تازہ تر ین

میڈیا‘مستحکم جرائم اوربکھرا معاشرہ

مریم ارشد……..میری آواز
ہم اپنے ملک کے سیاست دانوںکو اور کتنا دیوار سے لگائیں گے؟انکوائری کر تورہے ہیں لیکن کرنے نہیں دے رہے۔ڈاکٹروں کا بورڈ بیٹھا ہے ۔۔۔میاں صاحب کی اچانک طبیعت خراب ہوئی ہے ۔۔۔اور انھیں جناح ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔۔۔ ےہ بریکنگ نیوز ہیں۔ سعودی ولی عہد کے اس دورے کے بعد پاک سعودی تعلقات ایک نیا رُخ اختیار کریں گے ۔۔۔ٹھیک ہے آپ کا پوائنٹ آگیا۔۔۔ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔۔۔ وعدہ معاف گواہ بننے والے رویے پہ بھی غور کرنا ہوگا۔۔۔ ناظرین ےہاں بریک لیں گے۔۔۔ ڈنگ ڈونگ بیل ۔۔۔ٹمی مسکرائے تو ممی مسکرائے ۔۔۔ ویلکم بیک۔۔۔وزیرِ اعلیٰ کا پہلے بتا دیجیے ۔۔۔اپنی شوگر ملیں بڑھ گئیں۔۔۔ملک کی شوگر ملیں بند ہوگئیں۔ ۔۔جی آپ کا نقطہ آگیا۔۔۔احتساب سے کون انکار کرے گا۔۔۔ احتساب کو مذاق بنا دیاہے۔ ۔۔کیا این آر او لینا ان کی ترجیح ہے ۔۔۔جہاں جہاں بھی عوام کا پیسہ جاتا ہے وہاں حساب ہونا چاہیے۔۔۔ جی جی آپ بتائیے۔۔۔جی ٹھیک ہے۔۔۔ آپ کا نکتہ آگیا۔۔۔بریک لیں گے ۔۔۔ناظرین ویل کم بیک۔۔۔دیکھیں 11دسمبر2018ءکو انھوں نے ٹویٹ کیا تھا۔۔۔ےہ ہی کرپشن ہے ۔۔۔جی آپ بولیے۔۔۔اومنی گروپ 2008ءمیں کس طرح اوپر آگیا ۔۔۔جب تک ےہ گروپس نہیں ٹوٹیں گے پاکستان آگے نہیں جائے گا۔ ۔۔ٹھیک ہے ناظرین ےہاں بریک لیتے ہیں۔
ےہ وہ مختلف آوازیں ہیں جو شام 7بجے سے لے کر رات 9بجے تک خبرنامہ سے پہلے ہمیں مختلف ٹی وی چینلز پہ سنائی دے رہی ہوتی ہیں۔ مَیں نے ایک روز چینل بدل بدل کر دیکھا تو لگ رہاتھا کہ طرح طرح کی ےہ آوازیں خوانچہ فروشوں کے مختلف خوانچوں سے آرہی ہیں۔ دماغ میں مانو جیسے جھکڑ سے چلنے لگے ۔ دل پہ قطرہ قطرہ بوجھ گِرتا رہا ۔کانوں میں سائیں سائیں ہونے لگی ۔ ملک اور معاشرہ کس طرف جارہا ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے ذہنی دباﺅ سے معاشرہ بکھرنے لگا ہے۔ ہمارے خواب، ان کی تعبیریںسب ایک ایک کر کے ٹو ٹ رہے ہیں۔ جس عدل و انصاف کے ہم منتظر ہیں قانون کی وہ بالادستی آخر کب ریاست میں آئے گی؟ کب جرائم پیشہ اور بدعنوان لوگ بے خوف ہونا چھوڑیں گے ؟ پاکستان میں طاقتور چاہے وہ کسی بھی سطح کا ہواُس نے ملک کے ہر شعبے کو یرغمال بنارکھا ہے ۔ اختیار واقتدار کو عوام کی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنانے کی بجائے محض چند خاندانوں کی دولت اور ترقی میں اضافہ ہوا ہے ۔ اللہ اللہ! ملک کا شاہانہ لباس تار تار ہے اور اس میں پیوند لگانے کی بجائے مزید کیوں اُدھیڑا جاتا ہے ۔ میڈیا بھی حالات کے رُخ کے ساتھ اپنی کشتیوں کو بہا دیتا ہے۔ کیوں نہیں اپنے پتواروں سے دھاروں کا رُخ موڑتا ۔ ےہ اختیار تو بخوبی میڈیا کے پاس ہے ۔ میڈیا دراصل وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو بالکل انہی کی منشا کے مطابق دکھاتا ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں White Collar Crimeیا مستحکم ، مستند جرم کاروباری حضرات، سرکاری نوکر اور حکومتی پیشہ ورافراد انفرادی اور سماجی سطح پر انجام دیتے ہیں۔ ےہ اصطلاح پہلی دفعہ ایڈوِن ہارڈن سَدر لینڈ نامی امریکی ماہر عمرانیا ت نے 1939ءمیں متعارف کروائی۔ مخصوص وائٹ کالر کرائم میں دھوکہ دہی، رشوت ستانی، خفیہ تجارتی لین دین، مزدوروں کے حقوق کا استحصال ، خیانت ، سائبر کرائم ، روپے کا خُرد بُرداور جعل سازی وغیرہ شامل ہیں۔ اب دیکھیے ناں! وطنِ عزیزمیں ایک سے بڑھ کر ایک دانش ور ، سیاسی رہنماموجود ہیںجو امورِ مملکت انجام دینا چاہتے ہیںمگر ان کا ضمیر ہے کہ اجازت ہی نہیں دیتا۔ دل ہے کہ مانتا ہی نہیں کہ اپنی بجائے مفلوک الحال عوام کی خدمت کی جائے۔ کیاکریں۔۔۔؟کبھی اپوزیشن ، کبھی دشمن ، کبھی اپنے، کبھی پرائے سب مل کر انھیں مجبور کر دیتے ہیںکہ ملک میں بہتری نہ لائی جائے ورنہ ےہ تو فرہاد کی طرح ےہاں دودھ کی نہریں کھود ڈالتے۔ سابقہ ادوار کے تمام وزیرِ خزانہ ، سٹیٹ بینک کے گورنر ، بیوروکریسی، پولیس اپنی ذاتی خواہشات تھوڑا ہی پوری کر رہے تھے بلکہ وطن کی نام نہاد ترقی کے لیے بے مثال کام کر رہے تھے۔ لیکن آپ ہیں کہ عجیب ہونق لوگ ہیں دیکھ نہیں پاتے کس طرح سے ےہ اپنا آرام برباد کرکے مفلس لوگوں کو روزگار پہ روزگار اور مکانوں پہ مکان مہیاکرتے جارہے ہیں ۔ ہر طرف امن و شانتی کے ساز بج رہے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں ’ہیںکواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ‘ کے مصداق میڈیا کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ بے شک عوام کومیڈیا نے آگاہی دی پھربھی بہت کچھ باقی ہے۔ لو گ اب حالاتِ حاضرہ کے پروگرام دیکھ کر ڈیپریشن کا شکار ہوئے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے اس ملک میں سب نے اپنی روزی روٹی کمانی ہے ۔ کوئی وظائف یا مفت میں تو کچھ بھی نہیں مل رہا ۔
ایسی صورت میں تو اب عوام کو اپنے سیاست دانوں کے نام اور گفتگو کے انداز سے ان کے کرداروں تک کا پتہ چل چکا ہے ۔ اب وہ ان کی لچھے دار باتوں میں نہیں آنے والے۔ پچھلے ادوار میں مختلف این آر اَوز ہوئے۔ میڈیا پر رونا دھونا جاری رہا کبھی فوجی آمروں کے خلاف ، کبھی جمہوری سیاست دانوں کے خلاف ۔ کبھی ایک خاندان معاہدہ کر کے سعودی عرب پہنچ گیا توکبھی دوسری پارٹی کی معروف شخصیات پہ بنائے گئے تمام مقدمات ختم کردیے گئے۔میڈیا ہماری نفسیات پر بھی اثر انداز ہورہا ہے ۔ اس کی مختلف قسمیں جن میں سوشل میڈیا سرِفہرست ہے ۔ کیا ایسا ہے کہ ان مختلف ذرائع ابلاغ پر قابو ہے یا نہیں۔ کالم لکھتے ہوئے خبر اور تجزیہ آرہا ہے کہ میاں نواز شریف جیل سے اپنے علاج کے سلسلے میں جناح ہسپتال منتقل ہوچکے ہیں۔افواہیں جو خبریں ہی ہیں کہ سابق وزیرِ اعظم جناح ہسپتال سے علاج کے لیے لندن جائیں گے۔ اس ہسپتال میں جتنے دن بھی وہ گزاریں گے اس دوران شاید ان کے انسانیت نواز دل میں مریضوں کا درد جاگ اُٹھے ۔ شاید سینے میں ہمدردی کے بُجھے ہوئے شراروں میں کوئی چنگاری بھڑک اُٹھے ۔
بہرکیف! وطنِ عزیز کی سلامتی کے لیے ہر طرح کے ظلم کے خلاف ہر سطح پر آوازیں بلند کرنا ہی ہمیں اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دلائیں گی۔دراصل ہم پہلے ہی 1947ءکی جنگ لڑ کر آزادی حاصل کرچکے ۔ اب تو سب اچھا ہونا چاہیے تھا ۔ جائز بنیادی حقوق ملنے چاہیے تھے۔ یا تو پھر اُس وقت کی جنگ غلط تھی یا پھر اب جو ہورہا ہے وہ غلط ہے ۔ ملک کی تاریخی ترقی کے اقدامات کو اب بہر صورت شروع ہوجانا چاہیے۔ حکومتیں آتی ہیں چلی جاتی ہیں لیکن ملک وہیں رہتا ہے۔ پچھلی حکومتوں کے چھوڑے ہوئے اچھے منصوبوں پہ دل جمعی سے کام ہونا چاہیے اور ملکی مفاد کے خلاف کاموں کو درست کرکے بس صرف کام ، جیسا ہمارے عظیم قائد نے فرمایا تھا:کام ، کام اور کام۔ میڈیا کو ملکی ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔مفلوم الحاک ستائی ہوئی عوام کو اس کے حقوق دلوانے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا چاہیے۔ میڈیا دنیا کے ہر چھوٹے بڑے ملک کے ستم رسیدہ عوام کے منہ کا آلہ¿ کار ہے۔ موجودہ صورت حال کسی طور حوصلہ افزا نہیں عوام ایسی ریاست دیکھنا چاہتی ہے جہاں ایک وادی سے دوسری وادی تک کوئی عورت زیورات میں لدی پھندی جائے تو کوئی لُوٹنے کی کوشش تو درکنار اس پہ نگاہِ غلط بھی نہ ڈال سکے۔
(کالم نگارقومی وسماجی ایشوزپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved