تازہ تر ین

آج تمھیں کیا ہوگیا؟

مریم ارشد……..(میری آواز)

آج بہت دنوں بعد ددّا صبح ہی آگئی تھیں ۔مَیں نے پوچھا ددّا خیریت تو ہے اتنے دنوں بعد کیسے آنا ہوا؟بس ےہ پوچھنا تھا کہ لگیں اپنے سر کو پیٹنے ۔۔۔مَیں نہ کہتی تھی بیٹا کہ اس کے مرنے کے بعد دیکھ لینا سب مشکل میں آجائیں گے ، زندگی اجیرن ہوجائے گی، اب اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے ؟
کیا ہوا؟ کون مر گیا ۔۔۔خیریت تو ہے ۔۔۔کس کی زندگی اجیرن ہوگئی ۔
ارے یاد نہیں بیٹا میں کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ دوپٹہ مرگیا دیکھ لو کتنی مشکل ہوگئی۔ ارے نہیں ددّا !آپ دیکھتی نہیں ابھی اکثریت کے کندھوں پہ دوپٹے جھول رہے ہیں۔ ارے چھوڑو!تم کیا باتیں کرتی ہو بیٹا اب کندھوں پہ پڑے دوپٹوں کو چھوڑوےہاں توپورا منظر ہی دُھواں دُھواں ہورہا ہے۔ جانتی نہیں تم جو کچھ ےہ چند عورتوں نے 8مارچ کو آزادی کے نام پہ کیا؟ جانتی ہو مارچ کا بنیادی مطلب تو ہے کہ باوقار انداز سے قدم سے قدم ملا کر چلنا لیکن اس روز تو ایک طوفانِ بدتمیزی برپا تھا۔ ہاں ددّا ! میں بھی سوچ رہی ہوں ایک زمانہ تھا جب امرتا پریتم نے عورت کے استحصال پر خون کی ندیاں بہہ جانے پہ کُرلا کُرلا کر وارث شاہ کو آواز دی تھی۔ جب عورت اپنی عزت کے لیے روتی تھی ۔ آج تو سب اُلٹ پلٹ ہوگیا۔ آج کی جدید عورت کس چیز کا تقاضا کررہی ہے ۔
ےہ کون عورتیں تھیں جو ہاتھوں میں بے ہودہ پلے کارڈ اُٹھائے ہوئے سڑکوں پر اپنی عزت نفس کی دھجیاں اُڑا رہی تھیں۔ میں خود ایک عورت ہوں میری بنیادی تعلیم برسوں پہلے کو۔ایجوکیشن سکول سے ہوئی پھر نیشنل کالج آف آرٹس سے ڈگری لی پھر مزید اورپڑھا ۔زندگی بھر آزادی اور خود مختاری سے جیے اور کام کیا۔ عورتیں جو ”سلیبرٹی “ بن کر کسی عالمی ادارے سے مالی امداد لے کر ےہ تحریک چلا تی ہیں کیا ان کو لگتا ہے ےہ کامیابی و کامرانی جس کے وہ مزے لے رہی ہیں و ہ ان کی ذاتی بہادری کی وجہ سے ہے تو جناب ! جو اب ہے نہیں کیونکہ ےہ ساری کامرانی آپ کے والد کی وجہ سے ہے جنھوں نے آپ کو بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آپ کے ابا نے سکولوں میں بھیجا ۔ یوں تو عورتیں بہت ڈینگیں مارتی ہیں کہ ہم تو بہت روشن خیال گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں ۔ ہمارے ابّانے ہمیں بہترین جدید سکولوں میں بھیجا اورہمیں اپنی رائے دینے کا کھل کر اختیار تھا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ تو پھر ےہ سب کیا ہے ؟ کون سی آزادی چاہیے۔ آج تک تو ہمارے ملک کی خواتین نے بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو ڈھونڈ نکالنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا جو مسلم ورلڈ کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ آج تک تو مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے نقشِ قدم پہ چلنے کی سعی نہ کی گئی ۔اب عجیب و غریب مطالبے اور تقاضے کیے جارہے ہیں۔
خوش قسمتی سے ہم اسلام کے دائرے میں آتے ہیں۔ اسلام نے عورتوں کو نہ صرف عزت دی بلکہ وہ حقوق عطا کیے جو برابری کے ہیں۔ میں بات کروں گی مومنین کی ماں حضرت خدیجہ ؓ جن کا لقب اس وقت ”طاہرہ “ تھا جب ابھی اسلام نہیں آیا تھا۔ حضرت خدیجہؓ وہ کامیاب تاجر تھیں جن کی تجار ت کے قافلے مکّہ سے ملکِ شام اور یمن تک جاتے تھے ۔ اس کے علاوہ ہم حضرت اسماءبنت ابوبکر ؓ کا شجاعت بھرا کردار دیکھتے ہیں جب وہ غارِ ثور میں دشمنوں کے خوف کے باوجوداپنے بابا اور حضرت محمد کو کھانا پہنچانے جاتی تھیں۔ ایک اور عظمت کا مینار ہمیں حضرت زینب ؓ کی شکل میں نظر آتا ہے ۔جب وہ یزید سے دُو بدُو دلیرانہ گفتگو کرتی ہیں ۔ ےہ سب مناظر ہمیں یورپ کی کسی تہذیب و تاریخ میں نظر نہیں آتے ۔ Feminismیعنی حقوق نسواں سیاسی، نظریاتی ، معاشی ، سماجی اور ذاتی برابری کی وہ تحریک ہے جو ایک مخصوص طبقے میں لکیر کی فقیر کی طرح پیٹی جارہی ہے۔ آج کی عورت تو ہر میدان میں متحرک ہے خواہ بلند چوٹیوں کو سرکرنا ہو یا فضاﺅں میں اُڑان بھرنا ۔ عورت کی آزادی کی میں ہمنوا ضرور ہوں لیکن ایسی بے راہ روی کی آزادی جس سے ہماری اور ہمارے ملک کی عزت خراب ہو وہ ہماری تمنا تو نہیں ہے۔ عہدِ حاضر کی ےہ تمام خواتین کاش ان کی بات کرتیں جو تھر کے لق ودق صحرا میں برہنہ پا زندگی کا بوجھ ڈھو تی ہیں۔ کاش ےہ ان کی بات کرتیں جو اینٹوںکے بھٹوں میںکام کرتی ہوئی اپنی خواہشوں کو بھٹی میں جھونک دیتی ہیں۔ کاش ےہ ان کی بات کرتیں جو جسم فروشی کے مکروہ کاروبار میں ملوث تذلیل کی زندگی گزاررہی ہیں۔ کاش ےہ ان کی بات کرتیں جو کوہستان کی ایک شادی میں خوش ہوکر تالیاں بجانے کے جرم میں قتل کردی جاتی ہیں۔ کاش ےہ ان کی بات کرتیں جو ونی کردی جاتی ہیں۔ کاش ےہ ان کی بات کرتیں جو وراثت کا حق کھو دیتی ہیں۔
آجکل کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن اگر ٹی وی یا سوشل میڈیا لوگوں کو درست سمت سے بہرہ مند نہ کرے تو اُلٹا معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس دفعہ کے عورت مارچ جس میں مَیں بھی مدعو تھی اپنی آرٹسٹ اور ترقی پسند تحریک کی عورتوں کی طرف سے صد شکر! کہ مَیں اس کا حصہ نہ تھی ۔ یوں لگتا ہے کہ اس مارچ میں دو سوشل گروپس کے اندر شاید winner is the bestکا ماحول پیدا کرنا تھا ۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض مرد جب باہر نکلتے ہیں تو ان کی نظریں دوسروں کی ماﺅں بہنوں اور بہو بیٹیوں کا تعاقب کرتی ہیں لیکن اگر ان کی عورتیں غیر مرد کی طرف دیکھ لیں تو ان کی غیرت کو ٹھیس لگتی ہے،شرعی مسائل ان کے دل و دماغ میں کروٹیں لینے لگتے ہیںجبکہ قرآن مجید میں سب سے پہلے مردوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ عورتوں کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ اپنے ستر کی حفاظت کریں۔ مگر اس عورت مارچ میں عجیب و غریب پلے کارڈ عورتوں کے ہاتھوں میں دکھائی دیے۔
عورت میں شرم و حیا مرد کی نسبت زیادہ ہے۔ عورت مجسم ایثارو قربانی ہے اور صبرو استقلال میںبھی اس کا کوئی ثانی نہیں۔ خدا نے اُسے مہر و وفا کی مٹی سے گوندھا ہے۔ ماں کی حیثیت سے اس کا درجہ باپ سے زیادہ ہے۔ اس کی پیدائش ماں باپ کی بخشش کا باعث ہے۔ یورپ کی عورت کو دیکھیں تو industrial revolution کے بعد حتیٰ کہ victorian age میں جب کلاسیکل نمونے ٹوٹے تو وہا ں کی عورتو ں نے ایک لاپرواہی سیکھی ۔ اگر غور کیا جائے تو یورپ میں بدترین اخلاقی پستی تب پیدا ہوئی جب مردوزن نے ایک دوسرے کی فکر کرنا چھوڑ دی اور زمین پہ بدترین گنا ہ پیدا ہوئے ۔ ذراسوچیں ےہ بگاڑ دنیا کا بدترین بگاڑ ہے۔ مردو عورت دونوں صنفوں میں اختلاف ِ رائے اس وقت پیدا ہوگا جب وہ دونوں خدا کی عطا کردہ فرضِ منصبی کو نظر انداز کریں گے۔ لہذا اپنے اپنے دائرے میں دونوں کو اپنے اپنے درجوں میں برابری کی سطح پہ رہنا چاہیے۔ عورت اور مرد جسمانی طور پر مختلف اعتبار سے ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں ۔
آخر میں 8مارچ کے حوالے سے صرف اتنا کہوں گی جو عورتیں صاحب ِ حیثیت اور طاقت رکھتی ہیں ان کو چاہیے کہ ستم رسیدہ عورتوں کی آواز بنیں ۔ ان کے حقوق کےلئے جنگ کریں۔کشمیر کی مرتی ہوئی عورتیں جن کی عزتیں لُوٹی جاتی ہیں ، جن کے بچے مارے جاتے ہیں اُن کی آزادی کے نعرے بلند کریںبخُدا خوشی آپ کے دل میں رقص کرنے لگے گی۔
(کالم نگارقومی وسماجی ایشوزپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved