تازہ تر ین

سیاحت کوفروغ دینے کی ضرورت

سلمیٰ اعوان …. لمحہ فکریہ
عثمان امجد بھٹی کی فیس بک پر لگائی گئی د نےا کے نمبر ون انٹرنےشنل بزنس مےگزین فوربز کی رپورٹ ہمارے لےے خوشی و مسرت کا باعث ہے۔ اس فوربز نے 2019ءمےں جن دس ممالک کو عالمی سےاحت کے لےے منتخب کےا ہے اُن مےں پاکستان بھی شامل ہے۔
سچی بات ہے کہ موجودہ حکومت بھی سےاحت کے لےے کچھ سنجےدہ نظرآتی ہے۔اخبارات کی بیان بازےاں اپنی جگہ مگر اِس ضمن مےں عملی طور پر سمجھداری سے بھرپور جو اقدام سامنے آئے ہےں اُن مےں پہلا اور اہم تو دربار صاحب کرتار پور کا ہے۔مذہبی سےاحت کے پیش نظر اس کی اہمےت کو سمجھنا اور اس پر فوری عمل کرنا اہم تھا اور وہ کےا گےا۔ےہاں مےں چڑھدے پنجاب ےعنی بھارتی پنجاب کے اہم شہر امرتسر کے بی کے ڈی اے وی کالج کی پرنسپل مسز جے کاکڑےا کے ایک خطاب کا حوالہ دےنا چاہوں گی جو ٹورازم اےنڈ ڈویلپمنٹ کے سلسلے مےں انہوں نے پاکستانی وفد کے اعزاز مےں منعقدہ تقرےب مےں دےا۔ پروفےسر درباری لال جو ایک ماہر تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپےکر بھی تھے اِس تقرےب کے مہمان خصوصی تھے۔اِس سمےنار مےں جو بات مےرے سامنے کھل کر آئی وہ ہندوستان کی سےاحت کے حوالے سے آگاہی اور شعور تھا۔مسز کاکڑےا نے ہمےں مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔ ہمارے لےے لہٰذا پنجاب ےعنی پاکستانی پنجاب مسلمانوں کے مکّے ،مدےنے کی طرح ہے۔آج مذہبی سےاحت صنعت کا درجہ اختےار کرگئی ہے۔جدےد تقاضوں کی روشنی مےں اِسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔پلےز یہ بات جانےے اورسمجھیے آپ کے پاس ہمارے مذہبی مقامات سونے کا انڈہ دےنے والی مرغی کی طرح ہیں ۔انہوںنے سکھوںکے مذہبی مقامات کے ساتھ ساتھ راج کٹاس کا بھی ذکر کےا۔ ہمےں نفرتوں کی سےاست چھوڑ کر محبتوں کے راستے اپنانے کی ضرورت ہے۔
جدید تقاضوں پر بات کرنے سے پہلے تھوڑا سا اپنے گھر کا جائزہ لے لےں۔ سےاحتی نقطہ نظر سے پاکستان کے دل شمالی علاقہ جات کا کوئی مقابلہ ہی نہےں ۔ ہم پاکستانےوں کو بہت اچھی طرح ےاد ہوگا کہ ستر (70)،اسی(80)کے پرامن دنوں مےں ہمارے شمالی علاقہ جات ،ہماری کے ٹو اور دےگر چوٹےاں دنےا بھر کے سےاحوں کے لےے کتنی کشش کا باعث تھےں۔اُن علاقوں مےں لکھنے کے لےے مےرا بھی بڑا آنا جانا تھا وہاں۔ ہوٹلوں مےں جگہ نہےں ملتی تھی۔اب کرنے والے کون سے کام ہےں ؟کےونکہ سرکاری سطح پر سےاحت کی سرپرستی برائے نام ہے۔یہ بہت لمبے چوڑے نہےں ہےں۔امن اور لبرم ازم پہلی اور اہم ضرورت ہے ۔دو مثالےں اپنے تجربات کی ہی روشنی مےں دےتی ہوں۔مصر اپنے تہذےبی ورثے کی بنا پر اوج کمال پر پہنچا ہوا۔صدےوں پرانے شاندار تمدن کے ماےہ ناز نمائندوں کے ساتھ شہروں شہروں پھےلا جو اس کے ہر شہر کو منفرد کرتے ہےں۔قاہرہ قدیم مےں ےحییٰ محسود نامی نوادرات کے بےوپاری سے جو کبھی اخوان المسلمین کا بڑا حامی تھا‘ سے باتےں ہوئےں ۔جس نے دو ٹوک لہجے مےں کہا۔سےاحت اِس ملک کی اہم ترین صنعت ہے۔ لاکھوں افراد اِس روزگار سے وابستہ ہےں۔ہم مسلمان ضرور ہےں مگر ہمےں اپنی انتہا پسندی کو لگام دےنی ہے۔ انتہا پسند مسلمانوں کے چند جذباتی نعرے ملک کی سےاحتی آمدنی کو صفر پر لے آتے ہےں اور لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہوجاتے ہےں۔شہروں اور قرےوں مےں پھےلی رونقےں ،وےرانےوں اور اداسےوں مےں ڈھل جاتی ہےں۔یہ صورت ہرگز قابل قبول نہےں۔
سری لنکا کے سےاحتی مقام آدم پےک میں رات کو کھانے کے لئے ڈائننگ روم میں آئے ۔ہماری قریبی میز پر دو اُدھےڑ عمر کنفرمڈ بیچلر جرمن جو تین بار سری لنکا اور سات چکر انڈیا کے لگا بیٹھے تھے اور ستم ظریفی یہ کہ ایک بار بھی پاکستان نہیں آئے تھے۔
”کیوں کیا پاکستان میں باگڑ بلے بیٹھے ہیں تمہیں کھانے کے لئے؟“
انڈیا کے سات چکر لگانے کا سُن کر میں تو یوں حسد سے تڑخی تھی جیسے گرمی سے گیلی مٹی تڑختی ہے ۔ پاکستان تو دہشت گردی کا شکار ہے۔ القاعدہ کے لوگ گھروں میں چھُپے بیٹھے ہیں۔ آئے دن بم دھماکے ہوتے ہیں۔
”انڈیا تو امن کی جنت ہے نا؟ وہاں تو راوی سکھ چین لکھتا ہے۔ انڈیا سے زیادہ بم بلاسٹ اور کہاں ہوتے ہیں۔ انڈیا اور امریکہ سے بڑے دہشت گرد اور کون ہیں؟ “
ایسی تلخ باتوں پر اُن کے بندر کی پیٹھ جیسے رنگ والے چہرے اور لال گلال ہوئے۔ ہنسے ضرور پر تھوڑی سی خفت بھی نمایاں ہوئی جس نے مجھے حوصلہ دیا۔ اور میں نے پاکستان کی خوبصورتی اور اس کے تاریخی مقامات کی زوروشور سے وکالت کی۔ لاہور کے دروازوںاور گیٹوں کی تفصیل اس شہر کی تاریخی عمارات جن میں شہزادیوں کے حمام اور نشست گاہوں کا دلفریب نقشہ ان سب کا ذکر کس قدر زوروشور سے بیان ہوا۔ارے اندرون لاہور کا تو چپہ چپہ تاریخ میں اُلجھا پڑا ہے اور جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ تو پیدا ہی نہیں ہوا۔اپنی زبان کی یہ کہاوت جب انہیں سُنائی تو ان کے ہنسنے کے ساتھ ساتھ ہم بھی ہنسے۔
ےہاں میں بہت دُکھ سے کہنا چاہوں گی۔ہم نے لاہور کے حسن کے ساتھ کےا کےا؟شالامارباغ کو دےکھ لےجےے۔اس کے نواح کا جائزہ لےں ۔کوئی اپنے قےمتی اثاثے کا ےوں بھی ستےاناس کرتا ہے۔جیسے اُس کا ہوا۔کچھ ایسا ہی حال شاہی قلعے کے گردونواح کا ہے۔مقبرہ جہانگےر اور مقبرہ نورجہاں کو توجہ کی بے حد ضرورت ہے۔لاہور کے اندرون کو اُسی طرح سجانے ،سنوارنے کی ضرورت ہے جوکسی بھی ترقی ےافتہ ملک کے ڈاﺅن ٹاﺅن کاخاصہ ہے۔سےاحتی فروغ کے لےے دےگر سہولتےں جن میں اچھا انفراسٹرکچر اور اچھی قیام گاہےںاشد ضروری ہےں۔ پی ٹی ڈی سی کے ہوٹل موٹل کہےں چند ایک ہوں گے اور وہ بھی موزوں حالت مےں نہےں۔ پبلک ٹواےلٹس ،پےنے کا صاف پانی، ڈسٹ بن، چھوٹے موٹے مےڈےکل ےونٹ اور لوگوں مےں سےاحتی شعور، اس کا احترام، سےاحتی گائےڈ بُکس ،نقشوں کی فراہمی اورمقامی لوگوں کا سےاحوں کے ساتھ مہذب اور احترام کا روےہ جیسے عناصر لازم ہےں۔
اب آتے ہےں کچھ اور اہم پہلوﺅں پر ۔ پورے ملک کا سروے ہو۔قابل ذکر مقامات، اُن کی موجودہ حالت، اُن کی مرمت اور تزین و آرائش کی تفصےلات جمع ہوں۔پرانے قلعے بڑا سرماےہ ہےں۔ شمالی علاقہ جات بشمول چترال ، سوات،سندھ، بلوچستان،پنجاب بالخصوص قدےم لاہور بھرا پڑا ہے۔نادر تعمےرات،چےزوں اور مجسموں سے۔پرانے قلعے بڑا سرماےہ ہے۔مالکوںنے احساس نہےں کےا ۔ان کی مرمت کرنے کی بجائے نئے ہوٹل شہروں مےں جاکر بنا لےے ہےں۔اس طرح کے واقعات تو بے شمار ہےں ۔صرف ایک سُن لےجےے۔
شندھور جھےل سے واپسی پر مستوج مےں رُکے۔یہ ایک گھر تھا۔جنہوں نے اپنے بڑے سے گھر کے مختلف حصّے مقامی رنگوں سے سجا سنوار کر سےاحوں کے لےے مخصوص کررکھے تھے۔ ےہاں جاپانی لوگ بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔صاحب خانہ سے مےرے اس سوال پر کہ مستوج مےں کون کون سی چےزےں دےکھنے والی ہےں اکبر حےات فوراً بولا۔”پہلے تو قلعہ دےکھئے۔درےائے ےار خون اور مستوج کا سنگم قابل دےد ہے۔“
بروغل پاس۔ مےںنے بات کاٹی واخان کی پٹی اور تاجکستان کی سرحد۔
بہت دشوار گزار راستہ ہے اور مےں آہ بھر کر رہ گئی۔
اب بے شمار ٹےڑھی مےڑھی گلےوں اندھے اور روشن موڑوں کے بعد کہےں قلعے کی صورت نصےب ہوئی۔پراس سے پہلے جس نظارے نے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون دےا وہ پی۔ڈی۔سی کا شاندار موٹل تھا جو ابھی تکمےل کے آخری مراحل مےں ہونے کے باوجود بڑی شان و شوکت کا مظاہرہ کررہا تھا۔پرشکستہ پاقلعے کو دےکھ کر دل سکڑ کر رہ گےا۔کےا یہ کہوں کہ یہ پہلوئے حور مےں لنگور والی بات تھی۔ ےااس احساس کا ماتم کروں جس کے تحت یہ عظیم ورثہ ٹوٹ پھوٹ سے دوچار ہوکر کھنڈرات مےں تبدیل ہورہا تھا۔قلعے کے مرکزی دروازے پر جس ملازم سے ملاقات ہوئی اُس نے کچھ کہے بغےر گائےڈ کے فرائض سنبھال لئے تھے۔مےری طرح اُسے بھی مستوج کے راجہ کرنل خوش وقت کے بڑے بےٹے سے گلہ تھا کہ اُس نے قلعے کو شکست و ریخت سے بچانے کے لےے اس پر پےسہ لگانے کی بجائے کاروباری ذہنےت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چترال مےں سے سےاحوں کے لےے عالےشان ہندوکش ہائےٹس بنائی۔کےا تھا اگر وہ اپنے آباﺅاجداد کی اس نشانی کو زمانے کے ہاتھوں خوردبرد ہونے سے محفوظ رکھنے کے لےے کچھ اس پر بھی خرچ کردےتا۔
اس روشن اور خوبصورت صبح جب میں ٹوٹی پھوٹی بالکونےوں، غلام گردشوں، زنان خانوں ،دےوان خاص اور عام جیسے طرز تعمیر والے شاندار تارےخی ورثہ کو لےر لےر ہوئے دےکھ کر سوچتی تھی کہ سےاحوں کے لےے جو جدےد سہولےات سے آراستہ اِس ہوٹل مےں ٹھہرےں گے۔ تب مقامی رنگوں کی کوئی خوبصورت چےز کے سےاح متلاشی ہوں گے۔یہ قلعہ جو تقرےباً دو صدیوں کی رواےتوں کو اپنے دامن مےں سمےٹے ہوئے ہے۔ انھےں دےکھنے کو نہےں ملے گا۔کچھ ایسا ہی حال وادی شغور کے محل کا ہے۔ےہاں ہنزہ کی مثال قابلِ تقلید ہے جہاں آغاخان کمیونٹی نے ہنزہ کے معروف قلعے کی مرمت اور تزین و آرائش کا ذمہ خود اٹھاےا ۔آغا خان وےلفےئر فنڈ نے اسے نک سک سے آراستہ کےا ۔اس پر ٹکٹ لگاےا اور اس ورثے کو محفوظ کےا۔وادی شگر کا قلعہ اور محل ،وادی خپلو کا قلعہ اور محل دونوں آغاخان ٹرسٹ کے شکرگزار ہےں جس نے انھےں گودلےا اور اسے قابل فخر بناکر پاکستان کے سےاحتی ورثے مےں اضافہ کےا۔
خدا کا شکر ہے سکردو مےں ےوسف حسین آبادی نے شمالی علاقہ جات کی صدےوں پرانے نوادرات محفوظ کرکے انہےں مےوزیم کی صورت دے کر ان علاقوں کی صدیوں پرانی تارےخ کو محفوظ کرتے ہوئے ہمارے اوپر بہت بڑا احسان کےا ہے۔ضرورت ہے کہ حکومت ان کے اِس کام مےں اپنا حصّہ ڈالے۔
(کالم نگار معروف سفرنگار اورناول نگار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved