تازہ تر ین

اینکر، خُدائی یا خلائی مخلوق

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
الیکٹرانک جرنلزم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی آج ہماری زندگی کاایک جزو لاینفک بن چکی ہے۔ پہلے پہل اینکر کی جگہ صحافی ہوتا تھا جو عمیق مشاہدے اور تجربے کے بعد خبر تلاش کرتا اور اسے کڑی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد مستند سمجھ کر اخبار کی زینت بناتا تھا لیکن آج کے الیکٹرانک دور میں اینکر جو ضروری نہیں کہ صحافی بھی ہو لیکن یہ اپنی ذات میں ایک ’انجمن‘ ہوتا ہے۔ یہ ٹیلی ویژن سکرین پر بیٹھ کر خبر دینے کی بجائے کئی دیگر کام انجام دیتا ہے مثلاً یہ مسجد کے ملا کی طرح خطبہ بھی دے سکتا ہے، مرثیہ خوانی میں بھی یکتا ہوتا ہے، بلا کا تجزیہ نگار اور انسانی حقوق کا چمپئن ہونے کے ساتھ ساتھ اداکاری میں بھی بے مثال ہوتا ہے‘ یہ لاہور اور فیصل آباد کے سٹیج ڈراموں کے آرٹسٹوں کو بھی مات دے سکتا ہے، یہ نمک حلالی پہ آئے تو پروگرام میں اپنے مالک کی حمائت میں کشتوں کے پشتے بھی لگا سکتا ہے۔ آج کا یہ اینکر ایسا ہر فن مولا ہوتا ہے کہ رمضان کے پروگرامز میں کسی باریش مولوی سے زیادہ پرفارمنس دکھا کر اس ایک مہینے میں ٹی وی چینل کو کروڑوں کا فائدہ پہنچا سکتا ہے اور تو اور یہ اینکر ماڈلنگ کر کے بھی لوگوں کو ششدر کر سکنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ غرضیکہ اب ایک ہی شخصیت میں صحافت، اینکرنگ، ماڈلنگ، اداکاری، مرثیہ خوانی، تجزیہ نگاری اور دانشوری جیسے جملہ اوصاف اگر اکٹھے ہو جائیں تو ایسا انسان خود کو عام انسانوں سے ماورا کوئی خلائی مخلوق سمجھنے لگے تو یقینا اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں ہونی چاہئے!!
اب یہ بات تو طے ہے کہ ہمارے اکثر بڑے چینلز کی بھی کوئی ایڈیٹوریل پالیسی نہیں ہوتی‘ بعض بڑے چینلز کے بڑے اینکرز کی اپنی ذاتی پسندو ناپسند پر مبنی پالیسی ہوتی ہے عام طور پر ان کے پروگرامز بھی عام آدمی کیلئے نہیں بلکہ خواص کے لئے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں جاری صحافت کے اس قسم کے ماحول میں عام آدمی تو دور کی بات ہم جیسے اوورسیز پاکستانی صحافیوں کیلئے سمجھنا محال ہوتا ہے کہ آخر اصل خبر ہے کیا؟ ہمارے بہت سے دیرینہ دوست جو اینکر ہونے کے ساتھ مستند صحافی بھی ہیں جو یقینا شہرت و دولت کے شہ نشینوں پر براجمان ہیں لیکن صد افسوس کہچند ایک کے سوا زیادہ تعداد میں یہ لوگ بھی خود کو کوہ ہمالیہ اور نانگا پربت سے ذرا ہی کم سمجھتے ہیں بلکہ ان میں سے کچھ تو اپنا مقام اس کرہ ارض سے بھی کہیں اوپر سمجھ کر ’بی ہیو‘ کرتے ہیں‘ اس قسم کے صحافی اینکر بھی خود کو خلائی مخلوق اور ہم اوورسیز پاکستانی صحافیوں کو ’شودروں‘ سے زیادہ مقام نہیں دیتے اور ہم ہیں کہ ان کی الفت میں مرے جاتے ہیں لیکن اگر عمیق نگاہی سے دیکھا جائے تو اس صورتحال کی بڑی حد تک ذمہ داری اوورسیز پاکستانی صحافیوں پر بھی آتی ہے جنہوں نے گھس بیٹھیوں کا راستہ نہیں روکا، نقب لگا کے ایسے ایسے تمن خان اس شعبے میں داخل ہوچکے ہیں جو اور تو سب کچھ ہیںمگرشاید صحافی نہیں ہیں مثلاً برطانیہ میں دیکھے جانے والے معدودے دو ایک چینلز کے دیگر تمام غیر پیشہ وری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اے، بی، سی، ڈی چینلز کے ڈائریکٹ بھرتی ہونے والے بیوروچیفس کو ہی دیکھ لیں جن میں بہت سوں کو تومیرے خیال میں بیورو چیف کے انگریزی ہجے تک نہیں آتے ہوں گے۔ لہٰذا جب صحافتی عصمت کی اس قسم کی منڈیاں لگیں گی تو پھر گھوڑے گدھے کو ایک ہی نگاہ سے دیکھا جائے گا چنانچہ جب ان حالات میں سارا قصور خلائی مخلوق نما اینکرز کو بھی نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ’زمینی اخلاقیات‘ کو مدنظر رکھیں اور بندے کو بندہ سمجھیں۔
عرصہ ہوا یہاں لندن میں ہمارے ایک صحافی دوست نے ’دُہائی‘ دی کہ اینکروں اور صحافیوں پر بھی ایک ”جے آئی ٹی“ بنا کر ان کا بھی کڑا احتساب کیا جائے اور ہماری برادری کی کالی بھیڑوں کو سامنے لا کر انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔ مزید یہ کہ 1985ءسے 1990ءتک کا ریکارڈ ہی چیک کر لیا جائے تو نوازشریف پر تو ایک مزید کیس بن سکتا ہے لیکن اس ضمن میں ایک فہرست کو بھی ضرور شائع ہونا چاہئے کہ اس پانچ سال کے عرصہ میں کون کون سے صحافیوں نے پلاٹ اور دیگر مراعات نواز شریف سے حاصل کیں۔ یہ بات تو سچ ہے لیکن بات ہے رسوائی کی، کیونکہ پھر معاشرے کو آئینہ دکھانے والے صحافیوں پر بھی آئین کی دفعہ 63,62 لگ سکتی ہے۔ ان اینکرز اور صحافیوں کی اس لسٹ کی بھی تفتیش ضروری ہے جو گزشتہ پانچ سات سال سے پلاٹ لینے کے حوالے سے ہمہ وقت سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہتی ہے۔ یہ سوچ قطعی طور پر درست ہے کہ احتساب ملک کے سیاستدانوںکا ہی نہیں، بیوروکریٹس ‘ ٹیکنوکریٹس سمیت سب کا بھی ہونا ضروری ہے ان تمام کے غیر ملکی اکاﺅنٹس اور جائیدادوں کا موٹا موٹا حساب کتاب ہو جائے تو بڑی بڑی ہوشربا داستانیں سامنے آئیں گی۔
ادارے یا صحافیوں پر ہی موقوف نہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی ہم ایک کرپٹ اور منافق گروہ بن کر رہ گئے ہیں ”صحافت ایک مقدس پیشہ ہے“ کا فقط تصور ہی باقی رہ گیا ہے‘ حالت تو یہ ہے کہ جس کا جتنا قد اور رتبہ ہے وہ اتنا ہی بڑا ہاتھ مارتا ہے اور خود سے زیادہ بددیانت کو کرپٹ کہہ کر اپنا بوجھ ہلکا کر رہا ہے۔ سینئر ہو چکے اور سنیارٹی کی طرف گامزن بڑی تعداد میں اینکر و صحافی پلاٹوں سے تو فیض یاب ہو چکے ہیں اور اسے جرم بھی نہیں سمجھتے لیکن ان کے علاوہ بھی صحافیوں کا ایک جم غفیر آج کے میڈیا میں موجود ہے جو روزانہ ٹیلی ویژن سکرینز پر آ کر سادگی، پاکیزگی، صاف گوئی، اچھائی، بردباری، نیکی، دیانت و شرافت کے درس دیتا ہے لیکن سچائی تو یہ ہے کہ مجھ سمیت برطانیہ میں مقیم کئی ایک صحافی گواہ ہیں ان نیکو کاروں کے کارناموں سے بھی اور ان کے اثاثوںسے بھی جو یقینی طور پر آنے والی حکومت کی کاسہ لیسی کے ہی مرہون منت ہیں۔
دودہائیاں پہلے تک صحافت میں ’لفافے‘ کے رواج کا الزام صرف نوازشریف کو ہی دیا جاتا تھا لیکن آج یہ انعام آنے والی ہرحکومت اور اپوزیشن کو بھی دیا جا سکتا ہے کہ قصیدہ گو صحافیوں و اینکرز کی جھولیاں ان کے چینل اور سنیارٹی کے لحاظ سے بھری جاتی ہے۔ صحافی قومی خزانے سے حج و عمرہ بھی کرتے ہیں، حکمرانوں کے ساتھ غیر ملکی دوروں پر بھی جاتے ہیں، مختلف مدوں میں لی گئی بڑی بڑی رقوم بھی ڈکار جاتے ہیں اور قوم کو سچائی کے لیکچر بھی جھوم جھوم کر دیتے ہیں۔ پوری قوم کا سیاسی ٹمپریچر کیا ہو گا، عوام کا اخلاقی دائرہ کس حد تک وسیع اور کہاںختم ہو گا اس کا فیصلہ بھی یہی اینکر نما گروہ شام ڈھلنے سے رات گئے تک انتہائی طمطراق سے کرتا ہے۔ یہ گوروں کے دیس میں بھی اپنے پردیسی ہم وطنوں سے بڑی رعونت سے اگر ملتے بھی ہیں تو اکڑی ہوئی گردنوں کے ساتھ، یہ ٹیلی ویژن سکرینز پر پاکستان میں بیٹھ کر جب برطانوی سیاست، معیشت اور اوورسیز پاکستانیو ںکے سماجی مسائل پر گفتگو فرماتے ہیں تو ان میں سے بہت سوں کو تو یہاں کے شہروں اور مختلف علاقوں کے درست نام تک لینے نہیں آتے لیکن یہ کبھی کوشش نہیں کرتے کہ برطانیہ میں مقیم کسی پاکستانی صحافی یا دانشور سے اس کا تجزیہ لیں مبادا کہ اس کی شکل سکرین پر آنے سے کسی کی نگاہ اس کے ٹیلنٹ پر نہ پڑ جائے۔ بڑوں کو تو چھوڑیں ایک معمولی ٹی وی اینکر بھی ملک کے وزیراعظم سے زیادہ تنخواہ لیتا ہے تمام اینکرز اپنے ٹی وی پروگرامز کی مقبولیت کے حساب سے پیکیج وصول کرتے ہیں۔ اور کیا آپ جانتے ہیں دُنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا لیکن پاکستان میں سب سے زیادہ ٹاک شوز کیوں دیکھے جاتے ہیںکیونکہ ان میں وہ سارا ’سودا‘ موجود ہوتا ہے جو کسی تفریحی، معلوماتی یا فلم میں ہوتا ہے۔ ہر نیوز اینکر یا صحافی صحافتی اقدار کی بجائے اپنی ریٹنگ کو مقدم رکھ کر اپنا چالیس منٹ کا شو کرتا ہے چنانچہ اس قسم کے پیراشوٹ اینکرزنے صحافت کا حلیہ تو بگاڑا ہی اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی اقدار و تہذیب کی بھی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔
میڈیا انڈسٹری کے لئے سابق آمر جنرل پرویز مشرف کا دور بڑا زبردست ثابت ہوا لیکن میڈیا آزاد تو ہوا مگر اس کے ساتھ شتر بے مہار بھی ہو گیا الیکٹرانک میڈیا کے آغاز میں ٹاک شوز کے لئے باقاعدہ پیشہ ور صحافی رکھے گئے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اچھے و مستند صحافی کہیں پیچھے رہ گئے اور ڈاکٹر، انجینئر، صدا کار، اداکار، فلمسٹار، سٹیج ڈراموںکے فنکار ٹڈی دل کی طرح اس شعبہ میں چھا گئے اور آج حال یہ ہے کہ میڈیا جو اب مقدس پیسے کی اصطلاح کو بھول کر انڈسٹری بن چکی ہے اور حالت یوں ہے کہ یہ انڈسٹری اب ’اینکرازم‘ کے قبضے میں ہے جو بے پناہ دولت و شہرت کے بل پر خود کو خدائی نہیں خلائی مخلوق سمجھتے ہیں لہٰذا اب مسئلہ یہ ہے کہ ’صحافت‘ پر ہونے والا یہ ناجائز قبضہ چھڑانے کے لئے کوئی ابابیلیں نہیں آئیں گی بلکہ ہم جیسی خُدائی مخلوق کو ہی آگے آنا ہو گا۔
( کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved