تازہ تر ین

نئے صوبوں کا قیام، سنجیدہ ایشو

خضر کلاسرا….ادھوری ملاقات
قومی احتساب بیورو کا گھوڑا یوں سرپٹ دوڑ رہاہے کہ نواز لیگی قیادت کو جیل میں بھجوانے اور پیپلزپارٹی کو کھڑا کرنے کے بعد حکومت بالخصوص اس کے اتحادیوں کے پیچھے لگ پڑا ہے۔ نیب نے تحریک انصاف کی حکومت پرکاری ضرب یوں لگائی ہے کہ پہلی فرصت میں پنجاب کے سنیئر صوبائی وزیر علیم خان کو اٹھالیاہے،ادھر پیپلزپارٹی وزیردفاع پرویز خٹک کیخلاف بھی نیب کو کارروائی پر زور دے رہی ہے۔ادھر حکومت کی اتحادی مسلم لیگ( ق) جوکہ وفاقی وزیر ہاﺅسنگ اینڈورکس طارق بشیر چیمہ کی معرفت ٹی وی چینلوں پر آئے روز تسلی بھی کرواتی ہے کہ وہ تحریک انصاف حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور عثمان بزدار کی پنجاب حکومت کو گرنے نہیں دینگے لیکن ساتھ ہی نئی وزرات کا مطالبہ آجاتاہے ۔اتحادی کی حیثیت میں ق لیگ حکومت میں بہت کچھ لے بھی چکی ہے لیکن اس کے باوجود اسکی طرف سے ڈومور پالیسی جاری ہے۔سمجھداروں کاخیال ہے کہ مسلم لیگ ق حکومت کے بحران کے دنوں میں مکمل ساتھ دینے کی بجائے وزراتوں اور اپنے من پسند بندے لگوانے میں مصروف ہے ۔ابھی تک تحریک انصاف حکومت کو جو چند ماہ ہوئے ہیں، اس دوران یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو جتنی جوابدہی ق لیگی قیادت کو دینی پڑی ہے، شاید ہی کسی اتحادی اور ایشو پر اتنی وضاحتیں تحریک انصاف کی طرف سے دی گئی ہوں۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، گورنر پنجاب چودھری سرورسمیت وزیراعظم عمران خان تک چودھریوں کوتسلی کروانے کیلئے ملاقاتیں اور اپنے نمائندے چودھریوں کے دربار میں بھجواچکے ہیں لیکن انکی تسلی ہے کہ ہوہی نہیں رہی ہے۔
سمجھداروں کا ٰخیال ہے کہ پنجاب کی وزرات اعلیٰ کے علاوہ جتنا کچھ بھی چودھریوں کی خدمت پیش کیاجائیگا ،وہ انکی تسلی کیلئے کافی نہیں ہوگا۔ سمجھداروں کا خیال ہے کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو جو چونا لگایاجارہاہے، ان میں تحریک انصاف کے اپنے گورنر چودھری سرور کے علاوہ چودھریوں کی کارروائی بھی شامل ہے۔ پنجاب میں ایک طرف چیف سیکرٹری چودھریوں کا ہے تو دوسری طرف انسپکٹرجنرل پولیس گورنر چودھری سرور کاہے۔چودھریوںکا معاملہ یہاں پر بھی ختم نہیں ہوتا ہے اور اس کے علاوہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کردار دیگر حکومتی معاملات پر صرف انگوٹھا لگانے تک محدود نظرآتا ہے ۔بزدار کو ابھی تک اپنی ٹیم کے چناﺅ کے معاملے میں بھی کوئی کردارنہیں دیاگیاہے۔اس کے پیچھے بھی سب گول کی کہانی ہے۔جیسے ابتدا میں بات ہورہی تھی، نیب نے اب حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کی طرف بھی محبت کا ہاتھ بڑھا دیاہے۔مطلب ق لیگی لیڈر چودھری شجاعت اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چودھری پرویز الہٰی کیخلاف تین مقدمات میں دوبارہ تحقیقات کیلئے قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ نے منظوری دیدی ہے۔یوں لگتاہے کہ اب چودھریوں کی مہمان نوازی کیلئے نیب نے تیاری پکڑ لی ہے لیکن ق لیگی قیادت کی حکمت عملی کے بارے میں ان کے وفاقی وزیرہاﺅسنگ اینڈ ورکس طارق بشیر چیمہ بتاسکتے ہیں کہ وہ نیب کی طرف سے اپنی قیادت کیخلاف تحقیقات پر نیب کے اس انداز کو 73 19ءکے آئین کے تناظر میں کیسا دیکھتے ہیں ؟ یا پھر مٹی پاﺅپالیسی چلے گی؟ ۔اور شہبازشریف کی طرح پتلی گلی سے نکل جائینگے ؟ ق لیگی وزیر چیمہ کی وضاحت سے پتہ چلے گا کہ ان کو بھی نیب کی کارروائی سے انتقام کی بو آ رہی ہے ؟ یا پھر وہ علیم خان کی طرح قانون کا احترام کرتے ہوئے نیب کا سامنا کرینگے ۔
نیب کے پاس چودھریوں کی مہمان نوازی شروع ہوتے ہی اپوزیشن خاص طور پر نواز لیگی یہ آواز بھی اٹھائینگے کہ چودھری پرویز الٰہی نیب کی حراست میں علیم خان کی طرح اسپیکر شپ کے عہدہ سے استعفیٰ دیں اور عہدہ کو احتساب کے راستہ میں رکاوٹ نہ بنائیں۔ یہاں چودھری پرویز الٰہی نے بھی فیصلہ کرناہے کہ وہ شہبازشریف کی طرح عہدہ کیساتھ چمٹ کر رہیں گے اور اس بات پر زور دینگے کہ ان پر لگائے الزامات بے بنیاد ہیں وغیرہ وغیرہ یا پھر اپوزیشن کی ڈیمانڈ کا احترام کرتے ہوئے استعفیٰ دینگے۔
اس وقت یہ دلچسپ صورتحال یوں بھی ہے کہ جس پارٹی کی قیادت کیخلاف نیب متحرک ہوتاہے، وہ پنجاب کی تقسیم خاص طور جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام اور بہاولپور صوبہ بحالی کانعرہ لیکر نکل پڑتی ہے۔مثال کے طور جب تک چودھری پرویزالٰہی وزیراعلیٰ پنجاب تھے، ان کو اس بات سے غرض نہیں تھی کہ جنوبی پنجاب صوبہ کی ضرورت ہے یا نہیں ہے۔ان کے نزدیک پنجاب میں سب اچھا چل رہاتھا لیکن جونہی اپوزیشن کا دور شروع ہوا، ان کو ملتان میں جنوبی پنجاب صوبہ کیلئے ریلی نکالنے کا خیال آگیاتھا۔ادھر نوازلیگی قیادت بھی پنجاب میں اسوقت ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی چلاتی رہی جب تک وہ اقتدار میں تھی لیکن جونہی اپوزیشن کادور شروع ہوا اور نیب نے احتساب کی طرف قدم بڑھایاتو عوام کا خیال آگیا۔اور صوبوں پر سیاست شروع کردی۔ ان کی سیاسی قلابازیوں سے یوں لگتاہے کہ ان کے علاوہ تو کوئی پنجاب کی تقسیم میں مخلص ہی نہیں ہے لیکن سارے بھاگ دوڑ کا مقصد احتساب سے جان چھڑانا ہے ۔اسی طرح پیپلزپارٹی نے صوبوں کے معاملات پر وہی سیاست کی ہے جوکہ دیگر جماعتیں کررہی تھیں کہ حکومت انجوائے کرو،پنجاب کی تقسیم کی سیاست اپوزیشن کے دنوں میں کرینگے۔کچھ عرصہ سے چودھریوں کے بارے میں یہ خبریں آنی شروع ہوئیں کہ نیب ان کیخلاف کارروائی کرسکتی ہے تو ق لیگی وزیرہاﺅسنگ اینڈ ورکس طارق بشیر چیمہ بہاولپور صوبہ سیاست کی طرف بڑھ گئے ہیں۔ہمارے خیال میں پنجاب میں نئے صوبوں کا ایشو گپ شپ نہیں ہے، کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے، ان کے حقوق مارے جارہے ہیں۔اب ایسا تو نہیں چلے گا کہ کل کو وزیرہاﺅسنگ اینڈ ورکس طارق بشیر کے کسی سیکنڈل پر نیب کا بلاوا آجاتاہے تو وہ سر پر آسمان اٹھالیںکہ انہوں نے بہاولپور صوبہ بحالی کا مطالبہ کیاتھا، یوں ان کو نیب کا بلوا آرہاہے ۔ ہمارے خیال میں پنجاب میں نئے صوبوںکے معاملے کو سنجیدہ لیاجائے اور خطے کی عوام کی محرومیوں کے ازالہ کیلئے نئے صوبوں پر بات کی جائے۔
(کالم نگاراسلام آباد کے صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved