تازہ تر ین

عظیم دوست کی آمد

رانا زاہد اقبال …. نقطہ نظر
سعودی عرب کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہوا ہے۔ اسلام کا پےغام اسی سرزمےن سے سے پوری دنےا مےں پھےلا اور آج سعودی عرب کو ےہ شرف حاصل ہے کہ اس نے نفاذِ شرےعت کو اپنا اولےن مقصد قرار دے رکھا ہے۔ ےہ دنےا کا واحد ملک جس کا دستور قرآن و حدےث پر مبنی ہے اور اسٹےٹ کا نظم و نسق شرےعت کے تابع ہے۔ اسلامی قوانےن پر سختی سے عملدرآمد کی وجہ سے جرائم کی شرح دنےا مےں سب سے کم ہے۔ انسانی خدمت کے لئے رابطہ اسلامی تنظےم قائم کر رکھی ہے جو مسلمانوں کی عالمی تنظےم کا درجہ رکھتی ہے۔ جس کا مقصد مسلمانوں مےں ےک جہتی پےدا کرنا ہے، اسلام کی دعوت و تبلےغ اور اسلامی تعلےمات کو فروغ دےنا، اسلام کے بارے مےں شکوک و شبہات کو دور کرنا اور گمراہ کن عقائد و نظرےات کی نفی کرنا ہے۔ آلِ سعود نے ہمےشہ اپنی اسلام دوستی، اسلامی تعلےمات پر پوری طرح عملدرآمد، ملک مےں نفاذِ قرآن و سنت اور اےک مستحکم اسلامی معاشرے کے قےام کے لئے تارےخی خدمات انجام دی ہےں۔ سعود بن محمد سے لے کر شاہ سلمان بن عبدالعزےز تک اس عظےم خاندان نے سعودی عرب کو اےک مکمل فلاحی اسلامی مملکت بنانے مےں نہ صرف عظےم قربانےاں دی ہےں بلکہ اےک طوےل جد وجہد کے ذرےعے اسلامی معاشرہ قائم کر دےا ہے۔ اسلامی معاشرے مےں اےک دوسرے کا احترام، جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کی شاندار مثال سعودی عرب مےں دےکھی جا سکتی ہے۔
26اپرےل 2016ءکو خادم الحرمےن شرےفےن سلمان بن عبدالعزےز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے2030ءکے وےژن کا جو اعلان کےا تھا اس پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ سعودی مملکت اپنی معےشت کو متنوع بنانے کے لئے حتی الامکان کوششےں کر رہی ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سعودی معےشت کو ٹھوس بنےادوں پر استوار کر رہے ہےں ورنہ اس سے قبل سعودی عرب کا انحصار صرف تےل کی برآمد پر تھا۔ سعودی عرب تےل بےچ کر اپنے سارے معاملات چلاتا تھا، جب اےران پر سے پابندےاں ہٹےں تو اےرانی تےل مارکےٹ مےں آنے سے مقابلے کی فضا قائم ہو گئی جس سے مارکےٹ مےں تےل کی قےمت کم ہو گئی، دوسرا امرےکہ نے اپنی تےل کی درآمد کم کر دی اس وجہ سے دوسرے ممالک تےل کی قےمت کم کرنے لگ گئے، سعودی عرب کے تےل کی قےمت بھی گر گئی۔ ان حالات مےں سعودی معےشت کو جدےد خطوط پر آگے بڑھانے کے لئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی نظرےں مستقبل پر لگی ہوئی ہےں تاکہ مستقبل مےں تےل کی قےمتوں مےں بحران کی صورت مےں معےشت کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا نےا شمسی توانائی کا منصوبہ 2030ءاپنی نوعےت کا دنےا کا سب سے بڑا پراجےکٹ ہے۔ 2019ءتک ملک کے پہلے دو شمسی توانائی پروجےکٹ کام کرنے لگےں گے اور 2030ءتک مزےد شمسی توانائی پےدا ہونے لگے گی۔ اس منصوبے کے تحت اےک لاکھ لوگوں کو بلاواسطہ اور بالواسطہ روزگار ملے گا اور سعودی عرب کی مجموعی قومی پےداوار 12بلےن ڈالر بڑھ جائے گی اور 40بلےن ڈالر سالانہ بچت ہو گی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اپنی تےل کی صنعت کو بھی مستقل طور پر مضبوط بنا رہا ہے اور سرکاری اداروں کی تعمیر نو کا اےک پروگرام بھی شروع کر رکھا ہے۔ تجارت اور سرماےہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے اہم اقدامات کئے گئے ہےں۔ چھوٹی اور متوسط صنعتوں کو فروغ دےا جا رہا ہے۔ ملک مےں سماجی ترقی پر بھی تےزی سے کام ہو رہا ہے، تمام شعبوں مےں خواتےن کی مکمل شمولےت کو فروغ دےنے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے ہےں ےہاں تک کی سعودی عرب کی تارےخ مےں پہلی دفعہ خواتےن کو گاڑی چلانے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ دنےا کے 57ملکوں کی ےونےورسٹےوں مےں سعودی خواتےن زےرِ تعلےم ہےں۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کے دورے پر تشرےف لا رہے ہےں۔ پوری قوم بڑے جوش و خروش سے مہمان کی آمد کی منتظر ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دوستی سے زےادہ عقےدت اور احترام کا اےک ابدی رشتہ ہے۔ سےاسی رشتہ اس کے بعد آتا ہے۔ سعودی عرب وہ ملک ہے جس نے ہر موقع پر اپنی بساط سے بڑھ کر پاکستان کی مدد کی۔پاکستان اور سعودی عرب مےں بہت مضبوط برادرانہ تعلقات دہائےوں سے قائم ہےں ۔ ہر مشکل وقت مےں سعودی عرب کا ساتھ کھڑا ہونا پاکستانی عوام کبھی بھلا نہےں سکتی اسی طرح پاکستان نے بھی ہر کڑے وقت مےں سعودی عرب کی مدد کی ہے۔ سعودی عرب کے پاکستان کے ساتھ تعلقات ہمےشہ سے بہت مضبوط و مستحکم رہے ہےں جب کہ ان رشتوں مےں کوئی کمزوری نہےں آئی بلکہ دن بدن ان مےں اضافہ ہی ہوا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابےن ہمےشہ سے انتہائی قرےبی تعلقات قائم چلے آ رہے ہےں۔ پاکستان کی مشکل کی ہر گھڑی مےں سعودی عرب کی حکومت اور وہاں کے عوام ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہےں۔ ہماری ہر مصےبت کو وہ اپنی مصےبت سمجھتے ہےں۔ زلزلہ ہو، سےلاب کی تباہ کاری ہو ےا کوئی اور قدرتی آفت ہو سعودی حکومت سب سے پہلے دستِ تعاون دراز کرتی ہے۔ پاکستان کے دفاعی مسائل ہوں، معےشت کی زبوں حالی ہو ان مشکلات پر قابو پانے کے لئے بھی سعودی عرب نے پاکستان کے لئے ہمےشہ خزانوں کے منہ کھول دئے۔ جب بھی تےل کی قلت کا مسئلہ درپےش ہوا تو سعودی عرب نے بلاقےمت تےل فراہم کر کے پاکستان کو سہارا دےنے کی کوشش کی۔ پاکستان مےں کوئی بھی اندرونی سےاسی تنازعہ ہو تو اس کے حل کے لئے بھی سعودی عرب نے ثالثی کا کردار ادا کےا۔ پاکستان اور سعودی عرب مےں بہت مضبوط برادرانہ تعلقات دہائےوں سے قائم ہےں ۔ ہر مشکل وقت مےں سعودی عرب کا ساتھ کھڑا ہونا پاکستانی عوام کبھی بھلا نہےں سکتی اسی طرح پاکستان نے بھی ہر کڑے وقت مےں سعودی عرب کی مدد کی ہے۔
حالےہ دنوں مےں اےک بار پھر ولی عہد کی آمد کی بنےادی وجہ پاکستان کو مشکل معاشی حالات سے نجات دلانی ہے۔کہا ےہی جا رہا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد پاکستان مےں بھاری سرماےہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کرےں گے جس کی مالےت تقرےباً 15سے 20 ارب ڈالر ہو گی۔ سعودی عرب چائنہ کے ساتھ سی پےک منصوبے مےں بھی اربوں ڈالر کی سرماےہ کرنے کا خواہشمند ہے ۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی آمدکے بہت دور رس نتائج ہوں گے۔ دونوں ملکوں کے درمےان تعلقات مےں مزےد اضافہ ہو گا۔
(کالم نگارسماجی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved