تازہ تر ین

خطیب مسجد اقصیٰ اور غزہ کے مہاجر کیمپ

عبدالغفار عزیز….مہمان کالم
سرخ و سپید نورانی چہرہ، گردن کو ڈھانپتی ہوئی سفید براق داڑھی، دائمی مسکراہٹ اور بے تکلف شخصیت کے مالک، یہ تھے ڈاکٹر محمد صیام۔ بچپن ہی سے قرآن و سنت اور نیک لوگوں سے تعلق و محبت نے ان کے لیے رب ذوالجلال کی لازوال نعمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول دیے۔ پانچ سال تک قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے خطیب رہے۔ 15 فروری 2019ءبروز جمعہ سوڈان میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ دعا اور یقین ہے کہ اللہ کی رحمت نے آگے بڑھ کر استقبال کیا ہوگا۔
ڈاکٹر محمد محمود صیام 1935ءمیں مصر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمود صیام کا تعلق فلسطین کے قصبے الجور سے تھا۔ تلاش معاش کے لیے مصر کے صوبہ الشرقیہ میں جابسے۔ ایک مصری گھرانے میں شادی ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد والدین نے واپس فلسطین جانے کا فیصلہ کرلیا۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ اسی دوران فلسطین پر قبضہ کرتے ہوئے اسے صہیونی ریاست اسرائیل بنادینے کا اعلان کردیا گیا۔ بچپن کی وہ تلخ یادیں ان کے دل و دماغ پر نقش تھیں۔ ان کے ساتھ سفروحضر میں کئی ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا۔ آئیے ان کی کہانی خود انھی کے بیان کیے گئے واقعات کی روشنی میں سنتے ہیں:
میں 6 سال کا تھا جب ہم اپنے والدین کے ہمراہ آبائی گاوں الجور واپس چلے گئے۔ آئے دن ہمیں سننے کو ملتا تھا کہ یہودی ہمارے گاﺅں سمیت پورے ملک پر قبضہ کرکے ہمیں وہاں سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ میں بارہ سال کی عمر کو پہنچا تو ایک روز زندگی کے یہ تلخ ترین لمحات دیکھنا پڑگئے۔ یہودیوں نے ہمارے گاوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ دیگر آبادیوں کی طرح ہمیں بھی فوراً اپنا گھربار چھوڑ کر وہاں سے چلے جانے کا حکم دیا گیا۔ اس دور کی تلخ یادوں میں سے ایک یہ ناقابل فہم اور تلخ حقیقت بھی مجھے یاد ہے کہ ہمیں جب اپنے گھروں سے نکالا گیا، اس سے چند روز قبل وہاں مصری فوج کے دستے آئے اور انھوں نے تلاشی لیتے ہوئے تمام شہریوں سے ہر طرح کا اسلحہ ضبط کرلیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کا تحفظ ہم کریں گے لیکن امن و امان کی حفاظت کے لیے آپ لوگ اپنا ہر طرح کا اسلحہ ہمیں جمع کروادیں۔ اسلحہ مصری افواج کو جمع کروادیے جانے کے بعد صہیونی لشکر آئے اور انھوں نے خوں ریزی کرتے ہوئے ہمیں وہاں سے نکال باہر کیا۔ ہم پر ہر طرف سے فائرنگ شروع کردی گئی تو سارے گاوں والے گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے۔ کچھ دیر پیدل چلنے کے بعد مجھے ایک اونٹ پر سوار کردیا گیا۔ اس لٹے پٹے قافلے کو مزید خوف زدہ کرنے کے لیے برطانوی فوج کے جہاز انتہائی نیچی پرواز کرتے ہوئے مسلسل ہمارے اوپر سے گزر رہے تھے، تاکہ ہم جلد از جلد اس پورے علاقے سے دور نکل جائیں۔ بعض اوقات جہاز اتنا نیچے آجاتے تھے کہ لگتا تھا، ہمیں اچک کر لے جائیں گے۔ ایک بار جہاز نے نیچے غوطہ لگایا تو میں نے خوف زدہ ہوکر اونٹ سے چھلانگ لگا دی۔ اسی طرح بھاگتے دوڑتے ہم کئی گھنٹے پیدل چلنے کے بعد غزہ شہر جاپہنچے۔ وہاں کئی مہاجر کیمپ قائم ہوچکے تھے۔ ہم بھی ایک مہاجر کیمپ میں چلے گئے، ہماری طرح وہاں موجود ہر شخص یہی سوچ اور امید رکھتا تھا کہ حملے اور قتل و غارت کے یہ دن جلد ختم ہوجائیں گے۔ ہم سب جلد اپنے اپنے گھر واپس چلے جائیں گے۔ ہم نے اپنے گھروں کی چابیاں سنبھال رکھی تھیں اور ہر کوئی پیچھے رہ جانے والے مویشیوں اور کھڑی فصلوں کے بارے میں فکر مند تھا۔
دن ہفتوں اور ہفتے مہ و سال میں بدلنے لگے، لیکن فلسطین کے مختلف مہاجر کیمپوں میں بسنے والے لاکھوں فلسطینی باشندوں کو اپنے علاقوں اور گھروں کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ہم غزہ کے ایک قصبے خان یونس میں سمندر کنارے واقع ایک کیمپ میں رہ رہے تھے۔ ہمارے بڑوں نے وہیں ہمارے لیے عارضی سکول قائم کردیے تھے۔ ہم اپنے ساتھ ابتدائی کتابوں اور کاپیوں کے علاوہ ایک ایک اینٹ یا پتھر بھی لے کر جاتے تھے تاکہ ان پر بیٹھ کر پڑھ سکیں۔ اس عالم میں بھی ہم صہیونی حملوں سے محفوظ نہیں تھے۔ ان کے جہاز آئے دن آکر ہمارے مہاجر کیمپوں پر بھی فائرنگ کردیتے تھے۔ اسی طرح کے ایک حملے میں ایک دن میرے والدصاحب کو بھی شہید کردیا گیا۔ وہ اس وقت مہاجرین میں کھانا تقسیم کررہے تھے۔
مہاجر کیمپ میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے مختلف ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لینا شروع کردیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان سرگرمیوں کا اہتمام کرنے والوں کا تعلق الاخوان المسلمون سے تھا۔ ہم نے قرآن کریم حفظ کیا۔ ہمیں مختلف کھیلوں اور ورزشوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔جناب احمد یاسین بھی ہمارے ہم جولیوں میں شامل تھے۔ ہم شام کے وقت ساحل سمندر پر دوڑ لگانے اور لمبی چھلانگیں لگانے کا مقابلہ کرتے۔ کبھی یہ بھی ہوتا کہ ایک ساتھی رکوع کے عالم میں کھڑا ہوجاتا، ہم دور سے دوڑ کر آتے اور اسے چھوئے بغیر اس کے اوپر سے کود جاتے۔ کبھی ایک نہیں دو دو اور تین تین نوجوان اکٹھے کھڑے ہوتے اور ہم ان کے اوپر سے چھلانگ لگالیتے۔ ایک روز اسی طرح کی چھلانگ لگاتے ہوئے ہمارا دوست احمد یاسین گردن کے بل جاگرا، سخت چوٹ لگی۔ ہم اسے اٹھاکر ان کے گھر لے گئے۔ پانی گرم کرکے مسلسل ٹکور کرتے رہے، لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا اور بالآخر وہ مفلوج ہوگئے۔ اللہ کی قدرت کہ ایک روز اسی مفلوج شخص نے اللہ کے حکم و توفیق سے پوری فلسطینی قوم کو ایک نئی زندگی دے دی۔
غزہ کے مہاجر کیمپ ہی کی یہ یادیں بھی دل میں تازہ ہیں کہ ہمارے اساتذہ ہمیں تقاریر کی تربیت بھی دیا کرتے۔ کبھی یہ ہوتا کہ کسی چھوٹی کشتی میں سوار ہوکر ہم کھلے سمندر میں چلے جاتے۔ ہمارے اساتذہ ہمیں فی البدیہ تقریر کرنے کے لیے کوئی موضوع دیتے اور کہتے کہ یہ سمندر کی موجیں، موجیں نہیں آپ کے سامعین ہیں۔ آپ نے ان سے خطاب کرنا ہے۔ ہم تقریر کرتے اور ہمارے اساتذہ ساتھ ساتھ اپنا تبصرہ نوٹ کرتے جاتے۔ اس وقت کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا کہ سمندر کی لہروں سے کیے جانے والے یہ خطاب بالآخر قبلہ اول کے منبر پہ خطبات جمعہ کی بنیاد بنیں گے۔
غزہ کے مہاجر کیمپ سے اپنے گھروں کو واپسی تو نہ ہوسکی لیکن ہم کسی طرح وہاں سے نکل کر مصر اور پھر کویت پہنچ گئے۔ وہاں میں نے باقی تعلیم مکمل کی اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگیا۔ 30سال تدریس کا موقع حاصل رہا۔ پھر مکہ مکرمہ کی ام القریٰ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کے لیے اسکالر شپ مل گیا۔ پی ایچ ڈی کرنے کے بعد ہم واپس غزہ لوٹ گئے۔ شیخ احمد یاسین نے وہاں اسلامی یونی ورسٹی غزہ کی بنیاد رکھ دی تھی۔ 1983ءمیں مجھے وہاں تدریس اور پھر یونی ورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر چن لیا گیا۔ 1984ءمیں اللہ تعالی نے مجھے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ اول مسجد اقصی میں خطابت کا شرف عطا کردیا۔ مجھے یاد ہے کہ پہلی بار مسجد اقصی کے منبر پر کھڑا ہوا تو دل لرز رہا تھا اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ بار بار یہ خیال آرہا تھا کہ یہ قبلہ اول ہی نہیں مقبوضہ قبلہ اول ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور پھر صلاح الدین ایوبی نے اسے صلیبیوں کے قبضے سے آزاد کروایا تھا، لیکن اس وقت پھر صہیونی قبضے میں ہے۔ ہم نے یہاں صرف اللہ کے حضور سجدہ ریز ہی نہیں ہونا،قبلہ اول کی آزادی کے لیے فریضہ جہاد کو بھی زندہ کرنا ہے۔ مجھے چار برس تک مسجداقصیٰ میں خطابت کا اعزاز حاصل رہا۔ 28 جولائی 1988ءکو صہیونی افواج نے اس سے محروم کرتے ہوئے مجھے وہاں سے نکال دیا۔ اس دن خود یہودی سرکاری ذرائع کے مطابق مسجد اقصیٰ میں 2 لاکھ 40 ہزار اہل ایمان نے نماز جمعہ ادا کی تھی۔ مجھے وہاں سے نکالتے ہوئے یہ بچگانہ الزام لگایا گیا کہ: تحریک حماس کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات میں لکھتا ہوں“۔
مختلف مجالس میں سنائی گئی اس آپ بیتی سے شیخ محمد صیام کی زندگی کسی حد تک سامنے آجاتی ہے۔ ان سے ملاقاتوں کے دوران ان کی شخصیت کے کئی دیگر روح پرور پہلو اس تصویر کو مکمل کرتے ہیں۔ اسلامی تحریک کے اکثر ذمہ داران و کارکنان کی طرح شیخ محمد صیام بھی قرآن کریم کا ایک نسخہ ہمیشہ اپنے پاس رکھتے تھے۔ جب بھی اور جہاں بھی موقع ملتا وہ اس کی تلاوت کرتے ہوئے خالق دو جہاں سے محو گفتگو ہوجاتے۔ یہ بھی کئی بار دیکھا کہ وہ تلاوت مکمل کرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر امتی کے لیے مغفرت، رحمت اور نصرت کی طویل دعائیں کرتے۔ امت کے مظلوموں کا ذکر ہوتا تو فلسطین ، کشمیر، مصر، شام، افغانستان، ہر خطے کا ذکر کرتے۔ اپنے اعزہ و اقارب کا ذکر شروع کرتے تو ماں باپ سے لے کر ان کی نسبت سے ایک ایک رشتے کا ذکر کرتے۔ اس وقت ان کے اساتذہ کی قسمت پر بھی رشک آتا کہ جب وہ ان کا نام لے لے کر انھیں بھی ان دعاوں میں یاد کرتے۔ آج جب وہ دعائیں کرنے والی ربانی شخصیت خود دعاوں کی محتاج ہوگئی ہے تو یقین ہے کہ اللہ رحیم و کریم نے انھیں بھی دعائیں کرنے والوں کا ایک عظیم صدقہ جاریہ عطا کیا ہوگا۔ان کا ایک بیٹا محمود اور بیٹیاں تھیں، لیکن ان کے لیے صرف ان کی صلبی اولاد ہی نہیں، ان کی فکری و روحانی اولاد بھی یقیناً دعاگو ہوگی۔ ڈاکٹر محمد صیام ایک شان دار شاعر بھی تھے۔ ان کے پانچ دیوان مقصدیت سے بھرپور شاعری کا قیمتی خزانہ ہیں۔ یہ صرف شعری دیوان نہیں مسئلہ فلسطین کی تاریخ اور سرزمین اقصی کی آزادی کی نوید ہیں۔
اتفاق دیکھئے کہ 15فروری کو ان کی وفات سے ایک دن پہلے پولینڈ کے دارالحکومت وارسو(Warsaw ) میں ایک اہم عالمی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کا اہتمام امریکی صدر ٹرمپ نے کیا تھا۔ دنیا کے 70 ممالک کو دعوت دی گئی، جن میں سے 60شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کا عنوان تھا: Peace and Security in the Middle East مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کانفرنس۔ اس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر مائک پنس سمیت اکثر مغربی دانش وروں نے اسے ایک اہم اور تاریخی موقع قرار دیا۔ اس کانفرنس میں اکثر ممالک کی نمایندگی نسبتا کم درجے کے ذمہ دار کررہے تھے، لیکن اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو خود شریک تھا۔ اس نے کانفرنس کے دوران مختلف عرب ذمہ داران و نمایندگان سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔ روس، فرانس اور جرمنی سمیت کئی دیگر اہم ممالک شریک نہیں ہوئے۔ خود فلسطینی اتھارٹی نے بھی اس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس مسئلہ فلسطین سے کھلواڑ کرنے کے لیے ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے دو وجوہ کی بنا پر اسے ایک کامیاب کانفرنس قرار دیا۔ ایک یہ کہ کئی ایسے عرب ممالک جو اس سے پہلے اسرائیلی قیادت کے ساتھ صرف خفیہ روابط رکھے ہوئے تھے، اب ان تعلقات کا کھلم کھلا اعلان کررہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ کانفرنس میں ساری دنیا بالخصوص مسلم ممالک کو یہ کہہ دیا گیا کہ خطے کی سلامتی کے لیے اصل خطرہ سرزمین فلسطین پر اسرائیلی قبضہ و مظالم نہیں، ایران ہے۔کئی تجزیہ نگار یہ توقع ظاہر کررہے تھے کہ اس کانفرنس میں Deal of the Century صدی کی سب سے بڑی سودے بازی پر مشتمل امریکی منصوبے کا اعلان کردیا جائے گا، لیکن بوجوہ اس کا اعلان نہیں کیا گیا۔ وارسو کانفرنس میں اسرائیلی وزیراعظم اور دس عرب ملکوں کے نمایندگان اکٹھے تھے کہ ڈاکٹر محمد صیام اللہ کو پیارے ہوگئے۔اگرچہ دونوں واقعات کا باہم کوئی تعلق نہیں، لیکن ادھر اس کانفرنس کی بازگشت جاری تھی کہ مرحوم کی رحلت پر ان کے وہ بہت سارے اشعار و نظمیں بڑے پیمانے پر مضامین و پیغامات عرب میڈیا کا حصہ بننے لگے کہ جن میں وہ سرزمین اقصی کی یقینی آزادی کا پیغام دیتے ہیں۔ وارسو کانفرنس جیسی عالمی کانفرنسوں کا ذکر ہو یا شیخ احمد یاسین سمیت شہداءفلسطین کی طویل فہرست، خطیب اقصیٰ اس مناسبت سے اپنے جان دار، عوامی شاعری کے ذریعے، امت مسلمہ کو قبلہ اول کا پیغام یاد دلاتے ہیں۔
(بشکریہ: ماہنامہ ترجمان القرآن)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved