تازہ تر ین

پاکستان کی سفارتی کامیابی!

سجادوریا……..(گمان)

انسانی تاریخ کے تناظر مےں اگر قوموں کے عروج وزوال کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کی زندگی مےں قیادت کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے ،جُرا¿ت مند قےادت اور بروقت فےصلوں کی وجہ سے قوموں کو مناسب سمت ملتی ہے جبکہ کرپٹ اور بزدل قےادت قوم کو زوال کا شکار کر دےتی ہے۔ پاکستان اےک ذہین قوم کا بہترین ملک ہے لےکن بدقسمتی سے اہل قےادت کا فقدان اس قوم کو پستی مےں دھکےل گےا ۔مےں عرض کر رہا تھا کہ جس طرح شخصیات اور قیادت اہم ہوتی ہےں اسی طرح قوموں اور ملکوں کی زندگی مےں بعض مواقع اےسے بھی آتے ہےں جو مجموعی طور پر عروج وزوال کی سمت کا تعےن کر دےتے ہےں ،ان بر وقت اور عمدہ فےصلوں کی وجہ سے قوم کی ساکھ قائم ہو جاتی ہے،جس کی بنا پر مستقبل کا سفر جاری رہتا ہے۔ اےسا ہی ایک موقع پاکستان اور عمران خان کو ملا جس کا پاکستان نے بھر پور فائدہ اُٹھاےا اور اپنی اخلاقی برتری اور عالمی ساکھ کو بحال کر لیا ۔پاکستان کے مشرق مےں ہمساےہ ملک کی بد قسمتی ےہ کہ وہاں اےک جنونی پارٹی کی حکومت ہے۔مےں بھارت کی بات کر رہا ہوں جہاں اےک دہشت گرد تنظیم آر اےس اےس کے کارکن نرےندر مودی کی حکومت ہے۔ نریندر مودی کی سےاسی جدو جہدکا سارا سفر ہی مسلمانوں کے خون کی سُرخی سے رنگے ہوئے راستوں پرہے۔بھارتی حکومت نے پلواما واقعے کے بعد سے میڈیا کے ذریعے اےک ہیجان انگےز صورتحال پےدا کی ہوئی تھی ، بدلہ بدلہ کی صدائےں باقاعدہ چیخوں اور دھمکےوں مےں بدل چکی تھیں۔مودی حکومت دراصل پانچ سالہ دور حکومت کے بعد ناکام ہو چکی ہے ،ملک کے عوام کی حالت بد تر ہو گئی اور اس کے لئے انتخابات جیتنا مشکل ہو تا جا رہا ہے ، اس موقع پر انہوں نے پرانا ہتھےار” مسلمان دشمنی“ استعمال کرنا شروع کر دیا اوربغےر تحقیقات کے پاکستان پر ا لزام لگانا شروع کر دیا ۔
جیسا کہ میں نے لکھا کہ قوموں کی زندگی مےں کچھ واقعات ان کی ساکھ بڑھا دےتے ہےں،پاکستان کو ےہ موقع نریندر مودی نے اُس وقت فراہم کر دیا جب بھارتی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کراس کر کے جبہ کے مقام پر حملہ کی کوشش کی اور جوابی کارروائی میں بھاگ گئے۔پاکستان نے اس کا جواب دیا اور اگلے چوبیس گھنٹے کے اندر بھارتی فضائیہ کی’ چُولےں‘ ہلا کے رکھ دیں۔پاکستان نے ان کے دو جہاز مار گرائے اور اےک پائلٹ ابھی نندن گرفتار کر لیا ۔اس واقعے نے پاکستان کو بھر پور موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھر پور اظہار کر سکے اور حکومت نے بھی اپنی دانش کا عمدگی سے مظاہرہ کیا۔مےں سمجھتا ہوں اس واقعے کے لیے پوری پاکستانی قوم کو نریندر مودی کا شکر گزار ہونا چاہئے۔مودی کی ”سےاسی بصیرت“ اور ”انتخابی حکمت عملی“ نے ہی پاکستان کو ےہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھر پور اظہار کر سکے۔ اس واقعہ نے پاکستان کو عالمی طور پر اےک ذمہ دار اور بہادر رےاست کے طور پر متعارف کروا دیا ۔اس کے ساتھ ہی اندرونی طور پر کئی ’بھاڑے کے ٹٹو ‘نمک حلالی کے چکر مےں اپنی فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے تھے ان کے منہ بند ہوئے بلکہ ان پر شرمندگی کا ڈرون گرا دیا ۔پاک فوج اور پاک فضائیہ نے دشمن کو اوقات ےاد کرا دی اور ان اندرونی ’دانشوروں‘ کو بھی پاک فوج زندہ باد کہنے پر مجبور کر دیا ۔ےہ الگ بات ہے ان کے منہ مےں چھالے پڑ گئے ہو نگے۔
پاکستان نے اس واقعہ سے فائد ہ اُٹھاےا ،ہر لحاظ سے کامےابی اور دانشمندی کا اظہار نظر آےا ۔پوری قوم کا مورال بلند ہوا اور پاک فوج کی صلاحیتوں پر اعتماد بڑھا۔پاک افواج کو کچھ عرصے سے اندرونی اور بےرونی شرپسند عناصر نے متنازعہ بنانے کی مہم چلا رکھی تھی۔جس مےں ہمارے کئی سےاستدان اور صحافی بھی شامل تھے اور ہےں کےونکہ ان کو لفافے ہی اس چیز کے ملتے ہےں۔پاک فوج کو قوم کی نظر مےں متنازعہ بنانے والوں کو اس وقت منہ کی کھانی پڑ گئی جب پاکستان نے بھارت کو ان کے علاقے مےں جا پکڑا اور فضائی جنگ مےں اُدھےڑ کے رکھ دیا۔اخلاقی لحاظ سے وزیر اعظم پاکستان نے اُس وقت برتری حاصل کی جب اپنے خطاب مےں اےک بار پھر امن کی دعوت دی ۔ےہ بھی کہا کہ ہم امن چاہتے ہےں اور ان کا پائلٹ بھی واپس کر دیا۔مودی حکومت اور ان کا میڈیا تلملا کے رہ گئے اور پاکستان مےں ان کے خےر خواہوں کے سینے پر سانپ لوَٹ گئے ہونگے۔
اس سارے کھےل کا فاتح پاکستا ن ہی ہے۔ پاکستان نے عالمی سطح پر سفارتکاری کے ذریعے خود کو منواےا ۔مےں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قرےشی کو خاص طور پر مبارکباد پےش کرنا چاہتا ہوں ۔ان کا تجربہ،ان کی مہارت اور متحرک طرز عمل نے پوری دنےا کو پاکستان کے موقف کا حامی بنا دیا ۔ وزیرخارجہ نے کامےاب سفارتکاری سے دنےا کو پےغام دیا کہ ہم کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا جواب دےں گے اور ہم نے عملی طور پر اےسے کر بھی دیا ہے۔دنےا جو ابتدائی طور بھارت کے دراندازی کے اقدام کو جائز کہنے لگی تھی ،پاکستان کے جواب اور سفارتکاری نے دنےا کو اپنی سوچ بدلنے پر مجبور کر دیا ۔پاکستان کی بہادر افواج کا ڈنکا پورے زور سے بجا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قرےشی اور ان کی ٹیم نے اس واقعہ کو اپنے حق میں استعمال بھی کیا ۔پاکستان خاص طور پر ولی عہد سعودی عرب جناب محمد بن سلمان کا شکر گزار ہے کہ ان کے تعاون نے پاکستان کو اعتماد دیا کہ وہ ہر سطح پر اسٹےنڈ لے سکتا ہے۔متحدہ عرب امارات اور او آئی سی کے اعلامیہ نے تو پاکستان کے موقف کو معتبر بنا دیا اور بھارت کا بےانیہ اندرونی اور بےرونی طور پر مسترد ہو گےا ۔پاکستان کے سفارتکاروں نے دنےا بھر مےں امن کا پےغام پہنچاےا اور پاکستان کا میڈیا بھی اس مثبت سفارتکاری مےں قابل تحسین کردار ادا کرنے پر خراج تحسین کا مستحق ہے۔اس واقعے کا بھارت مےں اُلٹا اثر ہوا ہے۔وہاں کے عوام اورر سےاسی پارٹےاں مودی حکومت کا موقف تسلیم کرنے کے لیے تےار نہیں ہےں۔ان مےں واضح تقسیم نظر آئی،بلکہ مودی حکومت مسلسل تنقید کی زد مےں ہے۔بھارت کی افواج کا مورال زوال پذیر ہوا ،ان کی فضائیہ کی جگ ہنسائی ہوئی ،ان کی افواج کی جنگی مہارت اےکسپوز ہوئی اور اس پر سوالات اُٹھنے لگے ہےں۔بھارت کی عالمی ساکھ بھی بُری طرح مجروح ہوئی ہے ،وہ طاقتےں جو بھارت علاقے کا تھانےدار بنانے کا سوچ رہی تھیں، وہ بھارت کی اندرونی حالت اور ساکھ پر غور کرنے لگی ہےں۔ مےں اس سلسلے مےں پاکستان حکومت،پاک فضائیہ وافواج پاکستان اور تحریک انصاف کی قےادت،خاص طور پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قرےشی کو مبارکباد پےش کر نا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ان جنگی حالات مےں پاکستانی قوم کے جذبات کی بھر پور ترجمانی کرتے ہوئے معاملات کو ہےنڈل کیا۔ شاہ محمود قرےشی نے اپنی صلاحیتوں کو بخوبی استعمال کیا اور دوست ممالک کو بھی اپنی پوزیشن سے باخبر رکھا اور اعتماد مےں لیا ۔اس سلسلے مےں آرمی چیف جناب قمر جاوےد باجوہ کی ملٹری ڈپلومےسی کو نہ سراہنا بھی زےادتی ہو گی۔انہوں نے دنےا بھر کی افواج کے سربراہان سے رابطے کیے اور پاکستان کی پوزیشن بےان کی اور امن کی خاطر کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا ۔پاکستان کے تمام ادارے اےک پےج پر تھے اور ان کی تمام کاوشےں مشترک اور اجتماعی تھیں۔مےں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی سفارتکاری نے ہی پاکستان کو اخلاقی،جنگی،سےاسی اور سفارتی محاذ پر کامےاب کرا دیا ہے۔وےلڈن پاکستان۔
(کالم نگارقومی اور بین الاقوامی ایشوز پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved