تازہ تر ین

مضبوط اقتصادی منصوبہ بندی….مگر کیسے؟

چوہدری ریاض مسعود….بحث ونظر
پاکستانی معیشت اس وقت غیرملکی قرضوں کے بوجھ تلے جس طرح دبی ہوئی ہے اس سے جہاں تجارتی خسارے اور گردشی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے وہاں ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر اور برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اقتصادی پالیسیوں میں عدم تسلسل اور ملک کے غیریقینی معاشی حالات کی وجہ سے صنعتی و تجارتی سرگرمیاں اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات پڑے ہیں بھلا ہو ہمارے دوست ممالک کا کہ جن کی بروقت امداد اور سرمایہ کاری سے ہماری ڈولتی ہوئی معیشت کو قدرے سہارا مل گیا ہے خاص طور پر ہمارے اسلامی دوست ملک سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ دورہ پاکستان سے ہمیں اقتصادی تجارتی اور سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے بے حد فائدہ ملے گا اس سے پہلے بھی سعودی عرب‘ قطر‘ متحدہ عرب امارات اور چین کی طرف سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کیلئے جو عملی اقدامات کئے گئے تھے اس سے جہاں ہماری تباہ حال معیشت مزید تباہی سے بچ گئی تھی وہاں ہماری معیشت کا پہیہ ایک بار پھر گردش میں آ گیا ہے اس تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنی انتظامی‘ مالیاتی اور اقتصادی پالیسیوں اور منصوبہ بندی کا بغور جائزہ لیں اور اس میں پائی جانے والی کمزوریوں‘ کوتاہیوں اور غلطیوں کا فی الفور ازالہ کریں۔ غیرملکی امداد اور سرمایہ کاری کا صحیح فائدہ اٹھانے کیلئے ایسے فوری اور ہنگامی اقدامات کرنا بے حد ضروری ہیں۔ ہمیں ڈنگ ٹپاﺅ پالیسیوں کو ترک کرکے مربوط جامع اور قابل عمل منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ ہمیں برآمدات کو بڑھانے‘ درآمدات کو کم کرنے اور تجارتی خسارے کو مختصر سی مدت میں کم سطح پر لانے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں جس قدر نعمتوں اور وسائل سے نوازا ہے اگر ہم ان سے بھرپور استفادہ کریں تو ہم غیرملکی قرضوں اور امداد سے چھٹکارا حاصل کرکے ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ جامع منصوبہ بندی‘ موثر حکمت عملی اور دوراندیشی مشکل حالات میں بھی آسانیاں پیدا کر سکتی ہے لیکن ذرا سی غلطی یا کوتاہی ملکی معیشت کو مزید ڈبونے کا باعث بن سکتی ہے چند ماہ پہلے ہم نے جس سرعت اور عجلت میں روپے کی قدر میں کمی کی اس سے صرف ایک دن میں پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں 750ارب روپے کا مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ موجودہ حکومت نے اپنی معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کو درست کرنے کیلئے حال ہی میں جو اقدامات کئے ہیں اس سے ملک میں سرمایہ کاری کے مزید بڑھنے کے امکانات روشن ہوئے ہیں خاص طور پر سعودی عرب کے ولی عہد عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر ہونے والے معاہدوں سے پاکستان کو بے حد فائدہ ہو گا اور اس سے ہماری معیشت مضبوط بھی ہو گی اور تیزی سے ترقی بھی کرے گی اس سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات میں مزید مضبوطی بھی آئے گی۔
ہمیں اپنی برآمدات کو بڑھانے اور نئی منڈیوں کی تلاش کیلئے بھرپور کوششیں کرنا ہونگی‘ بیرون ملک تجارتی مشنوں میں تعینات ہمارے کمرشل اتاشیوں اور ٹی ٹی اے کے حکام کو زبانی جمع خرچ کرنے کی بجائے غیرمعمولی خدمات انجام دینا ہونگی۔ اس وقت دنیا میں حلال فوڈ مارکیٹ 3.6کھرب ڈالر سے بھی زائد کی ہے جبکہ اس میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے اگر موجودہ حکومت اس سیکٹر کی طرف خصوصی توجہ دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو خصوصی ٹارگٹ دے تو ہمارا حلال فوڈ‘ مارکیٹ میں حصہ فوری طور پر کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے اسلامی ممالک میڈ ان پاکستان حلال مصنوعات کو یقیناً ترجیحی بنیادوں پر درآمد کرینگے۔ آپ حیران ہوں گے کہ اس وقت حلال فوڈ مارکیٹ پر غیرمسلم ممالک چھائے ہوئے ہیں اور ان کا یہاں حصہ 90فیصد کے لگ بھگ ہے۔ مزید یہ کہ مشرق وسطیٰ کو حلال فوڈ سپلائی کرنے والے 10بڑے ممالک بھی غیرمسلم ہیں۔ اگر ہم حلال فوڈ مارکیٹ کو بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ ٹارگٹ کریں تو ہم بہت جلد اس شعبے میں پیش رفت کر سکتے ہیں۔ ایک بات ذہن نشین رہے کہ ہم نے دعوﺅں‘ نعروں اور وعدوں سے آگے نکل کر عملی طور پر کام کرنا ہے ہمارا اس معاملے میں ٹریک ریکارڈ کچھ اچھا نہیں۔ ہم نہ تو بیرون ممالک سے 200ارب ڈالر واپس لا سکے ہیں اور نہ ہی منی لانڈرنگ اور بے نامی اکاﺅنٹس کا ابھی تک خاتمہ کر سکے ہیں کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ منی لانڈرنگ کو روکنے کیلئے بارڈر ٹاسک فورس کا جو منصوبہ بنایا تھا اس میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے یہی حال لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کیلئے قائم ہونے والی سنٹرل اتھارٹی کا ہے۔ اس وقت پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا ہے‘ ملک میں ہر طرف امن و امان ہے لیکن ہم ابھی تک دنیا کو یہ باور کروانے میں عملاً کامیاب نہیں ہو سکے کہ پاکستان میں مکمل امن و سکون ہے۔ ہم نے افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ میں امریکہ کا کھل کر ساتھ دیا اور 75ہزار قیمتی جانوں کے ساتھ ساتھ بھاری مالی قربانیاں بھی دیں ایک محتاط اندازے کے مطابق اس جنگ میں ہمارا 17ہزار ارب روپے سے زائد کا نقصان بھی ہوا ہم تو اپنا یہ کیس امریکہ اور دیگر ممالک کے سامنے واضح طور پر پیش بھی نہیں کر سکے ہیں اور ”ڈو موڑ ڈو مور“ کی شکنجے میں پھنسے رہے ہیں۔ ہماری معیشت کی تمام تر تباہی افغانستان میں امریکی جنگ لڑنے کی وجہ سے ہوئی ہے اس لئے اب ہمیں اپنی معیشت کو نہایت عقلمندی دانشمندی اور ذہانت کے ساتھ نہ صرف بحال کرنا ہے بلکہ ترقی بھی دینا ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے حکومت اپوزیشن‘ ماہرین اقتصادیات اور مالیاتی امور کے تجربہ کار افراد کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہو گا۔ہمیں چھوٹی مدت‘ درمیانی مدت اور طویل المدت اقتصادی پالیسیاں مرتب کرنا ہونگی۔
کس قدر دکھ کی بات ہے کہ قرضوں سے دبے ہوئے اس ملک میں ہفتہ وار دو چھٹیاں کی جاتی ہیں اور جمعہ کے دن بھی برائے نام کام ہوتا ہے کیا یہ دو دن کی عیاشی ہماری معیشت پر بوجھ نہیں؟ کیا صدر‘ وزیراعظم‘ وفاقی و صوبائی وزرائ‘ وزرائے اعلیٰ گورنر اور اعلیٰ بیورو کریسی کے ان گنت دورے‘ جلسے اور اجلاس قومی خزانے پر بوجھ نہیں؟ایک بات سمجھنے کی ہے کہ سرکاری محکموں اور اداروں میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے ہزاروں تبادلے ہمارے قومی خزانے پر ناقابل برداشت بوجھ ہیں اس سے ٹرانسفر گرانٹ‘ سفری اخراجات اور الاﺅنسز کی مد میں کروڑوں روپے کی رقم خرچ ہونے کے ساتھ ساتھ ملازمین کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے ہمیں تبادلوں کے جکھڑ چلانے کی بجائے ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دینا ہو گی۔ دوسری اہم بات گریڈ ایک سے پندرہ تک کے (نان گزیٹڈ) سرکاری ملازموں کو اُن کے اپنے اضلاع یا گھروں کے قریب تعینات کرکے بھی ان کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ سادگی اور بچت کے فروغ کیلئے تمام سرکاری تقریبات کی ہوٹلوں میں انعقاد پر فوری طور پر پابندی لگائی جائے۔ سرکاری محکموں میں غیرضروری خریداری پر پابندی کے ساتھ ساتھ پٹرول‘ بجلی‘ گیس اور پانی کے اخراجات میں کمی کو یقینی بنایا جائے‘ ملک سے کرپشن‘ کمیشن مافیا‘ لاقانونیت‘ ناانصافی‘ دھونس دھاندلی‘ قبضہ مافیا‘ سمگلنگ‘ ذخیرہ اندوزی‘ بےروزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کے لئے عملی طور پر اقدامات کئے جائیں‘ دہشت گردی‘ فرقہ واریت‘ صوبائی اور علاقائی تعصب اور شرپسندی کے خاتمے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے‘ حکومت کے منصوبوں کی کامیابی اور معیشت کو مضبوط کرنے کیلئے مندرجہ بالا اقدامات کرنے بے حد ضروری ہیں۔
ان تمام تر مالیاتی اور معاشی کمزوریوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کی حکومت معیشت کی بہتری کیلئے کچھ کرنے کا عزم رکھتی ہے‘ ہمارے دوست ممالک نے اس مشکل کی گھڑی میں ہماری معیشت کو سنبھالا دینے اور اسے مضبوط کرنے کیلئے جو عملی اقدامات کئے ہیں اس کا تمام تر کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے امید کی جا سکتی ہے کہ سی پیک سمیت دوسرے منصوبوں میں ہونے والی غیرملکی سرمایہ کاری کی وجہ سے ملک میں صنعتی ترقی ہو گی اور ہماری مجموعی قومی پیداوار میں بھی یقیناً اضافہ ہو گا‘ اس سے ہماری برآمدات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو گا‘ تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں زور پکڑیں گی جس سے ملک میں یقیناً روزگار کے کے نئے نئے مواقع پیدا ہونگے اور اس سے ملک کی معیشت مجموعی طور پر مضبوط ہو گی۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved