تازہ تر ین

ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ پر پورے ملک سے شدید رد عمل آیا : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے بل کی جو خبریں شائع ہوئی ہیں۔ دن بھر میں عوام کے مختلف طبقات میں بحث ہوئی، سوشل میڈیا پر تو ایک طوفان کی سی کیفیت رہی۔ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جب کہ مہنگائی اتنی زیادہ ہو گئی ہے اور عام آدمی کا جینا دو بھر ہو گیا ہے اور سارے یوٹیلیٹی بل جو ہیں ان کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اس زمانے میں نہ صرف ارکان اسمبلی کی پنجاب میں تنخواہیں ڈبل کر دی گئی ہیں بلکہ اس کے ساتھ جو زیادہ مضحکہ خیز چیز جو ہے وہ یہ ہے کہ جتنے سابق وزراءاعلیٰ ہیں ان کو گھر، ان کو گاڑی دی جائے گی ان کو خصوصی مراعات دی جائیں گی۔ جب وہ وزیراعلیٰ تھے تو وزیراعلیٰ تھے ان کو کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ان میں سے اتنے بیچارے غریب لوگ ہیں جن کی کوئی مالی حالت بہتر کرنا مقصود ہو، نہ انہوں نے اتنے اچھے کام کئے ہوئے ہیں کہ ان کو یاد رکھا جائے گا کہ ان کو ہر خوشی میں شریک کیا جائے لہٰذا اگرچہ گورنر صاحب نے اس پر دستخط نہیں کئے لیکن گورنر نہ بھی دستخط کرے تو قانون یہ کہتا ہے کہ دس دن کے بعد یہ ازخود لاگو ہو جائے گا۔ لوگوں کی اکثریت نے اس کو شدید ناپسند کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ فواد چودھری صاحب نے بھی اس پر احتجاج کیا ہے اور عمران خان نے اسے مایوس کن قرار دیا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ اضافہ روکا بھی جا سکتاہے تبدیلی بھی ہو سکتی ہے اگر ایک قرار داد منظور کی جا سکتی ہے اس سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ جو سابق وزراءکی مراعات آئی ہیں وہ تو انتہائی ناقابل برداشت ہیں۔ ایک شخص جو 8 سال پہلے وزیراعلیٰ تھا تو کیا ضرورت پڑی ہوئی پنجاب کے عوام کو کہ وہ یہ کہے کہ جی اس کو گھر بھی دیا جائے اس کو گاڑی بھی دی جائے اس کو پی اے بھی دیا جائے اس کو ٹیلی فون بھی دیا جائے اور اس کو مہینے کا خرچ بھی دیا جائے۔ کس وجہ سے؟ ابھی تو یہ ایک مسال بن جائے گی کسی نہ کسی طریقے سے چاہے دو دن کے لئے وزیراعلیٰ رہیں پنجاب میں کہ وزارت اعلیٰ کی سیٹ ضرور حاصل کرنی چاہئے ساری عمر کی مراعات تو رہیں گی۔ ان چیزوں کو ختم کرنا چاہئے ورنہ عوام کا ردعمل بہت بُرا ہے اور وہ اس کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں گے عوام ان اسمبلیوں کی اس طرح کی قراردادوں کی منظوریو ںکو دل سے تسلیم نہیں کریں گے۔ یہ تو ہمارے دوست منظور وٹو کی بیٹھے بیٹھے لاٹری نکل آئی۔ سیاست تو جھوٹ کا ایک کھیل ہے اور اب رفتہ رفتہ ثابت ہو چکا ہے کہ کوئی سی بھی پارٹی ہو سیاست زیادہ جھوٹ بولتے اور منافقت کرتے ہیں۔ کیونکہ ایک دوسرے کے پیچھے ہاتھ کھڑے کرنے کی بات کرتی ہے تو اپنی مراعات، اپنی سہولتوں، اپنی تنخواہوں اس میں سب اکٹھے ہو جاتے ہیں اس پر ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں رہتا ہے۔ یہ سب اندر سے ایک ہیں یہ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ اسمبلی کی رکن ہونے کی ایک رہنما جتنا زیادہ سے زیادہ استحقاق حاصل کر سکتے ہیں کریں۔ عون محمد چودھری نے ٹھی کہا ہے کہ اس وقت ملک اس قسم کی فضول خرچی کا متحمل نہیں ہے۔ ایک طرف وزیرخزانہ کہتے ہیں مہنگائی بڑھنے والی ہے عوام کا کچومر نکل جائے گا۔ عوام کا کچومر نکالنے کے لئے تو ہماری اسمبلی تیار ہے۔ میں ایک سوال کرتا ہوں کہ جو اپنی تنخواہوں کو اضافہ کیا ہے جو مر کھپ گئے۔ ریٹائر ہو گئے، بابے ہو گئے گھروں میں بیٹھے ہوئے پاکستان میں کوئی وزیراعلیٰ بتائے تو سہی جو بڑا غریب ہو کہ جی اس کے حالات بڑے خراب ہیں اس کی مالی مدد کرنی چاہئے۔ زکوٰة اور خیرات دینی چاہئے اس کو۔ کیا شہباز شریف کو مالی مدد کی ضرورت ہے کیا میاں منظور وٹو کو زکوٰة خیرات کی ضرورت ہے۔ اور کون سا سابق وزیراعلیٰ ہے پنجاب کا جس کو خیرات اور زکوٰة کی ضرورت ہے پھر یہ سہولتیں کس لئے دی جا رہی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں لہٰذا مجھے یقین ہے کہ وہ اس صورت حال کا کوئی نہ کوئی رستہ ضرور نکالیں گے اور اس رجحان کو کہ ارکان اسمبلی اپنی تنخواہیں اور مراعات میں اضافہ کر لیں اور جو گئے گزرے لوگ ہیں ان کی بھی تنخواہیں اور گاڑیاں اور گھر اور ملازم اور سہولتیں دینے کے لئے عوام کی جیبیں کاٹ کر لی جائیں۔ اس لئے عام آدمی کیوں گزرے ہوئے 7 سال پہلے 10 سال پہلے، 12 سال پہلے والے کو وزیراعظم کس خوشی میں گھربیٹھے ہوئے شخص کو پیسے دے۔
وزیراعظم کی طرف سے ویزا پالیسی کے اعلان کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ یہ ایک مہذب طریقہ ہے کہ آپ آن لائن سہولتیں حاصل کر سکیں اور بجائے اس کے کہ آپ اسلام آباد جائیں اور پھر اسمبلیوں کے سامنے دھکے کھائیں۔ اور اگر آپ کو بچوں کا بھی ویزا چاہئے تو ان کو بھی لاﺅ لشکر ساتھ لے کر جائیں اب بہت سے ملک ایسے ہیں فہرست بنا دی گئی ہے کہ یہاں تو آپ لکھ کر بھجوا دیں اور آپ کو یہ سہولت مل جائے گی۔ بہت سے ممالک کے بارے میں یہ تخصیص کر دی گئی ہے کہ ان کے لوگوں کو پاکستان پہنچ کر ویزے مل جائیں گے ان کو مسئلہ نہیں ہے، تیسرا جو پاکستانن سے جو لوگ باہر جاتے ہیں کاروبار یا کسی اور کام سے جاتے ہیں ان کے لئے بھی آسانی پیدا ہو گئی ہے کہ ان کو بلاوجہ دھکے نہیں کھانے پڑیں گے۔ عمران خان کا صحیح موقف ہے کہ اس سے کاروبار کی سہولتیں بڑھیں گی اور جو لوگ باہر جانا چاہتے ہیں ان کو بے جا قسم کی پابندیاں ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنیں گی۔ اپنے ملک میں جس طرح ہم نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی ہے اور اللہ کا فضل ہے حالات اور بہتر ہیں۔ ان حالات کو اور زیادہ مضبوط کیا جائے کیونکہ امریکہ میں بھی مجھے اچھی طرح معلوم ہے ان کی ایک لسٹ چلتی ہے محکمہ داخلہ کی طرف سے کہ ان ان ملکوں میں لوگ جانے سے پہلے احتیاط سے کام لیں کیونکہ وہاں حالات پرامن نہیں ہیں، اب اس طرح سے لوگو ںکو غیر شعوری طور پر ایک ہمیں نیگٹیو لسٹ میں ڈالا جاتا ہے کہ شاید ہمارے ہاں حالات پرسکون نہیں ہیں اور ہمارے ہاں آزادانہ آمدورفت یہاں ممکن نہیں ہے۔ آپ پی ایس ایل کو ہی دیکھ لیں یہ اس لئے ایونٹ تلاش کیا گیا۔ اس لئے سہولت پیدا کی گئی تھی کہ بہت سے ملکو ںکے کھلاڑیوں نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ فضا ختم ہونی چاہئے اورآہستہ آہستہ پاکستان میں اتحاد کی فضا ایسی بن جائے کہ لوگ آزادانہ یہاں آ جا سکیں او ریہ تاثر ختم ہو سکے کہ یہاں حملہ ہوتے ہیں اس سے سیاحت کو ضرور فروغ ملے گا۔ یہ دیکھنا چاہئے کہ پاکستان کو کس طرح سے پوری دنیا کے لئے قابل قبول بنایا جائے اور کس طرح یقین دلایا جائے کہ اس ملک میں جاتے ہوئے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کی پارٹی کی خواتین نے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا اور این جی اوز کی آزاد خیال خواتین کی جانب سے کئے جانے والے بیہودہ مطالبات کی نفی اور مخافلت کی۔ عوامی تحریک کی خواتین نے حیا کو عورت کا زیور قرار دیا اور کہا کہ نکاح سنت ہے۔ نام نہاد خواتین نمائندوں کی جانب سے جو خرافات سامنے لائی گئی اس کی قطعی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سندھ کے رکن اسمبلی عبدالرشید نے نام نہاد لبرل حواتین کے خلاف کارروائی کیلے متعلقہ تھانے میں درخواست دے کر اچھا قدم اٹھایا۔ ان خواتین کے خلاف الیکشن ہونا چاہئے تا کہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کریں۔ محکمہ داخلہ کو بھی بیہودہ نعرے درج کرنے والی ان خواتین کیخلاف ایکشن لینا چاہئے۔ ہمارا معاشرہ جن بنیادوں پر کھڑا ہے اس کے خلاف نعرے لگائے گئے کہ ”نکاح کو ختم کرو“ نکاح کو ختم کر دیں تو پھر کیا یورپ کی طرح ہو جائیں جہاں مردعورت بغیر نکاح کے رہتے ہیں اور پیدا ہونے والے بچوں کو وہاں بنائے گئے مراکز میں داخل کرا دیتے ہیں۔ پاکستان میں ان خرافات کی ہرگز اجامت نہیں دی جا سکتی۔ بلاول بھٹو نے 3 وزیروں کے بارے میں الزام لگایا ہےکہ ان کے کالعدم تنظیموں سے تعلقات میں انہیں چاہئے کہ نام بھی بتا دیں تا کہ وہ وزیر بھی اپنی صفائی میں بات کر سکیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved