تازہ تر ین

ضیا شاہد کا تخلیقی سفر، کیا احاطہ ممکن ہے؟

لقمان اسد….دریا کنارے
جناب ضیا شاہد کی شخصیت اور ان کی علمی ،فکری اورشعوری خدمات کا احاطہ صفحہ قرطاس پر لفظوں کی شکل میں بکھرے مضمون یا محض ایک کالم میں کرنا ناممکن سا عمل دکھائی دیتا ہے۔ جناب ضیا شاہد کا قلمی سفر مکمل انہماک اور پورے طمطراق کے ساتھ جاری و ساری ہے ۔ جناب ضیا شاہد کی کتاب”پاکستان کے خلاف سازش “ کے مطالعے سے ان کی حب الوطنی کا پہلو اجاگر ہوتا ہے، ایک طرح سے ان کا کردار بطور محب وطن پاکستان دشمن قوتوں کے خلاف مزاحمت کے طور پر سامنے ہے ۔ قاری بار بار اس کتاب کا مطالعہ کرتا ہے، میں نے بھی بارہا ان کی یہ کتاب پڑھی لیکن تشنگی ہے کہ جاتی نہیں، اس کتاب میں انہوں نے ملک دشمن چہروں اور غداران وطن کو مکمل طور پر نہ صرف بے نقاب کیا بلکہ ان کے شخصی بت پاش پاش کردیئے ۔ انہوں نے ایک طویل مدت سے انسانیت کی فلاح اور اصلاح کے ساتھ وطن دشمن قوتوں کو دیدہ دلیری کے ساتھ للکارنے اور انہیں بے نقاب کرنے کا بیڑہ اُٹھا رکھا ہے ۔اس صراط مستقیم پر چلتے چلتے وہ اب وہاں دکھائی دیتے ہیں جس مقام تک رسائی کیلئے کسی بھی باشعور انسان کو دشوار گزار راستے کا نہ ختم ہونے والا سفر درکار رہتا ہے ۔میں حیران ہوتا ہوں جب بھی ان کی شخصیت اور ”خبریں“ جیسے بڑے اخبار اور صحافتی ادارے کی شکل میں ان کے جرات مندانہ عملی کردارپر سوچتا اور خیال کرتا ہوں تو ایک حوصلہ نظر آتا ہے ،مضبوط اعصاب والا انتھک انسان ،سنجیدہ ،پروقار اور پر عزم کہ اس کٹھن اور پر خطر راستے میں منزل پر پہنچنے سے قبل کئی ایسے دوست انہیں تنہا چھوڑ کر کہیں اور جانب چل دیئے ہوں گے جن کی رفاقت کے بغیر مزید سفر جاری رکھنا انہیں بے حد مشکل محسوس ہوتا ہوگا مگر وہ رکے نہیں ،تھکے نہیں حوصلہ نہیں ہارا اور وہ چلتے رہے اس یقین کے ساتھ کہ یہ مشکلات عارضی ہیں ،مستقل نہیں غم کے یہ پہاڑ نشان منزل چھین نہیں سکتے ،حالات کی المناکیاں ان کا مشن روک نہیں سکتیں۔ دوستوں کی بے وفائی سہنا بھی ایک مشکل کام ہے گویا ایک حوصلہ مند انسان ہی یہ دکھ سہا رتا ہے لیکن دکھ درد جب اولاد کی دائمی جدائی کی صورت میں سامنے ٹھہر جائے تو بڑے سے بڑے دل گردے والا انسان بھی اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے ،بکھرنے لگتا ہے۔جواں سال عدنان شاہد کے بے وقت سانحہ ارتحال نے انہیں اندر سے گھائل کردیا ۔دوسرے انسانوں کیلئے بے پناہ درد دل اور محبت رکھنے والے جناب ضیا شاہد اپنے جواں سال خوبرو بیٹے سے کتنا انس رکھتے ہوں گے یہ تو جناب ضیا شاہد ہی جانتے ہیں لیکن یہ ان کی شخصیت کا کمال ہے وہ اس دکھ ،اس کرب اور المناک غم کو بھی اپنی قوت میں بدلنے میں کامیاب ہو گئے اس لئے کہ انہوں نے سوچا ہوگا یہ اکیلے میرا مشن تو نہیں ہے یہ میرے لخت جگر عدنان شاہد کا بھی مشن ہے اس کو ادھوراکیسے چھوڑا جا سکتا ہے۔
ضیا شاہد ایک شخصیت نہیں ایک تحریک کا نام ہے کیونکہ ضیا شاہد اگر صرف ایک ہی شخصیت کے کردار تک محدود اور متحرک ہوتے تو یہ کردار اور تحرک پیارے عدنان کی جدائی کے بعد کہیں نظر نہیں آنا تھا جبکہ تحریکیں نظریات اور مشن ،قربانیوں ،دکھوں اور سانحات کے باوجود بھی آگے بڑھتے ،نمو پاتے اورنظر آتے ہیں۔ صحافتی لحاظ سے پاکستان کے گھٹن اور حبس زدہ ماحول میں ان کا صحافتی کردارصحافت کا تابناک مستقبل ثابت ہوا ہے، اپنے بے باک صحافتی کردار سے انہوں نے ملک بھر کے محروم اور پسے ہوئے طبقات کی صرف نمائندگی ہی نہیں کی بلکہ صحافت کو زندگی کی سانسیں عطا کیں۔ اپنے ادارہ خبریں کو انہوں نے جس انداز میں پاکستان کے پسے ہوئے اور محروم طبقات کیلئے ایک تحریک کا رنگ دیا یہ صرف ان کا ہی وصف ہے انہوں نے ملک کے اس طبقہ کو جگایا جو اپنے حقوق کی بات کرنے کیلئے اپنے اندر اخلاقی جرات بھی نہ رکھتے تھے ۔
جناب ضیا شاہد کی اعلیٰ اوصاف کی حامل شخصیت اور ان کااعلیٰ صحافتی کردار ایک کالم یا ایک مضمون کا عنوان نہیں بلکہ ایک مکمل کتاب کا موضوع سخن ہے لیکن کتاب لکھنے کے بعد بھی شاید یہ احساس باقی رہے ۔
دلِ حزیں سے ابھی بار ِ غم نہیں اُترا
تیرے غموں کی مکمل کتاب لکھ کر بھی
ان کی صلاحیتوں کے معترف ہر طبقہ فکر اور ہمہ مکتب فکر کے افراد ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ انکی زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت ہے،جب قاری اور کتاب کا رشتہ ختم ہوتا جارہا ہے تو انہوں نے اس فکری قحط سالی کے جمود کو توڑتے ہوئے ”ایک سچا اور کھرا لیڈر “، ”قلم چہرے “اور ”امی جان “،”گاندھی کے چیلے “، ”میرے بہترین کالم “، ”راوی بیاس اور ستلج کا سارا پانی بند کیوں “جیسے سلگتے اور اہم عنوانات پر انتہائی بے باکی اور سلیقہ مندی سے قلم اُٹھا کر قاری کو ایک بار پھر کتاب کی طرف مائل کردیا ہے۔وہ ایک جینوئن باکمال صحافی اور قلم کار ہیں معاشرے میں موجود ہر خامی اور کمزوری کو وہ اپنا ذاتی دکھ اور مسئلہ سمجھ کر اسے جڑ سے اکھاڑ دینے کی ٹھان لیتے ہیں کرپٹ عناصر کا محاسبہ کرنا وہ خوب جانتے ہیں۔ روزنامہ خبریں کے چھبیس برس اور جناب ضیا شاہد کی نصف صدی سے زائد عرصہ پر محیط صحافتی جدوجہد یقینا پاکستانی تاریخ کا ایسامضبوط حوالہ ہے جو آنیوالی نسلوں کیلئے مشعل راہ ثابت ہوگا۔ کچھہ عرصہ قبل گورنر ہاﺅس میں ”قلم چہرے “کی پروقار تقریب ہوئی ، ان کا ہی اعجاز تھاکہ وہاں موجود پاکستانی صحافت کے مایہ ناز اور نامور قلمکاروں نے انہیں اس تاریخی کاوش پر خراج تحسین پیش کیاایک قلمکار اور صحافی کا اعزاز یہ ہوتا ہے وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرے کہ واقعتاً وہ معاشرے میں موجود ظلم و جبر کے اندھیروں کو بے نام و نشان کر رہا ہے، وہ استبدادی اور استحصالی قوتوں پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے،وہ محروم طبقے کی مضبوط آواز ہے ، وہ معاشرے کے سدھار کیلئے مثبت رویوں کو فروغ دے رہا ہے، جو جہالت میں ڈوبے اذہان کو علم کی روشنی سے منور کر رہا ہے اور وہ اپنے قلم کی طاقت اور جرات مندانہ تحریر کے اثر سے حق بات کی ترویج اس طرز سے کر رہا ہے کہ جھوٹ کی بنیادیں اکھڑ رہی ہیں۔
جب ہم ضیا شاہد کی شخصیت کا احاطہ مذکورہ حوالے سے کرتے ہیں تو یقیناً یہ تمام تر اوصاف ہمیں ان کی شخصیت میں نمایاں دکھائی دیتی ہیں تاہم تخلیقات کے اس مسلسل سفر میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے محمد فاروق چوہان ،علامہ عبدالستار عاصم کی معاونت لائق تحسین ہے ۔ میرا ہر محب وطن پاکستانی کو یہ مشورہ ہے کہ وہ جناب ضیا شاہد کی کتب اپنی لائبریری کی زینت بنائیںجبکہ خاص طور پر وزیر اعظم جناب عمران خان کو یہ تجویز گوش گزار کروں گا کہ نسل نو کے اذہان میں شعور اور حب الوطنی کا جذبہ جگانے کیلئے پاکستان کی تمام سرکاری لائبریریوں میں”گوشہ ضیاشاہد “کے نام سے مخصوص کیا جائے ۔ عام قاری ان کی کتب ”قلم فاﺅ نڈیشن انٹر نیشنل “ کے نمبر ز 0300-0515101,0300-8422518پر رابطہ کرکے منگوائی جاسکتی ہیں ۔
(کالم نگارسیاسی و قومی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved