تازہ تر ین

سعودی ولی عہد کاتاریخی دورہ

کامران گورائیہ
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کو تاریخ ساز قرار دیا جا رہا ہے ، بلا شک و شبہ ملک کو درپیش معاشی بحران کی کیفیت میں سعودی ولی عہد کی آمد خوشگوار ہوا کا ایک ایسا جھونکا ہے جس کے اثرات بہت جلد سامنے آنے لگیں گے۔ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان پر جہاں حکومتی حلقے خوشی و مسرت کا اظہار کر رہے ہیں وہاں اس دورہ کو اپوزیشن کو یکسر نظر انداز کرنے کے حوالے سے بھی بالکل مختلف اور تاریخی کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی جمہوری روایات کو پامال کرنے میں حکومت اپوزیشن پر بازی لے چکی ہے‘کسی غیر ملکی سربراہ کے دورہ کے موقع پر اپوزیشن جماعتوں کے اہم قائدین اور رہنماﺅں کو نظر انداز کرنے کی ایک نئی روایت ڈال دی گئی ہے جس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔ عمران خان کی حکومت نے اپنے اقتدار کو طویل کرنے کے لیے سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کا کریڈٹ حاصل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے مگر پارلیمانی اور جمہوری نظام حکومت میں بہت سی غلطیاں پہلی بار کی گئیں ۔ پاکستانی میڈیا نے سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے موقع پر انتہائی ذمہ داری اور گرمجوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا کردار بے حد احسن انداز میں نبھایا۔ ولی عہد کے طیارے کے پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے لیکر نور خان ایئر بیس سے واپس روانگی تک‘ میڈیا نے اس کو بھرپور کوریج دی۔یقیناسعودی ولی عہد اور ان کے ساتھ آنے والے وفد کے تمام افراد دورہ پاکستان کو مدتوں یاد رکھیں گے۔ کیا یہ ہم سب کے لیے فخر کی بات نہیں کہ سعودی ولی عہد نے اپنے آپ کو پاکستان کا سفیر قرار دیتے ہوئے اس ملک سے اپنی عقیدت اور والہانہ محبت کا مظاہرہ کیا ۔
سعودی ولی عہد نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران 20 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدے کر کے اس ملک کے عوام کو یہ خوشخبری بھی سنائی کہ ابھی پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کی ابتدا ہے‘ آنے والے وقتوں میں سعودی عرب پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کرے گا۔ انہوں نے اس یقین اور امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان مستقبل میں دنیا کی ایک بڑی معاشی قوت بن کر ابھرے گا ۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدوں کی توثیق اور تجدید وفا کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دوستی اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی تاریخ ساز روایات کا آغاز ہو گیا تھا۔ عمران خان حکومت نے سعودی ولی عہد کے ساتھ جن معاہدوں کی توثیق کی اور مفاہمت کی جن روایات پر دستخط کیے ان میں بہت سے معاہدوں پر سعودی عرب نے ماضی کی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات میں آمادگی اور رضا مندی کا اظہار کر دیا تھا۔ اس لیے عمران خان حکومت سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کا کریڈٹ تن تنہا حاصل کرنے کی حق دار نہیں ہے مگر اس حقیقت کو جھٹلانا بھی ممکن نہ ہوگاکہ عمران خان نے سعودی ولی عہد کے حالیہ دورہ کے موقع پر جو نئے معاہدے کیے اس کا کریڈٹ لینا صرف اور صرف انہی کا حق ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے ولی عہد کے دورہ پاکستان کے موقع پر اس بات کا برملا اظہار کیا گیاکہ انہوں نے پاکستان کو 20 ارب ڈالر خیرات میں نہیں دیئے بلکہ اسے پاکستان میں سعودی عرب کی طرف سے سرمایہ کاری سمجھا جائے۔
حقائق یہ ہیں کہ سعودی عرب نے پاکستان میں آئل ریفائنری لگانے سمیت توانائی کے بہت سے منصوبوں میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے‘ معاہدے کے مطابق پاکستان کو بھی آئل ریفائنری سے 1.3 ارب ڈالر کا فائدہ پہنچے گا مگر زیادہ فائدہ سعودی عرب کا ہوگا۔ حکومت پاکستان نے ہمیشہ برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ تعاون کی عظیم الشان مثالیں رقم کی ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب نے بھی ہمیشہ ہی سے تمام عالمی فورمز پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کے معاشی مسائل ہوں یا مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کی جدوجہد‘ سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ سعودی ولی عہد کے حالیہ دورہ پاکستان کو بہت زیادہ کامیاب کہا جا سکتا ہے مگر اس موقع کو مزید شاندار بنایا جاسکتا تھا ۔ عمران خان حکومت نے سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے موقع پر تمام اپوزیشن جماعتوں کو مدعو نہ کر کے ایک منفی روایت ڈال دی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ اسی طرح پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو سمیت دیگر تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے سعودی ولی کے دورہ پاکستان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے قائدین نے خندہ پیشانی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کو تاریخی موقع قرار دیاجسے تمام سنجیدہ سیاسی حلقوں کی طر ف سے اطمینان بخش رد عمل قرار دیا گیا لیکن عمران خان حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو ولی عہد کو دیئے گئے عشائیہ اور ظہرانہ میں مدعو نہ کر کے غیر جمہوری اور غیر سیاسی طرز عمل کامظاہرہ کیا جس پر اسے شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شیری رحمن نے سعودی ولی عہد کی واپسی کے فورا بعد ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے عشائیہ میں اپوزیشن کو مدعو نہ کرنے کے حکومتی اقدام کو کم ظرفی قرار دیا۔ آئندہ چند دنوں میں عمران خان کو ولی عہد کے دورہ کے موقع پر نظر انداز کیے جانے پر اپوزیشن جماعتوں کی مزید تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ یہ بات بھی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے چند منتخب اراکین سے ملاقات کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف سے اپنی دیرینہ محبت ، دوستی اور لگاﺅ کا اظہار کرتے ہوئے مخالفین کو شرمندہ ہونے پر مجبور کر دیا۔ عمران خان جو ہمیشہ اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ بولڈ اور فراخدلانہ فیصلے کرنے میں کوئی سیاستدان ان کا ثانی نہیں ہے۔ اپوزیشن کو سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے موقع نظر انداز کرنے کے معاملہ میں کم فہمی اور خود ستائشی کا شکار ہو گئے۔ اگر وہ کھلے دل کے ساتھ آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان اور میاں شہباز شریف سمیت دیگر تمام سیاستدانوں کو بھی مدعو کرتے تو یہ ناصرف ان کے لیے انتہائی سود مند ہوتا بلکہ اس طرح حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمتی عمل کی راہ بھی ہموار ہو سکتی تھی مگر وزیراعظم عمران خان نے یہ موقع گنوا دیا۔ آنے والے دنوں میں حکومت کو مزید چیلنجز درپیش ہوں گے جس کے لیے انہیں اپوزیشن جماعتوں کے تعاون کی اشد ضرورت پڑے گی تب اپوزیشن رہنماﺅں کی طرف سے بھی عدم تعاون کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے ۔ اس تمام تر صورتحال سے ناصرف پارلیمنٹ میں قانون سازی کا عمل آگے نہیں بڑھ سکے گا بلکہ عوام کے مسائل حل کرنے میں بھی دشواریاں پیدا ہوں گی۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved