تازہ تر ین

کلین بولڈ

علی سخن ور….(فل سٹاپ کے بعد)

کھیل کے میدان اور میدان جنگ میں بنیادی فرق یہی ہے کہ کھیل قوموں کے درمیان قربت بڑھانے کا سبب بنتا ہے جبکہ میدان جنگ ایسی دوریوں کو جنم دیتا ہے کہ جنہیں برسوں بعد بھی قربتوں میں بدلنا ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم کچھ بدنصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جو کھیل کے میدان میں بھی نفرتوں کے ایسے بیج بوتے ہیں کہ کھیل کے میدان اور میدان جنگ میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔حال ہی میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے آسٹریلیا کیخلاف اپنے تیسرے ون ڈے میچ کے دوران فوجی ٹوپیاں پہن کر کھیل کے میدان کو میدان جنگ کا ماحول دینے کی کوشش کی ‘ اس حرکت پر ساری دنیا نے بھارتی پالیسی سازوں کو دل کھول کر گالیوں سے نوازا۔رہی سہی کثر مذکورہ میچ میں بھارتی ٹیم کی شرمناک شکست نے پوری کردی۔کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے، کوئی بھی ٹیم ہارنے کے لیے نہیں بھیجی جاتی، ایک کی ہار اور دوسرے کی جیت ہونا کوئی نئی یا انہونی بات نہیں لیکن کرکٹ کے میدان میں فوجی ٹوپیاں پہن کر جانا یقیناً ایک قابل مذمت عمل ہے۔ اگر آئی سی سی نے اس عمل کی حوصلہ شکنی نہ کی تو ایک نئی روایت جنم لے گی، کل کو کوئی ٹیم مکمل فوجی وردی زیب تن کر کے میدان میں آسکتی ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر کھلاڑی کو کمر پر ٹانگنے کے لیے ایک ایک ریوالور بھی دے دیا جائے اور اس سے بھی خوفناک صورت تب ہوگی جب کھلاڑیوں کے جوگرز پر کسی دوسرے ملک کا جھنڈا پینٹ کردیا جائے گا۔
مختصر یہ کہ کھیل کا میدان ، جنگ کے میدان میں بدل جائے گا اور اگر خدانخواستہ ایسی صورت حال پیدا ہوگئی تو اس کی ساری ذمے داری نریندر مودی پر عائد ہوگی کہ ان کے دور اقتدار میں انتہا پسندی پر مبنی رویوں کو سرکاری سرپرستی نصیب ہوئی۔کل بھوشن سے لے کر ابھی نندن تک، نریندر مودی نے وہ گل کھلائے کہ انسانیت شرما کر رہ گئی۔پلوامہ ڈرامے کی آڑ میں اپنے چالیس سے زائد فوجیوں کا خون بہا کر معاملے کو مزید سچائی کا رنگ دینے کے لیے پاکستان کی طرف جنگی جہاز بھی بھیج دیے۔ تاہم یہ ضروری نہیں کہ باﺅنڈری کی طرف جانے والی ہر شارٹ چھکا شمار ہوجائے، کئی دفعہ عین باﺅنڈری سے چند انچ پہلے کیچ آﺅٹ بھی ہوجاتا ہے لیکن یہ تب ممکن ہوتا ہے جب فیلڈر غیر معمولی صلاحیت کے حامل ہوں۔ نریندر مودی نے بھی اپنی طرف سے چھکا مارا تھا لیکن باﺅنڈری پر پاکستانی فوجی کھڑے تھے، نریندر مودی کیچ آﺅٹ ہوگئے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ اس وقت ایک طرف تو پلوامہ میں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں سے اظہار یکجہتی میں بھارت کے ہر گلی کوچے سے گو مودی گو کے نعرے بلند ہورہے ہیں اور دوسری طرف دنیا بھر میں آباد کشمیریوں نے مسئلہ کشمیر کو پلوامہ واقعے سے منسلک کر کے تحریک آزادی کشمیر کو اس انداز میں زندہ کردیا کہ نریندر مودی منہ چھپانے پر مجبور ہوگئے۔ابھی نو مارچ کو لندن میں انڈین ہائی کمیشن کے سامنے برطانیہ میں آباد سکھوں اور کشمیریوں نے ایک ایسے احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی، مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی فوجیوں کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے خلاف احتجاجی نعرے درج تھے۔گیارہ مارچ کو جنیوا میں بھی اسی طرح کے ایک احتجاجی جلسے کا اہتمام کیا گیا جس میں کشمیری مظاہرین کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔ ہر طرف سے ایک ہی مطالبہ تھا، کشمیر کو آزاد کرو، ہمیں جینے دو۔
الیکشن کے بالکل قریب آکر نریندر مودی نے پلوامہ ڈرامے کی صورت ایک ایسا غلط شارٹ کھیل دیا کہ سارا میچ ہی ہاتھ سے نکل گیا۔ پلوامہ ڈرامے کا سکرپٹ لکھتے ہوئے مودی سرکار کا خیال تھا کہ سمجھوتہ ایکسپریس اور پٹھان کوٹ سانحے کی طرح اس واقعے کا سارا ملبہ بھی آسانی سے پاکستان پر ڈال دیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ لینے کے دینے پڑ گئے۔ مذکورہ صورت حال کا ایک اور پہلو بھی نہایت اہم ہے۔ ماہرین کا خیال تھا کہ امریکا کی طرف سے بھارت میں غیر معمولی سرمایہ کاری اور فوجی تعاون کی وجہ صرف یہ ہے کہ امریکا اس خطے میںبھارت کو چین کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط کرنا چاہتا ہے لیکن حالیہ دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ پر بھارت کی صلاحیتیں نمایاں ہوکر سامنے آگئیں۔ امریکا میں اب یہ خیال عام ہے کہ خود کو سپر پاور دیکھنے کا خوا ہشمند بھارت اپنے سے گئی گنا چھوٹے ملک پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکا، چین کا مقابلہ کیا کرے گا۔ یقیناً پلوامہ ڈرامہ صدر ٹرمپ کو بھارت کی طرف امریکی جھکاﺅ پر نظر ثانی کے لیے مجبور کردے گا۔کاش پاکستان کی طرف مہم جوئی کرنے سے پہلے ، نریندر مودی یہ بات سمجھ لیتے کہ جنگ بد نصیبی بھی ہے، بربادی بھی۔ افغانستان سے لے کر عراق تک جنگ کبھی بھی کسی مثبت نتیجے تک پہنچنے کا وسیلہ ثابت نہیں ہوئی ہے۔بات توپوں ، بندوقوں، جنگی جہازوں اور میزائلوں سے ہوتی ہوئی جب نیوکلئیر ہتھیاروں تک پہنچی تو دنیا نے جان لیا کہ اب کوئی بھی جنگ محض کسی ایک کمزور فریق کی تباہی اور بربادی پر منتج نہیں ہوگی، ایک چھوٹا سا ایٹمی حملہ کسی انتہائی طاقتور ملک میں ایسی تباہ کاری کا باعث بن سکتا ہے جس کے خوفناک اثرات کئی نسلوں کو سہنا پڑیں گے۔ اسی لیے اب عقلمند ملک جنگ سے حتی المقدور گریز کرتے ہیں۔
جہاں تک حالیہ دنوں میں بھارت کی طرف سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور پاکستان پر بمباری کے خواب کی بات ہے، تو اسے ہم بھارت کی نہیں بلکہ صرف اور صرف نریندر مودی کی کم عقلی اور نادانی کہیں گے۔ نریندر مودی مسلسل اس خوف کا شکار ہیں کہ آئندہ دو ماہ میں ہونے والے جنرل الیکشنز میں انہیں بری طرح شکست ہوگی۔ بھارتی عوام نے مودی کی انتہا پسندی، ان کی سرپرستی میں جاری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور پھر خود بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ساتھ نچلی ذات کے ہندوﺅں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں نے ہمیشہ ایک انتہائی سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ یقینا بھارت کے ایسے معتدل مزاج لوگ انتخابات میں اپنے ووٹ کے ذریعے نریندر مودی کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار ضرور کریں گے۔ اگرچہ پاکستان کبھی بھی جنگ میں پہل کرنے کی پالیسی پر گامزن نہیں لیکن اپنی حدود اور اپنے لوگوں کا دفاع کرنا بہر حال دنیا کے ہر آزاد ملک کی طرح پاکستان کا بھی حق ہے، چنانچہ پاکستان نے اپنا یہ حق بھرپور انداز میں استعمال کر لیا۔دنیا کو بھی پتہ چل گیا کہ پاکستان کوئی چاکلیٹ کا ٹکڑا نہیں کہ جو چاہے منہ میں رکھ لے۔ بھارت کی طرف سے اس جنگ آزمائی کا ہمیں فائدہ یہ ہوا کہ ہمارے ہتھیار بھی چیک ہوگئے اور ہمارے جوانوں کی صلاحیتیں اور مہارتیں بھی۔ایک اور بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ہماری ساری قوم ایک دم سے اپنے تمام اختلافات بھلا کر یک جان ہوگئی۔
وزیر اعظم عمران خان اور چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل باجوہ کی تقریروں نے قوم میں ایک نئی ہمت جگادی۔ہر سیاسی جماعت نے اس معاملے میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیا، بھارت جنگ کو مزید آگے بڑھانے سے باز آگیا۔ تاہم یہاں ہمارے لوگوں کو اس بات کا شعور دینا بھی ضروری ہے کہ پاکستان نے بھارت سے کوئی جنگ شروع نہیں کی ہے، پاکستان نے تو صرف اپنا دفاع کیا ہے۔ ہم امن پسند قوم ہیں، ہمارا جنگ سے کوئی بھی تعلق نہیں لیکن ہمارے پاس ایک چیز اور بھی ہے جسے غیرت کہا جاتا ہے۔یہی غیرت ہے جس نے مقبوضہ کشمیر کے بہادر لوگوں کو آج تک قابض بھارتی فوجوں کے سامنے فولاد کی دیوار بنائے رکھا ہے اور یہی غیرت ہے جس نے افغانستان میں کھربوں ڈالے خرچ کرنے کے بعد بھی امریکی فوجوں کو ایک پل کے لیے سکوں کی سانس نہیں لینے دی۔ اور یہی غیرت ہے جس نے ہزار مسائل اور مشکلات میں گھرے پاکستان کو اقوام عالم کے سامنے بے بس نہیں ہونے دیا۔کشمیری ہوں، پاکستانی یا پھر افغان، دھرتی ہر غیرت مند کے لیے ماں ہوتی ہے۔ماں کی عزت اور ماں کے وقار سے زیادہ مقدم اور مقدس چیز اور کیا ہوسکتی ہے، اس سوال کا جواب نریندر مودی کے علاوہ ہر ذی شعور جانتاہے۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved