تازہ تر ین

”عورت کازیور“

ڈاکٹر عقیلہ صغیر….اظہار خیال
شرم وحیا کوعورت کازیور قرار دیا جاتاہے۔ اسلام ہمیں پاکیزہ زندگی گزارنے کادرس دیتاہے‘ دین اسلام سے قبل جاہلانہ رسم ورواج کازمانہ تھا اسلام نے ان تمام رسومات کاخاتمہ کردیا۔آج ہمارے معاشرے میں ایسی کئی فضول رسمیں اور دن منانے کا سلسلہ چل نکلاہے جو اسلامی قوانین کے سراسرمنافی ہے۔ اس میں ایک ویلنٹائن ڈے بھی ہے۔ ویلنٹائن ڈے کیوں منایا جاتا ہے؟ اس کے بارے میں ایک روایت یہ ہے کہ رومن بادشاہ اپنی سلطنت میں اضافہ کیلئے فوجی بھرتی کرنا چاہتا تھا لیکن جب اس نے عوام کی عدم دلچسپی دیکھی تو اس نے اس کی تحقیق کروائی تو پتہ چلا کہ لوگ شادیاںکر رہے ہےں اس وجہ سے فوج میں شامل نہیں ہو رہے۔ اس وقت اس نے شادیوں پر پابندی لگا دی جبکہ بادشاہ میکلو ڈئس کی اپنی بیٹی سینٹ ویلنٹائن کی محبت میں گرفتار ہوگئی۔ اس نے اپنی بیٹی کو شادی کی اجازت نہ دی اور 14 فروری کو اسے پھانسی دے دی گئی۔ ایک دوسری روایت کے مطابق یہ دن ایک عےسا ٰئی راہب اور راہبہ کی ےاد میںمنایا جاتا ہے جن کی لازوال عشق کی داستان نے تاریخ رقم کی۔ یہ دونوں محبت کی شا دی کرنا چا ہتے تھے مگر عےسا ٰئی مذہب میں شادی کی اجازت نہ ہونے کے سبب ان کو اس فعل پر پھانسی چڑھا دےا گےا ۔
حد یث نبوی ہے جو جس قوم کی نقل کرے گا و©©ہ اسی مےں سے اٹھا ےا جاے گا۔
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ میڈےا کے کچھ حصے نے اغیار کی پالیسی کو اپنا رکھا ہے۔ غیر مسلم دنیا کو دیکھ کر ہماری عوام بھی بھر پور طریقے سے یہ دن مناتی ہے۔ جس میں کافی قبیح رسومات کے علاوہ بے دریغ وسا ئل کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ اگر مسلمان اپنے بہن بھائےوں کی مدد کرےں۔تو غرےب بچیوں کی شادیاں بھی آسانی سے ہو سکتی ہیں۔ وہ بھائی جو دوسروں کی بیٹیوں کو بری نظروں سے دیکھتے ہیںجبکہ اپنے گھر کو غیرت کی نگاہ سے دےکھتے ہیں۔ ان کے دہرے معیار ہیں۔ جبکہ نبی پاک نے فرمایا تم اس وقت تک مومن نہیں بن سکتے جب تک اپنے بھائی کیلئے وہی پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔
ےہ ہمارے ملک مےں میڈےاوارہے جو نوجوانوں پر وارد کر دی گئی ہے۔جس کی موجوں میں ہمارا نوجوان ڈوبتا جا رہا ہے۔ ہم یورپ کی نقل مےں اسقدر آگے نکل گئے ہےں کہ واپسی کے راستے مشکل نظر آ رہے ہیں۔کبھی اغیار نے بھی مسلمانوں کی نقل کی ہے؟۔
ہمیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے اپنے معاشرے کو اسلامی اقدار سے مزین کرنا چاہیے۔ اس میں حکومت ، اداروں اور عوام کی مشترک ذمہ داری بنتی ہے۔ ا سلام آباد ہائی کورٹ نے اس دن کی مذمت کرتے ہوے 2017ءمیں اس پر پا بندی لگائی تھی۔ اس ضمن میں زرعی ےونیورسٹی ، فیصل آباد کے وائس چانسلر نے ایک موثر حکمت عملی اپنائی ہے جس کو مقامی اخبارات نے اپنی شہ سرخی میں لگایا۔ جبکہ اس خبر کو سرحد پار انڈین اخبارہندوستان ٹائمز نے بھی کوریج دیتے ہوئے مو قف اختیار کیاکہ اےسا کرنا ان کی اسلامی روایات کو زندہ کرنا ہے۔ اس طرح سے ہم اس فتنے کا رخ بدل دیں گے۔ نبی پاک نے فرمایا اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ کےا نوجوان اپنے جذبے بھی اےسے ہی بدلیں گے یا صرف دن کا نام بدل جائے گا۔ آج کے نوجوان کو تربےت کی اشد ضرورت ہے ۔ دنےا کہاں پہنچ چکی ہے اور ہم آج بھی پرا نی رسومات مےں جکڑے ہوے ہےں۔ہمارا نوجوان اس قسم کی سوچ رکھتا ہے۔ اسلام قےامت تک کے لوگوں کیلئے رہنمائی کا راستہ ہے، ہمیں اسلامی تہوار منانے چاہئیں اگر ہم اللہ کے بندے ہیں، اور ویلٹائن ڈے منانا چاہیے اگرہم شیطان کے بندے ہےں۔ تو ہم ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے اس تہوار کی مذمت کرتے ہیں اورآئندہ بھی کرتے رہیں گے۔
(کالم نگارزرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں لیکچرار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved