تازہ تر ین

حقوق نسواں کی مو¿ثرآوازعاصمہ جہانگیر

اسرار ایوب….قوسِ قزح
پاکستان کے لوگ تہذیبی طور پر بڑے ہی جذباتی واقع ہوئے ہیں، ایک لمحے میں کسی کو آسمان پر بٹھا دیتے ہیں تو اگلے ہی پل بڑی بے دردی کے ساتھ زمین پرپٹخ دیتے ہیں۔ اس پر ستم یہ کہ بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محرومی،عدم تحفظ،ناانصافی،لاقانونیت اوردہشت گردی جیسے مسائل کی وجہ سے لوگوں کی بھاری اکثریت ” سٹریس ڈِس آرڈر“ کا شکار ہے جس کے سبب ماہرینِ نفسیات کی بین الاقوامی تنظیم نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان کو ”سائیکالوجیکل پریشر کُکر“قرار دیا،یہ بیماری انسان کوخیالات میں”کٹر“ اور رویے میں”انتہائی غیر روادار“ بنا دیتی ہے جس کا مظاہرہ ہمارے معاشرے میں قدم قدم پر کوئی بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔یہی نہیں بلکہ ہم ”کارنپیریسی تھیوری“ پر یقین رکھنے والے ایسے”کنفیوژ“ لوگ ہیں جو ایک طرف تو زندگی بچانے والی ادویات سے لے کر کھانے پینے اور پہننے کی چیزوں تک کے لئے پوری رضاو رغبت کے ساتھ یورپ اور امریکہ کی” کوالٹی“ کے قائل ہیں ، لیکن دوسری جانب ہر اُس شخص پر انگلیاں اٹھاتے ہیں جسے انہی کوالٹی والے کافروں کی جانب سے کسی بھی شعبے میں ”معیاری “کارکردگی کی تصدیق مل جائے۔ عاصمہ جہانگیر کو بھی بین الاقوامی ایوارڈ ملے(ایک دو نہیں بلکہ پورے سات) جن کی پاداش میںان پر بھی یہود و ہنود کی آلہءکار ہونے کا الزام لگایا گیا ۔
عاصمہ کی پہلی برسی پر یاد آیا کہ عورت تو عورت ہماری 70سالہ تاریخ میں ایسے نڈر، بے باک اور غیرت مند مرد بھی کتنے ہوں گے جیسی عاصمہ تھیں؟یحییٰ خان والے مارشل لا کے خلاف کیس جیتا جو ”عاصمہ جیلانی ورسز فیڈریشن آف پاکستان“کے نام سے قانون کی کتاب کا ناگزیر حصہ بن گیا، ضیاالحق کے مارشل لا میں قید کاٹی، جنرل مشرف کی ایمرجنسی میں نظر بندرہیں،ایسے ایسے مقدمات لڑے اور جیتے کہ ایک کیس کا فیصلہ سنانے والے ہائی کورٹ کے جج تک تو قتل کر دیا گیا لیکن عاصمہ اس کے بعد بھی ایسے کیسوں سے باز نہیں آئیں،پاکستانی عورت کو جس تحریک کی بدولت حقوق ملنے شروع ہوئے اس کے جوکھم اٹھانے والی اولین عورتوں میں سے ایک عاصمہ بھی ہیں جنہوں نے اس معرکے میں ایک سے ایک طاقتور اور سفاک شخص کا مقابلہ کیا لیکن خوفزدہ نہیں ہوئیں،عورتوں کی داد رسی کے لئے عورتوں کی پہلی لا فرم اور ”وومین ایکشن فورم “ اُس زمانے (1980)میں بنائے جب عورتوں کو حقوق دلانے کی عملی جدوجہد تو دور کی بات زبانی کوشش بھی گناہ کا درجہ رکھتی تھی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی شریک بانی تھیں،عدلیہ کی بحالی اور آزادی کی جسٹس افتخار چوھدری والی تحریک میں ڈنڈے کھائے لیکن ڈٹی رہیں، واحد عورت ہیں جوسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر تک منتخب ہوئیں۔جنوبی ایشیائی ہومین رائٹس فورم کی شریک چیئر پرسن اور انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہومین رائٹس کی نائب صدر رہیں، اس کے علاوہ6برس انسانی حقوق کے لئے اقوام متحدہ کی خصوصی مندوب رہیں۔ یہ تھے وہ چیدہ چیدہ گناہ جو عاصمہ جہانگیر سے سرزد ہوئے ۔انہیں 2قومی ایوارڈ بھی ملے لیکن ان اعزازات کوبھی کفار کی ملی بھگت کا شاخسانہ قرار دیاگیا۔
تھامس کارلائل نے کہا تھا کہ کسی قوم کی تاریخ اس کے ہیروز کی سوانح عمری کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ تو ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ میرٹ کی پامالی اور منافقت سے بھرپور ہمارے معاشرے میںاول تو ہیرو پیدا ہی کم ہوتے ہیں اورجو ہوتے ہیں تو انہیں بھی بڑے منظم طریقے سے زیرو کر دیا جاتا ہے، آپ خود ہی فرمائیے کہ قیامِ پاکستان کے بعدسے آج تک کیا کوئی ایک عظیم شخص بھی ایسا پیدا ہوا جس کے ساتھ یہی نہ کیا گیا ہو؟ اسی لئے ہماری تاریخ اس قابل بھی نہیں کہ اسے من و عن پڑھا یا پڑھایا جا سکے ورنہ اسے نصاب میں شامل کرنے کے لئے اتنی کانٹ چھانٹ کا سامنا کیوں کرنا پڑتا کہ حلیہ ہی بگڑ جاتا؟ مثال کے طورپر،کون نہیں جانتا کہ سقوطِ ڈھاکہ کی ذمہ داری دوسروں سے کہیں زیادہ ہم پرعائد ہوتی ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ سچ بولنا تو دور کی بات ہم میں تو سچ سننے تک کا حوصلہ نہیں، آسان لفظوں میں یوںکہیے کہ صحیح راستے پر چلنا تو کُجا ہم تو یہی تسلیم کرنے سے قاصر ہیں کہ غلط راستے پر چل رہے ہیں، تو کیا یہ روش بھی کافروںکی کسی سازش کا نتیجہ ہے؟
عاصمہ جہانگیر حقوق نسواں کی مو¿ثر آوازتھیں انہوں نے تمام صلاحیتوں کے ساتھ حکمت عملی کے جو انداز اختیار کیے انسانی حقوق کی تنظیموں میں انہیں بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔ان کاکہنا تھا کہ خواتین کسی طور بھی مردوں سے کم نہیں ہیں اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہارکاپوراموقع ملنا چاہئے۔عاصمہ جہانگیر ہر کمزور کے ساتھ کھڑی نظر آئیں‘ انہوں نے متعدد ایسے کیس لڑے جن کو لینے کے لئے بڑے بڑے وکلاءبھی تیار نہ ہوتے تھے۔ وہ نڈر اوربے خوف خاتون تھیں۔ جمہوریت کامقدمہ ہو یا انسانی حقوق کا‘ وہ ہمیشہ صف اول میں نظر آئیں۔عالمی سطح پر ان کی خدمات کامتعدد بار اعتراف کیاگیا۔وہ ایک انسان دوست شخصیت تھیں۔
کوئی کچھ بھی کہے لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ عاصمہ جہانگیر میرے نزدیک فی الواقعہ ایک ہیرو تھیں ، انہوں نے آئین و قانون کی بالادستی اور پسے ہوئے طبقوں کی بقا کے لئے فرعونوں، ہامانوںاور قارونوں کے ساتھ تن تنہاکیسی کیسی خطرناک جنگیں لڑیں لیکن کسی محاذ پر بھی پسپائی اختیار نہیں کی،سچائی اور اچھائی کے راستے پر اس جوانمری سے چلیں کہ مردوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، میرے خیال میںوہ بلاشبہ پاکستان کی ایک ایسی عظیم بیٹی ہیںجس پرہر پاکستانی صحیح معنوں میں ناز کرسکتا ہے۔میں تہہِ دل سے عاصمہ جہانگیر کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمارے لئے ایک ایسی کہانی چھوڑی جو بڑے فخرکے ساتھ اپنی بیٹیوں کو سنا رہا ہوں اور وہ انشا اللہ اپنی بیٹیوں کو سنائیں گی۔
(کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved