تازہ تر ین

مودی کی اپنی کوئی ساکھ نہیں ،پلوامہ حملے کی تحقیقات کسی غیر جانبدار ادارے سے کرائی جائے،معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ انڈیا سے یہی توقع کی جا سکتی تھی مودی سے یہی توقع کی جا سکتی تھی کہ پلوامہ جیسے کسی ایک واقعہ میں یقینی طور پر خود ان کا ہاتھ بھی ہو سکتا ہے لیکن وہ اسے کس طرح سے استعمال کریں گے اور پاکستان پر فوراً الزام جڑ دیا کہ یہ پاکستان نے کرایا ہے حالانکہ اس طرح کے سنگین جرائم کے بارے کوئی ثبوت کوئی دلیل کوئی جواز دینا ضروری ہوتا ہے لیکن دلخراش واقعہ کی ابھی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ انڈیا نے مودی خود یہ الزام لگا دیا کہ یہ حرکت پاکستان نے کی لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو کچھ مودی، جو کچھ انڈیا کی حکومت کرتی ہے ان سے تو شاید اس کے سوا کچھ توقع بھی نہیں کی جا سکتی لیکن میں آپ کی توجہ آج ہی کے سلسشلہ مںی دلاتا ہوں کہ کس طرح سے آج صبح سے لے کر اور آج شام تک جب تک اس کی تردید نہیں ہو گئی مسلسل یہ پاکستان کے میڈیا میں خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا میں جس کی باگ ڈور جو ہے وہ ایک ایسا ادارہ چلا رہا ہے جس کے بارے میں خود پاکستانی فوج کو شکایت، پاکستان کی حکومت کو شکایت رہی ہے کہ وہ مسلسل اس کے سوتے جو ہیں وہ پھوٹ رہے ہیں انڈیا مفادات سے تو آپ یہ دیکھئے کہ گزشتہ ایک رات کا وقت گزار ہے ابھی جو سعودی شہزادہ، سعودی ولی عہد میرے خیال میں اپنے گھر پہنچا ہو گا کہ یہ سلسلہ شروع ہو گیا کہ وہ پاکستان کے بعد انڈیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب تھا حالانکہ ان کا جو شیڈول تھا اس میں تھا کہ وہ شاید چین جائیں گے لیکن وہ چین بھی نہیں گھے ان کا شیڈول ملائیشیا جانا تھا وہ تو ملائیشیا بھی نہیں گئے لیکن یہ کنفرمیشن آ گئی، صبح سے ایک پاکستان کا صف اول کا اخبار جو ہے وہ اور اس کا الیکٹرانک میڈیا صبح سے لگا ہوا ہے کہ شہزادہ صاحب انڈیا جا رہے ہیں۔ بلکہ اتنی تبدیلی کوئی آتی ہے کہ جناب پاکستان اور انڈیا یعنی ایک طریقے سے سعودی مہمان کو مشتعل کرنے کے لئے ہے کہ سعودی مہمان کو کہ پاکستان کے دورے کے فوراً بعد وہ انڈیا جا رہے ہیں اور انڈیا کے ساتھ تجارت کا حجم اتنا ہے پاکستان سے حجم اتنا ہے اور کئی گنا انڈیا کے ساتھ حالانکہ انڈیا پاکستان سے 5 گنا تو پاکستان سے انڈیا کی آبادی زیادہ ہے ظاہر ہے کہ اسی تناظر سے ان کا تجارت کا پھیلاﺅ بھی ہو سکتا ہے۔ پھر یہ آیا کہ جتنی کمپنیاں ہیں ان کے سربراہ جو ہیں ان کے سربراہ ایکسپورٹ امپورٹ کا کام کرتی ہیں ان کے سربراہ جو ہیں وہ ہندو ہیں پھر یہ بات آئی کہ اخبار پڑ کر دیکھیں تو وہ تلا ہوا ہے اس بات پر جو کچھ کراﺅن پرنس نے کل کیا تھا آج اس کو وہ ان ڈو کر دے گا یعنی پاکستان نے خیر سگالی کا ماحول پیدا کر کے جا رہا ہے وہ اپنے آپ کو پاکستان کا سعودی عرب میں سفیر قرار دے رہا ہے۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ جی ان کی انڈیا سے زیادہ تجارت پاکستان کی نسبت، اور ان کی کمپنیوں کے سارے سربراہان بھی ہندو ہیں دیکھئے یہ بڑی افسوسناک بات ہے حالانکہ مرحلہ یہ ہے کہ تھوڑی دیر پہلے پتہ چلا کہ ملائیشیا بھی نہ گئے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کہاں گئی یہ ساری کائٹ فلائنگ جو شروع ہے اور پاکستان کے دوسرے جو اخبار ہیں۔ جو دوسرے جو چینلز ہیں، غیر شعوری طور پر اس بات سے متاثر ہی ںکہ فلاں اخبار اور فلاں ادارے نے یہ بات کی تھی اس لئے ضرور اس میں کوئی صداقت ہو گی چنانچہ یہ دھڑا دھڑ کائٹ فلائنگ شروع ہے شام سے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کراﺅن پرنس وہ جا رہا ہے انڈیا۔ یہ ایک طرح سے پاکستان کے دورے کے فوراً بعد انڈیا جانا ہے اصل میں ایک طرح Under mine کرنا ہے جو کراﺅن پرنس کی پاکستان دوست، خیر سگالی، آج تو یہ بھی آ گیا کہ ایک ارب ڈالر وہاں بھی انویسٹمنٹ کرے گا، بھئی جیسے پتہ چل گیا۔ کیا اس ادارے کے رپورٹروں کو اور اس ادارے کے معلومات رکھنے والوں کو خاص طور پر ہدایت ملی اور کسی اخبار کسی چینل کو نہیں ملی۔ دن بھر جو شوشہ چھوڑے جاتے رہے کہ ہمارا تجارت کا توازن کتنا ہے ان کا کتنا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ جو کہتے ہیں کہوہ جن کے لئے ہم نے مانگی دُعائیں
ہمیں سے ہمارا لہومانگتے ہیں
وہ لوگ جن کو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستان کے ادارے ہوں گے پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے وہ تو خود پاکستان کے دوستوں اور پاکستان کے حامیوں کو اشتعال دلا رہے ہیں اور ان کا تمسخر اڑا رہے ہیں۔
پاکستان کی حکومت کی طرف سے آج یہ مطالبہ سامنے آ گیا ہے عمران خان نے کہا ہے کہ ہم خود چاہتے ہیں کہ اس واقعہ کی کھوج لگائی جائے لیکن انہوں نے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات غیر جانبدارانہ ہونی چاہئیں اور تحقیقات وہ ادارے کریں جن کی اپنی کریڈیبلٹی ہو مودی صاحب کی تو اپنی کوئی کریڈیبلٹی نہیں ہے جب بات کرتے ہیں پاکستان کے خلاف بات کرتے ہیں وہ تو سرے سے پاکستان کا نام نہیں سنتے ان کی بات پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے۔ اب تو کشمیر میں زندگی جام ہو چکی ہے اب تو آزادی سے سڑکوں پر نکلا نہیں جا سکتا۔ کاروبار بند، دکانیں بند دفاتر آدھے کھلے آدھے بند، انڈیا نے کشمیر کا جو حشر کیا ہوا ہے وہ تو بند مٹھی کی طرح ہے۔ کشمیریوں کو سانس لینے اور پھڑ پھڑانے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔
شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے امکان بارے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ دونوں بھائیوں کے عزیز و اقارب پاکستان سے باہر بھاگنا چاہتا ہوں۔ مںی دلائل سے بات کرتا ہوں کہ دیکھئے وہ کون سا باپ ہوتا ہے جس کی اولاد مقدموں میں پھنسا دے اور پیسہ تو وہ باپ کا کھاتے، ان کے پیسوں پر عیاشی کرے لیکن وہ عملاً صورت حال یہ ہے جب باپ پکڑا جائے تو پتہ لینے کوئی نہیں آیا۔ باپ دربدر ہوا وہ بڑے مزے سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ نہیں در بدر ہوئی۔ اسحق ڈار بیماری کے بہانے باہر گئے اور واپس ہی نہیں آئے۔ یہ سمجھتے ہیں لوگ اندھے ہیں اور کون سی ایسی بیماری ہے جو صرف لندن جا کر درست ہو جاتی ہے اور اب تو ٹیلی ویژن چینلوں نے دکھایا کہ اسحق ڈار کس ٹھاٹ باٹھ سے سڑکوں پر چل رہے ہیں دکھائی دیتے ہیں مختلف چینلوں پر وہ کس طرح سے آنکھ بچا کر کیمروں کے پیچھے سے نکل جاتے ہیں۔ تو کیا وہ بیمار ہیں۔ اسحاق ڈار لندن میں مٹر گشت کرتے پھرتے ہیں، ان کے بارے خبر ہے کہ شادی بھی کر لی ہے۔ اب بیمار آدمی تو ایسا نہیں کر سکتا۔ بدقسمتی ہے کہ یہاں ہر سیاسی رہنما اپنی مرضی کے فیصلے چاہتا ہے۔ جعلی اکﺅنٹس کیس کی سماعت سندھ میں ٹھیک ہے تو اسلام آباد میں کیوں ٹھیک نہ ہو گی۔ اصل بات یہ ہے کہ قدرت خود حقائق کو بے نقاب کر رہی ہے یہ لوگ جب پکڑے جاتے ہیں تو سندھ کارڈ، صوبائی خود مختیاری یاد آ جاتی ہے۔ کلبھوشن کیس کے فیصلے بارے ابھی پیش گئی نہیں کی جا سکتی تاہم بادی النظر میں یہی سامنے آ رہا ہے کہ بھارت کے پاس بہت سے سوالات کے جواب نہیں ہیں۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کو منسوخ کرنے کی بات کر رہا ہے تو جلد کرے کیونکہ ہم بھی اس معاہدے بارے غیر مطمئن ہیں ۔ پانی کے مسئلہ پر عدالت میں یا میدان جنگ میں لرائی ہونا ہے تو ہو جانی چاہئے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved