تازہ تر ین

ذرائع مواصلات کی اہمیت وافادیت

چوہدری ریاض مسعود….(نقطہ نظر)

جدید ذرائع مواصلات کسی بھی ملک کی ترقی میں بنیادی کردار اداکرتے ہیں، اس سے نہ صرف صنعت وتجارت کو فروغ ملتا ہے بلکہ عوام کو بھی سفر کی زیادہ سے زیادہ سہولتیں میسر آتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بھی یہ شعبہ حکومت کی خصوصی توجہ کا مرکز رہاہے، خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی اور اس میں ہونے والی سرمایہ کاری کی وجہ ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے میں بڑی مدد ملی ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری کی وجہ سے بھی مواصلات کے شعبے میں بے پناہ ترقی ہورہی ہے، خاص طور خنجراب سے گوادر تک طویل شاہراہ انتہائی پسماندہ علاقوں سے گزرتی ہے ، اب خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے یہ علاقے نہ صرف ملک کے دوسرے علاقوں سے مل گئے ہیں بلکہ یہاں تعمیر و ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تحت فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (Fwo ) ایسے ہی علاقوں میں سڑکوں کے جال بچھادیئے ہیں جہاں سڑکوں کی تعمیر کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتاتھا، ماہرین کا یہ دعویٰ بالکل درست ثابت ہورہاہے کہ گوادر بندرگاہ اور چین ، پاکستان اقتصادی راہداری ہماری معیشت کو مضبوط سے مضبوط تر بنادے گی، ہماری بہادر اور جرا¾ت مند افواج نے جس دلیری کے ساتھ دہشت گردوں کا خاتمہ کیا ہے اس سے بلوچستان کے انتہائی دشوار گزار اور خطرناک علاقوں میں عالمی معیار کی سڑکوں کی تعمیر ممکن ہوئی ہے، لیکن ہمارے یہاں سڑکوں کے نام پر بھی سیاست کی جاتی ہے جس کی وجہ سڑکوں کی تعمیر کے سینکڑوں منصوبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ، پاکستان جیسے زرعی ملک میں کھیت سے منڈی تک اور گاو¿ں سے گاو¿ں تک نئی رابطہ سڑکوں کی تعمیر سے دیہی علاقوں میں انقلاب لایا جاسکتا ہے لیکن سیاسی رسہ کشی اور سیاسی رقابت کی وجہ سے دیہی ترقی کے یہ منصوبے ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں جس سے دیہی علاقوں میں نئی سڑکوں کی تعمیر تو ایک طرف پرانی سڑکوں کی حالت بے حد خراب ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے کاشتکاروں کو اپنی اجناس منڈیوں تک لانے میں بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے، یہ حقیقت ہے کہ دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر کے بے شمار منصوبے سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو کے دور حکومت میں شروع ہوئے لیکن بعد میں آنیوالے حکمرانوں نے کھیت سے منڈی تک رابطہ سڑکیں تعمیر کرنے کی بجائے مالیاتی فنڈز بڑے بڑے شہروں پر خرچ کردیئے جسکی وجہ سے دیہی علاقوں کا مواصلاتی نظام تباہ و برباد ہوکر رہ گیا، حکومت کو چاہئے کہ وہ بڑی بڑی بین الصوبائی سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع اورمرمت کی طرف بھی خصوصی توجہ دے۔اس وقت ریلوے اور پی آئی اے کو ترقی دینا بے حد ضروری ہے، یہ دونوں شعبے ہرسال خسارے میں ہی جارہے ہیں جسکی وجہ سے ان کی نجکاری کرنے کیلئے مسلسل سازشیں ہورہی ہیں اور طرح طرح کے شوشے چھوڑے جاتے ہیں جس سے ان اداروں کی رہی سہی کارکردگی بھی خراب ہورہی ہے۔
مسئلہ صرف یہ ہے کہ گاڑیوں کی آمد میں تاخیر ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے تاجروں کو اپنا سامان منڈیوں یا کارخانوں تک پہنچانے میں دیر ہو جاتی ہے جس سے ان کا مالی نقصان ہوتا ہے، مواصلات کے شعبے میں ہی ہوائی سفر کو بے حد اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس سے فاصلے سمٹ گئے ہیں اور وقت بھی بہت کم لگتا ہے، ہماری ناقص منصوبہ بندی اور کوتاہیوں کی وجہ سے پی آئی اے جیسی عالمی شہرت یافتہ قومی ایئرلائن مسلسل بھاری خسارے میں جارہی ہے ۔ آج حالت یہ ہے کہ اسکے جہازوں کی تعداد 45سے کم ہوکر 35کے لگ بھگ رہ گئی ہے ، اس کے باوجود 4لاکھ 70ہزار طویل روٹ رکھنے والے اس ایئرلائن میں سالانہ 53لاکھ سے زائد مسافر سفر کرتے ہیں ، یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہر حکومت نے سیاسی بنیادوں پر اس ادارے میں بھاری تعداد میں تقرریاں کیں جسکی وجہ سے یہ قومی ادارہ خسارے میں گیا اس کی اصلاح احوال کیلئے موثر اور قابل عمل منصوبہ بندی اور اقدامات بے حد ضروری ہیں ، صرف چیئرمین یا چیف ایگزیکٹواور ڈائریکٹروں کے بدلنے سے اس ادارے کی حالت نہیں بدلے گی، اگر ہم سمندروں پر راج کرنے والی پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا جائزہ لیں تو اس کی کارکردگی بھی ہر آنے سال میں گرتی جارہی ہے ، مالی سال 2005-06میں اس کے بحری جہازوں کی (ویسلز) کی تعداد 15تھی جو آج کم ہوکر صرف 9رہ گئی ہے ، اسی طرح اس قومی ادارے کی کشتیوں کی تعداد بھی کم ہوگئی ہے، یہ بات نہایت حوصلہ افزاءہے کہ اس ادارے نے تجارتی سامان کی ترسیل اور آمدن میں مسلسل اضافہ کیا ہے ، یہ امر ہم سب کیلئے نہایت خوش آئند ہے اس کی اسی کارکردگی کے پیش نظر حکومت کو چاہئے کہ وہ اس کے بحری بیڑے (ویسلز) کی موجودہ تعداد 9کو بڑھا کر 2005-2006کی تعداد 15تک لانے کیلئے فوری طور پر عملی اقدامات کرے تاکہ یہ مثالی ادارہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے اپنا بھرپور کردار اداکرسکے۔
ذرائع مواصلات کا ایک اور شعبہ پاکستان پوسٹ (ڈاک خانہ) بھی اس جدید دور کے تقاضوں کے مطابق حکومت پاکستان کی خصوصی توجہ چاہتا ہے ، اس وقت ملک بھر کے پوسٹ آفسوں ( ڈاک خانوں) کی تعداد میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھا جارہاہے، حالانکہ اس کی خدمات کا دائرہ چھوٹے قصبوں سے لے کر بڑے بڑے شہروں تک پھیلا ہوا ہے لیکن یہ ادارہ حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوسکا، اس وقت نجی کاروباری کمپنیاں میدان میں چھائی ہوئی ہیں جن کی سروسز تیز رفتار مگر بہت مہنگی ہیں ، اگر حکومت پوسٹل سروس کی طرف توجہ دیتے ہوئے اسے دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کردے تو ملک بھر میں پھیلا ہوا یہ ادارہ مختصر سی مدت میں اپنی آمدن میں 30سے40فیصد اضافہ کرسکتا ہے ، پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبہ تیز رفتاری سے انقلاب آیا ہے اور ہم 3G .. 4G سے بھی آگے جانے کے مرحلے میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس شعبے میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے لیکن ہم اس شعبے سے متعلقہ مشینری ، آلات اور خاص کر کمپیوٹر موبائل فون کی درآمد پر اربوں کھربوں روپے خرچ کرکے زرمبادلہ کے اپنے قومی وسائل اور خزانے پر براہ راست حملہ کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں، جس سے ”ترقی معکوس“ کا سا ماحول بن رہاہے، جس کا تدارک فوری طور پر ہونا چاہیے،ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں 15کروڑ سے زائد موبائل اور تقریباً 52ملین سے زائد لوگ براڈ بینڈ کی سروسز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، ٹیلی کام سیکٹر میں ہونے والی ترقی سے ہم کسی حد تک یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان واقعی 21ویں صدی میں داخل ہوسکتا ہے لیکن جب ریلوے ، پی آئی اے اور دیگر ٹرانسپورٹ و مواصلات کے شعبوں کو دیکھتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ ہم شایدابھی 16ویں صدی میں ہی ہیں،یہ بات سب کے ذہن نشین رہے کہ اگر ہم نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں واقعی شامل ہونا ہے تو ہمیں اپنے ہر شعبے خاص کر مواصلات کے شعبے کو جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق ترقی دینا ہوگی، چین پاکستان اقتصادی راہداری اور گہرے پانیوں کی بندرگاہ واقعی ہمارے لئے گیم چیلنجز ثابت ہوگی لیکن ہمیں اپنی پالیسیوں کو بڑی ذہانت اور عقلمندی کے ساتھ ترتیب دینا ہوگا۔ یہ حقیقت ہے کہ ذرائع مواصلات کی اہمیت انسانی جسم میں ہردم گردش کرنے والے خون جیسی ہوتی ہے ، پاکستان کی فضاو¿ں، سمندروں اور میدانوں میں ہوائی جہاز، بحری جہاز، ریل گاڑیاں، سڑکوں پردوڑتی بسیں ،ٹرک اور گاڑیاں اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ملک میں نئی سڑکوں کی تعمیر، پرانی سڑکوں کی توسیع و مرمت، دیہی علاقوں میں رابطہ سڑکوں کی تعمیر، ریلوے لائنوں کو ڈبل کرنے، نئے انجنوں کی خریداری، ریل گاڑیوں کے ڈبوں کی تعداد میں اضافے، مال بردار گاڑیوں کی حالت کو بہتر بنانے ، ان کی رفتار کو تیز کرنے، پی آئی اے اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے جہازوں کی تعداد میں فوری اضافہ کرے، پاکستان پوسٹل سروس کو جدید دور کے مطابق ترقی دے تو پاکستان دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرسکتا ہے ، ٹیلی کام سیکٹر میں تیز رفتار ترقی ، چین پاکستان اقتصادی راہداری ، گوادر کی بندرگاہ اور حکومت کی موثر پالیسیاں ملک کو یقینا ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرسکتی ہیں۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved