تازہ تر ین

سعودی ولی عہد بڑی سرمایہ کاری کیلئے آ رہے ہیں ، روزگار کے مواقع پیدا ہونگے :عمران خان

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد کے دورے سے پاکستان میں ریکارڈ سرمایہ کاری ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنرہاس خیبر پختونخوا میں قبائلی علاقوں میں ہیلتھ کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر گورنر اور وزیراعلی کے پی بھی موجود تھے۔قبائلی علاقوں کو ہیلتھ انشورنش بھی فراہم کریں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ قبائلی علاقے کے عوام کی مدد کرنے کا وعدہ کیا تھا، قبائلی علاقہ پاکستان کے دیگر علاقوں سے پیچھے تھا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی علاقوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔انھوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ غریب گھرانوں کے لئے سب سے بڑی نعمت ہے، بیماری کی وجہ سے غریب خاندان مزید غربت کا شکار ہو جاتا ہے، غریب خاندانوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ بیماری ہوتی ہے، قبائلی علاقوں کو ہیلتھ انشورنش بھی فراہم کریں گے، 7 لاکھ 20 ہزارروپے کا ہیلتھ کارڈ غریب خاندان کو تقسیم کیاجائے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے قبائلی عوام کسی بھی اسپتال سےعلاج کرا سکتے ہیں، قبائلی علاقوں کی مدد کے لئے آج اجلاس میں پلان بنایا ہے، حکومت میں آئے تو بہت سے مسائل میں گھرے ہوئے تھے، حکومت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ قرضوں کا دلدل تھا سعودی ولی عہد کل پاکستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری کے لئے آرہے ہیں، جس سے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ غربت کم کرنے کا پروگرام رواں ماہ کے آخر میں لا رہے ہیں، یہ پروگرام ماضی میںکبھی نہیں لیا گیا، تمام ادارے مل کر کام کریں گے۔اب وفاق قبائلی علاقوں کے لئے فنڈز فراہم کرے گا، ترقیاتی کام ہوں گے، ماضی میں کہا تھا کہ قبائلی علاقوں میں آپریشن آپریشنز نہیں کرنے چاہییں، مگر مجبورا کرنے پڑے، آپریشنز کے خلاف اس لیے تھا کہ غریب عوام کو مسائل کا سامنا رہا۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ غریب خاندانوں کی سب سے بڑی مشکل علاج معالجہ کرانا ہے، اس بنیادی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریک انصاف نے ایسی اسکیم متعارف کرائی ہے جس کے تحت ایک خاندان اس ہیلتھ کارڈ سے 7لاکھ 20 ہزار روپے تک علاج کراسکتا ہے۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، جس کا سب سے زیادہ احساس تحریک انصاف کو ہے اور اسی وجہ سے میں نے وہاں ملٹری آپریشن کی مخالفت بھی کی تھی۔ قبائلی عوام کے لیے مزید فنڈز جاری کررہے ہیں اور ایک ہیلتھ یونٹ بنانے کا بھی پروگرام ہے۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی آمد کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ملک میں سرمایہ کاری گا جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور غربت کا خاتمہ ہوگا۔ سرمایہ کاری سے ملکی دولت میں اضافہ ہوگا جو قرضوں کی واپسی میں مددگار ثابت ہوگی۔صحت کارڈ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘خیبرپختونخوا (کے پی) میں ہمارے پچھلے دور میں صحت کارڈ کا تجربہ بہت اچھا رہا تھا اور ہمارا ارادہ تھا کہ جب ہمارے پاس آئے تو سب سے پہلے قبائلی عوام میں یہ صحت کارڈ دینا ہے جس میں 7 لاکھ 20 ہزار ایک گھرانے کے لیے ہوگا اور مشکل وقت میں وہ قبائلی علاقے سے باہر بھی کسی بھی ہسپتال میں جا کر اپنا علاج کراسکتے ہیں’۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘گورنر کے پی، وزیراعلیٰ، چیف سیکریٹری، آئی جی نعیم خان کے ساتھ قبائلی علاقوں کی مدد کے حوالے سے ایک اجلاس ہوا اور پورا منصوبہ بنایا لیکن دیر اس لیے لگی کہ ا کہ ایک دم حکومت آئی اور اتنے مسائل میں گھرے ہوئے تھے’۔انہوں نے کہا کہ ‘سب سے بڑا مسئلہ تو قرضوں میں ڈوبے ہوئے تھے، اللہ کا کرم ہے ہم کم ازکم اس مشکل وقت سے نکل آئے ہیں پوری طرح تو نہیں نکلے لیکن سر پانی سے اوپر آگیا ہے’۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘اب جس طرح کے حالات ہیں اور سعودی ولی عہد کا جو دورہ ہے وہ کسی بھی سعودی عرب یا کسی بھی سربراہ کا اتنا بڑا دورہ نہیں ہے جہاں اتنی بڑی سرمایہ کاری ہوگی، لوگوں کے لیے روزگار ہوگا اور عوام میں سرمایہ کاری سے دولت میں اضافہ ہوگا کیونکہ جب دولت بڑھے گی تو ہم قرضے واپس کریں گے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ اس مہینے کے آخر میں غربت کم کرنے کے لیے مکمل منصوبہ لے کر آرہے ہیں صحت کارڈ اس کا ایک حصہ ہے، پاکستان میں کبھی بھی اس طرح کا پروگرام نہیں آیا جس کا اعلان کروں گا جس میں غربت کو کم کرنے والے اداروں کو ایک ہی سربراہ کے زیر ملک کر کام کریں گے’۔قبائلی علاقوں کو غربت کے خاتمے کے پروگرام سے فائدہ پہنچانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ پروگرام جب آئے تو سب سے پہلے قبائلی علاقوں میں لے کر جائیں گے’۔انہوں نے کہا کہ ‘قبائلی علاقوں میں ہمارا پروگرام صرف غربت کے خاتمے کا نہیں بلکہ قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کام کریں گے اور مرکز سے فنڈ جاری کررہے ہیں جو قبائلی علاقوں میں ترقیات پر خرچ ہوں گے’۔عمران خان نے کہا کہ ‘قبائلی علاقوں میں ہم اسکول، ہسپتال اور بنیادی صحت کے مراکز بنانے ہیں اور ہمارے وزرا نے دورے کیے ہیں اس لیے ہمیں معلوم ہے کہ ترقیاتی کام کہاں کرنے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یقین دلاتا ہوں قبائلی علاقے کے لوگوں پر جو مشکلات پڑی ہیں اس کا سب سے زیادہ احساس تحریک انصاف کو تھا کیونکہ میں بار بار کہتا گیا کہ قبائلی علاقے میں ہمیں ملٹری آپریشن نہیں کرنے چاہیے اور مجبوراً جو کیے گئے مجھے پتہ تھا کہ جو نقصانات ہوں گے تو لوگوں پر مشکل پڑے گی’۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘جب بھی کہیں بھی ملٹری آپریشن ہوتے ہیں تو عام آدمی کو مشکل وقت سے گزرنا ہوتا ہے، فوج کو پتہ نہیں ہوتا کون سا دشمن ہے اور کون سا دشمن نہیں ہے، اس لیے میں ملٹری آپریشن کے خلاف تھا بلکہ پہلے دن سے مخالفت کی کہ ملٹری آپریشن نہیں کرچاہیں اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اور طریقے اختیار کرنے چاہیئں لیکن ہمارے ہاتھ میں نہیں تھا’۔عمران خان نے کہا کہ ‘اب ہم پوری کوشش کریں گے جو مشکلات قبائلی لوگوں پر ہوئی تو اس کے ازالے کی ہم پوری کوشش کریں گے’۔قبل ازیں 4 فروری کو اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان نے تقریباً 8 کروڑ افراد کو صحت کی مفت سہولیات فراہم کرنے کے لیے صحت انصاف کارڈ کا باقاعدہ اجرا کر دیا تھا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ کارڈ اس لیے ضروری ہے کیونکہ ایک مزدور مشکل میں اپنے گھر کا خرچ پورا کرپاتا ہے اور جب بیماری ہوتی ہے تو پورے گھر کا بجٹ خراب ہوجاتا ہے جبکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی غریب گھرانے صرف بیماری کی وجہ سے غربت سے نیچے چلے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ اس صحت کارڈ سے ہم غریب طبقے کو تحفظ دیں تاکہ انہیں یہ تسلی ہو کہ اس کارڈ سے ان کا ہسپتال میں علاج ہوسکے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved