تازہ تر ین

جرمنی کوئلے کی بجلی سے دستبردار

مرزا روحیل بیگ ….مکتوب جرمن
جرمن حکومت نے سن 2038 کے اختتام تک کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ مکمل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ جوہری توانائی کے پلانٹ آئندہ تین برسوں میں ختم کر دئیے جائیں گے۔ دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت کے حامل ملک جرمنی میں جوہری ذرائع سے بجلی کا حصول بھی سن 2022 تک ترک کر دیا جائے گا۔ جرمنی میں اس وقت کوئلے کی مدد سے پیدا کی جانے والی بجلی مجموعی پیداوار کا چالیس فیصد بنتی ہے۔ جرمنی میں کان کنی صرف ایک مناسب آمدن کا ذریعہ ہی نہیں تھا بلکہ کانوں میں کام کرنے والوں کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ سن 2015 میں طے پانے والے عالمی ماحولیاتی معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیئے برلن حکومت کو کوئلے اور جوہری توانائی پر بتدریج انحصار ختم کر کے متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنا ہے۔ کوئلہ جلنے سے پیدا ہونے والی راکھ کے انتہائی باریک ذرات صحت کے لیئے بے حد نقصان دہ ہیں۔
ایک تازہ مطالعاتی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر انسان کے لیئے مہلک خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ اشٹٹ گارٹ یونیورسٹی کے اندازوں کے مطابق جرمنی میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی انتہائی باریک راکھ کے سبب جرمنی اور اس کے ہمسایہ ممالک میں ہر سال زندگی کے 33 ہزار سال ضائع ہو جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہر سال قریب تین ہزار ایک سو انسان قبل از وقت موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ راکھ اور گرد کے یہ انتہائی باریک ذرات سانس اور دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ کینسر کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے یہ ذرات پھیپھڑوں اور دوران خون تک میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ انتہائی باریک ذرات ایک تو براہ راست کوئلہ جلنے سے پیدا ہوتے ہیں، اس سے بھی زیادہ یہ ذرات بعدازاں فضا میں کیمیائی عمل کے نتیجے میں جنم لیتے ہیں۔ جلنے کے عمل کے دوران خاص طور پر سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹرک ڈائی آکسائیڈ فضا میں خارج ہوتی ہیں۔ جب یہ گیسیں فضا میں موجود امونیا کے ساتھ مل کر امونیم سلفیٹ اور امونیم نائٹریٹ بناتی ہیں تو تب یہ انتہائی باریک راکھ یا گرد جنم لیتی ہے۔ جرمنی میں ہر قسم کی سرگرمی کے باعث پیدا ہونے والی راکھ اور گرد کے انتہائی باریک ذرات کے باعث اس ملک میں ہر سال قریب 28 ہزار انسان قبل از وقت موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس میں سارا قصور صرف کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کا ہی نہیں ہے، کوئلہ قریب 10 فیصد قبل از وقت موت کا ذمہ دار ہے، 23 فیصد قبل از وقت اموات کے لیئے سٹرکوں پر رواں دواں ٹریفک اور بحری جہازوں کو قصوروار قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم سب سے زیادہ یعنی 40 فیصد قبل از وقت اموات زراعت کے نتیجے میں فضا میں امونیا گیس کے اخراج اور ہوا میں جنم لینے والے کیمیائی عوامل کے باعث ہوتی ہیں۔ جرمنی 2022 تک ایٹمی توانائی پر انحصار مکمل طور پر ختم کرنے کے لیئے پرعزم ہے۔ اس طرح جرمنی ایٹمی توانائی کو ترک کرنے والا پہلا صنعتی ملک بن جائے گا۔ جرمنی کو بجلی بنانے میں خصوصی مہارت حاصل ہے۔ جرمنی میں بجلی کی سالانہ کھپت 600 ٹیٹرا واٹ آور ہے۔ جرمنی محض ونڈ انرجی سے پچیس ہزار میگا واٹ سے زائد بجلی حاصل کر رہا ہے۔
پاکستان تقریباً گزشتہ ایک دہائی سے توانائی بحران کا شکار ہے۔ نجی شعبے پر انحصار اور حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی نے اس ضمن میں ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان میں پانی، سورج اور ہوا سے بجلی کی تیاری متبادل ذرائع بن سکتے ہیں۔ جوہری اور پن بجلی گھروں کی تعمیر میں پانچ سے دس سال لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی کے ضیاع کو کم کیا جانا چاہیئے۔ پاکستان میں بجلی کے بحران کا حل سیاسی پختگی اور اچھے طرز حکمرانی کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ سن 2050 تک جرمنی اس قابل ہو سکتا ہے کہ اپنی بجلی کی تمام تر ضروریات توانائی کے قابل تجدید ذرائع سے حاصل کر سکے۔ جرمنی میں 2038 تک کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر بند کر دیئے جائیں گے، تب تک کے عرصے کے لیئے ایسے تمام بجلی گھروں کو بہترین سے بہترین فلٹرز سے لیس کیا جانا چاہیئے تاکہ یہ کم سے کم ضرر رساں ذرات فضا میں خارج کر سکیں۔ انسانوں کو اموات اور امراض سے بچانے کے لیئے سیاسی شعبے کو بالآخر کوئلے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر ہی لینا چاہیے۔
(کالم نگارجرمنی میں مقیم ،بین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved