تازہ تر ین

حساب تو دےنا ہوگا

ثوبیہ خان نیازی….نقطہ نظر
زمےن پر خدا کا نائب ‘ہرسانس لےنے والی مخلوق سے افضل و برتر‘ کہےں حاکم ، کہےں محکوم، کہےں ظالم کہےں مظلوم‘ کہےں خسارے مےں اور کہےں اپنی اصل کو پاکر سود وزیاں کی حدوں سے ماوراعلم و آگہی کے سمندر میںغوطہ زن گوہرمقصود کا متلاشی،تمام زمینی اور آسمانی حقائق کھلم کھلا ثبوت دےتے ہےںکہ انسان کو علم و آگہی کی بناءپر ہی ارض و سما مےں پھےلی ہر مخلوق سے بلند مقام دےا گےا ۔کائنات کی ہر نعمت اس کے تصرف میں دے دی گئی تاکہ یہ اپنے علم و ہنر کی بدولت ایک مخصوص وقت کے لیے اس سے فائدہ اٹھاسکے اور دوسروںکو فائدہ پہنچاسکے ۔انسان جب ایک بھولے بھالے بچے کی صورت اس دنیا میں آتا ہے تو فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے اس کی معصوم نگاہیں صرف اپنی ماں کے چہرے سے آشنا ہوتی ہیں پھر وقت کے ساتھ ساتھ محبت کی مالا میںکئی اور پیارے رشتے پروئے چلے جاتے ہیں وہ اپنے نفع نقصان کو پہچاننے لگتا ہے‘ اپنی اچھی عادات و صفات کو دوسروںپہ عیاں کرنا اسے اچھا لگتا ہے ۔ماں باپ گھرماحول اور مثبت رویے اسے محبت ،ہمدردی ،خدمت خلق اور نیک دلی جیسی صفات والا بنادیتی ہیںاور منفی رویے بعض کو شر کے راستے کا مسافر بنادیتے ہیں۔اور وہ حسد ،کینہ بغض،تعصب اور لوٹ کھسوٹ کی دلدل میں دھنستے چلے جا تے ہیں۔لالچی نفس کے اسیر بن کر چند روز ہ فائدے کے پجاری سوداگروں کے ساتھ مل کر اس دنیا کو ہی ابدی اور ہمیشہ رہنے والی سمجھنے لگتے ہیں۔ مچھر کے پر سے بھی کم حیثیت رکھنے والی اس دنیا میںنہ جا نے کتنے ہی بوجھ سر پہ اٹھا لیتے ہیںاللہ کی بات سچ ثابت ہوتی ہے کہ زمانے کی قسم انسان خسارے میں ہے زندگی لمحوں پہروں اورساعتوں کی صورت ہم سے چھن رہی ہے صرف اس دنیا کا فائدہ سوچنا گھاٹے کا سودا ہے دنیاوی معاملات میں ہم اس قدر محو ہو گئے ہیں کہ ہمیں معاملات محبت سے غرض ہی نہیں رہی ۔ ہم ہر جذبے کو مفاد کے ترازو میں تولنے لگے ہیںاپنوں سے ملنے کا ہمارے پاس وقت ہی نہیں‘ہم اپنی اصل خوشی سے محروم ہو گئے ہیںکسی خاموش لمحے میں دیوار سے ٹیک لگا کر اپنا آپ کھوجنا بھول گئے ہیںاپنا آپ جان جاتے تو محبوب کی طرف جانے والے راستے ہمارا مقدر بنتے غم دنیا نے ہم سے غم دل چھین لیا ہے باہر کی دنیا میں زندہ ر ہنے کے لےے محنت ضروری ہے مگر اندر کی دنیا ہمیشہ محبت سے زندہ رہتی ہے محبت کا چشمہ دل میں پھوٹے گا تو دل کا بنجر صحرا جل تھل ہوگا محبت کا فیض جس انسان کے اندر گھل گیا وہی انسان وجہ امن و سلا متی ہوگا وہی دوسروں کا حق چھیننے سے ڈرے گااسے ہر چہرہ اپنا لگے گا دوسروں کے وجود کی تکلیف اسے اپنی تکلیف محسوس ہوگی دوسروں کی بھوک پیاس اسے نڈھال کر دے گی۔ اللہ کی ذات فرماتی ہے ©©©©©؛انسان کاحساب قریب ہے اور وہ غفلت میں پڑا ہوا ہے (ترجمہ)۔ پیارے محبوب اور محترم حضور پر یہ الفاظ آج سے ساڑھے چودہ سو سا ل پہلے نازل ہوئے تھے جس میں انسان کے حساب کو قریب سے جوڑا گیا ہے‘ یہ الفاظ آج بھی اسی حقیقت کے غماز اور عکاس ہیںکہ انسان کا حسا ب قریب ہے مگر افسوس انسان بھول گیا کہ اسے سارے حساب دینے ہونگے۔سوچیں تو یہ الفاظ روح وجاں کو ہلا دیتے ہیںکہ یوم حساب قریب ہے اور ہمارے پاس کوئی اچھی تیاری نہیں ہے ۔اب ہمیں غفلت کی زندگی سے نکلنا ہوگا اپنے وقت کو سنبھالنا ہو گا ایسا کچھ کرنا ہوگاکہ حساب آسان ہو۔ ایک اور ضروری بات کہ دوسروں کی پکڑ اور گرفت سے خوش نہ ہوں ہمیں اپنی ذات کا حسا ب دینا ہے صرف حاکموں ،سیاست دانوں کا ہی محاسبہ نہیں ہوگا جو اس دنیا میںآیا ہے اسے کسی نہ کسی طور حساب دےنا ہوگا۔ حدیث نبوی ؛ تم میں سے ہر کوئی راعی ہے اور اسے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا؛۔
خلافت کا بارِ امانت سر پر لیا ہے تو حساب تو دینا ہوگا‘ اپنی صلاحیتوں کو کن کاموں میں صرف کیا بتانا ہوگا‘اپنے اردگرد پھیلے اندھیروں میں کتنی شمعیں روشن کیں اپنی سرزمین کو کتنا سر بلند کیا؛کسی بھوکے کو کھا نا کھلایا؛ کسی مسکین کو اپنے ساتھ بٹھاےا؛جو اپنے لیے پسند تھا وہ کسی اور کے لیے بھی پسندکےا،کےا؟ ہر روزغیر جانب داری سے اپنا دفاع کےے بغےر خود کا محاسبہ کریں تو کسی دوسرے کو حساب دےنے کی ضرورت نہیں رہے گی‘ سونے سے پہلے ہر شب اللہ سے معافی طلب کریںاپنا جائزہ لیں کہ آج کتنے لوگوں کے دل توڑے‘ کتنوںکے حق چھینے‘ اپنے لہجے اور رویے سے کتنوںکو احساس کمتری کا شکار کیا‘اپنی چرب زبانی سے کتنوں کو ہرایااوراپنی شےرےنِ سخن سے کتنے ہارے ہو¿وں کو اسی ہار میں زندہ رہنے کا حوصلہ دیا‘کتنے انسانوں کے زخموں پہ مرہم لگائی اور کتنے لوگوں کی دلجوئی کی‘ کتنے لوگوں کے کام آئے۔ اور کتنوں کے کام بگاڑ کر خوش ہوئے کچھ بھی کریں لیکن دوسروں کا استحصال نہ کریں‘حق نہ چھینیں‘ دھوکہ نہ دیں‘ عزت نفس مجروح نہ کریں‘ دل نہ توڑیں‘ احساس برتری کو اپنے اندر پروان نہ چڑھنے دیں۔ یہ تمام برائیاں ہمارے لیے یوم حساب کو مشکل کر دیں گی ۔ خدا سے نظر ملانے کا حوصلہ نہےںرہے گا زندگی شرمندگی بن جا ئیگا اور موت کا خوف ہر لمحہ بے چین اور بے قرار رکھے گا۔دعا ہے کہ ےوم حساب سے پہلے پہلے ہم اپنے سارے حساب درست کرلےں تاکہ جب اپنے ازّلی محبوب سے ملےں تو اس سے نظر ملاتے ہوئے کوئی شرمندگی کا بوجھ نہ اٹھانا پڑے کوئی خوف کوئی ڈر ہمار اتعاقب نہ کرے۔
تےری نسبت سے خوش بخت ہوںصاحب
مےں، مےں نہےں مجھ مےں توں صاحب
کےسے لمحوں کی جستجو مےں ہوں!!
پر تجھ سے کےسے کہوں صاحب!!
(کالم نگارشاعرہ وادیبہ‘ادبی امورپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved