تازہ تر ین

لودھراں :سود خور ڈیڑھ کروڑ سے زائد ہڑپ گیا ،قتل کی دھمکیاں ،متاثرہ شہری انصاف کیلئے خبریں آفس پہنچ گیا ،” خبریں ہیلپ لائن “ میں انکشاف

لودہراں(رپورٹ : امین چوہدری )سود خورمافیانے لودہراں کو جکڑ لیااڈہ پرمٹ جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا مرکز بن گیا ایجنٹوں کے ذریعے کاروبار جگہ جگہ دفاتر قائم ضرورت مند اور سادہ لوح افراد زیورات ،جائیدادوں سے محروم سالہا سال سود ادائیگی کے باوجود جان چھڑانا نا ممکن بلینک چیک لیکر بلیک میل کیا جانے لگا بین الصوبائی سود خور محمد اکبر نے سادہ لوح افراد کو لوٹ لوٹ کر محلات بنا لیئے غریب محنت کش کی ڈیڑھ لاکھ مالیت کی گائے ،1لاکھ 25ہزار نقد رقم اور 6ایکٹر رقبہ مالیتی
1کروڑ 20لاکھ روپے بھی ہڑپ لیا متاثرہ سود خور نے حصول انصاف کی خاطر ”خبریں“کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ”خبریں“کے توسط سے اعلیٰ حکام ،RPOملتان اور DPOلودہراں سے سودخور کیخلاف سخت سے سخت کاروائی کا مطالبہ اگر اسے انصاف نہ ملا تو وہ DPOآفس کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کر لے گا ۔تفصیل کے مطابق لودہراںمیں سود خوری باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کر گئی ہے کئی علاقوں جن میں اڈہ پرمٹ ،امیر پور اسٹیشن ،دھنوٹ،میلسی چوک،کہروڑ پکا ،ڈانواراں ،گیلے وال ،قریشی والا ،پرمٹ،شاہنال،بھوبت پور،شیر پورسمیت دیگر علاقوں میں سود خوروں کے پوائنٹ اور خوبصورت دفاتر قائم ہیں اور ایجنٹ بھرتی کئے ہوئے ہیں سادہ لوح دیہاتی اور ضرورت مند شہریوں کو قرض لینے کی ترغیب دیتے ہیںاور پھر لوگوں کے زیورات ،جائیدادیں گروی رکھ کر انھیں قرضے دیدتے ہیں قرض دیتے وقت ضمانت کے طور پر چیک بھی رکھ لیتے ہیں سود خور انھیں جو رقم دیتا ہے اسکی پہلی قسط قرض دیتے وقت وصول کر لی جاتی ہے یعنی کہ اگر 50ہزار کا قرض دیتا ہے تو پہلی قسط 10ہزار منہا کر لیتا ہے اور پھر جو شخص قرض لیتا ہے وہ ساری زندگی صرف سوادا کرتا رہتا ہے جبکہ اہل رقم باقی بچی رہتی ہے بستی جھوک والا موضع سمرا کے رہائشی محمد مختیار نے ”خبریں“دفتر آکر بتایا کہ اس نے بوقت ضرورت بین الصوبائی سود خور محمد اکبر سے 78ہزار روپے لیئے اور گارنٹی کے طور پر 2عدد بلینک چیک اور ایک عدد پرونوٹ دیا مقررہ وقت عرصہ 6ماہ میں طے شدہ رقم 1لاکھ روپے اسے ادا کر دی اور اس سے اپنے دیئے گئے گارنٹی چیک اور پرونوٹ کی واپسی کی ڈیمانڈ کی جس پر اس نے لیت ولعل سے کام لینا شروع کر دیا اور کہا کہ تمہارے دیئے گئے چیک اور پرونوٹ میرے دوست کے گھر لودہراںمیں رکھے ہوئے ہیں میرا لودہراں چکر لگے گا تو میں تمہیں اٹھا کر لا دوں گا میں اس کے گھر دوکان پر چکر لگاتا رہا عرصہ 5ماہ مجھے اس کے پیچھے چکر لگاتے گزر گئے مگر اس نے مجھے میرا دیا گیا امانتاََچیک و پرونوٹ نہ لوٹایا پھر ایک دن میرے گھر آیا اور مجھے کہا کہ میں نے تمہیں جو رقم دی تھی اس رقم کا منافع 2لاکھ بنتا ہے جو کہ تمہارے ذمے واجب الادا ہے اگر تم نے نہ لوٹائے تو اس کا انجام بہت برا ہوگا اور میرے گھر سے میری ڈیڑھ لاکھ مالیت کی گائے بمعہ بچھڑا کھول کر لے گیا اور میرے خلاف تھانہ سٹی لودہراں میں میرے چیک پر میمو لگوا کر 25لاکھ روپے کی رقم درج کر کے جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ نمبری78/15درج کروا دیا جس کی انکوائری پر مجھے بے گناہ لکھ دیا گیا مگر اس ظالم وجابر سود خور نے میرا پیچھا نہ چھوڑا اور میرے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کروا دیا جس پر مجھے 1سال قید اور 30ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی گئی اور میں 3ماہ تک جھوٹے مقدمہ کی وجہ سے جیل میں پڑا رہااور میرا6ایکٹر رقبہ مالیتی 1کروڑ 20لاکھ روپے بھی ہڑپ لیا گیا اور اب میرا اور میرے بچوں کا جینا حرام بنا رکھا ہے اور آئے روز میرے گھر پر کرائیے کے غنڈوں کے ہمراہ دھاوا بوالا جاتا ہے اور مجھے جان سے مار نے جیسی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ان سود خوروں کے ہائر کردہ کرایئے کے غنڈوں نے میرا اور میرے اہل خانہ کا جینا دوبھر کر دیا ہے اور ان کی وجہ سے میرا میرے ہی گھر میں جانا بند ہو گیا ہے اور میں ان سود خوروں کی وجہ سے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوں میں نے اس ظالم وجابر سود خوروں کیخلاف قانون کا دروازہ کئی بار کھٹکھٹایا مگر میری اک نہ سنی گئی کیونکہ مبینہ طور پر ماہانہ بھاری منتھلیوں کے عوض پولیس بھی اس کی سرپرست بنی ہوئی ہے اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی نہ کی جا رہی ہے بلکہ الٹا مجھ پر ہی دباو¿ ڈالا جا رہا ۔ اڈہ پرمٹ لودہراں کو جنوبی پنجاب کے سود کا سب سے بڑا مرکز بھی کہا جا سکتا ہے متاثرہ سود خور نے حصول انصاف کی خاطر ”خبریں“کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ”خبریں“کے توسط سے اعلیٰ حکام ،RPOملتان اور DPOلودہراں سے سودخور مافیا کیخلاف سخت سے سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے اوپر درج جھوٹی اور بے بنیاد FIRکے خاتمہ کی اپیل کی ہے متاثرہ سود خور محمد مختیارنے مزید کہا کہ اگر اسے انصاف نہ ملا تو وہ DPOآفس کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کر لے گا ۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved