تازہ تر ین

کیا ”قیامت“ قریب ہے؟

آغا امیر حسین….گردوپیش
میاں محمد نواز شریف سابق وزیراعظم پاکستان کی بیماری کے چرچے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اگر وہ بیمار ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں شفا عطا فرمائے، لیکن بیماری کو موضوع بحث بنا کر جو کچھ ہو رہا ہے وہ نا صرف افسوس ناک بلکہ شرم ناک عمل ہے۔ ایک شخص کو جسے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے نااہل قرار دیا ہے اور پھر احتساب عدالت سے تفصیلی سماعت کے بعد اُسے سزا سنائی گئی ہے، اپیل کا مرحلہ درپیش ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سابق وزیراعظم مجرم ہیں اور پاکستان کی جیلوں میں ایک دو نہیں سینکڑوں ایسے مجرم موجود ہیں جنہیں سنگین نوعیت کی بیماریاں ہیں، ہر جیل میں ایک ہسپتال، ڈاکٹر اور ادویات کا انتظام ہوتا ہے کسی کو اچھا لگے یا بُرا ملزمان کا علاج جیل مینول اور قواعد و ضوابط کے مطابق ہی ہوتا ہے۔ سابق وزیراعظم کی بیماری کے نام پر ایک تماشا لگا ہوا ہے اور دیدہ دانستہ سزا یافتہ مجرم کو سیاسی ملزم بنانے کی سرتوڑ کوشش ہو رہی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ تین مرتبہ کے منتخب اور تینوں مرتبہ کے دھتکارے ہوئے سابق وزیراعظم کسی اور معاشرے کی مخلوق ہیں، تمام قوانین جیل کے ضابطے اور قواعد ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے، دوسرے تمام مجرموں سے ملنے کے لیے اُن کے عزیزوں کو ہفتہ میں صرف ایک بار چند لمحوں کی اجازت ہوتی ہے لیکن ان کے لیے نہ کوئی جیل کا مینول ہے نہ قاعدہ یہ جب چاہیں، جس سے، جس وقت چاہیں وہ ان کے حضور پیش ہو جاتا ہے، سخت بیمار ہیں لیکن اچھے بھلے چلتے پھرتے، کھاتے پیتے ٹی وی چینلز پر نظر آتے ہیں انہیں کہیں جانا ہو تو ان کی خصوصی سواری پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں جیسے وہ مجرم نہیں ہیرو ہیں۔
تازہ ترین خبر یہ ہے کہ بلاول جو کل تک میاں صاحب کے شدید ناقدین میں سے تھے اور ان کے منہ سے ایسی ایسی باتیں نکلتی رہی ہیں جو آج کل چیلنز بار بار دکھا رہے ہیں اچانک بلاول صاحب کے اندر انسانی ہمدردی جاگی، انہیں میاں صاحب کی یاد آگئی اور وہ ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت جیل جاپہنچے۔ آخر اس ”انسانی ہمدردی اور تیمار داری“ کے نام پر میاں نواز شریف سے ملنے کوٹ لکھپت جیل کیوں گئے؟ جب سے ”میگا منی لانڈرنگ کیس“ میں بلاول صاحب کے ابا حضور اور پھوپھی اماں کے گرد نیب کا گھیرا تنگ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ویسے ویسے زرداری صاحب اور بلاول صاحب کی قلابازیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں، پہلے تو ان حضرات نے PTI کو PPP کی غیر مشروط حمایت کا یقین دلایا۔ جب بات نہیں بنی تو میاں صاحب کے منت ترلے کرتے نظر آئے۔ ادھر میاں صاحب بھی پے در پہ ناکامیوں کے بعد چیئرمین پی پی سے ملنے کو تیار ہوگئے اس دلچسپ صورت حال کا نام ”میثاق جمہوریت کی تجدید“ رکھا گیا ہے۔ کیا یہ جمہوریت ہے یا سول پروپرائٹر شپ کے تحت چلنے والی پارٹیاں ہیں۔ ویسے تو چند ماہ قبل بلاول صاحب نے تو ملتان میں صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ ”ہمیں طعنہ دیا جاتا ہے کہ ہم موروثی سیاست کر رہے ہیں ہاں ہم موروثی سیاست کرتے تھے اور کرتے رہیں گے۔“ یہی حال مسلم لیگ ن کا بھی ہے؟ وہاں بھی تمام سینئر سیاستدانوں کے سامنے بیٹی اور بیٹے ہی کا ذکر سننے کو ملتا ہے۔ پھر ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے کہ یہ ہر دو نام نہاد سیاسی جماعتیں دکھاوے کے لئے ہی سہی اپنی اپنی جماعتوں کی کور کمیٹیوں یا مجلس عاملہ کے سامنے اس گھمبیر صورت حال پر غور تک نہیں کرتیں اور نہ ہی شاہانہ اخراجات کی کوئی تفصیل سامنے آتی ہے اور نہ ہی الیکشن کمیشن اس بات کا نوٹس لیتا ہے! دونوں پارٹیوں کے مالکان اپنی ذاتی کرپشن سے بچنے کے لئے سیاسی جماعتوں کا نام استعمال کر رہے ہیں!
حیرت اس بات پر ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے تمام سرکردہ لیڈر ان ”کمی کمینوں“ کی طرح ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ کیا عوام کو بیوقوف سمجھنے والے ان قائدین کے پاس ضمیر نام کی کوئی چیز نہیں ہے؟ ۔کیا ”جمہوریت خطرہ میں ہے“ کا نعرہ لگا کر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام جس مہنگائی، بے روزگاری کا شکار ہیں اور قدم قدم پر ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی ادائیگی کے باوجود انہیں ٹیکس چور کہا جاتا ہے؟ یہ ڈرامہ کب تک چلے گا۔ چند روز پہلے بلاول صاحب نے پارلیمنٹ میں انگریزی میں تقریر فرمائی، ایسا لگ رہا تھا یہ تقریر دشمن کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ پاکستان کے دشمن بھارت، اسرائیل اور امریکہ و دیگر ممالک کھل کر سامنے آچکے ہیں، ایک طرح سے ہم حالتِ جنگ میں ہیں اس موقع پر اس طرح کی تقریر کو تو میمو گیٹ یا ڈان لیکس کا تسلسل ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہ کہنا کہ ہم نے پارلیمنٹ میں مکمل اتفاق رائے کا اظہار کیا ہے سوچئے کیا ان کے پاس کوئی اور آپشن تھا۔ یہ لٹیروں کی بدقسمتی ہے کہ پہلی بار تیسری طاقت برسراقتدار ہے جو کسی بھی قیمت پر NRO کرنے کے لیے رضامند نہیں ہو رہی ، اس کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ تباہ حال معیشت کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہو۔ کوئی شخص چاہے وہ کتنے ہی اثر و رسوخ کا مالک ہو اسے قانون اور انصاف کے تقاضوں سے ماورا کوئی رعایت نہ ملے، ملک میں امیر ہو یا غریب قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ حیرت ہے کہ کل جو لوگ پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ کے باہر عمران خان اور فوج کے ساتھ کھڑے دشمن کو سیسہ پلائی دیوار ہونے کا تاثر دے رہے تھے وہ حالت جنگ میں حکومت کو بلیک میل کرتے نظر آ رہے ہیں۔ عمران خان نے اپنے 6/7 مہینوں کے دور میں تو معیشت برباد نہیں کی ۔ ظاہر ہے گزشتہ دس سال میں اگر کوئی کام تواتر سے ہوا ہے تو وہ قرضوں پر قرضہ لے کر رقم ہُرپھور کی گئی ہے ، سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قرض کب اور کیسے واپس ہوگا؟ ”شرافت اور عزت نفس“ کا خیال رکھتے ہوئے یہ توقع رکھنا کہ ڈاکو قوم کا پیسہ واپس کر دیں گے، خام خیالی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اس نام نہاد جمہوریت سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانیں گے۔ ذمہ دار اداروں کو مل کر پاکستان کو اس دلدل سے نکالنا ہوگا۔ ضروری ہے کہ ایمرجنسی نافذ کرکے انقلابی فیصلے کئے جائیں۔
پاکستان کا ازلی دشمن بھارت خطے کو ایٹمی جنگ کے دھانے پر لے آیا ہے۔ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ سال ہا سال سے جو جبر و ستم جاری ہے اسے مغربی دنیا نظرانداز کر رہی ہے۔ اگر اقوام متحدہ کی طے شدہ قراردادوں کے مطابق کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو یہ امر طے شدہ ہے کہ پھر برصغیر ہی نہیں تمام دنیا تابکاری کا شکار ہونے کے لیے تیار رہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جس قیامت کا ہم ذکر سنتے چلے آ رہے ہیں اور جس پر ہمارا ایمان ہے وہ حقیقی معنوں میں بہت قریب محسوس ہو رہی ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا اب نہیں چل سکتا۔!
(کالم نگارمعروف دانشور اورصحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved