تازہ تر ین

مسئلہ کشمیر اب حل ہونا چاہئے

ثروت روبینہ……..فکرتازہ
انڈیا کا دعویٰ ہے کہ 25 اپریل 2019ءکی رات پاکستان کے اندر گھس کر جیش محمد کے ٹھکانوں کو تباہ کیا، تین سو سے زائد دہشت گردوں کو مارا ، مرنے والوں میں یوسف اظہر کشمیری بھی شامل ہے، اس ساری کارروائی کو آپریشن بالاکوٹ کا نام دیا گیا،انڈین دعویٰ میں مزید کہا گیا کہ اس آپریشن میں بارہ میراج طیاروں نے حصہ لیا پورا آپریشن اکیس منٹ میں مکمل ہوا۔ دعویٰ میں یہ بھی کہا گیا کہ جیش محمد کیمپ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی زیر نگرانی چل رہا تھا۔ مودی خود وار روم میں بیٹھ کر اس سارے آپریشن کی نگرانی کرتے رہے“۔ جب میں یہ ساری کہانی انڈیا ٹی وی پر دیکھ رہی تھی تو مجھے پہلے تو لگا کہ شاید سنی دیول کی پاکستان مخالف فلم دیکھ رہی ہوں جس میں فلم کے سارے کردار ہدایت کار کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور سنی دیول کی جیت ہر فلم میں لازم ہوتی ہے ، لیکن 27 فروری کی صبح انڈیا والوں کی آنکھ کھلی تو پتہ چلا کہ یہ فلم خود ساختہ کرداروں پر مبنی نہیں بلکہ حقیقت میں دو ملکوں کے طیارے آپس میں گتھم گتھا تھے جس کے نتیجے میں پاکستان کے جوانوں نے بازی مار لی اور بفضل خدا انڈیا کے دو طیارے مار گرائے ،ابھی نندن جو کہ لڑاکا طیارے کا پائلٹ تھا زندہ گرفتار ہو گیا۔ ابھی نندن کے چائے پیتے ہوئے ویڈیو پیغام نے انڈین میڈیا کی قلعی کھول دی۔ جذبہ خیر سگالی کے تحت پائلٹ کی واپسی نے مودی کے جنگی آتش دان کو سرد کر کے مودی کے جارحانہ عزائم کو پچھلے قدموں چلنے پر مجبور کر دیا۔ انڈیا کے جیش محمد کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے جھوٹے دعوﺅں کے جواب میں پاکستان نے عالمی میڈیا اور بھارتی مبصرین کو موقع پر چائے کی دعوت دی، اس سے پہلے پلوامہ واقعہ پر بھی تعاون کی پیش کش کی گئی لیکن مودی سرکار نے اس پیش کش کا خیرمقدم کرنے کی بجائے جنگ کے شعلوں کو ہوا دینے کی کوشش کی ۔
اس نازک صورتحال پر انڈین میڈیا کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ اور غیر پیشہ وارانہ رہا، انڈین میڈیا دو ایٹمی ملکوں کے مابین جنگ اور پورے خطے میں اس کے اثرات اور نتائج کو سمجھنے میں ناکام رہا ۔ میڈیا کی جھوٹی کہانیاں اور فسانے بھارت کی جنگ ہنسائی کا باعث بنے۔ اسی دوران او آئی سی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر کے شاہ محمود قریشی نے بھارتی جارحیت کے خلاف اپنا ردعمل ریکارڈ کروایا ۔ اوآئی سی کو اپنے قیام کے مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا کردار واضح کرنا چاہئے۔ شاہ محمود قریشی پاکستان کا مقدمہ بڑی دانشمندی سے دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں جس سے پاکستان کا ایک مثبت امیج دنیا کے سامنے ابھر رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل تک خطے میں امن کی خواہش محض خواہش ہی رہے گی۔ کشمیری عوام پچھلے ستر سالوں سے انڈیا کی آٹھ لاکھ فوج کے بوٹوں تلے کراہ رہی ہے ان کی آزادی کی خواہش کو آپ دہشت گردی سے منسوب نہیں کر سکتے۔ کسی کمزور پرطاقت کا استعمال سب سے بڑی دہشت گردی ہے اور یہ دہشت گردی انڈیا کشمیر میں سرعام کر رہا ہے اور ساری مہذب دنیا نے اس دہشت گردی پر چپ سادھ رکھی ہے۔ قانون آزادی کی رو سے ہندوستان کی خود مختار ریاستوں کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ انڈیا یا پاکستان جس کے ساتھ چاہیں الحاق کر لیں لیکن ایسا کرتے وقت جغرافیائی حیثیت اور رعایا کی خواہش کا خیال رکھیں جس کے تحت بہاول پور لس بیلہ اور مکران کی ریاستیں پاکستان میں شامل ہو گئیں ان کے ساتھ ہی جونا گرھ، نابھا منادر اور منگرول کی ریاستوں نے بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا لیکن بھارت نے ان ریاستوں میں ہندو اکثریت کو جواز بنا کر فوجی کارروائی کے ذریعے ان ریاستوں پر قبضہ کر لیا۔ اس کے برعکس کشمیر میں بھارت نے اپنے ہی بنائے ہوئے اصول کو تسلیم نہ کیا جہاں مسلمانوں کی آبادی80 فیصد تھی اور اس کی جغرافیائی سرحدیں بھی پاکستان سے ملتی تھیں اسی طرح نظام حیدرآباد دکن بھی پاکستان سے الحاق کا خواہش مند تھا لیکن بھارت نے 1945ءمیں فوج کے سہارے اس آخری یادگار مسلم ریاست پر بھی قبضہ کر لیا، مذکورہ ریاستوں پر فوج کشی کے ذریعے قبضہ کرنے سے بھارت کے حوصلے بلند ہو گئے کہ وہ کشمیر پر بھی فوجی حکمت عملی کے تحت قبضہ کر سکتے ہیں لیکن سلام ہے کشمیریوں پر جنہوں نے اپنے لہو سے آزادی کی خواہش کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔ ان ستر برسوں میں آزادی کی آرزو میں کتنے لاشے گرے، کتنے گھر اجڑے، کتنی ماﺅں کی گود اجڑی، کتنی سہاگنوں نے اپنی چوڑیاں توڑیں کتنے بچے یتیم ہوئے لیکن پھر بھی کشمیری ڈٹے ہوئے ہیں اور ڈٹے رہیں گے ۔
کشمیر کی آزادی تک پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی سطح پر حمایت کرتا رہے گا ۔ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ مسئلہ کشمیر اب حل ہونا چاہئے، دونوں ملکوں کو اس مسئلے پر اب سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ مسائل کے حل کے لئے ایک رویہ درکار ہوتا ہے جب دونوں ملک اس رویے کا اظہار کریں گے تو کشمیر کے مسئلے کا حل بھی نکل آئے گا ۔ ہم ستر سالوں میں وہ رویہ ہی نہیں اپنا سکے جو ہمیں مسائل کے حل کی طرف لے جائے۔ اگر رویے میں ضد، نفرت، تعصب اور عدم تعاون شامل رہے تو مسائل کبھی حل نہیں ہوتے سب سے پہلے مسئلے کے حل میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ کشمیر کو ہم نے خود ایک مسئلہ بنا رکھا ہے جبکہ مسئلہ وہ ہوتا ہے جس کو حل کرنے میں انسانی تدابیر اور کوششیں ناکام ہو جائیں۔ کشمیر ضد، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا ایک مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ 5 فروری کو کشمیر سے یک جہتی کا دن منا لینا کافی نہیں سال کے 365 دن کشمیر سے یک جہتی کا اظہار کرنا پڑے گا ۔ اس مسئلے کو زندہ رکھنے میں اسلحہ پیدا کرنے والے ممالک کا بھی ہاتھ ہے، بدقسمتی سے ان ممالک کا شمار اقوام متحدہ میں ویٹو پاور رکھنے والوں میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ آج تک کشمیر کے مسئلے پر اپنی قراردادوں پر عمل نہیں کروا سکا اور نہ ہی مستقبل میں اس کی اُمید نظر آ رہی ہے۔ کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ چھتری کا کاروبار کرنے والے کبھی نہیں چاہیں گے کہ بارش رکے اور موم بتی بنانے والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ کبھی سورج نہ نکلے اس مثال سے سمجھ جایئے کہ کیوں مسئلہ کشمیر ابھی تک حل طلب ہے ۔کون سی وہ چالاک اور مکار قوتیں ہیں جو نہیں چاہتیں کہ یہ مسئلہ حل ہو، کشمیر کا مسئلہ حل ہونے سے ان سب کا کاروبار ٹھپ ہو، کشمیر کا مسئلہ حل ہونے سے الٹا سب کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا۔
انڈیا پاکستان کے درمیان واحد تنازعہ کشمیر ہے جس دن یہ تنازع ختم ہو گیا اس دن یہ دونوں ملک خوشحالی کے سفر پر گامزن ہو جائیں گے۔ دُنیا کا سب سے بڑا ہتھیار عقل ہے دُنیا کے تمام مسائل جب عقل اور اخلاقی بنیادوں پر حل ہو سکتے ہیں تو پھر بارود اور گولی کا استعمال کیوں ضروری ہے؟ سات سات نسلیں فٹ پاتھ پر جنم دینے والے اور نسل در نسل تعلیم سے محروم رہنے والی عوام کے وزیراعظم کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ جنگ کا بگل بجائے۔ فرانس اور برطانیہ 115 سال تک طویل جنگ کرنے کے بعد بالآخر اسی نتیجے پر پہنچے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ، لیکن مودی پاکستان کی امن کی خواہش کو بزدلی سے تعبیر نہ کرے جنگ کی صورت میں بھارت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دونوں طرف سے عوام کو اپنے اپنے حکمرانوں کو کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے آمادہ کرنا چاہئے بس اب بہت ہو چکا انڈیا کے عوام کو بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کشمیری عوام کا ساتھ دینا چاہئے۔
پاکستان میں موجودہ حکومت کے وزیراعظم اور پاک فوج نے موجودہ حالات میں مدبرانہ اور حکمت سے بھرپور انڈیا کو ردعمل دیا ہے اس سے امید ہوئی ہے کہ اگر انڈیا میں بھی الیکشن کے بعد قیادت تبدیل ہوئی تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے بصورت دیگر گوداموں میں خوراک کا ذخیرہ کم اور بارود کا ذخیرہ بڑھتا جائے گا۔ اقلیتوں کی دل آزاری کرنے پر فیاض الحسن چوہان سے استعفیٰ لے لیا گیا جبکہ دوسری طرف سیکولر ملک بھارت میں بائیس کروڑ مسلمان اقلیتوں پر گائے کے ذبیحہ پر پابندی کو کیا سمجھا جائے؟؟؟
(کالم نگار قومی وسماجی امورپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved