تازہ تر ین

”حقوق نسواں یا حقوق حیواں“حکومت نوٹس لے!

نگہت لغاری …. ….(سچ)

گزشتہ دنوں خواتین نے اپنے حقوق کی آڑ میں جو کچھ کیا وہ عمران خان کی ریاست مدینہ کے خلاف ایک کھلی سازش ہے۔ یہ سازش کہاں سے Generate ہوئی یہ بھی سب کو علم ہوگا۔ ورنہ حقوق نسوانی کے جلوس تو پہلے بھی نکلتے تھے۔ جہاں تک حقوق نسوانی کاتعلق ہے تو وہ تو ہمارے دین میں مکمل واضح ہیں اور کہیں کہیں لاگو بھی ہیں لیکن جو حقوق سڑکوں پربیان کیے گئے ہیں وہ تو حقوق کی بات نہیں وہ توکھلی بغاوت ہے خدا کے خلاف بھی اور ریاست کے خلاف بھی۔اوربغاوت کی سزا مقرر ہے اوریہ سزا نہ دینے والے بھی سزا کے مستحق ہوں گے۔
جب خواتین ان نام نہاد حقوق کی تیاریوں میں قیمتی لباس پہن رہی ہوں گی تو مشیتِ ایزدی بھی اپنی تلوار نیلام سے نکال رہی ہو گی۔کیونکہ خواتین کے بے حیا عمل سے پہلے ہی ہمارے دشمن نے ملک کے پرسکون ماحول میں ایک ہنگامہ پیدا کرنے کی کوشش کی اورپوری قوم کو متلاطم کردیا۔جب ہم اپنے اعمال بدمیں دھنس جاتے ہیں تو پھر اللہ کے اعمال پردے چاک کرنے کے لئے باعمل ہو جاتے ہیں۔ اس بے حیا عمل پرسب کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ہم پرجو جنگ دشمن کی طرف سے ٹھونسی گئی ہے اورجس کے بعد بھی مطلع صاف نہیں یہ صرف اورصرف ہمارے ان اعمال کی سزا ہے ، ایسی قوموں پر جب بااختیار اپنے اختیارات استعمال نہیں کرتے اور بداعمالیوں کی سزانہیں دیتے تو پھر قانون قدرت خود حرکت میں آجاتا ہے۔ سب کو یاد ہوگا کہ جب دور اسلام سے پہلے لوگ جنسی بے راہ روی میں بہت آگے نکل گئے تھے تو خدا کاعذاب اس طرح نازل ہوا کہ اس نے لوگوں پر پتھروں کی بارش برسادی اور لوگوں کے سَر پتھروں سے پھٹ گئے تھے اور ان کے ناخن اورہونٹ نیلے پڑ گئے تھے۔ ہمیں تو توبہ کرنی چاہئے تھی۔ اللہ خود سب کے حقوق کوبخوبی جانتاہے ۔ اس میں شک نہیں کہ بعض مقامات پر خواتین کی حق تلفی ہورہی ہے لیکن ان حقوق کومانگنے یا نشاندہی کیلئے ایک باوقار اورحیا کاراستہ بھی تواختیار کیاجاسکتا تھا ۔ میں تو خود خواتین کے حقوق کی بہت بڑی علمبردار ہوں اور اس پر اردو اور انگریزی میں مسلسل لکھتی رہتی ہوں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہماری خواتین دو حصوں میں بٹ گئی ہیں۔ ایک طبقہ وہ ہے جو حجابوں اور عبائیوں میں ہے اوردوسرا طبقہ وہ ہے جو مادرپدرآزاد ہے۔
ایک دفعہ پاکستان سے ڈنمارک جاتے ہوئے ائیرپورٹ پر عجیب اورتکلیف دہ حالات سے دوچار ہوئی۔ ایک خاتون ائیرپورٹ پر تشریف لائیں اس نے پورا وجود عبائے میں چھپایا ہواتھا اورچہرے پر ایسا نقاب تھا جس میں آنکھوں کیلئے صرف دوسوراخ تھے۔ ائیرپورٹ کے عملے نے اُسے بصد احترام سمجھایا کہ آپ بیشک عبائے میں رہیں لیکن چہرہ کھول دیں(میرے اپنے خیال میں چہرہ چھپانا دائرہ اسلام میں بھی نہیں) مگر وہ ایک ہی ضد پراَڑی رہی‘ اسی بحث میں جہاز دو گھنٹے لیٹ ہوگیا کچھ غیر ملکی مسافروں نے جہاز میں سوار ہونے سے انکارکردیا اورملکی مسافر بھی سخت غصے اورپریشانی میں آگئے بعد میں وہ خاتون مغلضات پر اُتر آئیں اورعملے نے اُسے سوار کرنے سے انکارکردیا۔ ہم ہمیشہ غیر مسلموں کو اپنی ضد اوررجعت پسندی کی وجہ سے تنقید اور تضحیک کانشانہ بناتے ہیں۔ پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ ہمارے 65 فیصد نوجوان جن میں سکول کالج اوریونیورسٹی کے طلبابھی شامل ہیں نشے کے عادی ہو چکے ہیںاور وہ کلاسوں میں مدہوشی کی کیفیت میں ہوتے ہیں۔ میںنے دو چاردن ہوئے یہ حیرت انگیزحالات اپنے انگریزی کے ایک کالم میں بھی لکھے ہیں۔ ہم ہمیشہ غیرمسلموں کو اُن کی شراب نوشی پرتضحیک کانشانہ بناتے آئے ہیں آج وہ ہم پر ہنس رہے ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارا دین جو کل کائنات کیلئے تھا ہم نے اُسے پارہ پارہ کردیا اور اپنے کرتوتوں کی وجہ سے غیر مسلموں کو اُسے اختیارکرنے سے باز رکھا ہے۔ ہم نے اپنے قول وفعل میں واضح فرق رکھ کراپنے دین کو پھیلنے سے روکا ہے ورنہ اچھا قول وفعل تو سب کو اچھا لگتاہے۔ میں نے اپنے ہرکالم میں یہ واضح کیا ہے کہ ہمارے دین کے پھیلاﺅ کوروکنے اوراُسے تضحیک کانشانہ بنانے میں ہمارے بعض علماءکازیادہ حصہ ہے کیونکہ میرے خیال میں ان کاعلم اتنا کم اور ناقص ہے کہ انہوں نے اسلام کی اصل روح کو سمجھا ہی نہیں تو پھر وہ دوسروں کو سمجھا کیسے سکتے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے کی خبر سب کو یاد ہوگی کہ ایک لڑکے کی ایک لڑکے سے شادی کوہمارے ایک عالم نے یہ کہہ کرجائز قرار دے دیاہے کہ خاص حالات میں یہ شادی جائز ہے اَب ایک اورعالم نے فتویٰ جاری کیاہے کہ اگر خواتین نکاح کے بندھن کو غلط سمجھتی ہیں یا طلاق چاہتی ہیں تو انہیں یہ حقوق ملنے چاہئیں‘ ایسے انم نہاد علماءکو جو ایسے گناہ آلود فتوے جاری کریں انہیں سزا کبیرہ دی جائے۔
موجودہ حالات میں اگر بے راہ روی کو نہ روکا گیاتو ریاست مدینہ خواب ہو کر رہ جائے گی۔ جس دن بھارت نے پاکستان پر ہوائی حملہ کیاتھا تو ایک ٹی وی چینل پر اس کی تفصیلات بتائی جارہی تھیں اور دوسرے ہی چینل پر ایک تھیٹر کاوہ سین چل رہا تھا جسے قلم نے بھی لکھنے سے معذرت کرلی۔ تحریک انصاف کی حکومت آنے سے ملک کے آگ بگولا حالات میں ٹھنڈی ہوا کے کچھ جھونکے آنے لگے تھے مگر اُسے بھی سازشوں کاشکار کیاجارہاہے اورسِکوں کا کاروبار کرنے والے خان صاحب کی جیب میں بھی کھوٹے سکے ٹھونسنے کے لئے پورا پورا زور لگا رہے ہیں، یہ لوگ چاہ رہے ہیں کہ ہم تو اپنے سِکوں کے بڑے بڑے گھٹڑ اُٹھائے دوسرے ملکوں میں اُتر جائیں گے اور بغیر سِکوں کے لوگ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بااختیاروں کوبددعائیں دیںگے۔ میری کچھ بہنیں جن حقوق کے لئے بے حیائی پراُتر آئی ہیں یہ خدا کی ناراضگی کو دعوت دینا ہے اورجب قادر مطلق کسی قوم سے ناراض ہوتاہے تو اُس پر جنگیں مسلط کردیتاہے۔ آج کل ہم اسی دور سے گزر رہے ہیں ہمیں جنگوں کی صورت میں کیا کچھ برداشت کرناپڑے گا یہ تحقیق میرے اگلے کالم میں پڑھیں۔ میری تحقیق نے جنگوں کے بعد کے جو نتائج میرے سامنے کھول کررکھ دئیے ہیں وہ آپ کے ہوش گم کردیںگے دونوںملکوں کے پاس وہ ہتھیار ہیں جن کے استعمال سے ہم انسان کیڑوں کی طرح یاتوسڑکوں پررینگیں گے یا مکمل بھسم ہوکر صفحہ ہستی سے ہی مٹ جائیں گے۔اگر یہ کشتی شروع ہوجاتی ہے تو اس وقت سے پناہ مانگیں ۔اللہ نے خود فرمایا ہے کہ انسان اپنے اعمال کی وجہ سے ہمیشہ خسارے اٹھاتاہے۔
میرا وزیرحقوق انسانی سے یہ سوال ہے کہ جب مادرپدر آزاد یہ جلوس سڑکوں پر گھوم رہاتھا تو آپ نے قانون کی طاقت کو کیوں استعمال نہیں کیاجس کی اجازت آپ کو خدا بھی دیتاہے اورقانون بھی۔ اسلام کے ان دشمنوں سے نہ ڈریں ہماری اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ کفر کی بڑی تعداد اورطاقت کے مقابلے میں اسلام کی چھوٹی سی تعداد نے ہمیشہ فتح پائی ہے۔ تحریک انصاف کاپلڑا بھاری ہے بہت سے لوگ اس کے ساتھ ہیں۔ میں خان صاحب کی طاقت کیلئے پھر اپنے اشعار دہراﺅں گی۔ع
یہ سَچا سُچا آدمی ہے
یہ اللہ نبی سے ڈرتا ہے
یہ ملک کو نیا کردے گا
یہ ملک کو نیا رنگ دے
آﺅ مل جُل اس کے ساتھ چلیں
کہیں ایک اکیلا گر نہ پڑے
(کالم نگارانگریزی اوراردواخبارات میں لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved