تازہ تر ین

کلبھوشن اورعالمی عدالت انصاف

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
دشمن کو معاف کردینا اور دشمن کو بھول جانا دو بالکل الگ الگ باتیں ہیں۔معاف کردینا ایک بڑائی ہے، چھوٹا آدمی معاف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، بڑے آدمی کی ایک بڑی پہچان یہ بھی ہے کہ اس میں معاف کرنے کا بڑا حوصلہ ہوتا ہے لیکن دشمن کو بھول جانے والا نہ تو بڑا آدمی ہوتا ہے نہ ہی چھوٹا آدمی بلکہ صرف اور صرف احمق اور نادان ہوتا ہے۔جاپانیوں نے امریکی ایٹم بم کے انتہائی خوفناک نتائج سہنے کے بعد بھی امریکا کو معاف کر دیا لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ جاپانیوں نے اپنے دشمن کو بھلا دیا ہے تو اسے ایک انتہائی سنگین غلط فہمی کہا جائے گا۔اسرائیل اور فلسطین کی مثال دیکھ لیں، ممکن ہے آنے والے کچھ برسوں میں اسرائیل اور فلسطین کے اختلافات کسی پس منظر میں دب جائیں ، دونوں ملکوں کے بیچ ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہو جائے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا فلسطینی اپنے ان معصوم بچوں کو بھول جائیں گے جو ان کی آنکھوں کے سامنے اسرائیلی طیاروں سے اگلتی آگ میں جل کر خاک ہوگئے۔ یقینا ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا۔یہی معاملہ کشمیر کا بھی ہے اور یہی صورت حال افغانستان کی بھی۔ ممکن ہے کل کشمیر کا معاملہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہوجائے اور افغانستان میں مقامی لوگوں کی مرضی اور رضامندی کی حکومت قائم ہوجائے، یہ بھی ممکن ہے کہ افغانستان سے جاتے ہوئے امریکا افغانستان کے زخم خوردہ مقامی لوگوں کے لیے کسی امدادی پیکیج کا اعلان بھی کر جائے لیکن کیا اس سب کے بعد وہ افغان جن کے بچے اتحادی افواج کی بمباری میں مارے گئے اور وہ افغان جنہیں امریکی مداخلت کے باعث اپنے گھر کو چھوڑ کر ہمسایہ ملک پاکستان میں مہاجرین کی زندگی گذارنا پڑی اور وہ افغان جو اپنے اوپر تھونپی جانے والی جنگ میں اپنے ہاتھ پاﺅں اور دیگر اعضاءسے محروم ہو کر معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں، کیا اتحادی فوجوں کے ظلم و ستم کو فراموش کر دیں گے۔کیا مقبوضہ کشمیر کے بے بس لوگ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بے حرمتی کا شکار ہونے والی اپنی بہو بیٹیوں کی مسخ شدہ عریاں لاشوں کو بھول جائیں گے‘جو ہر تھوڑے دن بعد کسی ندی نالے کنارے یا پھر کسی پہاڑی کے دامن سے برآمد ہوتی ہیں۔کچھ ایسے ہی احساسات ہمارے ملک کے علاقے وزیرستان کے لوگوں میں بھی دیکھنے کو ملےں گے۔وہاں امریکی ڈرون حملوں میں پورے کے پورے خاندان اجڑ گئے، جو بچ گئے ان کی ذہنی کیفیت ایسی کہ زندوں میں رہے نہ مردوں میں، کیا ڈرون حملوں کا شکار یہ لوگ ڈرون برسانے والے امریکیوں کو بھول جائیں گے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ بھارتی نیوی کے حاضر سروس آفیسر کلبھوشن یادیو کا بھی ہے۔ جب سے وہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے شکنجے میں آیا، بھارت کی طرف سے پاکستان پر مستقل دباﺅ ہے کہ کلبھوشن کو باعزت رہا کردیا جائے، کیونکہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ پاکستان کے حوالے سے یہ روایت بھی رہی ہے کہ پاکستان کا رویہ اپنی سمندری حدود میں بھٹک کر آجانے والے بھارتی ماہی گیروں، غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کرجانے والوں اور جاسوسی کے جرم میں پکڑے جانے والے راءکے ایجنٹوں سے اتنا بے رحمانہ نہیں ہوتا جتنا بے رحمانہ رویہ ایسی صورت میں بھارت کا پاکستانیوں سے ہوتا ہے۔ پاکستان ویسے بھی معاملات کو ہمیشہ بھائی چارے کی فضا میں بات چیت کے ذریعے حل کرنے کو فوقیت دیتا ہے۔مگر کیا کریں کہ کلبھوشن یادیو کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہی نہیں نہایت سنگین بھی ہے ۔سفارتی درگذراور ہمسایوں سے حسن سلوک کی تعلیمات کی روشنی میں کلبھوشن کو اگر معاف کر بھی دیا جائے تو ان مظلوم پاکستانیوں کو حکومت پاکستان کیا جواب دے گی جن کے پیارے کلبھوشن یادیو کے ناپاک ارادوں کی نذر ہوگئے۔
کلبھوشن کو جب ہمارے سیکیورٹی اداروں نے بلوچستان سے گرفتار کیا تو اس کے قبضے سے ایک جعلی پاسپورٹ برآمد ہوا جس پر اس کا فرضی نام مبارک حسین پٹیل درج تھا اور تاریخ پیدائش 30اگست 1968ءدرج تھی۔ جبکہ بھارت میں موجود اس کے ریکارڈ کے مطابق وہ 1969ءمیں ریاست مہاراشٹر کے شہر سنگلی میں پیدا ہوا۔پاکستانی تحقیقاتی اداروں کو اپنا اقبالی بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اس نے بتایا کہ میں انڈین نیوی کا ایک حاضر سروس آفیسر ہوں اور 2022ئمیں میری ریٹائرمنٹ ہونی ہے۔اسے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی راءنے بلوچستان اور سندھ میں اپنے رابطے بڑھانے اور ان رابطوں کی مدد سے بلوچستان اور سندھ میں لسانی مذہبی اور نسلی فسادات کرانے کے لیے بھیجا تھا۔بالخصوص بلوچستان میں بھارت کے بھیجے ہوئے دیگر ایجنٹوں کی مدد سے علیحدگی پسندی کی فضا کو فروغ دینے کا کام کلبھوشن کے سپرد کیا گیا تھا۔یہ بھارتی انٹیلی جنس آفیسر ایران جانے والے زائرین کے قتل عام، ہزارہ قبیلے کے لوگوں کی بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور مزدوری کے لیے پنجاب سے بلوچستان جانے والے لوگوں کے اغوا اور قتل کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔کلبھوشن کے جرائم کی تفصیل اتنی طویل ہے کہ سینکڑوں صفحات بھی کم پڑ جائیں۔ تاہم پاکستان نے غیر ملکی مجرموں کے حوالے سے طے کردہ تمام اصول و ضوابط سامنے رکھتے ہوئے کلبھوشن کو ہر ممکن آسانی فراہم کی، اگرچہ وہ ہزاروں پاکستانیوں کا قاتل ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بہت سا اقتصادی نقصان پہنچانے کا ذمے دار بھی ہے، اس نے اپنی سازشوں سے بلوچستان کا امن بھی برباد کیا لیکن پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اسے اپنی ماں اور بیوی سے ملاقات کا بھی پورا موقعہ فراہم کیا۔تاہم کلبھوشن کو قونصلر رسائی کی آسانی اس لیے فراہم نہیں کی کہ وہ ایک دہشت گرد ہے اور ایسے دہشت گردوں کو اس طرح کی کوئی رسائی فراہم نہیں کی جاتی۔ پاکستان کی فوجی عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی تو بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کر لیا۔ 18فروری سے عالمی عدالت انصاف میں دوبارہ سے اس کیس کی شنوائی شروع ہورہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عالمی عدالت انصاف ہزاروں پاکستانیوں کے اس قاتل کے ساتھ کس سلوک کی منظوری دیتی ہے۔ویسے آف دی ریکارڈ بات یہ ہے کہ طاقتور ملک تو اپنی قوم کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی غیر ملکی ایجنٹ کو اتنا موقعہ ہی نہیں دیتے کہ اس کے لواحقین ایسی عالمی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاسکیں جہاں فیصلے میرٹ کی بجائے سیاسی تناظر میں کیے جانے کا امکان ہو، اگرچہ ہم پاکستانیوں کا حافظہ کافی کمزور ہے یا دوسرے لفظوں میں کہہ لیں کہ ہم کینہ پرور نہیں لیکن پھر بھی لوگوں کو یاد ہوگا کہ ماضی میں پاکستانی دریاﺅں پر ڈیم بنانے کی بھارتی کوشش کے حوالے سے بھی ایک معاملہ عالمی عدالت انصاف میں زیر غور رہا ہے۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved