تازہ تر ین

کفایت شعاری مہم کدھر گئی

کامران گورائیہ

عمران خان کی تبدیلی سرکار نے پنجاب سے ”کفایت شعاری مہم“ کا آغاز کر دیا ۔پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ ، وزراءاور اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے جس کے تحت پنجاب اسمبلی کے اراکین اسمبلی ایک بل منظور ہونے سے راتوں رات لاکھ پتی بن گئے۔24 گھنٹوں کے دوران بننے والے بل سے تبدیلی کے عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے اپنا اپنا حصہ بڑھ چڑھ کر ڈالا۔ جس کے بعد پنجاب اسمبلی میں منظور ہونے والے قانون کے تحت اراکین اسمبلی کی تنخواہ اورمراعات 83 ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے کر دی گئی۔ تنخواہوں میں اضافہ کے معاملہ پر وزیراعلیٰ پنجاب ، وزراء، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی قسمت بھی چمک اٹھی۔ 3 سال قبل پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں میں شہباز شریف کے دور حکومت میں بھی اضافہ کیا گیا تھا لیکن اس وقت وزیراعلیٰ شہباز شریف ہی نے وزیراعلیٰ، سپیکر ، ڈپٹی سپیکر اور صوبائی وزراءکی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہونے دیا تھا جس کی وجہ سے رکن اسمبلی کی تنخواہ وزیراعلیٰ اور وزراءسے زیادہ ہو گئی تھی۔ پنجاب اسمبلی میں منظور کیے جانے والے حالیہ بل میں تنخواہوں میں فرق دور کر کے وزیراعلیٰ ، وزراء، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں اور الاﺅنسز میں بھی اضافہ کر دیا گیا ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی تنخواہ اور مراعات 69 ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کر 3 لاکھ 50 ہزار روپے کر دی گئی جبکہ وزراءکی تنخواہیں 45 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ 85 ہزار روپے کر دی گئی ہیں۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کی تنخواہ 59 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ 75 ہزار جبکہ ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ 38 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ 65 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد یہ بل گورنر پنجاب کے پاس جائے گا اور ان کے دستخط کے بعد تنخواہوں میں اضافہ کا یہ بل نافذ ہو جائے گا۔
عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے سے پہلے اپنے بہت سے انٹرویوز اور بیانات میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ ان کی کابینہ انتہائی مختصر ہو گئی اور ان کی کابینہ کے اراکین زیادہ سے زیادہ 15 ہوں گے لیکن اس وقت صرف اور صرف وفاقی کابینہ کے اراکین کی تعداد 38 سے زائد ہے جبکہ ان کی ترجمانی کر نے والے مشیران کی تعداد ایک درجن سے زائد ہو چکی ہے۔ عمران خان پر جہاں یوٹرن لینے جیسے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں وہاں اس بات کا بھی بہت چرچہ رہا ہے کہ وہ حکومت میں آتے ہی سادگی اختیار کرنے اور اخراجات میں کمی سے متعلق بہت سے اعلانات کریں گے مگر بنی گالا سے وزیراعظم ہاﺅس اور وزیراعظم ہاﺅس سے واپس بنی گالا جانے کا سفر ہیلی کاپٹر میں طے کرنا زیادہ مہنگا ثابت ہو رہا ہے جسے سرکاری خزانے پر ایک بڑا بوجھ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کے بیرون ممالک کے دوروں پر بھی کروڑوں روپے کی لاگت آ چکی ہے جبکہ ان کے دوروں کے نتائج کو بہت زیادہ حوصلہ افزاءقرار نہیں دیا جاسکتا۔ عمران خان حکومت کے بہت سے وزراءاور پارٹی ممبران پر من پسند افراد کی ٹرانسفر اور تقریری کے الزامات بھی لگ رہے ہیں ۔ ان الزامات کے تحت یہ پیشگوئی بھی کی جا رہی ہے کہ اگر عمران خان حکومت کا وطیرہ یہی رہا تو اسے نیا پاکستان کہنا سراسر زیادتی ہوگی۔ یہی نہیں بلکہ بعض حلقوں میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ پنجاب میں اقربا ءپروری کا یہی عالم رہا تو اگلے 6 ماہ میں پاکستان تحریک انصاف کا حشر پیپلز پارٹی جیسا ہوگا۔ عوام عمران خان اور ان کی حکومت سے بیزار ہو جائیں گے کیونکہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچانے والے عوام ان سے تبدیلی کی امید لگائے ہوئے تھے لیکن ان کے وزیراعظم بننے کے بعد ملک کی معاشی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ مہنگائی کا طوفان ، غربت کا خاتمہ کرنے کی راہ میں حائل ہو چکا ہے۔ بجلی ، گیس اور پانی سمیت روزمرہ استعمال کی اشیاءکی قیمتوں میں ہوشر باءاضافہ ہو چکا ہے ۔ ڈالر اتنی اونچی اڑان بھر چکا ہے کہ اب اسے سطح زمین پر لانا جوئے شیر لانے سے کسی بھی طرح کم نہیں ہے۔ اسی طرح سونے کی قیمتوں کو بھی سرخاب کے پر لگ چکے ہیں ، ڈالر اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے ملک کی مجموعی معاشی صورتحال پر اس قدر منفی اثرات مرتب ہو چکے ہیں کہ یہ ملک بیرونی قرضوں کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ بیرونی قرضوں میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے مگر عمران خان کے کھلاڑی ذاتی مفادات کو ترجیح دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ ایک ترقی پذیر اور قرضوں میں ڈوبے ہوئے ملک سے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کی ضرورت کو شدت سے محسوس کرنے لگے ہیں اور اسی ضرورت کے تحت ”کفایت شعاری مہم“ کا آغاز پنجاب سے کر دیا گیا ہے جہاں پر وزیراعلیٰ ، وزراء، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر سمیت تمام ممبران اسمبلی کی تنخواہوں میں 100 فیصد سے بھی زائدکا بل منظور کروا لیا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف جب حکومت میں نہیں آئی تھی تو کفایت شعاری کے بڑے بلندوبانگ دعوے کرتی تھی ، ان کا کہنا تھا کہ وہ اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ بھی نہیں جاری کرے گی کیونکہ ان کے نزدیک یہ ارکین کو رشوت دینے کے مترادف تھا لیکن اب اطلاعات یہ آ رہی ہیں کہ وہ اپنے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز بھی جاری کررہی ہیں ۔ یہ ایک اور بڑایوٹرن بھی کہا جا سکتا ہے۔ پاکستانی عوام اس وقت مہنگائی کے ہاتھوں بڑی پریشان ہے، تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد انہیں شاید امید تھی کہ مہنگائی کم ہو گی لیکن اس میں روزبروز ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث ان کیلئے جینا دوبھر ہو رہا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ مہنگائی کو ہر حال میں کنٹرول کرے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔ اب تو عوام یہ کہنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ اس سے اچھا تو پچھلا دور ہی تھا کم ازکم اسقدر مہنگائی تو نہیں تھی۔
وزیراعظم عمران خان نے پنجاب اسمبلی سے تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کے بل پر تبصرہ کرتے ہوئے مایوسی اور بے بسی کا اظہار بھی کیا مگر یہ بل پنجاب اسمبلی میں کثرت رائے سے منظور کیا جا چکا ہے۔ اس لیے جلد یا بدیر یہ اضافہ ہو کر ہی رہے گا اور گورنر پنجاب کو اس بل پر دستخط کرنا ہی ہوں گے۔ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ ، سپیکر، ڈپٹی سپیکر ، وزراءاور اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کا بل پاکستان تحریک انصاف اور خود وزیراعظم عمران خان کی کفایت شعاری مہم پر ایک بدنما داغ ہے کیونکہ 3 سال قبل اس وقت کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ کروایا تھا مگر سپیکر ، ڈپٹی سپیکر اوروزراءکی تنخواہوں میں اضافہ روک لیا گیا تھا لیکن تبدیلی سرکار کے علمبردار وزیراعظم عمران خان نے پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ ، وزراءاور اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کے بل کی منظوری پر اظہار بے بسی کرتے ہوئے اپنی مایوسی کا اظہار کر دیا ، مگر یہ ایک صوبائی خود مختاری کا معاملہ بھی ہے اسی لیے کثرت رائے سے منظور کیا جانے والا یہ بل نافذ ہو کر رہی رہے گا۔ یقینا عوامی نمائندوں کو دی جانے والی تنخواہیں اور مراعات کا بوجھ غربت اورمہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے غریب عوام کی جیبوں پر ہی پڑے گا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اراکین پنجاب کی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کی سمری روکنے اور گورنر پنجاب کو بل پر دستخط نہ کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو مراعات سے متعلق بل دوبارہ ایوان میں لانے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ کو دی گئی لائف ٹائم مراعات کے فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے لیکن ایسی ہدایت جاری کر کے وہ صوبائی خود مختاری میں مداخلت کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔ کثرت رائے سے تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کا بل خالصتاً صوبائی معاملہ ہے جس پر جتنی بھی نظر ثانی کر لی جائے مگر یہ بل منظور ہو کر ہی رہے گا۔ جس سے تحریک انصاف کی کفایت شعاری مہم کا پول بھی پوری طرح سے عوام کے سامنے ظاہر ہو جائے گا۔ تبدیلی اور نیا پاکستان کا نعرہ لگانے والے عمران خان کی ساکھ کو بھی زبردست نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved