تازہ تر ین

2 ارب روپے کی منی لانڈرنگ، 6 کروڑ ٹیکس چوری کا انکشاف

کراچی (ویب ڈیسک ) فیڈرل بورڈ ا?ف ریونیو کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ ا?ف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیوکراچی نے 6کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ٹیکس چوری اور2 ارب کی منی لانڈرنگ کا سراغ لگالیا ہے۔
فیڈرل بورڈ ا?ف ریونیو کے مطابق 6کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ٹیکس چوری اور2 ارب کی منی لانڈرنگ میں محمد رضوان اور محمداجمل نامی افراد غیرقانونی لین دین میں ملوث پائے گئے ہیں۔ دونوں کے8بینک اکاو¿نٹس سے 2ارب روپے مالیت کی مشکوک ٹرانزیکشنزکی گئی ہیں۔
ایف بی ا?رکے متعدد نوٹسز بھیجے جانے کے باوجوددونوں افراد روپوش ہوگئے ہیں۔ رضوان اور اجمل نے بینکوں میں خشک میوہ جات، کان کنی اور برتنوں کاکاروبار ظاہر کیا ہوا ہے۔ دونوں افراد نے کپڑا، گھی، چائے اور جائیدادکی خریدوفروخت کی مدمیں ادائیگیاں کیں جو ان کے ظاہر کردہ کاروبار سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ایف بی ا?ر نے ایف اے ٹی ایف کے تناظر میں مشکوک بینک لین دین پر کریک ڈاو¿ن سخت کردیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ دونوں افراد نے بینک اکاو¿نٹس کراچی میں کھولے اور رقوم پشاور کے مختلف بینکوں میں منتقل کی گئیں۔ ایف بی ا?ر کے نوٹس کے مطابق محمد اجمل کے کاروباری ادارے سلطان کراکری کے بینک اکاو¿نٹ میں ا?نے والے 48 کروڑ 90 لاکھ روپے پشاور کے بالکل مختلف اور غیرمطابقتی اکاو¿نٹ میں منتقل کی گئی یعنی یہ رقم جس کاروباری بینک کھاتے میں منتقل کی گئی وہ سلطان کراکری کے کاروبار سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا تھا اسی وجہ سے ٹرانزیکشن کو مشکوک قرار دیا گیا۔
اسی طرح محمد اجمل نے کول مائننگ کے کاروبار کے نام پردوسرے نجی بینک میں اکاو¿نٹ کھولا جہاں انھوں نے اپنے دفتر کا پتہ وہی درج کیا جو سلطان کراکری کے دفتر کا تھا حالانکہ ان کے پاس متعلقہ ادارے کا کوئی لائسنس یا سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا، اس بینک کھاتے سے ماہانہ اوسط 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کی ٹرانزیکشن کی گئیں، یہ بات بھی محسوس کی گئی کہ محمد اجمل کے بینک کھاتوں سے روزانہ پشاورکی بینک شاخوں میں متعدد مرتبہ فنڈ ٹرانسفر کیے جاتے رہے جس کی ستمبر 2015 تک مجموعی مالیت 14 کروڑ 70 لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved