تازہ تر ین

بعد میرے ہووے گی شہرت مرے اشعار کی

ازھر منیر….فرینکلی سپیکنگ
غالب کے ایک فارسی شعر کا ایک مصرعہ جو اکثر دہرایا جاتا ہے ، یوں ہے :
شہرتِ شعرم بہ گیتی بعد ِ من خواہد شدن
اس کا پہلا مصرعہ یوں ہے :
کوکبم را در عدم اوجِ قبولے بودہ است
یوں پورا شعر اس طرح ہے :
کوکبم را در عدم اوجِ قبولے بودہ است
شہرتِ شعرم بہ گیتی بعد ِ من خواہد شدن
میں نے اس شعر کا جو منظوم اردو ترجمہ کیا ہے وہ بیان کرنے سے پہلے اس کی تفہیم کے حوالے سے چند ضروری باتیں۔
اوجِ قبول ، کوکب اور عدم تینوں علم نجوم کی اصطلاحات ہیں جن کا مطلب جانے بغیر اس شعر کا مفہوم نہیں سمجھا جاسکتا، سوائے اسکے کہ انسان علمِ نجوم کا ماہر ہو، جو ظاہر ہے ہر کوئی نہیں ہوسکتا، پہلے اوجِ قبول۔
علم نجوم کی رو سے پیدا ہونیوالے بچے (نومولود) کے زائچے کے خانہ اول یعنی طالع میں جو برُج موجود ہوتا ہے اس برج کے مالک سیّارے کو خدا وند طالع یعنی طالع کا مالک یا صاحب طالع کہتے ہیں ، یہی سیارہ اس (بچے )کا کوکب بھی کہلاتا ہے ۔
اگر ولادت کے زائچے میں یہ کوکب اپنے ہی مملوکہ برج میں ہو تو اس تنجیمی حیثیت کو اوجِ قبول کہا جاتا ہے اور جس انسان کے کوکب کو اوجِ قبول مل جائے بین الاقوامی شہرت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اچھا ۔ یہ اسکا نصیب تو بن گئی لیکن اسے یہ شہرت حاصل کب ہوگی؟ اسکا انحصار اس بات پر ہے کہ جب بچے کی پیدائش ہوئی تو اوجِ قبول حاصل کرنے والا یہ کوکب تب اسکے زائچے کے کس خانے میں تھا؟
انسان کے زائچے کے کل بارہ خانے ہوتے ہیں، تاہم زیر بحث موضوع کے حوالے سے ان میں سے فقط چار خانوں کا تذکرہ ضروری ہے، بچے کی پیدائش کے وقت اوجِ قبول پانے والا کوکب ان چاروں میں سے جس خانے میں ہوگا، بچہ اسی کے حوالے سے اس دور میں شہرت حاصل کریگا، یہ خانے ہیں :1۔طالع (خانہ اول)، 2۔شہود(خانہ دہم) ، 3۔غارب (خانہ ہفتم) 4۔عدم(خانہ چہارم)۔
اب کوکب پیدائش کے وقت اگر طالع میں ہو تو پیدا ہونیوالے بچے کو اس کے بچپن ہی میں بین الاقوامی شہرت حاصل ہو جائیگی، جیسے ارفع کریم رندھاوا کو حاصل ہوئی، شہود میں ہو تو جوانی میں ، غارب میں ہو تو بڑھاپے میں اور عدم میں ہو تو اسے یہ شہرت اپنی زندگی میں نہیں مل پاتی بلکہ مرنے کے بعد ملتی ہے، یعنی ملکِ عدم کو جانے کے بعد۔
غالب کا کہنا ہے کہ میری پیدائش کے وقت میرے کوکب کو اوجِ قبول تو حاصل ہوا اور اس بناءپر مجھے (میری شاعری کو) شہرت تو ملے گی لیکن چونکہ یہ طالع ، شہود یا غارب میں نہیں بلکہ خانہ چہارم یعنی عدم میں تھا اس لئے مجھے یہ شہرت میری زندگی میں نہیں بلکہ مرنے کے بعد حاصل ہوگی۔
کچھ لوگ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ غالب علم نجوم کے ایسے ماہر تھے کہ اپنے زائچے کا ٹھیک ٹھیک حساب لگاکر اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ انہیں( ان کے کوکب کو ) اوجِ قبول عدم میں حاصل ہوا ہے اور یہ کہ انہیں یہ شہرت کب مل پائیگی ۔
غالب علم نجوم کے ماہر تھے یا نہیں ، اس بات سے قطع نظر وہ اس علم کی اصطلاحات اور انکے مفہوم سے بہر حال بخوبی واقف ضرور تھے، چنانچہ اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے نجوم کے علم میں اپنی مہارت کی بناءپر حساب لگا لیا ہو اور پھر اپنے بارے میں یہ پیش گوئی کی ہو‘ تاہم اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ انہوں نے یہ بات فقط معترضین کا منہ بند کرنے کی خاطر کہی ہو جو انکی اپنے دور میں بے وقعتی اور بے شہرتی پر طنز کیا کرتے تھے اور اس مقصد کی خاطر انہوں نے نجوم کی اصطلاحات کا استعمال کیا ہو یا یہ کہ انہیں یہ احساس ہو کہ ایسے قیمتی گوہر یعنی انکے اشعار وقتی طور پر تو زمانے کی آنکھ سے اوجھل اور شہرت سے محروم ہوسکتے ہیں لیکن ہمیشہ بے قدری انکا مقدر نہیں ہوسکتی، چنانچہ آج نہیں تو کل انکی قدر و قیمت ضرور پہچانی جائے گی اور دنیا بھر میں ان کی شہرت پھیل جائے گی، مگر جب تک یہ بات ہو پائے گی تب تک وہ اس دنیا میں نہیں رہیں گے، اسی لئے انہوں نے اپنے ایک مصرعے میں خود کو ایک ایسے باغ کی بلبل بھی قرار دیا ہے جو ابھی وجود میں نہیں آیا:
میں عندلیب ِ گلشنِ ناآفریدہ ہوں
وجہ کچھ بھی ہو بہر حال انہوں نے اس شعر میں اپنے کلام کے بارے میں جو پیش گوئی کی وہ حرف بحرف سچ ثابت ہوئی۔
اس تمہید اور وضاحت کے بعد غالب کا وہ شعر اور میں نے اس کا جو منظوم اردو ترجمہ کیا ہے وہ پیش ہے :
ہے عدم میں میرے کوکب کو ملا اوجِ قبول
بعد میرے ہووے گی شہرت مرے اشعار کی
غالب ہی کا ایک اور فارسی شعر اور میں نے اس کے جو اردو اور پنجابی تراجم کئے ہیں وہ پیش ہیں:
اصل شعر:
پیمانہ برآن رند حرام است کہ غالب
در بے خودی اندازہ گفتار ندارد
اردو ترجمہ:
مے نوشی ایسے رند پہ غالب حرام وے
پی کر نہ جس کو رہ سکے قابو زبان پے
پنجابی ترجمہ:
دارواجیہے رند لئی پینا حرام اے
پی کے نہ جس نوں رہ سکے قابو زبان تے
(کالم نگار سینئر صحافی‘ شاعر اور ادیب ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved