تازہ تر ین

پولیس اصلاحات ایک مذاق

احمد خان چدھڑ….خاص مضمون
کالم لکھنے کیلئے دو مرتبہ قلم اٹھایا پھر رکھ دیا کہ کالم لکھنے کا کوئی فائدہ تو ہے ہی نہیں، نہ کوئی توجہ سے پڑھتا ہے اور نہ کوئی اثر ہوتا ہے، میری حیثیت تو ایک ادنیٰ اناڑی نوآموزکی ہے ، بڑے بڑے مشہور تجربہ کار اور نامور کالم نویس ملکی مسائل خواہ سیاسی ہوں‘ معاشی یا سماجی ہوں پر بڑے خوبصورت اور دانشمندانہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے ان پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے حل کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکمران ان پر غور و غوض اور توجہ دیں تو ان سے کافی حد تک استفادہ کیا جاسکتا ہے اور ان مسائل کے حل میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے لیکن میرا غالب گمان ہے کہ اول تو حکمران طبقہ ان کالموں کو پڑھ کر کوئی توجہ نہیں دیتا اگر کوئی پڑھ بھی لے تو عمل کرنا تو دور کی بات ہے بلکہ بہت جلد ردی کی ٹوکری کی زینت بنتا ہے۔
اسی طرح ٹی وی کے مختلف چینلز پر ٹاک شوز میں سیاستدانوں کا ٹاکرا کرایا جاتا ہے، گھنٹوں مغز خوری اور وقت کے ضیاع کے سوا نتیجہ صفر ہوتا ہے، پارلیمانی اجلاس جہاں منتخب نمائندوں نے ملک کیلئے بہتر منصوبہ بندی اور قانون سازی کرنا ہوتی ہے وہاں صرف نشستن دشنام درازی کردن و برخاستن کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا، ایک دوسرے پر طعنہ زنی اور فقرہ بازی کا مقابلہ ہوتا ہے، ملکی خزانہ پر خوامخواہ کا بوجھ پڑتا ہے جو عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ہوتا ہے۔
آج کل محکمہ پولیس میں اصلاحات کی بڑے زورشور سے بازگشت سنائی جا رہی ہے۔ پہلے بھی کئی مرتبہ ماڈل پولیس سٹیشنز بنانے کا تجربہ ہوتا رہا ہے لیکن یہ تجربہ کامیاب نہیں رہا۔ پولیس کو کئی حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے، مثلاً مجاہد فورس، شاہین فورس، ڈولفن فورس، پولیس ایمرجنسی رسپانس یونٹ (پیرو) ،ایلیٹ فورس،پٹرولنگ پولیس اور کاو¿نٹر ٹیرازم ڈیپارٹمنٹ، اس طرح سے پولیس کا اصل بنیادی یونٹ یعنی تھانہ کو یکسر نظرانداز کردیاگیا ہے اور پولیس رولز اور پولیس ایکٹ میں جو رولز اور اصول وضع کئے گئے ہیں ان پر توجہ اور عمل درآمد کرانے کی بجائے اس فارمولہ پر عمل کیا جارہا ہے کہ ”ہرکہ آمد عمارت نو ساخت“ یعنی آگے دوڑ پیچھے چوڑ۔
انگریز نے جو قانون اور ضابطے بنائے ہیں وہ بڑے سوچ سمجھ کر بنائے ہیں، برصغیر کے لوگوں کے تہذیب و تمدن ، سماجی ، معاشرتی ، نفسیاتی اور رواجی معاملات کو مدنظر رکھ کر ان کے مزاج کو سمجھتے ہوئے جو قانونی ضابطے رولز اور اصول وضع کئے ان پر کماحقہ عمل درآمد کراکر مو¿ثر اور کامیاب حکمرانی کی۔انگریزکے بنائے ہوئے قوانین میں جو مجھے کمزوری معلوم ہوئی ہے اس میں جھوٹ، دھوکہ فراڈ، خیانت اور دوسروں کی جائیداد پر زبردستی قبضہ کی سزا بہت معمولی ہے، اس میں اصلاح اور نظرثانی کی ضرورت ہے ، جھوٹی ایف آئی آر اور جھوٹی شہادت کے ذریعہ مخالف فریق کو ملوث کرکے سالوں پریشان کیا جاتا ہے، باقی ان کے بنائے ہوئے قوانین وقت کی ضرورت کے مطابق ہیں، ان پر سختی کیساتھ عمل درآمد کی ضرورت ہے، پولیس کی تمام شاخیں ختم کرکے ابتدائی یونٹ تھانہ کو مضبوط اور فعال بنایا جائے، صرف کاو¿نٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) رکھا جائے بلکہ اسے مزید مضبوط کیا جائے، کیونکہ وقت اور حالات کے مطابق اس کی اہم ضرورت ہے ، تمام پولیس کی وردی ایک ہی قسم کی ہونی چاہئے، پرانی وردی بہتر تھی جو شخص وردی پہنتا ہے اس کی شخصیت، رویہ اور کردار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، کپڑے تبدیل کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پولیس فورس کے اندر کوئی تبدیلی ہونی ہو یا پالیسی بنانی ہو تو کمانڈر کو چاہئے کہ اپنی فورس کے سینئر افسران کی رائے سے خود فیصلہ کریں۔ پولیس میں بھرتی کے طریق کار میں نظرثانی ہونی چاہئے۔ فورس کا سارا ڈھانچہ آرمی کی طرز پر ہو، بھرتی ، ٹریننگ ، پوسٹنگ ، ٹرانسفر اور پروموشن اسی طرح میرٹ پر ہو۔ پولیس میں دو رینک میں بھرتی ہونی چاہئے۔ کانسٹیبل اور اے ایس آئی یا ایس آئی ان میں جو قابل اور موزوں معلوم ہوں ان کو RAPID پروموشن دیکر اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جائے۔
اگر اے ایس پی کی بھرتی کرنی ہو تو ان کو ٹریننگ کے بعد کم از کم پانچ سال بطور S.H.O INDEPENDENT تعینات کیا جائے اور تین سال بطور S.D.P.O سروس کریں۔ اس طرح وہ پولیس ورکنگ کو اچھی طرح سمجھ سکیں گے اور تجربہ کی بنا پر اپنے ماتحت عملہ سے احسن طریقہ سے کام لے سکیں گے۔ بصورت دیگر وہ اپنے ماتحت عملہ کو کنٹرول کرنے اور ان کی رہنمائی کرنے میں ناکام رہیں گے۔ پولیس کی بھرتی صرف تحریری امتحان میں زیادہ نمبر لینے والے کو ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ اس کی قوت مشاہدہ، جنرل نالج، ویژن، کامن سنس اور فیملی بیک گراو¿نڈ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اگر وہ ان امور میں نااہل ہوگا تو اچھا پولیس افسر بننے کی بجائے وہ محکمہ پولیس پر بوجھ ثابت ہوگا۔ محکمہ پولیس کے قانون اور رولز میں ردو بدل کی ضرورت نہیں، صرف عمل درآمد کی ضرورت ہے، صرف جھوٹے مدعی، جھوٹے گواہ اور دھوکہ دہی وغیرہ میں سزائیں سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ ہاں البتہ پنچایت سسٹم کے طریقہ پر مصالحتی کمیٹیاں ہر گاو¿ں لیول پر بنائی جائیں۔ اس سے پولیس اور عدالتوں کے کام کا کافی حد تک بوجھ ہلکا ہوگا۔ s.p ضلع لیول تک اور رینج لیول تک ڈی آئی جی ان کمیٹیوں کو فعال بنانے اور مانیٹر کرنے میں اہم رول ادا کرینگے۔ کئی سیٹوں پر سینئر افسران ضرورت سے زیادہ ہیں، مثلاً ٹریننگ کے شعبہ میں اے آئی جی ٹریننگ‘ ڈی آئی جی ٹریننگ اور ایڈیشنل آئی جی کی آسامیاں ہیں۔ ٹریننگ سنٹروں میں علیحدہ کمانڈنٹ یا پرنسپل تعینات ہیں۔ اس شعبہ سے ڈی آئی جی ٹریننگ کی خدمات کسی اور جگہ پر لی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح ہیڈکوارٹر فنانس اور ویلفیئر کے شعبوں سے ایک ایک افسر بچا کر محکمہ کی دیگر خدمات پر لگایا جاسکتا ہے۔ مثلاً مصالحتی کمیٹیوں کی سپروائزری، دیرینہ دشمنیاں، قتل و غارت وغیرہ میں پارٹیوں کے مابین صلح کرانا، منشیات کی روک تھام اور معاشرے میں پھیلتی فحاشی اور بے حیائی ، ٹی وی چینلز پر ڈراموں اور دیگر پروگراموں میں پولیس کی وردی پہن کر گھٹیا کردار ادا کرنا جس سے عوام میں پولیس کا امیج خراب ہورہا ہے۔ پولیس کا امیج بہتر کرنے کیلئے سیمینار وغیرہ منعقد کرانا وغیرہ وغیرہ۔
پولیس اصلاحات میں اس بات پر بار بار زور دوںگا کہ تھانہ جو کہ محکمہ پولیس کا ابتدائی یونٹ ہے سینئر افسران اس طرف ساری توجہ دیں، اگر تھانہ کلچر ٹھیک ہوگیا تو سارا محکمہ پولیس ٹھیک ہوجائیگا، کیونکہ تھانہ ایک محور ہے، جس کے گرد تمام محکمہ پولیس گھومتا ہے۔
تھانے جو کرائے کی بوسیدہ عمارتوں میں یا دکانوں میں بنے ہوئے ہیں ان کیلئے نئی عمارتیں تعمیر کرائی جائیں اور تھانہ کے عملہ کو بہتر سے بہتر ماحول مہیا کیا جائے۔ کمانڈر افسر، تجربہ کار اور اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہوں، ان کو اپنے زیر کمان عملہ سے کام لینے کا سلیقہ آتا ہو، یہ بات تجربہ سے ثابت ہے کہ پولیس کے عملہ کو زیادہ سزائیں دینے سے کارکردگی بہتر ہونے کی بجائے الٹا خراب ہوتی ہے۔آپس میں اعتماد کی فضا ساز گار ہوگی تو کارکردگی بہتر ہوگی۔
اچھا کمانڈر اپنے کردار ، اخلاق اور اعلیٰ صلاحیتوں کی بنا پر اپنے زیرکمان عملہ کے دلوں پر راج کرتا ہے اور ماتحت نیک نیتی محنت اور WILL ہر پولیس افسر کی بنیادی ضرورت ہونی چاہئے۔
جہاں تک پولیس میں سیاسی مداخلت کا تعلق ہے اس کا حل بالکل آسان ہے، ہر افسر یہ پختہ عہد کرلے کہ وہ کسی سیاستدان یا دیگر بااثر شخص کے کہنے پر میرٹ سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کریگا، تبادلہ ہوتا ہے تو ہوجائے، اپنے تبادلے کیلئے کوئی سیاسی سہارا نہیں لے گا۔ تبادلے کی صورت میں تنخواہ تو ملتی رہتی ہے ، کتنی دفعہ کس کس کا تبادلہ کرینگے۔ بالآخر جیت میرٹ اور حق کی ہوگی، باقی سب باطل قوتیں دم توڑ جائینگی۔ تاہم کسی کے ساتھ بھی رویہ اور اخلاق درست رکھنا چاہئے۔
انگریز نے نمبردار، چوکیدار، S.H.O تھانہ اور ڈپٹی کمشنر کے ذریعہ حکمرانی کی ہے، نمبردار اور چوکیدار حکمرانوں کے آنکھ اور کان کا کام دیتے، ہر چھوٹی بڑی بات سے متعلقہ حکمرانوں کا آگاہ اور باخبر رکھتے۔ نمبرداروں اور چوکیداروں کو گاو¿ں میں کچھ زمینیں دی گئی تھیں، جو نمبردار بنتا زمین اس کے قبضہ میں چلی جاتی تھی، 1930ءکے بعد نمبرداروں کو اس زمین کے حقوق ملکیت دیدیئے گئے۔ اس طرح حکومت کی طرف سے جو INCENTIVE دیا گیا تھا وہ ختم ہوگیا اور نمبرداری میں حکومت کی طرف سے دی گئی زمین کی وجہ سے جو CHARM تھا ختم ہوگیا اور نمبردار اپنے فرائض سے غافل ہوگیا۔ اس طرح سے حکومت کا ایک اہم سورس آف انفارمیشن ختم ہوگیا ۔
پاکستان بننے سے قبل نہروں کے ساتھ ساتھ دونوں جانب دو رویہ درخت ازقسم شیشم و کیکر قطاروں میں بہت خوبصورت نظارہ پیش کرتے تھے اور مسافروں کو سایہ مہیا کرتے تھے۔ قانون پر اتنی سختی سے عمل ہوتا تھاکہ کسی کی جرا¿ت نہیں تھی کہ وہاں سے مسواک کیلئے بھی کوئی لکڑی کاٹ لے۔ 1970ءتک یہ سلسلہ جاری رہا، اس کے بعد جوں جوں عوامی حکومت کا دور آتا گیا اور محکمہ جنگلات وجود میں آیا تو درختوں کا نام و نشان بھی ختم ہوگیا، محکمہ ریلوے ، محکمہ آبپاشی، محکمہ زراعت ، محکمہ جنگلات اور پی آئی اے آہستہ آہستہ زوال پذیر ہوتے گئے۔ اسکی سب سے بڑی وجہ کرپشن، چور اور چوکیدار کی ملی بھگت ہے،کتی کو بھی چورنے نوالہ ڈال دیاتووہ بھی بھونکنے سے خاموش ہوگئی، سیاستدانوں کی آپس کی لڑائی سے حکومتی اہلکاروں نے ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کردیا اور حکومتی مشینری کے پرزے خراب ہوتے گئے جنہوں نے اپنا کام کرنے میں دلچسپی لینا چھوڑ دی۔
ہمیں تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کیا دم تھا
میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی کم تھا
یہ چمن اور گلشن جناب قائداعظمؒ کی انتھک کوششوں اور بے انتہا قربانیوں کے بعد ہمیں ملا تھا جس کی آزادی کے جشن منائے گئے لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم نے اس کی دیکھ بھال اور آبیاری اس طرح نہیں کی جس طرح کرنی چاہئے تھی، دشمن نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا اپنوں نے اس ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔
بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے
تو قارئین کرام ! حالات آپ کے سامنے ہیں، بہت کچھ ہوگیا ، اب تو ہمیں جاگ جانا چاہئے اور ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ وقت اور فطرت ہم سے انتقام لینے پر تل جائے، اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
لہٰذا من حیث القوم ہر ادارہ سیاستدان، بیوروکریٹ، عدلیہ اور قانون دان ، فوج اور پولیس خلوص نیت محنت اور ایمانداری کے ساتھ اپنے وطن عزیز کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کیلئے دن رات محنت کریں اور ثابت کریں کہ اپنے پیارے ملک کے سچے خیر خواہ اور وفادارہیں، عوام کو بھی اپنی اصلاح کرنا ہوگی، جھوٹ ، دھوکہ ، فراڈ، خیانت، ملاوٹ ، چوری ڈاکہ ، دنگافساد اور قتل و غارت کو سرے سے ترک کرناہوگا، بصورت دیگر حکومت کو آہنی ہاتھ سے نپٹنا ہوگا، اللہ پاکستان کو سلامت رکھے۔
(کالم نگارسابق ایس ایس پی اور ماہر تفتیش کار آفیسر ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved