار ہونے کی صورت میں سرکاری و نجی ہسپتالوں میں مفت علاج معالجہ نہیں کروا سکتا۔ مریض صحت سہولت کارڈ کے ذریعے کسی بھی ہسپتال میں مہلک بیماری کے علاج معالجہ کے لئے 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک مفت سہولت حاصل کر سکے گا۔ پنجاب بھر کے دوردراز علاقوں سے افراد لاہور آ کر اس سہولت سے مستفید ہو سکیں گے۔ ماہ مارچ کے آخر تک 4 اضلاع میں 8لاکھ صحت سہولت کارڈز تقسیم کر دیئے جائیں گے۔ صحت سہولت کارڈز میں ہسپتال تک آنے کے لئے مریض کو ایک ہزار روپے تک کی سہولت دی گئی ہے۔ مریض صحت سہولت کارڈ کے ذریعے حادثات میں ہیڈانجری، نیوروسائنسز، کارڈیوویسکلر، شوگر، ڈائیلاسز، ہیپاٹائٹس، جگر، ایچ آئی وی، انجیوپلاسٹی، برین سرجری اور کینسر جیسی بیماریوں کے علاج معالجہ کے لئے مفت علاج کروا سکیں گے۔ ماں اور بچہ کی صحت کو یقینی بنانے کے لئے بھی ترجیحی بنیادوں پراقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی اکثریت سفید پوش ہے جن کو کسی بھی بیماری کی صورت میں علاج معالجہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صحت سہولت کارڈز کی معیاد تین سال ہو گی جس کے بعد دوبارہ ری نیو کروانے کی سہولت بھی میسر ہو گی۔ دسمبر کے آخر تک پورے پنجاب میں تمام صحت سہولت کارڈز تقسیم کر دیئے جائیں گے۔ مجموعی طور پر پنجاب میں 72لاکھ صحت سہولت کارڈز کے ذریعے ساڑھے تین کروڑ افراد کو سہولت دی جا سکے گی۔ سابق دور حکومت میں کارڈز صرف سیاسی بنیادوں پر تقسیم کئے گئے جن کا علاج معالجہ صرف شریف میڈیکل کمپلیکس اور اتفاق ہسپتال سے ہی ممکن تھا۔ سابق دور کے صحت سہولت کارڈ کی تقسیم میں ڈھائی ارب روپے کی واجبات موجودہ حکومت کو ادا کرنے پڑے۔ پنجاب کی عوام میں صحت سہولت کارڈز کی مد میں 7ارب روپے بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس موقع پر مزید کہا کہ صحت سہولت کارڈز کی اہمیت کا پیمانہ متعلقہ اضلاع کے کمشنراور ڈپٹی کمشنر کو بتا دیا گیا ہے جو قوانین و ضوابط پر مبنی ہو گا۔ صحت سہولت کارڈ کی سہولت میرے سمیت پنجاب کے عوام کے ٹیکس کے پیسہ سے دی جا رہی ہے جس کے ایک ایک پیسہ کا حساب کتاب رکھا جائے گا۔ نیشنل اکنامک سروے کے ذریعے ہر ضلع میں صحت سہولت کارڈ کے اصل حقدار کا معیار طے کیا جائے گا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کے مطابق پنجاب سمیت پورے پاکستان میں عوام کو صحت سہولت کارڈز کا تحفہ دیا گیا ہے۔ ہم دعوﺅں سے نہیں ایمانداری سے کام کر کے دکھائیں گے اور عوام کو سوفیصد ریلیف دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہسپتالوں میں مریضوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے جس کو یقینی بنانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved