تازہ تر ین

مودی کا زوال

جاوید ملک …. مساوات
بھارت میں کچھ عرصہ قبل ہونیوالے ریاستی انتخابات میں پانچ ریاستوں میں بی جے پی کو بدترین شکستوں کاسامنا کرنا پڑا ۔ راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی حکومت سے باہر ہوگئی ۔ تلنگانہ میں اگرچہ بی جے پی کی حکومت نہیں تھی لیکن یہاں بھی ان کو بڑی حزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اس کے علاوہ میزورم میں برسراقتدار کانگریس حکومت سے باہر ہوگئی ۔ اگرچہ ہندی بولی جانے والی دو ریاستوں میں بی جے پی کم فرق سے ہاری لیکن کارپوریٹ میڈیا کے مودی کے حق میں پراپیگنڈے اور ’’شائننگ انڈیا‘‘ کے پرفریب نعروں کے تناظر میں اس شکست نے بی جے پی کے ’وِکاس‘ (ترقی) اور ’اچھے دن‘ کے وعدوں اور دعو¶ں کا پول کھول دیا ہے ۔ نریندرا مودی جس معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور غربت کے خاتمے کے نعروں کے ساتھ 2014ءکے انتخابات میں اقتدار میں آیا تھا وہ تو پورے نہ ہوئے ہاں البتہ اس نے اپنی ناکامی اور خفت کو چھپانے کے لیے مذہب اور ذات پات کی بنیادوں پر تقسیم اور فسادات کو اس دوران خوب ہوا دی۔ دوسری طرف اس معاشی، سیاسی اور سماجی جبر کے خلاف آواز اٹھانے والے سماجی کارکنوں‘ سیاسی ورکروں اور ترقی پسند آوازوں کو ہندوبنیادپرست تنظیموں اور ریاستی جبر کے ذریعے ’غدار‘ اور ’پاکستانی ایجنٹ‘ کے الزامات لگا کر خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔
نریندرا مودی جس ’چمکتے ہندوستان‘ (شائننگ انڈیا) کے نعرے کے ساتھ 2014ءمیں اقتدار پر براجمان ہوا تھا وہ انڈیا صرف مٹھی بھر سرمایہ داروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے ہی چمک رکھتا ہے ۔ عوام کی وسیع اکثریت کے لیے اس میں صرف تاریکی اور ذلت ہی ہے۔ جس ’گجرات ماڈل‘ کی بنیاد پر مودی کو شہرت ملی وہ دراصل نیولبرل معاشی پالیسیوں کا بے رحمانہ نفاذ تھا جس کے تحت کارپوریٹ سرمائے کے منافعوں میں اضافے کے لیے ’سازگار ماحول‘ تیاراور معیشت میں ریاست کے کردار کو کم سے کم کیا جاتا ہے ۔ اس سے کارپوریشنوں کی سرمایہ کاری اور منافعوں میں تو بے تحاشہ اضافہ ہوتا ہے اور شرح نمو میں بھی بڑھوتری آتی ہے لیکن اس ترقی کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پاتے ۔ جس سے سماجی تضادات مزید شدت اختیار کرتے ہیں۔ جب یہی سماجی تضادات پھٹ کر حکمرانوں کی حاکمیت کو خطرے میں ڈالنے لگتے ہیں تو وہ مذہبی فسادات کرواتے ہیں۔ گجرات میں 2002ءمیں ہونے والے ہندو مسلم فسادات بی جے پی اور مودی کی ہی کارستانی تھی۔
مودی کی گجرات میں انہی بے رحمانہ نیولبرل معاشی پالیسیوں کے نفاذ کے بعد وہ ملکی سرمایہ داروں اور عالمی اجارہ داریوں کی آنکھ کا تارہ بن گیا تھا اور اسے اقتدار میں لانے کے لیے ان کارپوریشنوں کی طرف سے ایک باقاعدہ مہم چلائی گئی۔ ایسو سی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز جو دہلی میں ایک تھنک ٹینک ہے ، کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2004ءسے کارپوریشنوں کی طرف سے مختلف سیاسی پارٹیوں کو ملنے والے چندوں میں 613 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ ان ’چندوں‘ کا سب سے بڑا حصہ یعنی 77.72فیصد (تقریباً پندرہ ارب روپے )بی جے پی کو ملے جبکہ اسی عرصے میں کانگریس کو 4.5 ارب روپے ملے ۔ یہ کارپوریشنز ہی پارٹیوں کو چلاتی ہیں اور انہیں اقتدار میں لاتی ہیں اور ان کی پالیسیوں کا تعین کرتی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت بھارت میں بیروزگاری گزشتہ بیس سالوں کی بلند ترین سطح پر ہے ۔ بیروزگاری کے ساتھ ساتھ کم اجرتیں بھی سنگین مسئلہ ہے ۔ 82 فیصد مرد اور 90 فیصد خواتین ماہانہ دس ہزار روپے سے کم کماتے ہیں جبکہ ساتویں سینٹرل پے کمیشن کی سفارشات کے مطابق کم سے کم اجرت ماہانہ 18 ہزار روپے ہونی چاہیے ۔ اس کے علاوہ جی ڈی پی کی نمو اور روزگار کی تخلیق کے درمیان تناسب بھی تضادات سے بھر پور ہے ۔ ستر اور اسی کی دہائی میں اگر جی ڈی پی کی شرح نمو 3 سے 4 فیصد ہوتی تو روزگار کی تخلیق 2 فیصد سالانہ تھی ۔ اب حالت یہ ہے کہ جی ڈی پی تو 7 فیصد کی شرح نمو سے بڑھ رہا ہے لیکن روزگار کی تخلیق 1 فیصد سالانہ ہے ۔ یوں دنیا بھر کی طرح ہندوستان میں بھی ’جاب لیس گروتھ‘ کا مظہر دیکھا جا سکتا ہے ۔
حالیہ برسوں میں اس معاشی جبر اور مودی کی سرمایہ نواز پالیسیوں کے خلاف بھارت میں محنت کشوں نے گزشتہ ماہ ہڑتالیں کی ہیں۔ اس سال غریب کسانوں نے ریاست مہاراشٹرامیں دارالحکومت ممبئی کی طرف قرضوں کی معافی اور اپنے دیگر مطالبات کے لیے ہزاروں کی تعداد میں مارچ کیا۔اس مارچ میں طلبہ کی شمولیت اور یکجہتی نے ایک معیاری فرق پیدا کیا اور اس دیوہیکل مارچ کی وجہ سے سرکار کو ان کی مانگیں ماننا پڑیں۔ اسی طرح ستمبر 2015ءمیں پندرہ کروڑ سے زائد ہندوستان کے طاقتور پرولتاریہ نے عام ہڑتال میں حصہ لیا۔ اگلے سال یعنی 2016ءمیں بھی اٹھارہ کروڑ سے زائد مزدوروں نے ایک دن کی عام ہڑتال کی۔ اب نئے سال 2019ءکے آغاز پر بھی ہندوستان کے محنت کشوں نے ایک دفعہ پھر نریندرا مودی کی نیم فسطائی اور کارپوریٹ حکومت کے خلاف 8 اور 9 جنوری کو دو دن کی عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے جس میں ملک بھر سے کروڑوں محنت کشوں نے حصہ لیا ہے ۔ ہندوستان کے محنت کشوں کی یہ جدوجہد اور ہڑتالیں مودی اور ادتیاناتھ جیسے مذہبی جنونیوں کے نیولبرل معاشی نسخوں اور مذہبی تقسیم کی وارداتوں کو ایک منہ توڑ جواب ہیں۔ محنت کش طبقہ اس لڑائی میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا لیکن سوال یہ ہے کہ ہندوستان کی بڑی اور عوامی حمایت کی حامل کمیونسٹ پارٹیاں کب بورژوا جمہوریت اور سیکولرازم کی آنکھ مچولی کے کھیل سے باہر نکلیں گی۔؟
(کالم نگار سیاسی و سماجی ایشوز پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved