تازہ تر ین

نیا نظام کیسا ہوناچاہئے؟

افتخار خان ….(اظہار خیال)

نیانظام کیسا ہونا چاہیے؟۔ اس کے لیے چار باتوں کو مدِنظر رکھنا ہوگا ۔(1)بچوں کامستقبل (2)عوام جیسی سہولت چاہتی ہے اس کے لیے وہ اپنا حصہ بھی ڈ الے، کو ئی چیز مفت نہیں ملتی ۔اس وقت بھی جو تھرڈ کلاس سہولیات آپ کو مل رہی ہیں اس میں بھی عوام نے اپنا حصہ تو ڈالا ہوا ہے لیکن یہ حصہ Indirectطریقے سے ڈالا ہوا ہے جس کا منافع تھر ڈ پارٹی لے جاتی ہے ۔حکومت کی مس منیجمنٹ کی وجہ سے عوام کو نقصان ہوتا ہے مثلاًجو رقم بجٹ میں محکمہ جیل خانہ جا ت کیلئے مختص ہو تی ہے وہ زیادہ تر محکمہ اپنی تز ئین پر خرچ کر دیتا ہے اور قیدیوں کو کوئی سہولت میسر نہیں ہوتی ۔(3) نئے نظام میں ترقی کاراستہ متعین ہو نا چاہیے تاکہ ہر کوئی سیدھے راستے پرچل سکے۔ملک خود بخود ترقی کی منزلیں طے کرتا جائے (4)ہمارے نئے نظام کی تجاویز پر عوام نے صرف ایک کام کرناہے کہ جب کوئی روز مرہ کی چیز خریدیں تو دکاندا ر سے حکومت کی جاری کردہ رسید ضرور لیں ۔ایسا کرنے سے حکومت کی آمدن شرطیہ 100کھرب روپے سالانہ سے زیادہ ہو جائے گی ۔رسیدجاری نہ کرنے والے اور رسید نہ لینے والوں کی بہت کڑ ی سزا ہونی چاہئے ۔ان چاروں اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے میں آپ کو ہر بڑے مسائل کیلئے نیا نظام پیش کرتاہوں۔
جس شخص سے بھی کسی مسئلہ کا حل پوچھا جائے اسکا جوب ہوتا ہے کہ نظام بدلنے کی ضرورت ہے لیکن کسی کو یہ معلوم نہیں ہو تا کہ نظام کس بلا کا نام ہے اور اس کو کس طرح بدلا جا سکتا ہے اور کون بدلے گا ۔
انصاف-: تجویز ہے کہ ہم نے دنوں کے اندر ہرکیس کا مکمل فیصلہ کرنا ہے بمعہ دو اپیلوں کے،اس کیلئے ہم نے پاکستان کو 15سے 20ہزار کی آباری کے حصوں میں ڈیوائڈ کرنا ہے ۔ملک کا کوئی حصہ بھی ان حصوں سے باہر نہیں ہوگا ۔ان حصوں کو ہم سیکٹر کا نام دیں گے ۔ملک میں تقریباً کل 10,000سیکٹر بنیں گے ۔ ہر ایک کا اپنا نمبر ہو گا ۔یہ کام تو ایڈ منسٹر یشن کر دے گی ہر سیکٹر میں ایک پرائیویٹ کمر شل دفتر ہو گا اور ایک پرائیوٹ کمرشل عدالت ہو گی ۔سیکٹر کے بزرگوں کی اجازت سے ان کے ملازم رکھے جائیں گے ۔تنخواہیں حکومت مقرر کرے گی ۔آفس جس کے پاس اس سیکٹر کی ہر قسم کی انفارمیشن ہو گی وہ کیسوں کی انویسٹی گیشن کرے گا اور عدالت فیصلے کرے گی ۔یہ فیصلہ فائینل ہو گا۔ہر عدالت میں پانچ قاضی بیٹھ کر متفقہ فیصلہ کریں گے ۔یہ قاضی جن کو تنخواہ دی جائے گی صبح 9بجے سے 5بجے تک کا م کریں گے اور پانچ قاضی جو والنٹئیرزہو نگے وہ شام کو 5بجے سے 9بجے اتک اپیلیں سنیں گے ۔دوسری اپیل 10قاضی سنیںگے جو جمہوری فیصلہ کریں گے ۔ یہ فائنل فیصلہ کسی کے پاس چیلنج نہیں ہو گا ۔
حکومتی آمدن -:ملکی آمدن بڑھائے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا ۔موجودہ تمام ٹیسکوںکو ختم کر کے 20فیصد ہرچیز پر ٹیکس لا گو کرنا ہو گا،ہر ریٹیلریہ ٹیکس لے گا۔حکومت رسیدیںپرنٹ کروائے گی اور ہر دوکاندار کو مفت سپلائی کرے گی ۔سٹیٹ بینک ٹوکن جاری کرے گا اور ہر دوکاندار کو سپلائی کرے گا دوکاندار رسید کاٹے گا اور ٹیکس کی رقم کے برابر ٹوکن ساتھ لگائے گا اور پرچیزر کو دے گا عوام کو ایک ہی کام کرناہے کہ ہرروز مرہ کی پرچیز پر دوکاندار رسید جاری کریگا اور ہر پرچیزر رسید لے گا۔
تعلیم -:حکومتی آمدن اور انصاف کی تجاویز پر عملدرآمد کرنے سے تمام مسائل کے حل بہت آسان ہو جاتے ہیں ۔ہر کام کیلئے رقم پانچ سالہ منصوبہ میں مختص کر دی جائے گی تعلیم کیلئے 30کھرب روپے پانچ سال کیلئے رکھے گئے ہیں ۔انصاف کی تجویز میں تمام سیکٹرز کے نقشے ایڈ منسٹریشن نے تیا ر کروانے ہیں ۔ہر سیکٹر میں ایک پرائمری سکول لڑ کیوں کا اور ایک پرائمری سکول لڑکوں کا ہو گا ۔ ہم نے موجودہ سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کوآہستہ آہستہ صفرکرنا ہے اور نیا تعلیمی سسٹم5سالوں میں لاگو کرنا ہے ۔اسی طرح ہر دو سیکٹر میں ایک ہائی سکول لڑ کو ں کا اور ایک لڑکیوں کا بنایا جائے گا ۔ہر چا ر سیکٹر میں ایک کا لج لڑ کوں کا اور ایک کالج لڑکیوں کا بنایا جائے گا۔ اب مختصرتعلیم کے تجویز کردہ سسٹم کی بات کرتے ہیں ۔صبح اسمبلی میں نماز دہرائی جائے گی۔ایک پیریڈ میں بچہ 4زبانیں سیکھے گا۔ انگریزی ،اُردو،عربی اور لوکل زبان ۔ ہر استاد کو پہلے ٹریننگ سے گزرنا ہو گا جس کا بندوبست حکومت مفت فراہم کرے گی بلکہ رقم بھی دے گی۔ معیارِتعلیم دنیاسے کسی صورت بھی کم نہ ہو گا۔استاد کی تنخواہ 50ہزار سے 1 1/2لاکھ روپے تک ہو گی۔اچھی تعلیم کی کنجی استاد کی خوشحالی میں ہے ۔
صحت : ہر 5سیکٹر میں ایک 100بیڈ کا مکمل ہسپتا ل بنایا جائے گا ۔اس طرح 2000نئے ہسپتال 5سالوں میں بنا کر چلائیں گے حکومت 30کھرب روپے پانچ سالہ منصوبہ سے رقم استعمال کرکے یہ کام مکمل کرے گی ۔ ہرFacilityکے لیے ہسپتال میں جگہ ہو گی جہاں پرائیویٹ لوگ اپنی مشینری لگا کر کا روبار کریں گے ۔یہ ہسپتال کسی سینیئر ڈاکٹر کو مفت دے دیے جائیں گے جو سٹاف رکھیں گے اور اسکو چلائیں گے ۔پاکستان کا ہر شخص ہیلتھ انشورنس کروائے گا ۔حکومت سرکاری انشورنس کمیٹی بنائے گی اور ہیلتھ انشورنس کی رقم جمع کرے گی ۔ہر شخص 6000روپے سالانہ میں انشورڈ ہو گا ۔2بچے اور میا ں بیوی24000روپے دیں گے یعنی 2000/-ماہانہ ۔ہسپتال میں ٹریٹمنٹ کےلئے انشورنس والوں سے رقم لیں گے ۔تمام ٹیسٹ سپیشلسٹ ڈاکٹر، ایمبولینس کا خرچ اور سٹاف کے پیسے انشورنس دے گی ۔اس طرح ہسپتال چلیں سینئر ڈاکٹر کو5 لاکھ روپے ماہانہ آممدن کی گارنٹی ہو گی ۔ڈاکٹر کی تنخواہ حکومت مقرر کرے گی ڈاکٹر وںکی تنخواہ سب سے زیادہ ہو گی ۔ ڈاکٹر ز دل لگا کر محنت کر یں گے ۔
رہائش -:ہماری تجویز ہے کہ ہر شخص کو پاکستان کے ہر حصے میں 5مرلے کا 3بیڈ روم کا اکیسویں صدی کا گھر 2000روپے ماہانہ قسط پر 50لاکھ لوگوں کو دیں ۔اس پراجیکٹ میں زمین حکومت دے گی ۔گھر بنا کر دینے میں تین رکاوٹیں ہیں (1)زمین بہت مہنگی ہے (2)شرح سود تنگ کرتی ہے (3)بلڈنگ میں استعمال ہونے والا میڑیل بہت مہنگا ہے ۔لوگو ں نے اس کو کاروبار بنایا ہوا ہے۔ ہماری تجویز کے مطابق حکومتی آمدنی کے تمام موجودہ ٹیکس ختم کرنے سے ہر چیز کی قیمت کم ہو گی ۔بعض اشیا ءتو آدھی قیمت پر آجائےں گی ۔اس کے ساتھ ہی ہم نے سود کی شرح صفر کردینی ہے اور یہ کام ہمیشہ کیلئے ہو گا ۔ اب صرف زمین کا مسئلہ رہ جاتا ہے ،حکومت نے تمام گھروں کی زمین مفت دینی ہے ۔
زراعت-: زمیندار کیلئے ہماری تجویز سے بہتر کو ئی اور تجویز نہیں ہو سکتی ،زمیندار کو پانی ،بجلی ،بیج،کھاد اورسپرے بالکل مفت دیں ۔زمیندار بازار سے یہ چیزیں لے گا اور ساتھ ریسد لے گا اس رسید پر اپنا نمبر اور نام لکھے گا اور اپنے علاقے میں حکومت کی مقررکردہ جگہ پر رسید جمع کروادے گا ۔اسی دن دوکاندار کو پیسے اس کے اکاﺅ نٹ میں جمع ہو جائیں گے ،اس مد میں 5سالہ منصوبہ میں30کھرب روپے رکھے ہیں جو سال کے 6کھرب روپے بنتے ہیں تمام رسیدوں اور بجلی کے بلوں کی رقم 6کھرب سے بہت کم ہوگی ۔کو ئی زمیندار اس میں بے ایمانی نہیں کر سکتا ۔کھا د لے کر بازار میں نہیں بیچ سکتا کیونکہ کوئی خریدار ہی نہیں ہو گا ۔اس کے علاوہ ہر زمیندار اپنی سبزی او ر پھل مارکیٹ میں جا کر خود بیچے گا اور اس سے مالا مال ہو جا ئے گا ۔حکومت پاکستان میں ہر جگہ مارکیٹیں بنائے گی جہاں پرہرسہولت میسر ہو گی ۔
انڈسٹری -:اس کے لئے بھی 30کھرب روپے 5سالہ منصوبہ میں رکھے ہو ہیں ہرشخص جو انڈسڑی کو چلانے کا تجربہ رکھتا ہو گا وہ جتنی بڑی انڈسڑی لگانا چاہے گا آسانی سے لگا سکے گا ۔ حکومت ہر صوبے میں انڈسڑیل ایریازبنائے گی ۔تمام سہولیات حکومت اپنے خرچ سے مہیاکرے گی ۔جو شخص انڈسڑی لگانا چاہے گا ،اسکو فری زمین ملے گی جتنی وہ چاہے گا حکومت سود فری قرضہ دلوائے گی ۔حکومت اس قرضہ کی گارنٹی دے گی تاکہ بینک فوری قرضہ جاری کریں۔بجلی کاریٹ ایک روپے یونٹ چارج ہو گا ۔انڈسڑی کا مالک جو چیز مینو فیکچر کرے گا اس کا معیار حکومت سے پاس کروائے گا اگر معیار سے کم کوئی چیز بناتا ہوا پکڑا گیا تو انڈسڑی سیل ہو جائے گی ۔تین غلطیوں پر فیکٹری حکومت چھین لے گی۔اس طرح انڈسڑی میں انقلاب آئے گا اور معیاری اشیاءدنیا میں ہا تھوں ہاتھ بکے گی پاکستان کو یہ کہنے کی ضرورت نہیںپڑے گی کہ ہمارے ملک کی اشیاءخریدیں۔ ملک میں ڈالر کے انبار لگ جائیں گے ۔دنیا میں یہ مشہور ہو جائے گا کہ پاکستان کی بنی ہوئی چیز کی لائف گارنٹی ہو تی ہے۔
اس کے علاوہ پانچ سالہ منصوبہ میں ان گنت کا م کئے جائیں گے ۔ریلوے کا نیا نظام بچھائیں گے ۔ملک میں موٹر ویز اور شاہراہوں کا جال بچھائیں گے ۔ڈیم بنائیں گے ،بجلی دو روپے یونٹ کریں گے ۔پانی اور سیوریج کا نیا سسٹم بچھائیں گے ۔ملک کے گرد محفوظ حصار بنائیں گے ۔فارن پالیسی کو عوام کی امنگوں کے مطابق کریں گے ۔اس طرح ملک میں صیحح تبدیلی آئے گی۔ایسا ہو گا ہمارا نیا نظام۔
(کالم نگارقومی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved