تازہ تر ین

مو جودہ حالات اور پاک سعودی تعلقات

ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق دِل کی بات
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سعودی عرب کے تعلقات پاکستان کے ساتھ ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں اور شاہ فیصل مرحوم نے تو پاکستان کو اپنا گھر قرار دیا تھا ہمارے ہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں کے تعلقات اس پاک سرزمین سعودی عرب سے عقیدتوں سے لبریز جذبات کے ساتھ زندہ جاوید ہیں۔ اس وقت موجودہ پاکستانی حکومت کی خوش بختی ہے کہ موجودہ قیادت جس ولولے اور جذبے کے ساتھ پاکستان کی ہچکولے کھاتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لیے اپنے دوست ممالک کی طرف دست سوال دراز کرنے سے پہلے ہی بے طلب امداد وصول کر کے قرضوں سے مکمل نجات حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے اس میں پاکستانی قوم کو ابتدا میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس ایثار اور قربانی پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے اور اب یقینا حالات بدلیں گے‘ پاکستانی عوام کے حالات بدلیں گے پہلے بلاولوں اور بے نظیروں کے بدلے تھے اب دنیا کی کوئی قوت پاکستانی قوم کی تقدیر کی مالک نہیں بن سکتی کیونکہ اس کا ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہے اور اللہ تعالی نے درد کے ماروں کے لیے عمران خان کی صورت میں مسیحا بھیج دیاہے جو درد کی دوا کا اہتمام کر رہا ہے جتنی تنقید ہمارے اس موجودہ وزیراعظم پر اپوزیشن کر رہی ہے اتنی ہی زیادہ دنیا بھر میں اسے عزت اور وقار مل رہا ہے سعودی ولی عہد کا عہد عمرانی حکومت میں تشریف فرما ہونا پوری پاکستانی قوم کے لیے بہت بڑے اعزاز اور شرف کا مقام ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی آمد پر پوری پاکستانی قوم نے اپنی پلکیں بچھا دیں اور یہ غیر معمولی استقبال پاکستان کی تاریخ میں ایک یادگار رہے گا اس بے مثال استقبال پر اپوزیشن کے ساتھ بعض برقی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے وہ شور مچایا لیکن بالآخر انہیں اصل حقیقت کا پتہ چلا تو وہ خاموش ہوگئے ہیں ۔عمران خان پر زوردار تنقید میں اینکرحضرات شہزادے کی آمد پر اٹھنے والے اخراجات کو منفی انداز میں عوام کے سامنے رکھ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کروڑوں روپے اخراجات استقبال پر ہو رہے ہیں تو موجودہ حکومت اور شریف حکومت میں کیا فرق رہ گیا ہے‘ ایسے اخراجات تو پہلی حکومت نے بھی اتنے نہیں کیے تھے اب جب یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کے خزانے سے ایک پائی بھی صرف نہیں ہو رہی یہ سب اخراجات سعودی عرب کی حکومت برداشت کر رہی ہے تواس خبر پر شور مچانے والوں کے چہرے لٹک گئے ہیں اور اب ان کے منہ سے خیر کے کلمات بھی ادا نہیںہو رہے ہیں اس لیے وہ اب کیسے تھوکا ہوا چاٹ سکتے ہیں حالانکہ انکا بڑا پن ہوگا اگر وہ اپنی غلطی کو تسلیم کر لیں اور اپنے کہے ہوئے موقف کی تردید کر کے موجودہ صورت حال کی تائید فرما دیں تو ان کے قد میں فرق نہیں آ جائے گا بلکہ وہ مزید قدآورہو جائیں گے۔
بڑے لوگوں نے ہمیشہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا ہے تو وہ بڑے بنے ہیں اور چھوٹے لوگوں نے ضد‘ حسد ‘کینہ اور بخل کی بیماریوں کو اپنے دل کی آماجگاہ بنایا ہے تو کوئی بھی انکی بات پر یقین نہیں کرتا کیونکہ یہ لوگ ابہام کے لوگ ہیں تفہیم ان کے نزدیک سے نہیں گزری ہے اس لیے انہیں ان کے حالات پر چھوڑ دینا چاہیے۔ تعلقات کو نئی جہت کی طرف لے جانے والے وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا خود استقبال کیا ہے اور اپنی کابینہ کے ہمراہ یہ منظر قابل دید تھا‘ پاکستان کی قسمت جاگ اٹھی ہے اور اس مشکل گھڑی میں ہمارے دوست ممالک میں ترک‘ چین آتے ہیں میرے خیال میں ان پر سعودی عرب کو فضیلت حاصل ہے کہ یہ ملک اور اس کی فیوض و برکات پر تمام دنیا کے مسلمانوں کا حق ہے اور اس لحاظ سے پاک سعودی عرب دوستی بھائی چارے کی دوستی ہے سعودی عرب بھائی بھی ہے اور دوست بھی‘ کسی دانشور سے پوچھا گیا تھا کہ بھائی اچھا ہوتا ہے یا دوست‘ جواب ملا کہ بھائی اگر دوست ہو۔۔۔۔
سعودی عرب وہ دوست نہیں ہے جس کے بارے میں شاعر کہہ گیا ہے یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غمگسارہوتا۔سعودی عرب ہمارا چارہ ساز بھی ہے اور غمگسار بھی ‘سعودی ولی عہد کی آمد نے پاکستانی عوام کے دلوں میں احترام کے چراغ روشن کر دئیے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکمت عملی سے اور سکیورٹی کے اعلیٰ انتظامات کی بدولت شہزادہ محمد بن سلمان کا دل جیت لیا ہے اور پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے حوالے سے جو مشترکہ دستخط ہوئے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے سربراہ اس سرمائے کی خود دیکھ بھال کریں گے اور اب پاکستان کی عوام خوشحالی کے سورج کو طلوع ہوتا ہوا دیکھیں گے۔
یہ بات وزیراعظم عمران خان کی پاکستانی قوم میں بے پناہ پسند کی گئی ہے کہ سعودیہ میں مزدوری کرنے والے اور چھوٹے چھوٹے جرائم میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں کے لیے خاص طور پر شہزادہ محمد بن سلمان کی توجہ مبذول کروائی ہے‘ سعودی سربراہ نے حامی بھر لی ہے کہ وہ واپس جا کر قیدی مزدور پاکستانیوں کو آزاد کر دیں گے۔ سعودی عرب کے ابھرتے ہوئے معمار کو پاکستان میں وہ پیار ملا ہے کہ وہ خود سعودیہ میں پاکستان کے سفیر کو اعزاز سمجھ رہے ہیں ۔محمد بن سلمان کی آمد پر اکیس توپوں کی سلامی اور بیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پہلے مرحلے میں اورہر ماہ اورہر سال اضافہ ہوتا رہے گا۔ عمران خان نے سعودی عرب کو سی پیک میں شراکت داری کی دعوت دی اور پاکستانی حاجیوں اور مزدوروں کی سہولتوں کی بھی استدعا کی‘جواں سال شہزادے نے ہمارے وزیراعظم عمران خان کی بے پناہ تعریف کی۔
(کالم نگار معروف شاعرہ، سیاسی وسماجی موضوعات پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved