تازہ تر ین

منافرت سے پاک نیا پاکستان

اکمل شاہد ……..(بحث ونظر)

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے جس طرح خطے اور عالمی امن کو تباہی سے بچایا اور انتہائی حوصلے کا ثبوت دیتے ہوئے گرفتار حملہ آور بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو رہائی دی اس پر پوری دنیا نے ان کو سراہا۔ لیکن ہندو برادری کی توہین پر پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کے خلاف سخت ایکشن نے گویا ثابت کردیا کہ نئے پاکستان میں عدم برداشت اور منافرت کی کوئی جگہ نہیں،ریاست مدینہ کی طرز پر ملک کو فلاحی ریاست بنانے کا عزم واقعی طور پر عمران خان کے مضبوط اعصاب کا پتہ دیتا ہے کیونکہ اس راہ میں آنے والی مشکلات اور رکاوٹوں سے وہ بخوبی آگاہ ہوں گے ۔ ملکی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں سعودی عرب سمیت شراکت داروں کی بڑھتی تعداد اور ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے شمولیت کی خواہش یقینا ایک توانا امید ہے۔عالمی معاشی ماہرین کے یہ اندازے سچ ثابت ہونے میں اب کوئی شبہ نہیں رہا کہ 2023ءتک پاکستان کے معاشی حالات کا فی ساز گار ہوجائیں گے اور 2030ءتک اس کا شمار دنیا کی آٹھویں بڑی معیشت کے طور پر ہو گا۔ پاکستان کا کلچر و تہذیب ہزاروں سال پرانی ہے لیکن آج تک کسی بھی حکومت نے اس کو بین الاقوامی سطح پر روشناس کروانے کے حوالے سے کوئی پالیسی مرتب نہ کی ۔لیکن وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کلچر کو فروغ دینے کے لئے حکومتی سرپرستی میں اٹھائے جانے والے اقدامات عالمی پالیسی سازوں کے پیش نظر ہیں ۔لہذا پاکستان سے متعلق دنیا کی سوچ میں مثبت تبدیلی ایک فطری امر ہے ۔
موجودہ حکومت ملک میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کررہی ہے جس میں انصاف سب کے لئے ہو ،کروڑوں بچے زیور تعلیم سے محروم رہ کر سڑکوں پر حالات کا ایندھن نہ بنیں، ہر سطح پر اصلاحات کا ایک مربوط نظام وضع کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف سہی مگر ارادہ مضبوط ہو تو کرنے والے کر گزرتے ہیں ۔ نیشنل ایکشن پروگرام پر عملدرآمد اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاو¿ن بھی اصلاحات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ کوئی تنظیم طاقت پکڑ کر ملک پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی تاریخ نہ دہراسکے ۔اب مدارس پر حکومتی کنٹرول سے یہ بے بنیاد پراپیگنڈہ بھی ختم ہو جائے گا کہ غیر ریاستی عناصر پاکستان میں متوازی ریاست چلا رہے ہیں۔ بیرونی ممالک کی جانب سے براہ راست کوئی گرانٹ کسی بھی تنظیم تک اب نہیں پہنچ پائے گی، اس طرح ملک کا مالیاتی نظام مضبوط اورشفاف ہونے سے وسائل پر حکومت کی گرفت مضبوط بلکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی بھی تشفی ہو جائے گی ۔
پاکستان ایک ایسے شاندار ثقافتی ورثے کا مالک ہے جس کی کشش غیر ملکی سیاحوں کو مبہوت کردیتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان درست کہتے ہیں کہ اگر صرف سیاحت کے شعبے کو ترقی دی جائے تو ملک کا معاشی بحران ختم ہو سکتا ہے ۔اس حوالے سے حکومت وفاقی اکائیوں سے مل کر سیاحتی ڈھانچے کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دینے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ سیاحتی پولیس سروس کے قیام کی تجویز کا دیرینہ خواب بھی شاید اب پورا ہو جائے۔ غیر ملکی سیاح صرف شمالی علاقہ جات ہی کی سیر نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ پاکستان میں پھیلی ہوئی دنیا کی قدیم تہذیبوں ہڑپہ ، موہنجو داڑواورہاکڑا گھومنے کے بھی خواہش مند ہیں۔ قا رئین صرف ضلع رحیم یار خان میں ہزاروں سالہ ہاکڑہ تہذیب (سرسوتی)کی باقیات جا بجا موجود ہیں اور اس کے علاوہ اسی ضلع میں بائیس سے زائدتاریخی قلعہ جات و تاریخی مقامات موجود ہیں جن کا تفصیلی تذکرہ آنے والے کالم پر چھوڑتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت دنیا بھر کے سیاحوں کو پاکستان کی طرف متوجہ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ امید کامل ہے کہ اسی دھرتی کے نوجوان سپوت مخدوم ہاشم جواں بخت صوبائی وزیر خزانہ جو کہ چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ اپنے خطے میں سیاحت کے فروغ کے لیے کام کریں گے۔ خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئر نگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ ہیری ٹیج کو خطے کی ہزاروں سال پرانی ہاکڑہ تہذیب کی تحقیق کے لیے حکومت کی جانب سے کھدائی کا لائسنس بھی جاری ہو چکا ہے ۔ یقینا وہ ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے رحیم یار خان کے مدفون ورثہ کو دنیا میں روشناس کرانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔
کلچر کی طاقت سے آگہی نے حکومت کو یہ راستہ دکھایا کہ وہ غیر ملکی سیاحوں کو مقامی ثقافتی تقریبات میں شرکت کے مواقع فراہم کرے جیسا کہ پوری دنیا کرتی ہے اس سے پرُامن پاکستان کا تاثر اجاگر ہو گا ۔ پاکستان صوفیاءکرام کی سرزمین ہے لہٰذا صو فی ازم ہی پاکستان کی حقیقی شناخت ہے ،میلوں ٹھیلوں اور ثقافی تہواروں کی سرپرستی کے ذریعے حکومت ملک کو شدت پسندی کی دلدل سے نکال کر ایک کھلی فضاءمیں لانے کی کوشش کررہی ہے کہ تازہ ہوا اور روشنی ذہنوں اور سوچوں کوکشادگی سے ہمکنار کردے۔ بات آہستہ آہستہ اس طرف ہی جائے گی برداشت اور رواداری کا کلچر واپس آنے سے امن واپس آئے گا اور امن کے فروغ سے ہی ترقی اور خوش حالی کی اس منزل کا حصول ممکن ہو پائے گا۔ جس کی نشاندہی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے موقع پر کی تھی ۔اب جبکہ سرائیکی وسیب کی معروف سیاسی وسماجی تنظیم سوجھل دھرتی واس نے فاضل پور میں22مارچ کو سوجھل دھرتی واس کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کررکھا ہے تو میں منتظمین سے بھی درخواست کروں گا وہ وہ بھی ایسی تقریبات کے ذریعے برداشت کے پیغام کو آگے بڑھائیں ،ساتھ ساتھ یہ دن دریاﺅں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اس لیے اس دن دریاﺅں کی اہمیت پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت سے بھی مطالبہ کریں کہ وہ ہمارے تین دریاﺅں راوی،ستلج اور بیاس میں بیس سے پچیس فیصد تک ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور نباتات کے لیے پانی چھوڑے۔ایکشن اگینسٹ پاورٹی کی طرح دوسرے سماجی ادارے بھی پورے ملک میں امن وسیب اکٹھ کی طرح تقریبات کاانعقاد کرکے منافرت ،عدم برداشت اور لسانی وثقافتی ہم آہنگی کی فضاقائم کرسکتے ہیں ۔
(کالم نگارمختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved