تازہ تر ین

پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے تیار ہیں ،کاریں تیار کرنے والی فیکٹری لگائیں گے ،فرانسیسی سفیر کیچینل ۵کے پروگرام ” ڈپلو میٹک انکلیو “ میں گفتگو

اسلام آباد (انٹرویو :ملک منظور احمد ،تصاویر :نکلس جان )پاکستان میں فرانس کے سفیر ڈاکٹرمارک بغیتی کا کہنا ہے کہ فرانس پا کستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے تیار ہے فرانس کی رینالٹ کار کمپنی فیصل آباد میں پیدا واری پلانٹ بھی لگائے گی دیگر کمپنیاں بھی پا کستان میں جلد ہی سرمایہ کاری کریں گی۔ پا کستان کو یورپی یونین کی طرف سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنے سے پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات میں 60فیصد تک اضافہ ہوا ہے فرانس نے پاکستان میں 1.2ارب یورو کی سرمایہ کاری پہلے ہی کر رکھی ہے 30فرانسیسی کمپنیاں پہلے ہی پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں مزید 10سے 15کمپنیاں بھی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہیں ، فرانس کے صدر میکرون، چین کے بلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو مکمل طور پر سپورٹ کرتے ہیں اور فرانس بھی چین کی طرح عالمی رابطے بڑھانے کے لیے کوشاں ہے ۔ پاکستان اور بھارت بھی جرمنی اور فرانس کی طرح باہمی مشاورت سے اپنے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں ہم اس سلسلے میں دونوں ممالک کو کوئی سبق نہیں دینا چاہتے لیکن فرانس اور جرمنی کے تعلقات سے سبق سیکھا جا سکتا ہے ۔ پاکستان سیا حت کے فروغ کے حوالے سے بہت صلاحیت رکھتا ہے فرانس پاکستان کے حوالے سے نافذ ٹریول ایڈوائزری میں پہلے ہی نرمی لا چکا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے چینل فائیو کے پروگرام ڈپلو میٹک انکلیو میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔ایک سوال کے جواب میں مارک بغیتی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بطور سفیر تعیناتی ان کی ترجیحات میں شامل تھی ،انھوں نے کہا کہ جو چیزیں بھی آپ کسی ملک کے بارے میں میڈیا سے سنتے ہیں حقیقت عموما اس سے مختلف ہوتی ہے ،پا کستان نے مجھے مایوس نہیں کیا اور میرا پا کستان میں قیام بہت اچھا جا رہا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ حکومت فرانس کی پا کستان کے ساتھ تعلقات میں پہلی ترجیح معاشی تعلقات ہیں اگر کسی بھی دو ملکوں کے درمیان سیاسی تعلق بہت مضبوط بھی ہوں لیکن ان ملکوں کے درمیان معاشی تعلق مضبوط نہ ہو تو ان سیاسی تعلقات کا بھی کوئی فا ئدہ نہیں ہوتا ۔فرانس کا دنیا بھر کی ما رکیٹس میں کاروباری حصہ اوسطا 1.2 فیصد ہے لیکن پا کستان میں فرانس کی کاروباری شراکت داری کا حصہ صرف 0.88فیصد ہے ہم اس کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں ،حکومت فرانس چاہتی ہے کہ پا کستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے فرنچ کار کمپنی رینالٹ فیصل آباد میں پلانٹ لگانا چاہتی ہے اس اقدام سے بھی پا کستان میں فرانس کی سرمایہ کاری میں اضا فہ ہو گا ۔اس کے ساتھ ساتھ پچھلے سال ہم نے دبئی میں پا کستان اور فرانس کے کاروباری برادری کے ساتھ ایک مشترکہ سرمایہ کاری کانفرنس کا بھی انعقاد کیا ،دبئی میں فرانسیسی کمپنیاں بڑی تعداد میں کا روبار کرتیں ہیں اور پا کستانی کمپنیوں کی بڑی تعداد بھی دبئی میں موجود ہے اس لیے ہم نے دبئی کو اس کانفرنس کے انعقاد کے لیے چنا بنیادی مقصد یہ ہی تھا کہ سرمایہ کاروں کو یہ بتایا جا سکے کہ پا کستان میں سرمایہ کاری کے کتنے مواقع موجود ہیں اور پا کستان میں سرمایہ کس طرح لگایا جا سکتا ہے ،اس کے ساتھ ساتھ اپریل میں پیرس سے ہماری بزنس کمیونٹی کا ایک وفد بھی پا کستان آرہا ہے جس میں 13فرنچ کمپنیوں کے نمائندے شامل ہوں گے ،ہم پا کستان میں فرنچ سرمایہ کاروں کو لانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میںڈاکٹر مارک بغیتی نے کہا کہ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری آئی ہے ،اور اس سے پا کستان میں سرمایہ کاری لانے کی کوششوں میں بہتری آئی گی ۔ان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ فرانس کی آٹو کمپنی رینالٹ پاکستان میں فیصل آباد شہر میں گاڑیاں بنانے کا پلانٹ لگانا چاہتی ہے اس مقصد کے لیے حکومت پا کستان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اب یہ اس بات پر منحصر ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں ،کیونکہ جب ایک فرنچ کمپنی پا کستان میں کام کرے گی تو اس کو دیکھ کر مزید فرنچ کمپنیاں بھی پا کستان کا رخ کریں گیں اور اگر یہ مذاکرات کا میاب نہ ہوسکے تو دوسری کمپنیاں بھی پا کستان کا رخ کرنے میں ہچکچائیں گیں ۔فرانس پہلے سے پا کستان کے چار شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے ان چار شعبوں میں تیل ،گیس ،فارما سیوٹیکل کی صنعت اور بیوٹی انڈسٹری شامل ہیں ان شعبوں میں ہماری ٹوٹل اور لو ریل جیسی کمپنیاں پہلے سے ہی پا کستان میں سرمایہ لاگئے ہوئے ہیں ۔پاکستان اور فرانس کے تجارتی حجم کے حوالے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرانس کے سفیر نے کہا کہ پاکستان کے اور فرانس کے درمیان کل تجارتی حجم 1.2ارب یورو ہے جو کہ برا نہیں ہے لیکن اس میں بہتری کی کافی گنجائش موجود ہے ،ان کا کہنا تھا کہ پا کستان کی فرانس کو برا ٓمدات 800ملین یورو ہیں اور فرانس کی پا کستان کو برآمدات کا حجم 400ملین یورو ہے ،فرانس کو پا کستان کے ساتھ تجارتی خسارے کا سامنا ہے ،پا کستان اور فرانس کے درمیان ایک اچھا تجارتی تعلق ہے اس کو مزید بڑھایاجا سکتا ہے ۔پاکستان اور فرانس کے سیاسی تعلقات کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے مارک بغیتی کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط سیاسی تعلقات پائے جاتے ہیں اور اس حوالے سے مزید کام بھی جاری ہے انھوں نے کہا کہ ان کا پا کستان آنے کے بعد پہلی ترجیح یہ ہی تھی کہ دونوں ممالک کے سیاسی تعلقات میں مزید بڑھا یا جا سکے ،ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ایک جا مع روڈ میپ بھی تیار کیا جاررہا ہے اور پا کستان کی سیکر ٹری خا رجہ تہمینہ جنجوعہ بھی اس حوالے سے بہت ہی متحرک ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ فرانس کے دائر یکٹر جنرل نے بھی حالیہ دنوں میں پا کستا ن کا دورہ کیا ہے اور اس دورے میں سیاسی تعلقات کو مزید بڑھانے پر مشاورت کی گئی اس کے ساتھ سالانہ بنیادوں پر پا کستان اور فرانس کے درمیان سیاسی مشاورت کا عمل بھی جاری ہے ،پا کستان اور فرانس کے درمیان ایک جوائنٹ سیکورٹی کمیشن بھی قائم ہے ،اور فرانس میں پا کستان کے سفیر مسٹر معین بھی اس حوالے سے بہت متحرک ہیں ۔پاکستان اور فرانس کے سیکورٹی کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ فرانس سیکورٹی کے حوالے سے پا کستان پولیس کی capacity buildingکا کام کر رہا ہے ،اور فرنچ ما ہرین پا کستان میں پولیس کی دہشت گردی کے خلاف صلاحتیوں میں اضافہ کے لیے کام کر رہے ہیں اس حوالے سے فرانس نے ایک ملین یورو کی رقم بھی خرچ کی ہے اس کے ساتھ فرانزک کے شعبے میں بھی دونوں ملکوں میں قریبی تعاون پا یا جاتا ہے اور فرانس لاہور میں قائم فرانزک لیب کے ساتھ بھی تعا ون کرتا ہے اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ سیکورٹی کے حوالے سے جن امور میں پا کستانی ماہرین نے اپنے آپ کو منوایا ہے ان امور میں فرانس بھی پا کستانی ماہرین کی مہارت کا فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں فرنچ سفیر نے کہا کہ فرانس طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے ،اور فرانس نے اس عفریت کے ہاتھوں نقصانات برداشت کیے ہیں پا کستان کو بھی دہشت گردی کے حوالے سے اسی قسم کے حالات کا سامنا رہا ہے ،دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور عالمی سطح پر ہی اس کا حل ہونا چاہیے دہشت کے حوالے سے کسی قسم کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا نہ ہی دہشت گردی کو کسی بھی طرح جائز قرار دیا جا سکتا ہے اس مسئلہ کا مکمل طور پر خاتمہ نہایت ضروری ہے ۔پاکستان کو درپیش معاشی مسائل پر انھوں نے کہا کہ معیشت کو ایک بٹن دبا کر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا ،معاشی معا ملات بہت پیچیدہ ہوتے ہیں اور معیشت کی درستگی ایک طویل پرا سیس ہوتا ہے مجھے امید ہے کہ موجودہ پا کستانی حکومت پا کستان کو درپیش معاشی مسائل کا حل نکال لے گی اور اس حوالے سے عالمی برادری آئی ایم ایف کے ذریعے پا کستان کی مدد کو تیار ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے پا کستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس دیئے جانے سے پا کستان کو فائدہ ہوا ہے اور پا کستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت بڑھی ہے ان کا کہنا تھا کہ اس معا ہدے کے بعد سے پا کستان کی یورپین یونین کے ممالک کو برآمدات میں 60فیصد تک اضافہ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ یورپی یونین کی پا کستان کو برآمدات میں بھی 40 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے ساتھ کچھ شرائط بھی ہوتیں ہیں اور ہمیں امید ہے کہ پا کستان ان شرائط پر پورا اترے گا ۔پاکستان اورفرانس کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے درمیان ملاقات کے حوالے سے مارک بغیتی نے کہا کہ فرانس کے صدر ایموئل میکرون نے نومبر میں پا کستان کے وزیر اعظم عمران خان کو پیرس میں انٹر نیشنل سمٹ کے موقع پر ملاقات کی دعوت دی تھی جوکہ بدقسمتی سے نہیں ہو سکی وزیر اعظم عمران خان پا کستان کے اندرونی معا ملات میں مصروف تھے ،ایسی عالمی انٹرنیشنل کانفرنسز میں شرکت سے عالمی لیڈروں سے ملاقات کے مواقع اور عالمی مسائل کے حل میں مدد ملتی ہے ،لیکن ہم پر امید ہیں کہ جلد ہی اس سلسلے میں کوئی پیشرت ہو گی ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ابھی ہمیں حکومت پا کستان کی طرف سے فرانسیسی شہریوں کے لیے ویزا فری ٹریول کے حوالے سے نوٹیفیکشن موصول نہیں ہوا ہے لیکن اگر یہ اقدام ہو جاتا ہے تو یقینی طور پر پا کستان کے لیے فائدہ مند ہے ۔ویزا فری ٹریول ہمیشہ ایک اچھی بات ہوتی ہے اور اس سے سیاحت کے فروغ میں مدد ملتی ہے ۔پاکستان میں سیا حت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پا کستان میں پشاور ،ٹیکسلا ،کراچی اور شمالی علاقہ جات سمیت پا کستان کے کئی علاقوں میں سفر کیا ہے میں گلگت بلتستان کے علاقوں شگر اور کھپلو میں بھی گیا ہوں پا کستان سیا حت کے فروغ کے لیے بہت ہی صلاحیت رکھتا ہے پاکستان میں گندھارا تہذیب کے اہم مقامات بھی پائے جاتے ہیں لاہور جائیں تو وہاں پر شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد جیسے سیاحتی مقامات ہیں اس کے بہا ولپور اور بلوچستان میں بھی سیاحتی شعبے کے فروغ کی بہت صلاحیت پا ئی جاتی ہے ۔پاکستان میں ایڈ ونچر ٹریول کے بھی بہت مواقع ہیں اس کے ساتھ ساتھ پا کستان کے کھانے بھی بہت ہی عمدہ اور لذیز ہیں ،پاکستان میں سیاحوں کے لیے بے شمار مواقع موجود ہیں میں جب گلگت بلتستان گیا تو مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس علاقے میں سیاحوں کے لیے رہائشی سہولتیں بھی بہت ہی عمدہ ہیں ،اگر میں فرانس کے سیاحتی شعبے کے حوالے سے بات کروں تو فرانس میں سالانہ بنیادوں پر 80ملین سیاح آتے ہیں اور سیاحت فرانس کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے سیاحت کو فروغ دے کر قومی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔فرانس پا کستان کے قومی ورثے کے تحفظ میں بھی معا ونت کر رہا ہے ۔پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے حوالے سے ڈاکٹر مارک بغیتی نے کہا کہ فرانس پا کستان کی ہا ئر ایجوکیشن کے شعبے میں بہت مدد کر رہا ہے فرانس پاکستان میں ایجوکیشن ویک منعقد کرواتا ہے اور اس کے علاوہ 700پا کستانی طالب علموں کے لیے اسکالرشپس بھی فراہم کی جاتیں ہیں ۔فرانس کے صدر میکرون نے ما حولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اسکالر شپس کا ایک خصوصی پروگرام بھی شروع کیا ہے اس پروگرام کے تحت انوائرمنینٹل اسٹڈیز میں تعلیم کے خواہش مند طا لب علموں کو اسکالشپس فراہم کی جارہیں اور ما سٹز ز اور پی ایچ ڈی کے پرو گرام چلائے جاتے ہیں مقصد یہ ہے کہ ماحولیات کو بہتر کرنے کے حوالے سے زیادہ سے زیا دہ ماہرین پیدا کیے جا ئیں جو کہ ماحولاتی مسائل کے حل میں مدد گار ثابت ہوں ۔ثقافتی شعبے میں تعاون کے حوالے سے اس کا کہنا تھا کہ فرانس سفارت خانہ کے تعاون سے مختلف پروگرامز کا انعقاد بھی کروایا جاتا ہے ان پروگرامز میں میوزک کانسٹرٹ اور orchestra performanceاور ڈبیٹ مقابلے بھی شامل ہیں فرانس تقریری مقابلوںکے فروغ کو بہت اہمیت دیتا ہے اور فرانس کے تعاون سے کراچی ،پشاور اور لاہور سمیت کئی شہروں میں یہ مقابلے کروائے جا رہے ہیں ۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پا کستان سے تعا ون پر ان کا کہنا تھا کہ فرانس ما حولیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کو بہت اہمیت دیتا ہے اس سلسلے میں ہی پیرس میں کوپ 21 کے نام ایک بڑا انٹرنیشنل ایونٹ بھی منعقد کروایا گیا ۔اس حوالے سے فرانس کی حکومت پا کستانی حکومت کو تعاون فراہم کرتی ہے اور پا کستانی این جی او ز کو بھی اس حوالے سے تعا ون فراہم کیا جا تا ہے ،فرانسیسی بینک اے ایف ڈی کے تحت پا کستان پن بجلی چلنے والے کئی منصوبوں کی فنڈنگ بھی کی جا رہی ہے ،اس کے ساتھ پشاور بی آر ٹی کے منصوبے کو بھی اس بینک کی فنڈنگ حاصل ہے اس منصوبے میں ایسی بسوں کا استعمال کیا جائے گا جو کہ بہت ہی ما حول دوست ہوں گیں اور ان بسوں کے چلنے سے فضائی آلودگی کو کم کرنے میں خاطر خواہ مدد بھی ملے گی ۔سی پیک منصوبے کے حوالے سے فرنچ سفیر نے کہا کہ فرانس دنیا میں رابطوں کے فروغ میں پیش پیش ہے ان کا کہنا تھا فرانس کے صدر میکرون نے چین کے BRIمنصوبے کا مکمل طورحمایت کا اعلان کیا ہے ،لیکن فرانس چاہتا ہے کہ ان منصوبوں میں مکمل شفافیت ہونی چاہیے ۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں فرانس اور جرمنی کے تعلقات بہت ہی خراب رہے ہیں لیکن جنگ عظیم دوئم کے بعد دونوں ممالک کی لیڈشپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اب تعلقات کو بہتر بنانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے لیکن یہاں پر میں یہ کہوں گا کہ یہ کوئی آسان عمل نہیں ہے اس میں بہت سی مشکلات بھی پیش آئیں یورپی یونین کا قیام بھی اس لیے عمل میں لا یا گیا تاکہ متحارب ممالک میں تجارت شروع کروا کر ان کے معا ملات بہتر کیے جا سکیں ۔فرانس اور جرمنی اب الیزے ٹریٹی کو بھی اگلے مرحلے میں لے جا رہے ہیں ۔ہمارے سفارت کار ایک دوسرے کے سفارت خانوں میں انٹرنشپ کرتے ہیں دونوں ممالک کی کابینہ کی مشترکہ میٹینگز ہوتیں ہیں اگر فرانس اور جرمنی یہ کر سکتے ہیں تو پا کستان اور بھارت کیوں نہیں ؟تعلقات بہتر بنانے کے لیے سیاسی ول کی ضرورت ہوتی ہے ۔میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پا کستان اور بھارت فرانس اور جرمنی سے سبیق سیکھے لیکن فرانس اور جرمنی کے ماضی سے سبق سیکھا جا سکتا ہے ۔افغان امن عمل کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ،ہم پا کستان کے شکر گزار ہیں کہ پا کستان اس عمل کا حصہ بنا ہے ہم امید کرتے ہیں کہ اس عمل کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے عوام کے لیے امن اور خوشحالی کا راستہ نکلے گا ۔پاکستان پر یورپی یونین کی جانب سے عائد ٹریول ایڈ وائزری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی حکومت سے اس حوالے سے بات کی ہے اور اس ایڈوائزری کو آسان کر دیا گیا ہے تاہم جب تک غیر ملکیوں کو پا کستان کے کچھ علاقوں میں جانے کے لیے این او سی درکار ہو گا یہ ایڈ وائزری مکمل طور پر ختم نہیں کی جا سکے گی ۔پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے حوالے سے مارک بغیتی نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت فروغ پا رہی اور ان کی حکومت پا کستان میں جمہوری عمل کی حمایت جاری رکھے گی ۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved