تازہ تر ین

چولستانی کلچر اورچنڑ پیرکاعرس

خدا یار خان چنڑ …. بہاولپور سے
صاد ق آباد سے لے کر منچن آباد تک یہ ساری پٹی چولستان کی ہے اس کارقبہ تقریباً 66 لاکھ ایکڑ بنتا ہے ، یہ چولستان چوڑائی میں جنوب کی طرف انڈیا بارڈر کے ساتھ لگتا ہے ، بارڈر پار راجھستان ہے جو کہ سارا آباد وسرسبز ہوچکا ہے اور بارڈر کے اندر سار ا چولستان ہے ، جوکہ ابھی تک غیر آباد پڑا ہے ۔ آج سے کئی سو سال پہلے راجھستان اور چولستان کے درمیان دریائے گھاگھرا بہتا تھا، اس کو دریائے ہاکڑا بھی کہا جاتا تھا ، اس دریا کی وجہ سے دونوں اطراف کثیر تعداد میں آبادی ہوتی تھی ، پہلے آبادیاں سڑکوں کی بجائے دریاﺅں کے کنارے آباد ہوتی تھیں ۔ پاکستان کے اندر جتنے بھی قلعے ہیں ، قلعہ ڈراوڑ ، قلعہ مروٹ وغیرہ یہ سارے قلعے دریائے گھاگھر ا کی وجہ سے بنائے گئے تھے جونہی دریا نے اپنا راستہ تبدیل کر کے دوسری طرف رُخ کرلیا اور دریائے گھاگھر ا (ہاکڑا)ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خشک ہوگیا ، آج وہ دریا کا رقبہ بھی چولستان کا حصہ بن گیا ہے ، وہاں جا کر دیکھا جائے تو دریا کا نام ونشان بھی مٹ گیا ہے چولستان کا منظر پیش کررہا ہے۔
ویسے تو پورے چولستان کے اندر سینکڑوں سال پرانے کافی مزارات ہیں جن میں مشہور ترین دربار تحصیل یزمان کے چولستان میں چنڑ پیر کا ہے ، یہ دربار تقریباً 800 سال سے ہے۔ چنڑ پیر سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ اوچ شریف والے کی دُعا سے ہندوراجہ کے گھر پیدا ہوئے ، چنڑ پیر کی والدہ نے آپ سے دُعا کی اپیل کی تھی، سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے پیشن گوئی کی تھی ہندوراجہ کے گھر بچہ پیدا ہوگا جو مسلمان ہوگا بڑا ہوکر اسلام کی خدمت کرے گا ، ایک ولی کامل کے منہ سے نکلی ہوئی بات اللہ پاک رد نہیں کرتا ایسا ہی ہوا جب یہ بچہ چنڑ پیر پیدا ہوا، تو پیدا ہوتے ہی زبان پر ذکر الہی رہتا تھا چند دن کے معصوم بچے کے منہ سے اللہ اللہ کی آواز آتی تھی ہندوراجہ بڑا پریشان ہوگیا تھا ۔ اب ہندو راجہ چاہتا تھا کہ اُس کی برادر ی اور عوام کوپتہ نہ چل جائے کہ میرے گھر میں ایسا بچہ پیدا ہوا ہے جو اللہ اللہ کرتا ہے ، کیونکہ اگر انہیں معلوم ہو گیا تو لوگ مجھے منحوس سمجھ کر میرا حقہ پانی بھی بند کردیں گے اور بادشاہت بھی چھین لیں گے ۔ اسی ڈر اور شرم سے اس نے اس چنڑ پیر معصوم بچے کو چولستان میں ریت کے ٹیلے پر پھینک دیا، کہ یہ بھوک اور پیاس سے مرجائے گا میرا بھرم بھی رہ جائے گا لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ اُس وقت کے لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جس ریت کے ٹیلے پر بچے کو پھینکا گیا تھا اُس ریت کے ٹیلے پر رات کو زمین سے لے کر آسمان تک نور ہی نور نظر آتا تھا، رات کو روہی روشنیوں سے جگمگا اُٹھی تھی، جب لوگ دیکھنے کیلئے قریب جاتے تھے تو یہ بچہ جھولا جھول رہا ہوتا تھا اور اس جھولے کی رسیاں اوپر آسمان کی طرف جاتی تھیں جب کوئی غیر مسلم اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا تو یہ جھولا خود بخود اوپر چلاجاتاتھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس بچے کو دودھ چولستان کی ہرنیاں پلاتی تھیں ، ایک روایت یہ بھی ہے کہ رات کو اس بچے کی والدہ راجہ سے چوری اپنے بچے کے پاس آکر دودھ پلا کر چلی جاتی تھی ، ماں تو اپنی ممتا کے ہاتھوں مجبور تھی جب راجہ کو اس سارے ماجرے کا پتہ چلا تو اس نے جلادوں کو بھیجا اس بچے کو قتل کر کے وہیں پھینک دو ، جب راجہ کے جلادوں نے اس بچے پر حملہ کیا تو اللہ پاک کی مدد سے یہ بچہ کبھی آسمان کی طرف اوپر چلا جاتا تھا اورکبھی اسی ریت کے ٹیلے میں جھولا دھنس جاتاتھا کیونکہ ولی کامل کی دُعا سے یہ بچہ پیدا ہواتھا اللہ پاک نے اس کی حفاطت کی ذمہ داری بھی خود لے لی تھی جب بچے کی والدہ کو معلوم ہوا کہ اُس کے برادری کے لوگ بچے کو مارنا چاہتے ہیں تو اُس کی والدہ نے کسی نا کسی ذریعہ سے اس بچے کو سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں اوچ شریف بھجوادیا ، اور وہاں اوچ شریف میں اس بچے کا نام اسلامی طرز سے عمادالدین رکھا گیا ۔
چنڑ پیر کااصل نام عمادالدین ہے اور قوم اور قبیلے کی وجہ سے چنڑ پیر کے نام سے شہر ت حاصل کی۔ اس بچے نے بڑا ہوکر دینی، علمی ، معرفت اور عرفان کی تعلیم اپنے مرشد خانہ اوچ شریف سے حاصل کی اور اوچ شریف کے سید جلال الدین بخاری کے خلفاءمیں شامل ہوا ، اسلام کی بہت خدمت کی اوراپنے قبیلہ کے لوگ چنڑ قوم کو ہزاروں کی تعداد میں مسلمان کیا اور ان کا دربار شریف بھی وہیں بنایا گیا جہاں بچے کو ریت کے ٹیلے پر پھینکا گیا تھا۔ اب 800 سال سے چولستان میں عرس لگتا آرہا ہے ، پاکستان میں واحد مزار چنڑ پیر کا ہے جس کے عرس کا دورانیہ 7 جمعرات پر مشتمل ہے، یہ عرس مبارک ڈیڑ ھ ماہ تک مسلسل رہتا ہے اب تو دربار شریف تک پکی سڑک بن گئی ہے جب کوئی سڑک یا کسی قسم کی سہولت نہیں ہوتی تھی اُس وقت بھی لوگ اونٹوں ، گھوڑوں ، خچروں ، گدھوں اور بیل گاڑیوں پر سفر کر کے ہزاروں کی تعداد میں قافلوں کے شکل میں آتے تھے ، چنڑ پیر عرس کا یہ کلچر بن چکا ہے کہ اب بھی لوگ اسی طرح پرانی روایات کے مطابق اونٹوں ، گھوڑوں ، خچروں ، گدھوں اور بیل گاڑیوں پر قافلوں کی شکل میں ہی آتے ہیں ۔ پاکستان بننے سے پہلے اس دربار شریف پر مسلمانوں کے علاوہ ہندو بھی اپنی منتیں چڑھاوے پیش کرتے تھے اور اٹے گھٹے کی رسم ہندوﺅں نے شروع کی تھی جو آج تک چل رہی ہے۔ پاکستان کے جتنے بھی مزارات ہیں سب سے زیادہ ہزاروں کی تعداد میں بکروں اورچھتروں کو ذبح کیا جاتا ہے خیر ، خیرات اور وسیع لنگر کا اہتمام ہوتا ہے ، جمعرات کی شام کو لوگ قافلوں کی شکل میں آتے ہیں کھانے پکانے کے سامان کا بندوبست خو د کر کے آتے ہیں اورلنگرپکا کر لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔
صادق آباد سے لے کر منچن آباد تک چولستانیوں کے لئے واحد میلہ چنڑ پیر کا لگتا ہے، چولستانی بیچارے سارا سال اس میلہ کا انتظار کرتے ہیں جب میلہ آتا ہے تو چولستانیوں کی خوشی کی انتہا ہوتی ہے، شہر میں آئے دن کوئی نہ کوئی تفریحی ایونٹ ہوتے رہتے ہیں۔ چولستانیوں کی تفریح کیلئے آج تک حکومت پاکستان نے کوئی توجہ نہ دی ہے آہستہ آہستہ چولستان کا کلچر بھی تباہ ہوتا جار ہا ہے چنڑ پیر کا واحد میلہ ہے جس نے ابھی تک چولستان کے کلچر کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ لوگ اپنے اونٹ ، گھوڑے ، بکریاں ، بھیڑیں ، بیل ، گدھے خوب سجاکر میلہ میں لاتے ہیں اور لوگ انہیں دیکھ کر خوب محظوظ ہوتے ہیں اور تمام چولستانی روایتوں کو پیش کیا جاتا ہے ۔ ہر قافلہ اپنے ساتھ ڈھول، شرناں ، بین وغیرہ ساتھ لاتے ہیں اور ہر قافلہ اپنی اپنی جگہ پر چولستانی جھومر پیش کررہا ہوتا ہے ، حدنگاہ تک عوام ہی عوام ہوتی ہے ، اس طرح لگتا ہے جس طرح پوری دنیا ہی چولستان میں آگئی ہے ۔ ویسے تو مجھے ہر سال جانے کا شرف حاصل ہوتا ہے اس دفعہ مجھے 7 مارچ چوتھی جمعرات کو دعوت دی گئی تھی جس میں صدائے چنڑ ویلفئیر آرگنائزیشن آل پاکستان کے زیر اہتمام جشن چنڑ میلہ لگایا گیا تھا جس میں پورے پاکستان سے لوگ آئے ہوئے تھے ، بہت بڑا پنڈا ل سجایا گیا تھا پہلے محفل نعت اور قوالیان چلتی رہیں ،بعد میں ساری رات چولستان کا کلچر پیش کیا گیااور لاہور سے آئی ہوئی سنگر راحیلہ خان نے خواجہ غلام فرید کی کافی پیش کر کے لوگوں کو دلوں کو محظوظ کیا، آخر میں ہزاروں کی تعداد میں قافلے کی شکل میں فجر کے وقت دربار شریف پر چادر چڑھائی ہر سال پانچویں جمعرات کو ضلع بہاولپور میں چنڑ پیر کی سرکاری چھٹی ہوتی ہے اس دفعہ پانچویں جمعرات 14 مارچ کو سرکاری چھٹی ہے۔
مجھے وہاں جاکر انتہائی دکھ ہوتا ہے کہ محکمہ اوقاف کروڑوں روپے دربار شریف سے کمارہا ہے لیکن زائرین کیلئے کوئی سہولت نہیں ہے صرف میلے کا ٹھیکہ ایک ماہ کا 36 لاکھ روپے میں ہوا ہے ، باقی 11 مہینے کا محکمہ اوقاف خود ہی وصول کرتا ہے ، کروڑوں روپے آمدن ہونے کے باوجود آج تک دربار شریف پر ایک روپیہ تک نہیں لگایاگیا ، پہلے دن سے لے کر آج تک دربار اُسی حالت میں ہے دربار شریف کے ساتھ بہت پرانی چھوٹی سی مسجد ہے جس میں بمشکل 25 لوگ نماز ادا کرسکتے ہیں جہاں ہزاروں کا مجمع ہوتا ہے وہاں صرف ایک واش روم بنایا ہوا ہے کوئی وضو کا انتظام نہیں ہے واش روم کے باہر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں اور خواتین بیچاریاں ذلیل ہورہی ہوتی ہیں ،کوئی مسافرخانہ یا لنگر خانہ کا اہتمام نہیں ہے ۔ چولستان کے لوگ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا چولستانیوں پر بھی توجہ دیں آپ شہروں میں تو بڑے بڑے شیلٹر ہاﺅس بنارہے ہیں اچھی بات ہے ، مگر چنڑ پیر دربار پر ایک بڑے شیلٹر کی اشد ضرورت ہے زائر ین گرمی ہو یاسردی بیچارے ریت کے ٹیلوں پر سوکر گزاردیتے ہیں وہاں کوئی پانی کا بندوبست نہیں ہے ۔ پورے سال میں واحد میلہ چنڑ پیر کا ہے جو چولستانیوں کے لئے تفریح مہیا کرتا ہے ۔
حکومت پاکستان کو چاہیے چولستان میلے کو پروموٹ کرے ، شہروں سے ہٹ کر چولستان پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ ٹورازم کے ادارے ٹی ۔ ڈی ۔ سی ۔ پی کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے ادارہ ہذا نے کلچر کو پرموٹ کرنے کیلئے کسی بھی قسم کی کوئی ایکٹیوٹی اس علاقہ میں نہ کی ہے ۔ عمران خان کا مشن ہے کہ پورے ملک میں درخت لگانے چاہییں دربار شریف کے نزدیک دور دور تک کوئی سایہ دار درخت نہیں ہے حکومت اب پہاڑوں کی بجائے چولستان کی طر ف توجہ دے ۔ چولستان کا 66 لاکھ ایکڑ رقبہ خالی پڑا ہے چولستان میں بھی شجر کاری مہم چلائی جانی چاہیے اس سے عوام کو سایہ بھی نصیب ہوگا اور انسانی صحت کیلئے بھی مفید ثابت ہوگا۔ اورپورا چولستان سر سبز منظر پیش کرے گااور ملک پاکستان کو ان درختوں سے کروڑوں روپے کی آمدن بھی ہوسکتی ہے ۔
(کالم نگارچیئر مین تحریک بحالی صوبہ بہاولپور ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved