تازہ تر ین

کشمیر تیرا نام ہے عنوان زندگی

میم سین بٹ….ہائیڈپارک
یوم کشمیر ایک بار پھر ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا چکا ہے۔مذہبی و سیاسی جماعتیں اپنی ریلیوں ، کانفرنسوں،اجتماعات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اوربھارتی مظالم کی بھرپور مذمت کرکے اپنا قومی فرض پوراکرچکی ہیں۔اخبارات وجرائد بھی یوم کشمیر پر خصوصی اشاعت اور اداریوں،کالموں ،مضامین کے ذریعے اس قومی مسئلہ کی اہمیت کو اجاگر کرچکے ہیں۔ اس کے باوجود کشمیری عوام پر بھارتی مظالم جاری رہیں گے کیونکہ اقوام متحدہ بدستورمجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھے گا اور اسے کشمیرمیں استصواب رائے کیلئے اپنی ہی منظورکردہ قراردادوں پر عملدرآمد کروانا یاد نہیں آئے گا تاہم کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوں گے اور ان کی جدوجہد آزادی جاری رہے گی ہمیں بزرگ صحافی اور ادیب و شاعرسید یزدانی جالندھری کی کشمیر پرنظم کا شعر یاد آرہا ہے ۔۔۔۔
تیرا دفاع اب ہے فرمان زندگی
کشمیر تیرا نام ہے عنوان زندگی
پاکستانی پنجابی کی حیثیت سے ملک کی شہ رگ کے ساتھ وابستگی کے علاوہ اپنے آباﺅ اجداد کا وطن ہونے کی وجہ سے بھی ہم مقبوضہ کشمیر سے بیحدجذباتی لگاﺅ رکھتے ہیں۔پاکستان کے بیشتر اہم دریا کشمیر سے نکل کر ہی پنجاب کے میدانوں میں بہتے ہیں ان پانیوں کے پیچھے پیچھے کشمیر کے لوگ بھی صدیوں سے پنجاب کا رخ کرتے آئے ہیں۔ ہمارے بزرگ بھی ان میں شامل تھے جو تقریباََ دوصدیاں پیشتر سکھی عہد میں وادی کشمیر سے نقل مکانی کرکے جموں کے راستے سیالکوٹ میں آن بسے تھے۔ علامہ اقبال کے آباﺅ اجدادنے بھی اسی زمانے میں کشمیر سے پنجاب ہجرت کی تھی‘ علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم کیلئے سیالکوٹ سے لاہور آگئے اور یہیں پہلے اورینٹل کالج ،اسلامیہ کالج اور گورنمنٹ کالج میں پروفیسر بن کرپڑھاتے رہے پھر درس وتدریس سے الگ ہو کر ہائیکورٹ میں وکالت کرتے رہے تھے‘ انہوں نے ساری زندگی لاہور میں گزار دی اور برصغیر میں مسلمانوں کے الگ وطن کا نظریہ پیش کرکے اسی شہر کی خاک اوڑھ کر سو گئے تھے ان کے نظریئے کو قائداعظم نے عملی جامہ پہنایا تھا۔ علامہ اقبا ل کو اپنے بزرگوں کے وطن سے بہت زیادہ لگاﺅ تھا انہوں نے کشمیری مسلمانوں کو ڈوگرہ مہاراجہ کی غلامی سے نجات دلانے کیلئے دعا مانگی تھی ۔۔۔۔۔
توڑ اس دست جفاکیش کو یارب
جس نے روح آزادی کشمیر کو پامال کیا
لاہور کے بیشترکشمیری خاندان وادی کشمیر سے نکل کر پہلے امرتسر میں مقیم رہے جہاں سے قیام پاکستان کے موقع پر ہجرت کرکے لاہور چلے آئے تھے۔ کشمیر سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوںکے لوگوں نے مختلف شعبوں میں نام کمایا مگرکشمیر کی آزاد ی کیلئے کچھ نہیں کرسکے جس نے عملی قدم اٹھانے کی کوشش کی اسے برطرف،قید اور جلاوطن ہونا پڑاتھا ۔ ادب وصحافت میں علامہ اقبال ،استادامام دین گجراتی ،منشی محمد الدین فوق، مولانا چراغ حسن حسرت ،میر خلیل الرحمان ،پروفیسر وارث میر،آغا شورش کاشمیری،میرا جی،مبارک احمد،احمد بشیر،ڈاکٹر محمد باقر، سعادت حسن منٹو ،سیف الدین سیف ،ظہیر کاشمیری،احمد راہی ، اے حمید وغیرہ کا تعلق انہی کشمیر نژاد گھرانوں سے تھا ۔
سیاست میں بھی تقسیم ہند سے قبل سند ھ کے پہلے وزیراعلیٰ سر غلام حسین ہدایت اللہ،بنگال کے وزیراعلیٰ خواجہ ناظم الدین اور آزادی کے بعد شمال مغربی سرحدی صوبہ (اب خیبر پختونخوا)کے پہلے وزیراعلیٰ عبدالقیوم خان بھی کشمیر نژاد تھے ،سرغلام حسین ہدایت اللہ آزادی سے پہلے دومرتبہ وزیراعلیٰ سندھ اور قیام پاکستان کے بعدپہلے گورنر سندھ ،خواجہ ناظم الدین آزادی کے بعد دوسرے گورنر جنرل اور دوسرے وزیراعظم ،ان کے ایک بھائی خواجہ شہاب الدین وفاقی وزیر اطلاعات وگورنر صوبہ سرحد، دوسرے بھائی خواجہ خیر الدین میئرڈھاکہ ،ایم این اے اور سیکرٹری جنرل ایم آر ڈی جبکہ عبدالقیوم خان بھٹو دور میں وفاقی وزیر داخلہ اوران کے بھائی عبدلحمید خان آزاد کشمیر کے پہلے وزیراعظم بھی رہے تھے بلکہ عبدالحمید خان جنرل ایوب خان کے دور میں آزاد کشمیر کے صدر بھی رہ چکے تھے ان سے پہلے قائد اعظم کے سیکرٹری کے ایچ خورشید آزاد کشمیر کے صدر رہے تھے جوسابق وزیراعظم بھٹو کے پریس سیکرٹری خالد حسن کے کزن تھے ،بی بی سی والے شاہد ملک بھی خالد حسن کے کزن ہیں، خواجہ خیرالدین کے صاحبزادے ڈاکٹر علقمہ خواجہ بہاءالدین زکریایونیورسٹی کے وائس چانسلر،خواجہ شہاب الدین کے صاحبزادے جنر ل وسیع الدین خواجہ جی او سی لاہوراورکورکمانڈر ملتان رہے تھے، سابق چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں،بری فوج کے سابق سربراہ جنرل جہانگیر کرامت،آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل جاوید ناصر، جنرل ضیاءالدین اورائرچیف مارشل(ر) اصغر خان کے خاندانوں کا تعلق بھی غالباََ ریاست جموں و کشمیر سے ہے ۔
کشمیر سے امرتسر کے راستے لاہورپہنچنے والے شریف خاندان کے دوبھائی نواز شریف اور شہباز شریف بھی پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے بلکہ نواز شریف تو تین مرتبہ وزیراعظم بھی رہے ہیں جبکہ شہباز شریف شدید خواہش کے باوجود وزیراعظم نہیں بن سکے اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بن گئے ۔پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں کا تعلق بھی کشمیری گھرانے سے تھا وہ تقسیم ہند کے موقع پر ہجرت کرکے میاں چنوں میں آباد ہو گئے تھے تاہم ان کی زندگی کا بہت سا حصہ لاہور میں بسر ہوا تھا۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ میں شامل رہنے والے خواجہ محمد آصف،خواجہ سعد رفیق،خرم دستگیرخاں،چوہدری عابد شیر علی اوراسحاق ڈار کا تعلق بھی سیالکوٹ، گوجرانوالہ،فیصل آباد اور لاہورکے کشمیر ی خاندانوں سے ہے ۔
ہماری بڑی خواہش ہے کہ اپنی باقیماندہ زندگی میں کشمیر کو آزاد دیکھ سکیں اور اپنے بزرگوں کے وطن کا ایک چکر لگا سکیں ،آزادی کے بعدسے پاکستانی قوم اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر ملکی دفاع کو مضبوط بناتی اور بار بار مارشل لاﺅں کا سامنا کرتی آرہی ہے ،دشمن ملک بھارت کے ساتھ دو بڑی جنگوں نے ہمیں تاشقند اور شملہ معاہدوں کے ”تحفے“ دیئے جن سے مسئلہ کشمیر حل ہو نے کے بجائے مزید الجھ گیا تھا ہمیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب ہم جنگوں کے ذریعے کشمیر کو آزاد نہیں کرواسکے تو پھرتحریک قیام پاکستان کی طرح عسکری کے بجائے جمہوری راستہ کیوں اختیار نہیں کرتے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیرکو حل کرنے میںبار بار رکاوٹ کیوں پیش آجاتی ہے آخر وہ کون سا بھاری پتھر ہے جوکشمیر پرپاک بھارت مذاکرات میں حائل ہو جاتا ہے اورتنازع کشمیر کے اصل تیسرے فریق کو مذاکرات میں شامل نہیں ہونے دیتا ۔
مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے انتظار میں تیسری نسل دنیا سے رخصت ہورہی ہے اورپتا نہیںچوتھی نسل بھی کشمیری عوام کو غلامی سے نجات پاتے دیکھ سکے گی یا نہیں تاہم کشمیری عوام بھارت کے ساتھ کبھی نہیں رہیں گے ان کی جدوجہد آزادی جاری رہے گی وہ قربانیاں دیتے رہیں گے آخر کبھی نہ کبھی تو کشمیری شہداءکا لہو رنگ لائے گا۔
(کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved