تازہ تر ین

ہائیبرڈ جنگ کا خطرہ ٹلا نہیں

اکرام سہگل ….توجہ طلب
ایک جانب جہاں عالمگیریت کی بنیاد پر دنیا کے مختلف لوگوں کو یک جا کیا گیا ، وہیں مختلف ممالک نے اسی تصور کے تحت گروہ بندی کرکے دنیا پر اپنی بالادستی جمانے کے لیے اس تصور کا بے دریغ استعمال کیا۔ شام، عراق، افغانستان اور یمن میں ہم طاقت کے لیے کھینچ تان کو اس کی مثال کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ اکثر اب روایتی جنگیں ”ہائبرڈ جنگ“ کے ساتھ نہیں چل پاتیں اور اس وقت دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔
ہائبرڈ وار فیئر کی حکمت عملی میں اقتصادی، سیاسی اور سفارتی حربے استعمال ہوتے ہیں، جن کے تحت پابندیاں اور کسی ملک کے سیاسی عمل میں مداخلت شامل ہے۔ اسی طرح روایتی جنگی حربوں کے ساتھ اس کا امتزاج تیار کرنے کے لیے حزب اختلاف کے گروہوں کو مسلح کیا جاتا ہے، سائبر حملے اور دیگر ہتھیار بھی اس حکمت عملی میں شامل ہوتے ہیں۔ خبروں میں جعل سازی، مسخ شدہ خبریں، سوشل میڈیا اور خفیہ اداروں کی کارروائیاں بھی اس کے اہم ہتھیار ہیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے مختلف مقاصد کے لیے ان ہتھیاروں کو یک جا کرکے استعمال کرنا آسان ہوگیا ہے، بیک وقت مختلف حربے استعمال کیے جاسکتے ہیں اور درپیش صورت حال سے ان کی مطابقت بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس میں بالخصوص یہ خطرہ ہے کہ یہاں دہشت گردی کو اس جنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ اسامہ بن لادن القاعدہ کے عفریت کو پیدا کرنے والوں کے قابو سے باہر ہونے سے پہلے سوویت یونین کے خلاف مغرب کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہوا۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ عراق پر امریکی جارحیت کے لیے جعلی خبروں کو بنیاد بنایا گیا جس کے نتیجے میں صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹایا گیا اور شیعہ مسلح تحریکوں کو کچلنے کے لیے اس کی سنّیوں کی اکثریت رکھنے والی فوج کے افسران اور سابق اہل کاروں پر مشتمل داعش جیسی تنظیم کھڑی کی گئی۔
خفیہ مداخلت جنگی حربوں میں کوئی نیا طریقہ نہیں۔ سوشل میڈیا ، انٹرنیٹ کی مدد سے حاصل ہونے والی کثیر معلومات کے ذریعے پروفائلنگ اور صارفین کی پسندو ناپسند تک رسائی کے بعد اس کی رفتار میں اضافہ ہوا۔ اس معلومات سے استعمال کنندگان کا سیاسی رجحان معلوم کرنا اب مشکل نہیں۔ پاکستان کو 1980سے ہائیبرڈ جنگ کا سامنا ہے لیکن بظاہر ہم نے اس کے مقابلے کے لیے کوئی حکمت عملی ترتیب نہیں دی۔ اس کی مختلف وجوہ ہیں؛ بنیادی ترین وجہ تو یہ ہے کہ برصغیر میں سمجھ بوجھ کا استعمال کرنے کے بجائے افواہوں اور افسانوں پر کان دھرنے کا رجحان عام ہے، اس کے ساتھ ہمارے ہاں عوام میں آگاہی کی بہت کمی ہے، وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان، خزانہ و خارجہ کی وزارتوں وغیرہ جیسے سرکاری اداروں اور مناصب کی عوام مفاد سے متعلق اہمیت کا ادارک نہیں رکھتے۔
پاکستان کی جانب سے کسی بھی دہشت گردی سے خود کو دور رکھنے اور افغانستان میں امن عمل کی حمایت کے فیصلے نے ہمارے لیے عالمی برادری میں بہتر تعلقات کے لیے نئے در وا کیے۔ اس مثبت پیش رفت کے باوجود ہائبرڈ جنگ کا خطرہ ٹلا نہیں بلکہ اس میں شدت آتی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان پر ان جنگی حربوں کے ذریعے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے باقاعدہ حکمت ترتیب دینا پڑے گی۔ مگر یہ کیسے ممکن ہوگا؟ ظاہر ہے کہ سب سے پہلے سرکاری اداروں اور عوامی سطح پر ہائبرڈ وارفیئر سے متعلق آگاہی عام کی جائے۔ یہ جنگ صرف فوج یا قومی سلامتی کے ادارے تنہا نہیں لڑ سکتے، اس کے لیے اجتماعی آگاہی اور اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ اس کے لیے حکومت کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے اور میڈیا کو تصدیق شدہ معلومات کی فراہمی یقینی بنانا چاہیے۔ جھوٹ اور اشتعال انگیزی کو بے نقاب کرنے اور اس پر فوری سزاو¿ں میں کوئی رعایت نہیں دینا چاہیے۔ سرکاری اور ریاستی اداروں کو خطرات اور انسدادی حکمت عملی سے متعلق آگاہ رکھا جائے۔ اگر کسی ایسے کمپیوٹر وائرس کی تشخیص ہوجائے جو نجی معلومات یا اداروں کے پروگرامز کو متاثر کرسکتے ہوں، یا کرنسی کی قدر میں ردوبدل کے لیے کی جانے والی خفیہ چالبازی سے متعلق معلومات حاصل ہوں تو انھیں عوام کے سامنے لانا چاہیے، اس کے لیے نہ صرف انتباہ جاری ہو بلکہ انسداد کے لیے حکمت عملی بھی وضع کی جائے۔ اس انداز میں ردعمل سے جوابی کارروائی کی رفتار اور قوت میں بھی اضافہ ہوگا۔ لیکن اس کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ عوام کو حکومت ، سلامتی کے اداروں اور فوج پر مکمل اعتماد ہو اور موجودہ حالات میں اعتماد کی اس کمی کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ عوام پر واضح کیا جائے کہ دشمن نہ صرف اخلاقی اقدار سے عاری ہے بلکہ ساتھ ہی انتہائی سفاک بھی ہے اس لیے کوئی اس خیال میں نہ رہے کہ اس سے کوئی وقتی فائدہ حاصل کرنے میں کام یاب ہوجائے گا۔
ہائیبرڈ وار کے خطرناک ہتھیاروں میں میڈیا اور معلومات بھی شامل ہیں۔ شہریوں تک الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے پہنچنے والی معلومات پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور اس میں انٹیلی جینس کی بنیاد پر نفسیاتی جنگ کے حربوں کی تشخیص بھی لازم ہوچکی ہے۔ عمومی طور پر اور بالخصوص سیاست سے متعلق عوامی تاثر تشکیل دینے میں روایتی حقائق کے بجائے اب میڈیا کی پیش کردہ ”حقیقت“ زیادہ مو¿ثر ثابت ہوتی ہے۔ میڈیا کی کئی معروف شخصیات جانے ان جانے میں دشمن کے اہداف کے لیے معاون ثابت ہورہی ہیں۔ دشمن دل و دماغ خریدنا جانتا ہے۔ دشمن اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے دھونس دھمکی ، ترغیب ، رشوت سمیت ہر حربہ استعمال کرکے اپنے اور ہمارے لوگوں پر اثر انداز ہونے میں مصروف ہے۔ آزادی¿ اظہار کے درپردہ ریاست اور اداروں کے خلاف جو جی چاہے کہنے کا لائسنس دے دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پی ٹی اے اور دیگر اداروں کی جانب سے موبائل ٹیلی فون کمپنیوں کی مزید ضابطہ بندی اور کڑی نگرانی کی ضرورت ہے۔ انھیں بینک کھولنے کی اجازت دینا خطرے سے خالی نہیں۔ ان کے عملے کی اکثریت محب وطن ہے لیکن کیا ان کے چیف مینیجر بھی پاکستان کے وفادار ہیں یا اپنے ان غیر ملکی بوسز سے ان کی وفاداری زیادہ پختہ ہے جو انھیں بھاری معاوضے ادا کرتے ہیں؟ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جن سرورز پر ہمارا ڈیٹا محفوظ ہوتا ہے وہ دشمن ممالک میں نہیں رکھے گئے؟
حال ہی میں کراچی میں ہونے والے ”ادب فیسٹیول“ کے شرکاءکی اکثریت نے ادب پر بات کرنے سے زیادہ ریاست کے خلاف زیادہ شدومد سے خیالات کا اظہار کیا اور حکومتی سطح پر ان باتوں کا جواب بھی سننے میں نہیں آیا۔ معلومات ، چاہے جعلی ہو یا حقیقی، گھر کی بات ہو یا باہر سے آنے والی خبر، اس کا اثر اس وقت نہیں ہوتا جب تک اسے درست تسلیم نہیں کرلیا جاتا، اس کے لیے بروقت درست معلومات اور غور وفکر کی جانب متوجہ کرنے کی ضرورت ہے ، یہی جعلی خبروں اور جھوٹے پراپیگنڈے کے زہر کا تریاق ہے۔ حکومت کو ایسے آن لائن ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں اضافے کے لیے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو نہ صرف معلومات کی کڑی نگرانی میں مدد گار ہوں بلکہ مفاد عامہ سے متعلق مصدقہ معلومات کی فراہمی بھی یقینی بنائیں۔
جب کھیل کی نوعیت اس تیزی سے تبدیل ہورہی ہو تو تنہائی، کم ہمتی اور نقصان سے بچنے کے لیے حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی بھی تبدیل کرلینی چاہیے۔ طاقت ور لیڈرشپ اور اداروں کے مابین ہم آہنگی سے سول ملٹری تعاون کو مستحکم کیا جاسکتا ہے جس کی شاید آج سے پہلے اتنی ضرورت کبھی نہیں تھی۔ معیشت ہائیبرڈ وار کا سب سے خطرناک ہتھیار ہے، اس لیے سب سے پہلے ملک کو معاشی مشکلات سے باہر نکالنے کی ضرورت ہے۔ اصلاحات اور اقدامات سے پس ماندہ علاقوں اور طبقات کی مشکلات کا ازالہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی وہ سقم ہیں جن کا دشمن فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اہل دانش، اکیڈمیوں، سیاستدانوں اور حکمت کاروں کو ملکی سلامتی اور نفاذ قانون کی پالیسیوں کی تشکیل میں شامل مشاورت کرنا چاہیے۔
ملکی سلامتی کے محاذ پر ابھرتے ہوئے داخلی و خارجی خطرات سے نمٹنے کے لیے جنگی حکمت عملی میں مو¿ثر اور فوری تبدیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں (بالخصوص لسانیت و قومیت سے متعلق حساسیتوں اور شہری حقوق جیسے ) پریشر پوائنٹس پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے کیوںکہ بیرونی دشمن انہی کا بہ آسانی استعمال کرتا ہے۔ اداروں کی باہم ہم آہنگی آج ماضی کے مقابلے میں سب سے زیادہ ناگزیر ہوچکی ہے اور ”سیاست“ کا کھیل بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی سلامتی سے متعلق سنجیدہ سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ عسکری قیادت کے ہائبرڈ وار فیئر کے بارے میں ادارک پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا ہے، سیاسی قیادت کو بھی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کاوشوں میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ معاشرے کے ہر طبقے کو مل کر اس کثیر الجہت خطرے کے مقابلے کے لیے مشترکہ اقدامات میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
(فاضل کالم نگار دفاع اور سکیورٹی امور کے تجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved