تازہ تر ین

خواتین کا عالمی دن اور بہار کو ترسیں

ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق (دِل کی بات)

خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے پورے پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں عورت کے مقام و مرتبہ اور اس کے حقوق کی آزادانہ آواز جس انداز، اسلوب اور طرز سے اٹھائی گئی ہے وہ آزادی¿ نسواں کی قید تنہائی سے بھی زیادہ افسوس ناک ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عورت کا جو مقام دین اسلام میں موجود ہے اگر وہی عملی صورت میں ہو تو عورت کو سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہیں۔ میں اس حق میں نہیں ہوں جس طرح ہماری چند مخصوص عورتوں نے اپنی آزادی کا اسلوب اپنایا ہے ۔ غیر ملکی این جی اوز نصف کائنات کے حقوق کی بات جس پیرائے میں کر رہی ہیں وہ درست نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات عورت کو زیب دیتی ہے ۔ ایسی مادر پدر آزادی گمراہی اور بے راہ روی کی نشاندہی کرتی ہے ۔ عورت کو جو حقوق اسلام نے دیئے ہیں مشرقی عورت اس پر اتفاق کرتی ہے۔ ہماری آزادی سوچ اور فکرکی ہونی چاہئے۔ عورت مغرب میں کتنی آزاد ہے اور اب وہ بھی واپس آرہی ہے۔ ایسی آزادی سے مشرق کے خاندانی نظام کا شیرازہ بکھر جائے گا اور ہم اپنے رشتوں کے تقدس کی عمارت کو بھی مسمار کر بیٹھیں گے اس لئے میں تو عورت کی اس آزادی پر یقین رکھتی ہوں جو قرآن اور اسلام نے دی ہے۔
اب تھوڑی سی بات ہوجائے اس مشاعرہ کی جو ملک کے نامور شاعر ناصر رضوی کی سالگرہ کے موقع کے حوالے سے اُن کے ساتھ ایک شام منائی گئی جس کی صدارت استاد مصنف و شاعر پروفیسر سعادت سعید نے کی اور مہمانِ اعزاز کا اعزاز راقمہ کو ملا۔ اس کی میزبانی پاک آسٹریلیا فرینڈ شپ کے صدر ارشد نسیم بٹ نے کی۔ بٹ صاحب ہر سال پاکستان میں مختلف تقریبات انعقاد پذیر کراتے ہیں اس مرتبہ یہ عجیب اتفاق ہورہا ہے کہ وہ دوسروں کے اعزاز میں بہت ہی اچھی تقریب کا اہتمام کرتے ہیں۔یہ ادب پروری کا جو اسلوب و انداز ارشد نسیم بٹ نے اپنایا ہوا ہے یہ قابل تقلید بھی ہے اور باعث ستائش بھی۔ ناصر رضوی کے بارے میں اظہارِ خیال کرنے والوں میںافتخار بخاری، تنویر صادق، منشا قاضی، عذرا مرزا، ریحانہ اشرف، اقبال راہی، فراست بخاری، روبینہ راجپوت اور دیگر نے ناصر رضوی کی درازی عمر کی دعا کی۔
یہ مشاعرہ ختم ہوا تو پی ایچ اے کے زیر اہتمام جشن بہاراں کی آمد آمد پر ہونے والے مشاعرے میںبھی شرکت کی اور اس میں لاہور کے سب شاعر مدعو تھے ۔ گورنر پنجاب چوہدری غلام سرورکی موجودگی بھی اس مشاعرہ کو پرشکوہ بنا رہی تھی۔ ایسی تقریبات کا انعقاد اور فروغ بڑا ہی خوش آئند ہے۔ عالمی منظر نامے پر پاکستان کو ایک پُرامن ملک دکھایا جارہا ہے اس کا سارا کریڈٹ نیا پاکستان کا تصور دینے والے ہمارے وزیر اعظم پاکستان عمران خاں کو جاتا ہے اور اس وقت تو میں مودی کی بھی ممنون ہوں جس کی حماقت سے پاکستانی قوم متحد ہوگئی ہے۔ ایسا اتحاد واتفاق امن کے لئے قوت و طاقت عطا کرتا ہے۔ قومی یکجہتی کا یہ مظاہرہ کرنے والی پاکستانی قوم کو دنیا کی کوئی قوت خوف زدہ نہیں کرسکتی، اب تیسری تقریب ایوان قائد اعظم میں ہونے والے شجرکاری مہم کے حوالے سے تھی جس میں راقمہ نے اپنے ہاتھوں سے کئی پودے لگائے اور اتنی دلی مسرت ہوئی کہ ہم سب کو پاکستان کو سرسبز و شاداب بنانے کے لئے اپنے حصے کی شمع روشن کرنے میں کوئی وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ ماحول میں شدید آلودگی کو پاکیزگی میں بدلنے کے لئے ہمیں پورے پاکستان میں کروڑوں درختوں کی ضرورت ہے، اگر ہر پاکستانی اپنے حصے کا صرف ایک ہی درخت لگا دے تو میں سمجھتی ہوں کہ 21 کروڑ درخت ہر سال اپنی بہاروں میں اضافہ اور آلودگی کو بہت دور بھگا سکتے ہیں۔ میری تمام پاکستانیوں سے التماس ہے کہ ہر پاکستانی ایک درخت ضرور لگائے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ پاکستان آلودہ ماحول کو کس طرح پاک اور شفاف ماحول میں بدلتا ہے۔ پاکستان کا ہرفرد پاکستان کا باغباں بن جائے سرسبز و شاداب پاکستان امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ عالمی سطح پر پاکستان کی کوششوں کو پائیدار امن کے لئے سراہا جارہا ہے اور شجر کاری مہم اس کا دنیا کو ثبوت فراہم کرتی ہے۔ ہمارا دین اسلام جنگی حالت میں بھی سرسبز و شاداب درختوں کو تلف کرنے کا حکم نہیں دیتا۔ وہ انسانوں کو بھلا قتل کرنے کیلئے اجازت کیوں دے گا ہاں اگر اس پر دشمن حملہ کرے اور پھر اس جارحیت کا مقابلہ آپ نے گذشتہ ہفتے دیکھ ہی لیا کہ ہم نے کتنی عالی ظرفی کا ثبوت دیا اور ہندوستان کا وزیر اعظم مودی ابھی تک سمجھ ہی نہیں رہا کہ دنیا امن چاہتی ہے اور پاکستان شجر کاری کے ذریعے بھی یہ پیغام دے رہا ہے کہ ہم چمن کے مالی ہیں اور ہم اپنا کام کرتے رہیں گے۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اس گلستان کی بنیاد رکھی تھی اور انہوں نے اپنے خون پسینے سے اس کشتِ ویراں کوسیراب کیا تھا اور آج اس کے بیٹے اپنی اس میراث کی حفاظت خونِ دل سے کریں گے کیونکہ ہم نے اس گلشن کے تحفظ کی قسم کھا رکھی ہے۔ افسوس صد افسوس بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو اپنے اس چمن کی بہار آفرینی نصیب نہیں ہوئی جس نے خزاں سے جنگ کرکے بہاروں کے سنگ پوری قوم کو کر دیا تھا ۔
کیا باغباں نے اس لئے گلشن کو اپنے خون سے سینچا تھا
اس کی اپنی نگاہیں بہار کو تر سیں
(کالم نگار معروف شاعرہ، سیاسی وسماجی موضوعات پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved