تازہ تر ین

دوستی کا شاہد….!

عدنان عالم….اظہار خیال
جب میں نے معروف صحافی جناب ضیاشاہد کی کتاب”میرادوست نواز شریف“ پڑھی۔ اوراق پلٹتے رہے اور تاریخ کے ہوشربا واقعات سے پردہ اٹھتا گیا۔ضیاءالحق ہو، ضیاءبٹ (جنرل) ہو، واجد ضیاءہو یا ضیا شاہد،نواز شریف کی زندگی کا محوراسی نام کے گرد گھومتا نظر آیا۔ان شخصیات کا باہمی تقابلی جائزہ تو بیان کرنا ممکن نہ ہو مگر میاں نواز شریف سے ان کا تقابلی جائزہ ہر دور میں کتابی شکل میں پڑھنے کو میسر آیا۔اس دور کی نئی صورت ضیاشاہد صاحب جیسے نامور صحافی نے پوری کر دی ہے۔
ضیا شاہد صاحب ان چند لوگوں میں سے ہیں جن کا اوڑنا بچھونا صحافت ہے۔اخباری صنعت کے ہر شعبے میں مہارت رکھنے کے علاوہ فلاحی اداروں کے لئے بھی”پالیسی میکر“ کی خدمات انجام دیتے ہیں۔ان کی کتابوں کی فہرست بھی کتابی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے جو آئندہ نسلوں کے لئے سرمایہ ہے۔گزشتہ دنوں مجھے علامہ عبدلستار عاصم کی جانب سے بذریعہ ڈاک ضیا شاہد صاحب کی کتاب ”میرا دوست نواز شریف“ موصول ہوئی۔کتاب کو پڑھ کر حیرانگی ہوئی کہ اس کا عنوان ”میرا دوست ۔۔۔نوازشریف“ ہی کیوں رکھا گیا؟کیونکہ دوستی ایک اعزاز ،تمغہ اور فخر ہے جو شائد ان کے حصے میں آتا ہے جو دوستی نبھانا جانتے ہیںمگر دوستی میں وفا کی یہی شکل ہے کہ آپ تعلق سے زیادہ رشتے کے نام کی لاج رکھیں ۔کتاب پر تبصرے سے قبل دونوں شخصیات (جناب نواز شریف اورمحترم ضیا شاہدصاحب ) کے معیارِ دوستی کو اس وقت پرکھنا ضروری ہو گاجب دونوں عمر کے تیسرے حصے میں ہیں۔عمر کا تیسرا حصہ بالعموم پختگی کا ہوتا ہے جب زندگی کے نشیب و فراز سے گزرکرمعیارِ انسانیت کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے۔پھر فیصلوں میں مشکل نہیں ہوتی ،قدم بہ قدم پھونکنے کی ضرورت نہیں رہتی۔کب عقل اور کب جذبات سے کام لیا جائے سوچنا نہیں پڑتا۔بلاشبہ اس میںحوصلے‘ ہمت اور جرا¿ت کا بھی حصہ شامل ہوتا ہے اور یہ سب ایک منفرداور بے لوث ساتھی سے حاصل ہوتا ہے جو دوست کہلاتا ہے۔دوستی ایک ایسا رشتہ ہے جو غرض سے خالی ہوتا ہے۔زندگی میں رشتے ملتے ہیں مگر ایک رشتہ ایسا بھی ہوتا ہے جہاں زندگی ملتی ہے اور وہ دوستی کا ہے۔اس رشتے میں کیا کھویا اور کیا پایاکی تلاش رہتی ہے۔جس طرح پانی کی پیاس دنیا کی کوئی اور نعمت پوری نہیں کر سکتی اسی طرح دوست کی کمی کسی آسائش سے پوری نہیں ہو سکتی۔سیاست میں دوستی کی تعریف کچھ مختلف ہے۔ مفادات اور غرض سے بھرپور تعلق ،سیاست میں کامیابی کی راہیں کھولتے ہیں۔میں اس کتاب کے مندرجات کو تاریخ سمجھتا ہوں لیکن یہ کتاب دوستی کی لازاول رشتے پر بھی وفا کہ مہر ثبت کرتی ہے۔جس رشتے میں انسان کے بڑے بڑے بول سے زیادہ وقت آنے پراس کے کارنامے اثرانداز ہوتے ہیں۔اس رشتے کو نبھانے کے لئے قوت برداشت درکار ہوتی ہے۔”میرادوست۔۔۔نوازشریف“ میں کھٹی میٹھی یادوں کو ذہن و دماغ کی دیواروں سے کھرچا گیا ہے۔تلخ اور شیریں حقائق سے زیادہ تعلق اور واسطے کا بیان غورطلب ہے۔
لبوں پر قفل آنکھوں میں لحاظ ِ ناز ہوتا ہے
محبت کرنے والوں کا عجب انداز ہوتا ہے
کتاب کا اہم باب”دوقومی نظریے کی نفی “ ہے جس میں مصنف نے مختصراً قومی رہنما کو اپنی اساس سے ناپید ہونے کا مجرم قرار دیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دوقومی نظریہ روحِ پاکستان ہے اس نظریے سے انحراف یا ضرب کاری کرنے والے قومی مجرم ہیں۔
سیاسی سوچ سے ہٹ کر یہ کتاب ایک آئینہ ہے ۔ معلومات سے اعترافات کا باب کھلتا ہے۔موضوع شخصی ہے مگر پڑھنے کے بعد خود کا احتساب بھی ہوتا ہے۔اپنے اردگرد کے تعلق اور واسطوں کی پہچان ہوتی ہے۔باہر اور اندر کی دنیا نظر آتی ہے۔قدرت کی کتنی لاجواب تحقیق ہے کہ جب ظاہر کی آنکھ بند ہو تو باطن کی آنکھ کھلتی ہے۔ضیاشاہد کی دیگرکتب کی طرح یہ بھی ایک بہترین کتاب ہے اورتاریخ پڑھنے والوں کو اس سے ضرور استفادہ کرناچاہئے۔ ضیاشاہد کی تحریریں بڑی جاندار اور شاندار ہوتی ہیں۔
آخر میں کتاب سے ایک اہم اقتباس جو مصنف کا دیگر دوستوں سے تعلق اور واسطے کا معیار طے کرتا ہے:
”پیارے پڑھنے والے!یہ بحثیں میں آج سے نہیں ،کالج اور یونیورسٹی کے زمانے سے سن رہا ہوں۔ اللہ جانتا ہے کہ میں فرشتہ نہیں بہت گنہگار انسان ہوں۔کیا ہر قدم اٹھانے پر ہاتھ پھیلانا اچھی بات ہے؟
میرے اللہ!میں نے کب دعویٰ کیا فرشتہ ہونے کا ،مجھ میں تو ہزار خامیاں ہیں،پر کیا بکاﺅ مال بننا ضروری ہے؟
پیارے پڑھنے والے!یہ فیصلہ،آپ خود کریں۔“
عمدہ طرز تحریر،اور مطالعاتی خوبیوں سے بھرپور اس کتاب کو علامہ عبدالستا عاصم صاحب نے قلم فاﺅنڈیشن کے زیراہتمام شائع کیا ہے۔
(ملنے کا پتہ :قلم انٹرنیشنل فاﺅنڈیشن،یثرب کالونی،بنک سٹاپ۔والٹن لاہور کینٹ۔03000515101
[email protected])
(کالم نگارقومی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved