تازہ تر ین

”آمدِ دوست کی نوید“

انجینئر افتخار چودھری …. باعث افتخار
کوئی زیادہ دیر نہیں گزری جدہ کے مہران ہوٹل میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تقریب منعقد ہوئی جس میں سعودی بھائیوں نے شرکت کی۔ مجھے بھی بات کرنے کا موقع دیا گیا‘ اپنی تقریر میں فرط جذبات میں کہا کہ اس بلد مقدس کے تحفظ میں دیکھ لیجئے گا جب وقت پڑا تو زہرانیوں‘ عتیبیوں‘ مالکیوں‘ عنیزیوں کے ساتھ ساتھ اعوانوں‘بٹوں‘ جاٹوں اور مغلوں کا بھی خون بہے گا ۔یاد رہے یہ میری تقریر عربی میں بھی تھی ‘ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔مرحوم انجینئر عزیز بھی تھے اور فخر اعواناں ملک محی الدین بھی۔سعودیوں کے نام یاد نہیں البتہ ریاض گھمن نے بہت سے دوست بلائے تھے جہاں عرب شاعر العیدروس نے پاکستان کے لئے ایک خوبصورت نظم بھی کہی۔اگر بھول نہیں رہا خوبرو جہانگیر ورک بھی تھے جو آج کل جرمنی میں پاکستانیوں کی خدمت کر رہے ہیں۔لوگوں نے واہ واہ کی اور سچ بھی تو یہی تھا کہ پاکستانیوں نے اس ملک کو سنوارنے ‘اس کی تعمیر میں بڑا کردار ادا کیا ۔بہت سے لوگوں کو علم نہیں کہ سعودی عرب کی کرنسی پر انور علیٰ کے دستخط موجود ہیں جو پاکستانی تھے۔شاہی خاندان کے معالج پاکستانی ڈاکٹر تھے ان میں بہارہ کہو میڈیکل کالج کے ڈاکٹر غلام اکبر نیازی تو حیات ہیں اللہ ان کی عمر دراز کرے یہ پاکستان کے وزیر اعظم کے عزیز ہیں ۔سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ایک مدت سے اعلی معیار پر رکھا ہے ۔پتہ نہیں کیا ہوا وہ ملک سعودی عرب جس میں بیس لاکھ پاکستانی تھے اب گھٹ کر دس لاکھ رہ گئے ہیں۔ جدہ ایمبیسی اسکول میں جہاں بارہ ہزار بچے پڑھتے تھے اب وہاں کوئی اڑھائی ہزار رہ گئے ہیں۔عزیزیہ جو کبھی منی پاکستان تھا اب وہاں ملیباریوں کی دکانیں بن گئی ہیں۔
ملک عبدالعزیز سے لے کر سب بادشاہوں نے پاکستان کو اپنا برادر ملک سمجھا۔شاہ فہد نے بادشاہ کے لقب کو چھوڑ کر خادم حرمین کا لقب اختیار کیا جس کی نقل خادم اعلیٰ کے نام سے پنجاب میں بھی کی گئی۔پاک سعودی عرب دوستی میں گزشتہ چند سالوں سے سرد مہری آ گئی تھی جس کی بڑی وجہ سابق دور حکومت میں ان معاملات کو مشتہر کیا گیا جو ایک دوسرے کے لئے پوشیدہ رہتے تو بہتر تھا۔شاہ فیصل امت مسلمہ کے لیڈر تھے ان کی پاکستان سے محبت دنیا کو معلوم تھی‘ انہوں نے 71ءکی جنگ میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ جب پاکستان‘ بھارت روس اور دیگر ممالک کی سازش کا شکار ہو کر دو لخت ہوا تو سعودی عرب ان چند ممالک میں شامل تھا جس نے اس موقع پر پاکستان کو اکیلا نہیں چھوڑا۔وہ سقوط ڈھاکہ پر مغموم ہی نہیں پھوٹ پھوٹ کر روئے‘ انہوں نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دیا تھا ۔وہ اس بات پر دکھی تھے کہ پاکستان امت مسلمہ کا سرخیل ملک بننے جا رہا تھا اور وہ اپنوں اور اغیار کی سازش کا شکار ہو گیا۔بھارت مدت سے پاکستان کو توڑنے کی مذموم حرکت کر رہا تھا اگر تلہ میں شیخ مجیب کا چھپ کر جانا اور وہاں کے وزیر اعلیٰ سے ملاقاتیں ،خود نہرو نے پاکستان کو دو لخت کرنے کی سازش کا اقرار کیا اور اسے عملی جامہ پہنایا۔ اس بات کا اقرار بنر جی نامی ایک پولیٹیکل افسر جو سفارت خانے میں کام کرتا تھا اس کی کتاب میں اس بات کا ذکر پایا جاتا ہے۔ اس بات کا تذکرہ معروف صحافی ضیا شاہد نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔اس سے ثابت ہوا بھارت شروع دن سے ہی پاکستان کو برداشت نہیں کر پا رہا تھا ۔اس کے مقابلے میں عرب دنیا سے صرف ایک طاقت سعودی عرب کی تھی جس نے پاکستان کا دل کھول کر ساتھ دیا۔
شہزادہ محمد بن سلمان ایک ایسے نوجوان ہیں جو سعودی عرب کو ماڈرن دنیا میں ایک نیا تشخص دینے کی کوشش کر رہے ہیں‘ سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینا ان کا ایک اہم کارنامہ ہے۔تبدیلی کی یہ ہوا مرحوم عبداللہ بن عبدالعزیز سے شروع ہوئی تھی انہوں نے خواتین کو نوکریاںدیں۔ سعودی شہریوں کی ملازمتوں کے لئے اقدامات کئے‘ کمپنیوں کو نقاطی پروگرام سے جوڑا گیا جس کی وجہ سے کمپنیاں سعودیوں کو نوکریاں دینے پر مجبور ہو گئیں۔میں اپنے کالموں میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں کہ اگر ہماری حکومت سعودی سسٹم کو اپنائے تو بلوچستان،جنوبی پنجاب اور ہزارہ کے لوگ استفادہ کریں گے۔مقامی لوگوں کو ملازمتیں ملتی نہیں باہر سے آ کر لوگ دفتروں میں چھا جاتے ہیں تو اس سے نفرت بڑھتی ہے۔اللہ نہ کرے میں کسی تعصب کو اچھالوں لیکن ہزارہ،جنوبی پنجاب، بلوچستان کے لوگ قیدی تخت پشاور اورلاہور کی بات کیوں کرتے ہیں ۔سعودی عرب سے سیکھیں جہاں معذور سعودی کو نوکری دینے پر کمپنی کو چار پوائنٹس ملتے ہیں زیادہ نمبر حاصل کرنے والی کمپنی کو مراعات دی جاتی ہیں ۔جو کمپنیاں اس معیار پر پوارا نہیں اترتیں انہیں زرد اور سرخ صف میں شامل کیا جاتا ہے جس پر انہیں تادیبی کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وقت آ گیا ہے پاکستانی اپنے سعودی بھائیوں سے سیکھیں۔دہشت گردی سے نبٹنے کے لئے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
اگر ایران کے خدشات پر بات نہ کی جائے تو مناسب نہیں ہو گا۔پاکستان کو دو برادر ملکوں کے درمیان ایک اہم کردار ادا کرنا چاہئے خطے میں جو تناﺅ ہے وہ ان دو ملکوں کی وجہ سے ہے اس کا فائدہ مسلم دشمن قوتوں کو ہو رہا ہے۔ایران سے دوستی اور تعلق اگر غیر متوازن ہوتا ہے تو اس کا فائدہ بھارت اٹھائے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان جو اپنے اس دورے کے بعد بھارت جا رہے ہیں اس میں پاکستان سے دوستی اور تعلقات کا وزن ہو گا۔
میں نے سعودی عرب میں پچیس سال سے زائد عرصہ گزارا ہے‘ سعودی لوگوں کو ہماری وزارت خارجہ سمجھا نہیں سکی‘ ہماری انگریزوں سے بڑھ کر انگریزی بولنے اور لکھنے والی وزارت خارجہ کے لوگ ان میں گھر نہیں کر سکے۔انڈیا نے بڑی ہوشیاری سے عرب زعماء کے دل میں جگہ بنائی‘ اس نے سعودی عرب میں مسلمان سفیر مقرر کئے جنہیں عربی کی شد بد تھی۔ہمارے ان سفیروں سے بہتر دیگر سرکاری افسران کامیاب رہے۔ میرے پچیس سالہ قیام کے دوران میں نے جدہ کے قونصلیٹ میں کام کرنے والے ایک فرد جس کانام لکھنا اس لئے مناسب سمجھتا ہوں اور وہ ہے رانا عبدالباقی کا۔اس بندہ خدا نے عرب صحافیوں دانشوروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنایا یہاں کچھ اور لوگ بھی ہیں جن میں شاہد امین،خالد محمود،عبدالسالک خان شامل ہیں۔میرے خیال میںسابق فوجی لوگوں کو سفیر نہ بنائےں یہ بہت اچھے ہوں گے لیکن یہ نہ تو سعودی حکومت سے تعلقات بہتر بنا سکے اور نہ ہی کمیونٹی کے ساتھ۔ پاکستانیوں سے محبت کا اظہار کچھ اس انداز میں کیا کہ ان کی ہمتیں جواب دیں گی۔میرے نزدیک جنرل اسد درانی جو اب اصغر خان کیس میں ہیں اور جس کا کچھ نہیں بننا انہوں نے تو انت مچا رکھی تھی۔اس سے نہ صرف پاکستان کی سبکی ہوئی بلکہ سعودی عرب کو بھی بدنامی ملی۔
اللہ کرے وہاں کے پاکستانیوں کے حالات بدلےں وہاں اب کفیلوں کا شکنجہ کمزور ہوا ہے اب آقا اور غلام والی گرفت کمزور ہوئی ہے۔پہلے لوگ حجام کے ویزے پر پاکستان میں حکمرانی کرتے تھے اور اقامے بنا رکھے تھے اب وہ ختم ہو گئے ہیں۔سعودی عرب کے داخلی حالات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے‘ اگر وہ اپنے ملک میں باہر کے لوگوں پر گرفت نہیں رکھتا تو اس خوف و دہشت کی دنیا میں جب کے اس کی سرحدوں پر بے پناہ خطرات ہیں‘ اس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔اس دورے کے دوران جہاں اور بہت سی باتیں‘ مطالبے ‘انویسٹمنٹ کی بات ہو ہماری حکومت کو حج کے معاملے پر اپنے میزبانوں سے بات کرنی چاہئے۔عمران خان کی بات کو سب مانتے ہیں لیکن یہ یاد رہے لوگ صرف اس بات کا تقابل کرتے ہیں کہ پچھلے سال حج کتنے کا تھا اور اب کتنے کا ہے۔اس میں مملکت سعودی عرب کی جانب سے عمارتوں کے کرائے،بسوں کے اخراجات،اور دیگر مد میں کئے گئے تیس سے چالیس فی صد اضافے کو واپس کرانے کی بات کرے۔جو ملک 20 ارب ڈالر لگا رہا ہے اس کے لئے چند کروڑ ریال کوئی معنی نہیں رکھتے ۔میں حکومتی پارٹی کا رکن ہوں ذمہ دار ہوں مگر میری مجبوری یہ ہے کہ میں عوام میں رہتا ہوں۔پہلی بار حج کرنے والوں پر رحم کیا جائے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات جو قلبی طور پر بڑے مضبوط ہیں انہیں معاشی طور پر کون مضبوط کرے گا وہ ہمارا کام ہے اور ان پاکستانیوں کا کام ہے جو وہاں برس ہا برس سے رہتے ہیں یہاں سے کمرشل قونصلر جاتے ہیں ان بے چاروں کو کوئی بنی مالک چھوڑ آئے تو وہ گھر نہیں پہنچ سکتے چہ جائےکہ انہیں ابہا خمیس، النماس، الباحہ،بالجرشی طائف،غنفدہ لیث جیزان،نجران،ینبع النخیل،خیبر ،مدینہ،العلاءکی ذمہ داری دی جائے کہ جاﺅ جا کر چاول بیچو‘ کینو کے آرڈر لو‘ ٹیکسٹائل کا سودا کرو‘ اس کی بجائے وہاں کی کمیونٹی سے بندے چنیں اور انہیں کمرشل اتاشی بنائیں کمرشل آفیسر رکھیں۔میں افضل جٹ‘ ملک محی الدین‘ سردار الیاس خان‘ مجید گجر راجہ‘ ریاض جیسے سو آدمیوں کے نام دیتا ہوں جو آپ کی ایکسپورٹ کو چار نہیں آٹھ چاند لگا سکتے ہیں۔سفیر لگائیں وہ جو عرب معاشرت کو جانتے ہوں۔
اس وقت جب گھر ایک انتہائی قیمتی مہمان آ رہا ہے لوگوں میں چہ میگوئیاں ہیں کہ کہیں اس ملک کی بڑی جونکوں کے اوپر ہولا ہتھ نہ رکھ دیا جائے۔قوم عمران خان سے بڑی توقعات رکھتی ہے اگر زرداری‘ نواز اور شہباز شریف احتساب سے بچ نکلتے ہیں تو یاد رکھئے پی ٹی آئی کا گراف دھڑام سے نیچے آ جائے گا۔وہ جو این آر او عمران خان نے کہا تھا مر جاﺅں گا نہیں دوں گا انہیں کسی بھی ذریعے سے ملتا ہے تو پھر مجھے لکھنے دیجئے اور کہنے دیجئے قوم کو کھجل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ہمارے مہمان کیا‘ پوری دنیا جانتی ہے امید کی ایک نئی کرن جاگی ہے ۔میں پر امید ہوں مجھے ایک انتہائی پڑھے لکھے نوجوان نے بتایا کہ اس کی نوکری بغیر کسی سفارش کے ہو گئی ہے میرٹ پر کام ہو رہے ہیں۔مہنگائی گرچہ بڑھی ہے مگر اتنی بھی نہیں جتنا شور ہے۔سبزیاں پھل آٹا گھی مناسب حد تک مہنگے ہوئے ہیں۔خدارا اس امید کو نہ ختم ہونے دیں۔شہزادہ محمد بن سلمان کا ایک عظیم کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ملکی دولت کو لوٹنے والوں سے مال برآمد کرایا ہے ہمیں ان سے یہ ضرور پوچھنا چاہئے اور ان سے یہ سیکھنا چاہئے کہ کداں ریال کڈائے نیں؟پاکستان کے بائیس کروڑ مسلمان شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی آمد کے بعد اس شہزادے کے لئے دل وجاں دیدہ ءدل فرش راہ کئے جا رہے ہیں۔ایک صحافی خالد منہاس نے آج سوال کیا کہ شاہ عبداللہ کی طرح عوامی استقبال ہو گا تو میرا جواب یہ تھا خطے کی صورت حال اور فضاءکئی خطرات سے گھری ہوئی ہے۔بائیس کروڑ لوگوں کے چوا لیس کروڑ ہاتھ اس دورے کی کامیابی کے لئے اٹھے ہوئے ہیں ۔میرے دوست بھائی غلام سرور خان وفاقی وزیر پٹرولیم نے کیا خوب بات کی ہے کہ آمد بہار ہے۔اور مرحوم دوست احمد فراز کا وہ شعر بڑا یاد آیا ۔آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں گرم تھی‘ میں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا۔ ہر پاکستانی کا چراغ سا دل اپنے پیارے مہمان کے لئے دھڑک رہا ہے۔ہمارے ہزارے میں کہا جاتا ہے ہر کدے آﺅ جی۔
( تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved