تازہ تر ین

خودساختہ نظام جمہورےت

راﺅغلام مصطفی….عوامی کٹہرا
پاکستان کی سےاسی صورتحال کا اگر جائزہ لےا جائے تو تبدےلی کی جدوجہد سات دہائےوں سے کسی نہ کسی شکل مےں جاری ہے۔ لےکن پر عزم‘اےماندار اور محب وطن قےادت کے فقدان اور سےاستدانوں کے رواےتی طرز عمل کے باعث تبدےلی دلپذےر نعروں‘وعدوں اور دعوﺅں سے آگے کی حد عبور نہ کر سکی۔بد قسمتی سے اس ملک کی سےاسی اشرافےہ اقتدار کا حصول اور اپنے مفادات کے تحفظ کو مفاد عامہ سے زےادہ مقدم سمجھتی ہے۔عام فرد اپنے گرد مسائل کے انبار دےکھ کر اور بنےادی انسانی حقوق کی عدم دستےابی پر تبدےلی کی شدےد خواہش تو رکھتا ہے لےکن جمود ی اور مفاد عامہ سے عاری سےاست کے سامنے اس کی خواہش دم توڑ جاتی ہے۔تبدےلی کی گونج کبھی جمہورےت کے پروردہ سےاست دانوں کے نعروں‘وعدوں ‘دعوﺅں اورکبھی احتجاجی سےاست کبھی دھرنوں مےں سنائی دےتی ہے اور تبدےلی کے نعرہ کی کاٹھ پر بےٹھ کر سےاست دان اقتدار بھی حاصل کر لےتے ہےںلےکن عوام کوحقیقی تبدیلی نظر نہیں آتی ہے۔سوال ےہ ہے کہ آخر عام آدمی موجودہ رواےتی طرز حکمرانی سے بےزار کےوں ہو چکا ہے۔بدقسمتی سے سےاسی طالع آزماﺅں کی بار بار سےنہ زوری کے باعث ےہ ملک اپنی اصل بنےاد پر قدم نہ جما سکا ملک مےں موجود اشرافےہ خاندانوں نے اپنے اقتدار اور مفادات کو تحفظ دےنے کے لئے عوام کو اےک ٹشو پےپر کی طرح استعمال کےا۔ملکی ترقی اور مفاد عامہ سے عاری فےصلوں کی بدولت ےہ ملک ترقی و خوشحالی کی بجائے پستی کی جانب گامزن رہا۔ےہ ملک اےک نظرےہ کی بنےاد پر حاصل کےا گےا تھا جہاں اس ملک کے عوام اپنی مذہبی‘سماجی اور سےاسی زندگی کو اپنے اقدار و رواےات کےساتھ گذار سکےں۔اکہتر برس کے پاکستان مےں حکمرانوں نے نہ تو اس ملک کے نظام کو اسلامی ا صولوں پر استوار کےا اور نہ ہی مغرب کی جمہورےت کی تقلےد کرتے ہوئے اسے پورے لوازمات کےساتھ نافذالعمل کر سکے بلکہ اس کے برعکس عام آدمی کا معےار زندگی بلند کرنے کی بجائے اس عوام کا دامن غربت و بےروزگاری‘مہنگائی‘لوڈشےڈنگ‘دہشتگردی‘کرپشن‘انصاف کی عدم دستےابی‘رشوت و سفارش اور اقرباءپروری جےسے مہلک مسائل کی گرہ سے باندھ دےا۔ےہاں تک کہ آج اس ملک مےں پےدا ہونےوالے نومولود بچوں کی سانسےں تک اپنے مفادات کے عوض گروی رکھ دےں۔ روٹی‘کپڑا اور مکان‘ بدلتا پاکستان اور پاکستان کھپے جےسے نعروں کے موجد سےاستدانوں کے شاہانہ ٹھاٹھ اور کرپشن کی کہانےاں آج سر بازار نوحہ کناں ہےں۔جس طرح ان حکمرانوں نے عوام کے بدن سے قبا کو نوچ کر تار تار کےا شائد تارےخ مےں اس کی نظےر نہ ملے‘ ہونا تو ےہ چاہےے تھا کہ شور بپا کر کے سڑکےں ناپنے کی بجائے پورے انتخابی عمل کو آزادانہ اور منصفانہ بنا کر عوام کے مےنڈےٹ کی حفاظت کی جاتی۔ سوال ےہ ہے کہ ےہ کس کی ذمہ داری تھی چور دروازوں کی بنےاد کس نے رکھی جمہوری حکمرانی کے دعوےدار سےاستدان اس سوال کا جواب دےں کہ جو خود ساختہ نظام جمہورےت ملک مےں موجود ہے ےہ نظام جمہور کی حکمرانی سے عاری کےوں ہے؟
مغرب سے جمہورےت کا لفظ تو لے لےا لےکن اس لفظ جمہورےت کی تقلےد کے لئے اس عوام کو کوئی جمہوری حکمراں مےسر نہ آسکا۔المےہ ےہ ہے کہ جب اقتداری طبقات کے مفادات پر زد پڑتی ہے تو انکی خود ساختہ جمہورےت کو خطرات لا حق ہو جاتے ہےں پھر ےہ مغرب مےں رائج جمہوری نظام کی مثالےں پےش کرتے ہےں۔سوال اٹھتا ہے کہ کےا مغرب کے ممالک مےں پاکستان کی طرز حکمرانی جےسی جمہورےت قائم ہے تو ےقےن جانئےے جب آپ جمہوری ممالک کی تارےخ کنگھال کر دےکھےں گے تو ان ممالک مےں جمہورےت پورے لوازمات کےساتھ رائج نظر آئےگی۔دنےا کے جمہوری ممالک مےں گڈ گورننس‘اداروں مےں اکاﺅنٹےبلٹی اور شفافےت ہوتی ہے‘کرپشن کے خاتمے کے لئے سےاسی‘انتخابی اور قانونی اقدامات اٹھائے جاتے ہےں‘کرپٹ لوگوں کو قانوں کے ذرےعے ان کے منطقی انجام تک پہنچاےا جاتا ہے‘قانون سازی کے ذرےعے اداروں کو آزاد اور خود مختار بناتے ہوئے ان مےں احتساب کا خود کار نظام وضع کےا جاتا ہے‘عدم مساوات کو ختم کر کے معاشرہ سے غربت ختم کی جاتی ہے‘معاشرہ مےں بسنے والے عام فرد کو روٹی‘کپڑا‘مکان‘تعلےم اور صحت جےسی سہولےات سے آراستہ کےا جاتا ہے‘ہر طبقہ کو برابر نمائندگی کا حق دےا جاتاہے۔ ےہ وہ لوازمات ہےں جو جمہورےت کو مکمل کرتے ہےں ۔اب اگر پاکستان مےں رائج خود ساختہ جمہوری کلچر کو دےکھا جائے تو ےہاں ووٹر کو عزت دےنے کی بجائے اس کے تقدس کو پامال کےا جاتا ہے‘اداروں مےں کوئی اکاﺅنٹےبلٹی اور شفافےت نہےں‘کرپشن کے خاتمہ کے لئے کوئی مﺅثر قانون سازی نہےںجس کے ذرےعے کرپٹ لوگوں کے لئے سزا کا تعےن ہو سکے‘رےاستی ادارے آزاد اور خود مختار نہےں اور نہ ہی ان مےں احتساب کا کوئی خود کار نظام وضع ہے۔
معاشرہ مےں عدم مساوات کی وجہ سے امےر امےر تر اور غرےب غرےب تر ہوتا جا رہا ہے‘رےاست معاشرہ مےں بسنے والے افراد کو روٹی‘کپڑا‘مکان‘تعلےم اور صحت جےسی بنےادی سہولتوں سے آراستہ کرنے سے قاصر ہے‘معاشرے مےں موجود طبقات برابر کی نمائندگی سے ےکسر محروم ہےں ۔اےسی مانگے تانگے کے جمہوری نظام کے ثمرات اشرافےہ کے در کا طواف تو ضرور کرتے ہےں لےکن حکمرانوں کی رواےتی آمرےتی سوچ نے اےلےٹ کلاس اور متوسط طبقہ کے درمےان امےتازی خلےج قائم کر دی جس کے باعث عام فرد کے گرد ہر گذرتے دن کے ساتھ جان لےوا مسائل کے انبار مےں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ےہ دنےا مکافات عمل کی جگہ ہے تارےخ پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے جنہوں نے اپنے منصب سے جڑی ذمہ دارےوں سے مفر اختےار کی تارےخ نے انہےں نوشتہ دےوار بنا دےا۔جہاں کے حکمران اپنی نسل نو کے مستقبل سے لا تعلق ہو جائےں اپنے گھر کو محفوظ بنا کر اےک دوسرے کی فکر چھوڑ دےں اس معاشرے مےں کبھی تبدےلی اور انقلاب نہےں آےا کرتے بلکہ اےسے معاشرے شام‘لبنان اور عراق بن جاتے ہےں ۔پاکستان مےں انتخابات کی تارےخ کے در پر کھڑے ہو کر دےکھ لےںآمرےتی سوچ سے گندھی جمہورےت نے کبھی ضےاءکی باقےات کے خاتمے‘کبھی پےپلز پارٹی کی فسطائےت‘کبھی زرداری کی کرپشن‘کبھی معاشی پالےسےوں‘کبھی مہنگے پراجےکٹس‘کبھی اےک زرداری سب پر بھاری جےسے نعرے اس عوام کی تقدیر مےں لکھ دئےے لےکن اس سے بھی افسوسناک امر ےہ ہے کہ سات دہائےاں گذرنے کے بعد بھی عوام ان چالباز سےاستدانوں کے دلفرےب نعروں‘دعوﺅں اور وعدوں کے سحر سے نہ نکل سکی ذہن کے در پر سوال دستک دےتا ہے کہ ےہ کےسی جمہورےت ہے جو عوام کو ڈلےور کرنے کی بجائے مسائل کے آسےب مےں جکڑ رہی ہے ےہ اےسا ڈستا سوال ہے جو جمہوری علمبردار سےاستدانوں کے سر فرض کی طرح قرض ہے مستقبل قرےب مےں اےسے سےاستدانوں کے لئے حالات کی دستک سب اچھا کی نفی کا زائچہ کھولے ہوئے ہے جو غےر جمہوری سےاسی قوتوں کی خود ساختہ جمہورےت کے باب کو ہمےشہ کے لئے بند کر دے گا۔
(کالم نگارقومی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved